15/10/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*3 جمادی الاول 1448 ھِجْرِیْ*
*15 مئی 2026 عِیسَـوی جمعرات*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰہٰ آیت 123-124:-
*قَالَ اهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيۡعًاۢ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّىۡ هُدًى ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقٰى ١٢٣*
وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى ١٢٤
*📜ترجمہ:*
*اور فرمایا :’’ تم دونوں ( فریق ، یعنی انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاؤ ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے ۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا ، وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا ۔*
*اور جو میرے ’’ ذکر ‘‘ ( درسِ نصیحت ) سے منہ موڑے گا ، اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی 105 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے ۔‘‘ 106*
*📜English Translation:*
*and said: ""Get down both of you (that is man and Satan) and be out of it; each of you shall be an enemy to the other. Henceforth if there comes to you a guidance from Me then whosoever follows My guidance shall neither go astray nor suffer misery.*
*But whosoever turns away from this Admonition from Me shall have a straitened life; We shall raise him blind on the Day of Resurrection.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*یا رب العالمین! ہمیں اپنی ہدایت کی پیروی کرنے، اپنے ذکر سے وابستہ رہنے اور شیطان و نفس کے شر سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں دنیا کی تنگی اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرما۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Grant us the ability to follow Your guidance, remain steadfast in Your remembrance, and protect us from the evil of Satan and our own selves. Save us from hardship in this world and disgrace in the Hereafter, and bless us with success and happiness in both worlds.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎•
*«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :105*
*دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہو گی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہو گا ۔ کروڑ پتی بھی ہو گا تو بے چین رہے گا ۔ ہفتِ اقلیم کا فرمانروا بھی ہو گا تو بے کلی اور بے اطمینانی سے نجات نہ پائے گا ۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی ، جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی ، جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچّی مَسَّرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی ۔
*«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :106*
*اس جگہ آدم علیہ السلام کا قصّہ ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ قصّہ جس طریقے سے یہاں ، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے ، اس پر غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں ( واللہ اعلم بالصواب ) کہ زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ وہ جنت ممکن ہے کہ آسمانوں میں ہو ، اور ممکن ہے کہ اسی زمین پر بنائی گئی ہو ۔ بہرحال وہاں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اس شان سے رکھا گیا تھا کہ اس کے کھانے پینے اور لباس و مکان کا سارا انتظام سرکار کے ذمے تھا اور خدمت گار ( فرشتے ) اس کے حکم کے تابع تھے ۔ اس کو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے قطعاً کوئی فکر نہ کرنی پڑتی تھی ، تاکہ وہ خلافت کے بزرگ تر اور بلند تر وظائف ادا کرنے کے لیے مستعد ہو سکے ۔ مگر اس عہدے پر مستقل تقرر ہونے سے پہلے امتحان لینا ضروری سمجھا گیا ، تاکہ امیدوار کی صلاحیتوں کا حال کھل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور خوبیاں کیا ۔ چنانچہ امتحان لیا گیا ، اور جو بات کھُلی ، وہ یہ تھی کہ یہ امیدوار تحریص و اِطماع کے اثر میں آ کر پھسل جاتا ہے ، اطاعت کے عزم پر مضبوطی سے قائم نہیں رہتا ، اور اس کے علم پر نسیان غالب آ جاتا ہے ۔ اس امتحان کے بعد آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو مستقل خلافت پر مامور کرنے کے بجائے آزمایشی خلافت دی گئی ، اور آزمایش کے لیے ایک مدت ( اَجَلِ مُسَمّٰی ، جس کا اختتام قیامت پر ہو گا ) مقرر کر دی گئی ۔ اس آزمایش کے دور میں امیدواروں کے لیے معیشت کا سرکاری انتظام ختم کر دیا گیا ۔ اب اپنی معاش کا انتظام انہیں خود کرنا ہے ۔ البتہ زمین اور اس کی مخلوقات پر ان کے اختیارات برقرار ہیں ۔ آزمایش اس بات کی ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود یہ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں ، اور اگر بھول لاحق ہوتی ہے ، یا تحریص و اِطماع کے اثر میں آ کر پھسلتے ہیں ، تو تنبیہ ، تذکیر اور تعلیم کا اثر قبول کر کے سنبھلتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اور ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے ، طاعت کا یا معصیت کا ؟ اس آزمایشی خلافت کے دوران میں ہر ایک کے طرزِ عمل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا ۔ اور یوم الحساب میں جو لوگ کامیاب نکلیں گے ، انہی کو پھر مستقل خلافت ، اس دائمی زندگی اور لازوال سلطنت کے ساتھ جس کا لالچ دے کر شیطان نے حکم کی خلاف ورزی کرائی تھی ، عطا کی جائے گی ۔ اس وقت یہ پوری زمین جنت بنا دی جائے گی اور اس کے وارث خدا کے وہ صالح بندے ہوں گے جنہوں نے آزمایشی خلافت میں طاعت پر قائم رہ کر ، یا بھول لاحق ہونے کے بعد بالآخر طاعت کی طرف پلٹ کر اپنی اہلیت ثابت کر دی ہو گی ۔ جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ، ان کا خیال صحیح نہیں ہے ۔ وہاں پیہم ترقی ہو گی ، بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو ۔ اور وہاں خلافتِ الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا ، بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے ۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی ۔:: اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں ۔*
*اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ آدم علیہ السلام و حوا علیہا السلام کا قصہ جس طرح بائبل میں بیان ہوا ہے ، اسے بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے ۔ بائبل کا بیان ہے کہ ’’ خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا ، تو انسان جیتی جان ہوا ۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو ، جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا ۔‘‘ ’’ اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا ۔‘‘ اور خداوند خدا نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ، لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا ۔ کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا ، تُو مرا ۔‘‘ ’’ اور خداوند خدا اس پسلی سے ، جو اس نے آدم علیہ السلام میں سے نکالی تھی ، ایک عورت بنا کر اسے آدم علیہ السلام کے پاس لایا ۔‘‘ اور آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے ۔‘‘ ’’ اور سانپ کُل دشتی جانوروں سے ، جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا ، چالاک تھا ، اور اس نے عورت سے کہا : کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا ؟‘‘ ’’ سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤ گے ، تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے ۔‘‘ چنانچہ عورت نے اس کا پھل لے کر کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھلایا ۔’’ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں ، اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں ۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز ، جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا ، سنی اور آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا ۔‘‘ پھر خدا نے آدم علیہ السلام کو پکارا کہ تو کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں تیری آواز سن کر ڈرا اور چھپ گیا ، کیونکہ میں ننگا تھا ۔ خدا نے کہا : ارے ، تجھ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ تو ننگا ہے ۔ ضرور تو نے اس درخت کا پھل کھایا ہو گا جس سے میں نے منع کیا تھا ۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ مجھے حوا نے اس کا پھل کھلایا ، اور حوا نے کہا مجھے سانپ نے بہکایا تھا ۔ اس پر خدا نے سانپ سے کہا :’’ اس لیے کہ تو نے یہ کیا ، تو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھیرا ۔ تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک چاٹے گا ، اور میں تیرے اور عورت کے درمیان ، اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا ۔‘‘ اور عورت کو یہ سزا دی کہ ’’ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاؤں گا ، تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی ، اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی ، اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا ۔‘‘ اور آدم علیہ السلام کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کیا کہ چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور میرے حکم کے خلاف کیا ’’ اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ، مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا .......... تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا ۔‘‘ پھر ’’ خداوند نے آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کرتے بنا کر ان کو پہنائے ۔‘‘ اور خداوند خدا نے کہا : دیکھو ، انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے ۔ اس لیے خداوند خدا نے اس کو باغ عدن سے باہر کر دیا ۔‘‘ ( پیدایش ، باب 2 ۔ آیات 7 ۔ 25 ، باب 3 ، آیات 1 ۔ 23 )*
*بائبل کے اس بیان اور قرآن کے بیان کو ذرا وہ لوگ بالمقابل رکھ کر دیکھیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ قرآن میں یہ قصّے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے گئے ہیں ۔*
💡🔍فی ظلال القرآن🔍💡
*یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔ بعضکم لبعض عدو (٠٢ : ٣٢١) تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی ہوگی کہ تم کون سی راہ اختیار کرتے ہو۔ یہ منظر اس قصے کے بعد آتا ہے یوں کہ شاید یہ اس قصے کا حصہ ہے۔ درحقیقت اس کا اعلان بھی عالم بالا میں واقعہ آدم و ابلیس کے بعد ہوا۔ لہٰذا یہ اس پوری کائنات کیلئے زمانہ قدیم سے طے شدہ اصول ہے۔ یہ نہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم ہو سکتی ہے۔ فمن اتبع ھد ای فلا یضل ولایشقی (٠٢ : ٣٢١) تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔وہ گمراہی اور مصیبت سے محفوظ ہوگا ، میری ہدایت کی پیروی کی وجہ سے گمراہی اور مصیبت جنت کے دروازے کے باہر بڑی بےتابی سے تمہارے انتظار میں ہیں لیکن جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ ان سے بچا رہے گا اور مصیبت دراصل گمراہی کا پھل ہے۔ اگرچہ گمراہ شخص دنیاوی ساز و سامان میں غرق ہو ، یہ ساز و سامان بھی ایک گمراہ کے لئے بڑی مصیبت ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی مصیبت اور آخرت میں بھی مصیبت ، دنیا میں حرام کی روزی جس قدر بھی وافر ہو ، اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔انسان جونہی اللہ کی رہنمائی سے نکلتا ہے وہ اندھیروں میں داخل ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر ٹامک ٹوئایں مارتا ہے ،قلق اور پریشانی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔کبھی ادھر بھاگتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے ،اس کی زندگی واضح طور پر غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ غرض مصیبت ایک گمراہ شخص کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ عیش و عشرت میں ہو۔ اس کے لئے بہت بڑی بدبختی دار آخرت میں انتظار کرتی رہتی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ دنیا میں بھی گمراہی اور مصیبت سے مکمل طور پر نجات پاتا ہے اور آخرت میں تو وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔ صرف یوم موعود آنے کی دیر ہے۔*
*ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (٠٢ : ٣٢١) اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (٠٢ : ٣٢١) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•