30/03/2026
کسان مرداور برگر بچی کی
کہتے ہیں کسان مرد کے جھٹکے کوئی مذاق نہیں ہوتے، وہ بھی وہی جھٹکے جو وہ ٹریکٹر کو دیتے ہیں — زور دار، مسلسل اور بے رحمانہ! اب بھلا وہ جھٹکے ایک شہری برگر بچی کیسے برداشت کرے جس کی انگلی بھی اگر موبائل کی اسکرین پر زور سے لگ جائے تو فوراً "آہو" کر کے اسٹوری لگا دیتی ہے!
گاؤں کی عورتیں تو بچپن سے ہی ان جھٹکوں کی عادی ہوتی ہیں — کبھی پانی کا گھڑا سر پر، کبھی چارپائی کمر پر، اور کبھی ٹریکٹر کے پیچھے بیٹھ کر فصلوں کا معائنہ۔ انہیں تو جھٹکوں میں بھی رومانس دکھتا ہے!
ادھر برگر بچی اگر پاؤں سے چپل نکل جائے تو چیخ مار کے پورے بلاک کو جمع کر لیتی ہے۔
کسان مرد کا جھٹکا؟ اوہ بھائی! ایک جھٹکا آیا، اور برگر بچی کی آنکھیں گھوم گئیں، ہاتھ سے فون گرا، نیچے ٹائلز پر لگا اور ساتھ ہی اس کی ہوش بھی۔
جبکہ گاؤں کی عورت جھٹکا کھا کے اُلٹا پوچھتی ہے:
"بس ایہنا ہی؟ کدے ہَل چلایا اے تُسیں؟"
شہری لڑکیاں جم میں جا جا کے خود کو فٹ بنانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں، جبکہ گاؤں کی عورت صبح چار بجے اُٹھ کے جانوروں کو چارہ ڈال کر، آٹا گوندھ کر، ٹرالی چلا کے، دوپہر کو بکریاں چرا کے، اور شام کو ہانڈی پکا کے — بغیر جم کے ہی "نیچرل باڈی بلڈر" بنی ہوتی ہے۔
تو بھائیو اور بہنو!
کسان مرد کے جھٹکے برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
یہ کام وہی کر سکتی ہے جس نے زندگی کو کھیت کی مٹی میں سانس لیتے دیکھا ہو…❤️
New Trand