Umer’s Homoeopathic Clinic

Call Directions Website Contact the business

Umer’s Homoeopathic Clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Umer’s Homoeopathic Clinic, Health & Wellness Website, Umer’s Homoeopathic Clinic, Main Ghori Garden Road near Lehtrar Road Islamabad, Islamabad.

Healing through Nature & Science 🌿
Consult us before surgery for non-invasive treatments of Gallstones, Kidney Stones, Piles, Tonsillitis & Nasal Polyps.
📲 Call/WhatsApp: +92 345 8545142

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*3 جمادی الاول 14...
15/10/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*3 جمادی الاول 1448 ھِجْرِیْ​*
*15 مئی 2026 عِیسَـوی جمعرات*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰہٰ آیت 123-124:-
*قَالَ اهۡبِطَا مِنۡهَا جَمِيۡعًا​ۢ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ​ ۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّىۡ هُدًى ۙ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشۡقٰى‏  ١٢٣*
وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى‏ ١٢٤
*📜ترجمہ:*
*اور فرمایا :’’ تم دونوں ( فریق ، یعنی انسان اور شیطان ) یہاں سے اتر جاؤ ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے ۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا ، وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا ۔*
*اور جو میرے ’’ ذکر ‘‘ ( درسِ نصیحت ) سے منہ موڑے گا ، اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی 105 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے ۔‘‘ 106*
*📜English Translation:*
*and said: ""Get down both of you (that is man and Satan) and be out of it; each of you shall be an enemy to the other. Henceforth if there comes to you a guidance from Me then whosoever follows My guidance shall neither go astray nor suffer misery.*
*But whosoever turns away from this Admonition from Me shall have a straitened life; We shall raise him blind on the Day of Resurrection.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*یا رب العالمین! ہمیں اپنی ہدایت کی پیروی کرنے، اپنے ذکر سے وابستہ رہنے اور شیطان و نفس کے شر سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں دنیا کی تنگی اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرما۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH, Grant us the ability to follow Your guidance, remain steadfast in Your remembrance, and protect us from the evil of Satan and our own selves. Save us from hardship in this world and disgrace in the Hereafter, and bless us with success and happiness in both worlds.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎•
*«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :105*
*دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہو گی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہو گا ۔ کروڑ پتی بھی ہو گا تو بے چین رہے گا ۔ ہفتِ اقلیم کا فرمانروا بھی ہو گا تو بے کلی اور بے اطمینانی سے نجات نہ پائے گا ۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی ، جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی ، جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچّی مَسَّرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی ۔
*«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :106*
*اس جگہ آدم علیہ السلام کا قصّہ ختم ہو جاتا ہے ۔ یہ قصّہ جس طریقے سے یہاں ، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے ، اس پر غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں ( واللہ اعلم بالصواب ) کہ زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السلام کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی ۔ وہ جنت ممکن ہے کہ آسمانوں میں ہو ، اور ممکن ہے کہ اسی زمین پر بنائی گئی ہو ۔ بہرحال وہاں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اس شان سے رکھا گیا تھا کہ اس کے کھانے پینے اور لباس و مکان کا سارا انتظام سرکار کے ذمے تھا اور خدمت گار ( فرشتے ) اس کے حکم کے تابع تھے ۔ اس کو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے قطعاً کوئی فکر نہ کرنی پڑتی تھی ، تاکہ وہ خلافت کے بزرگ تر اور بلند تر وظائف ادا کرنے کے لیے مستعد ہو سکے ۔ مگر اس عہدے پر مستقل تقرر ہونے سے پہلے امتحان لینا ضروری سمجھا گیا ، تاکہ امیدوار کی صلاحیتوں کا حال کھل جائے اور یہ ظاہر ہو جائے کہ اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور خوبیاں کیا ۔ چنانچہ امتحان لیا گیا ، اور جو بات کھُلی ، وہ یہ تھی کہ یہ امیدوار تحریص و اِطماع کے اثر میں آ کر پھسل جاتا ہے ، اطاعت کے عزم پر مضبوطی سے قائم نہیں رہتا ، اور اس کے علم پر نسیان غالب آ جاتا ہے ۔ اس امتحان کے بعد آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو مستقل خلافت پر مامور کرنے کے بجائے آزمایشی خلافت دی گئی ، اور آزمایش کے لیے ایک مدت ( اَجَلِ مُسَمّٰی ، جس کا اختتام قیامت پر ہو گا ) مقرر کر دی گئی ۔ اس آزمایش کے دور میں امیدواروں کے لیے معیشت کا سرکاری انتظام ختم کر دیا گیا ۔ اب اپنی معاش کا انتظام انہیں خود کرنا ہے ۔ البتہ زمین اور اس کی مخلوقات پر ان کے اختیارات برقرار ہیں ۔ آزمایش اس بات کی ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود یہ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں ، اور اگر بھول لاحق ہوتی ہے ، یا تحریص و اِطماع کے اثر میں آ کر پھسلتے ہیں ، تو تنبیہ ، تذکیر اور تعلیم کا اثر قبول کر کے سنبھلتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اور ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے ، طاعت کا یا معصیت کا ؟ اس آزمایشی خلافت کے دوران میں ہر ایک کے طرزِ عمل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا ۔ اور یوم الحساب میں جو لوگ کامیاب نکلیں گے ، انہی کو پھر مستقل خلافت ، اس دائمی زندگی اور لازوال سلطنت کے ساتھ جس کا لالچ دے کر شیطان نے حکم کی خلاف ورزی کرائی تھی ، عطا کی جائے گی ۔ اس وقت یہ پوری زمین جنت بنا دی جائے گی اور اس کے وارث خدا کے وہ صالح بندے ہوں گے جنہوں نے آزمایشی خلافت میں طاعت پر قائم رہ کر ، یا بھول لاحق ہونے کے بعد بالآخر طاعت کی طرف پلٹ کر اپنی اہلیت ثابت کر دی ہو گی ۔ جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ، ان کا خیال صحیح نہیں ہے ۔ وہاں پیہم ترقی ہو گی ، بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو ۔ اور وہاں خلافتِ الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا ، بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے ۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی ۔:: اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں ۔*
*اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ آدم علیہ السلام و حوا علیہا السلام کا قصہ جس طرح بائبل میں بیان ہوا ہے ، اسے بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے ۔ بائبل کا بیان ہے کہ ’’ خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا ، تو انسان جیتی جان ہوا ۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو ، جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا ۔‘‘ ’’ اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا ۔‘‘ اور خداوند خدا نے آدم علیہ السلام کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے ، لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا ۔ کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا ، تُو مرا ۔‘‘ ’’ اور خداوند خدا اس پسلی سے ، جو اس نے آدم علیہ السلام میں سے نکالی تھی ، ایک عورت بنا کر اسے آدم علیہ السلام کے پاس لایا ۔‘‘ اور آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے ۔‘‘ ’’ اور سانپ کُل دشتی جانوروں سے ، جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا ، چالاک تھا ، اور اس نے عورت سے کہا : کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا ؟‘‘ ’’ سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤ گے ، تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے ۔‘‘ چنانچہ عورت نے اس کا پھل لے کر کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھلایا ۔’’ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں ، اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں ۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز ، جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا ، سنی اور آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا ۔‘‘ پھر خدا نے آدم علیہ السلام کو پکارا کہ تو کہاں ہے ؟ اس نے کہا کہ میں تیری آواز سن کر ڈرا اور چھپ گیا ، کیونکہ میں ننگا تھا ۔ خدا نے کہا : ارے ، تجھ کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ تو ننگا ہے ۔ ضرور تو نے اس درخت کا پھل کھایا ہو گا جس سے میں نے منع کیا تھا ۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ مجھے حوا نے اس کا پھل کھلایا ، اور حوا نے کہا مجھے سانپ نے بہکایا تھا ۔ اس پر خدا نے سانپ سے کہا :’’ اس لیے کہ تو نے یہ کیا ، تو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھیرا ۔ تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک چاٹے گا ، اور میں تیرے اور عورت کے درمیان ، اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا ۔ وہ تیرے سر کو کچلے گی اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا ۔‘‘ اور عورت کو یہ سزا دی کہ ’’ میں تیرے دردِ حمل کو بہت بڑھاؤں گا ، تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی ، اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی ، اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا ۔‘‘ اور آدم علیہ السلام کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کیا کہ چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور میرے حکم کے خلاف کیا ’’ اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ، مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا .......... تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا ۔‘‘ پھر ’’ خداوند نے آدم علیہ السلام اور اس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کرتے بنا کر ان کو پہنائے ۔‘‘ اور خداوند خدا نے کہا : دیکھو ، انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہو گیا ۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے ۔ اس لیے خداوند خدا نے اس کو باغ عدن سے باہر کر دیا ۔‘‘ ( پیدایش ، باب 2 ۔ آیات 7 ۔ 25 ، باب 3 ، آیات 1 ۔ 23 )*
*بائبل کے اس بیان اور قرآن کے بیان کو ذرا وہ لوگ بالمقابل رکھ کر دیکھیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ قرآن میں یہ قصّے بنی اسرائیل سے نقل کر لیے گئے ہیں ۔*
💡🔍فی ظلال القرآن🔍💡
*یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔ بعضکم لبعض عدو (٠٢ : ٣٢١) تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی ہوگی کہ تم کون سی راہ اختیار کرتے ہو۔ یہ منظر اس قصے کے بعد آتا ہے یوں کہ شاید یہ اس قصے کا حصہ ہے۔ درحقیقت اس کا اعلان بھی عالم بالا میں واقعہ آدم و ابلیس کے بعد ہوا۔ لہٰذا یہ اس پوری کائنات کیلئے زمانہ قدیم سے طے شدہ اصول ہے۔ یہ نہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم ہو سکتی ہے۔ فمن اتبع ھد ای فلا یضل ولایشقی (٠٢ : ٣٢١) تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔وہ گمراہی اور مصیبت سے محفوظ ہوگا ، میری ہدایت کی پیروی کی وجہ سے گمراہی اور مصیبت جنت کے دروازے کے باہر بڑی بےتابی سے تمہارے انتظار میں ہیں لیکن جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ ان سے بچا رہے گا اور مصیبت دراصل گمراہی کا پھل ہے۔ اگرچہ گمراہ شخص دنیاوی ساز و سامان میں غرق ہو ، یہ ساز و سامان بھی ایک گمراہ کے لئے بڑی مصیبت ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی مصیبت اور آخرت میں بھی مصیبت ، دنیا میں حرام کی روزی جس قدر بھی وافر ہو ، اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔انسان جونہی اللہ کی رہنمائی سے نکلتا ہے وہ اندھیروں میں داخل ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر ٹامک ٹوئایں مارتا ہے ،قلق اور پریشانی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔کبھی ادھر بھاگتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے ،اس کی زندگی واضح طور پر غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ غرض مصیبت ایک گمراہ شخص کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ عیش و عشرت میں ہو۔ اس کے لئے بہت بڑی بدبختی دار آخرت میں انتظار کرتی رہتی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ دنیا میں بھی گمراہی اور مصیبت سے مکمل طور پر نجات پاتا ہے اور آخرت میں تو وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔ صرف یوم موعود آنے کی دیر ہے۔*
*ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (٠٢ : ٣٢١) اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔ ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (٠٢ : ٣٢١) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷**🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*‏•┈•❀❁❀•┈•*یکم جمادی الاول ...
13/10/2026

*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*یکم جمادی الاول 1448 ھِجْرِیْ​*
*13 اکتوبر 2026 عِیسَـوی منگل*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*‏أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
‏•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰہٰ آیت 121-122
*فَاَکَلَا مِنۡہَا فَبَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ۫ وَ عَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی (121)*
*ثُـمَّ اجْتَبَاهُ رَبُّهٝ فَتَابَ عَلَيْهِ وَهَدٰى (122)*
*📜ترجمہ:*
*آخرکار دونوں ( میاں بیوی ) اُس درخت کا پھل کھا گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے 101 ۔ آدم ؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا ۔ 102*
*پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا 103 اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی ۔ 104*
*📜English Translation:*
*Then the two of them ate the fruit of that tree and their shameful parts became revealed to each other and they began to cover themselves with the leaves from the Garden. Thus Adam disobeyed his Lord and strayed into error.*
*Thereafter his Lord exalted him accepted his repentance and bestowed guidance upon him*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*یا رب العالمین! ہمیں اپنے احکامات کا پابند بنا، شیطان کے شر اور نفس کی برائیوں سے محفوظ فرما، ہمارے تمام سابقہ گناہ معاف فرما، ہماری توبہ قبول فرما، ہمیں ہدایت عطا فرما اور اپنے پسندیدہ بندوں میں شامل فرما۔ آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH! Make us obedient to Your commands, protect us from the evil of Satan and the mischief of our own selves, forgive all our past sins, accept our repentance, grant us guidance, and include us among Your beloved servants.*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎•
*بالفاظِ دیگر ، نافرمانی کا صُدور ہوتے ہی وہ آسایشیں ان سے چھین لی گئیں جو سرکاری انتظام سے ان کو مہیا کی جاتی تھیں ، اور اس کا اوّلین ظہور لباس چھن جانے کی شکل میں ہوا ۔ غذا ، پانی اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو ہی آنی تھی ، اس کا پتا تو بھوک پیاس لگنے پر ہی چل سکتا تھا ، اور مکان سے نکالے جانے کی باری بھی بعد ہی میں آ سکتی تھی ۔
مگر پہلی چیز جس پر نافرمانی کا اثر پڑا ، وہ سرکاری پوشاک تھی جو اسی وقت اُتروا لی گئی ۔
«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :102
یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو آدم علیہ السلام سے ظہور میں آئی ۔ اللہ تعالیٰ کو وہ اپنا خالق اور رب جانتے تھے اور دل سے مانتے تھے ۔ جنت میں ان کو جو آسایشیں حاصل تھیں ، ان کا تَجْربہ انہیں خود ہر وقت ہو رہا تھا ۔ شیطان کے حسد اور عداوت کا بھی ان کو براہِ راست علم ہو چکا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دینے کے ساتھ ہی بتا دیا تھا کہ یہ تمہارا دشمن تمہیں نافرمانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کا تمہیں یہ نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ شیطان اُن کے سامنے چیلنج دے چکا تھا کہ میں اسے بہکاؤں گا اور اس کی بیخ کنی کر کے چھوڑوں گا ۔ ان ساری باتوں کے باوجود جب شیطان نے ان کو ناصح ، مشفق اور خیرخواہ دوست کے بھیس میں آ کر ایک بہتر حالت ( زندگیِ جاوداں اور سلطنتِ لازوال ) کا لالچ دلایا ، تو وہ اس کی تحریص کے مقابلے میں نہ جم سکے اور پھسل گئے ، حالانکہ اب بھی خدا پر ان کے عقیدے میں فرق نہ آیا تھا ، اور اس کے فرمان کے بارے میں ایسا کوئی خیال ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ وہ سرے سے واجب الاذعان ہی نہیں ہے ۔ بس ایک فوری جذبے نے ، جو شیطانی تحریص کے زیرِ اثر ابھر آیا تھا ، ان پر ذہول طاری کر دیا ، اور ضبطِ نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقامِ بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے ۔ یہی وہ ’’ بھول اور ’’ فُقدانِ عزم ‘‘ ہے جس کا ذکر قصّے کے آغاز میں کیا گیا تھا ، اور اسی چیز کا نتیجہ وہ نافرمانی اور بھٹک ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے ۔ یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جو ابتدائے آفرینش ہی میں اس سے ظاہر ہوئی ، اور بعد میں کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا ہے جبکہ یہ کمزوری اس میں نہ پائی گئی ہو ۔*
*«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :103
یعنی شیطان کی طرح راندۂ درگاہ نہ کر دیا ، اطاعت کی کوشش میں ناکام ہو کر جہاں وہ گر گئے تھے ، وہیں انہیں پڑا نہیں چھوڑ دیا ، بلکہ اٹھا کر پھر اپنے پاس بلا لیا اور اپنی خدمت کے لیے چن لیا ۔ ایک سلوک وہ ہے جو بالارادہ بغاوت کرنے والے اور اکڑ اور ہیکڑی دکھانے والے نوکر کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اس کا مستحق شیطان تھا ، اور ہر وہ بندہ ہے جو ڈٹ کر اپنے رب کی نافرمانی کرے اور خم ٹھونک کر اس کے سامنے کھڑا ہو جائے ۔ دوسرا سلوک وہ ہے جو اس وفادار بندے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو محض ’’ بھول ‘‘ اور ’’ فقدانِ عزم ‘‘ کی وجہ سے قصور کر گزرا ہو ، اور پھر ہوش آتے ہی اپنے کیے پر شرمندہ ہو جائے ۔ یہ سلوک حضرت آدم و حوا سے کیا گیا ، کیونکہ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ پکار اٹھے تھے کہ : «رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ» ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ، اور اگر تو ہم سے درگزر نہ فرمائے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم برباد ہو جائیں گے ۔‘‘ ( اعراف ، آیت ۔ 23 )
«سورة طٰهٰ» حاشیہ نمبر :104
یعنی صرف معاف ہی نہ کیا ، بلکہ آیندہ کے لیے راہِ راست بھی بتائی اور اس پر چلنے کا طریقہ بھی سکھایا ۔*
‏•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
‏•┈•❀❁❀•┈•

👶 بچوں میں بار بار پیٹ دردکیا آپ کا بچہ بار بار کہتا ہے کہ “میرے پیٹ میں درد ہے”؟ اسے ہر بار صرف گیس سمجھ کر نظرانداز نہ...
26/09/2026

👶 بچوں میں بار بار پیٹ درد

کیا آپ کا بچہ بار بار کہتا ہے کہ “میرے پیٹ میں درد ہے”؟ اسے ہر بار صرف گیس سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ قبض، بدہضمی، کھانے پینے کی بےقاعدگی، بعض غذاؤں سے عدم برداشت، انفیکشن، ذہنی دباؤ اور دیگر وجوہات اس کی وجہ ہو سکتی ہیں۔

🥗 متوازن غذا، 💧 مناسب پانی، باقاعدہ کھانے کے اوقات اور روزانہ جسمانی سرگرمی بچوں کی صحت کے لیے اہم ہیں۔

⚠️ اگر درد بار بار یا شدید ہو، بخار، الٹی، خون، وزن میں کمی یا رات کو درد سے جاگنے جیسی علامات ہوں تو مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔

یہ معلومات کسی والدین کے لیے مفید ہو سکتی ہیں—Save اور Share ضرور کریں۔ ❤️

#والدین

25/09/2026

🌿 صحت کی بات — عمر عباسی کے ساتھ

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے چھوٹا رہ گیا ہے؟ 🤔

کیا قد کا چھوٹا ہونا ہمیشہ Growth Problem کی علامت ہوتا ہے؟
یا Genetics، Nutrition، Sleep اور overall health بھی بچے کی growth پر اثر انداز ہوتے ہیں؟

آئیے جانتے ہیں کہ بچوں کی growth کو سمجھنا کیوں ضروری ہے اور کن علامات پر والدین کو توجہ دینی چاہیے۔

🎥 Episode 14 — بچے کا قد کیوں نہیں بڑھ رہا؟

23/09/2026

🌿 صحت کی بات — عمر عباسی کے ساتھ

کیا آپ کا بچہ اکثر منہ کھول کر سوتا ہے، خراٹے لیتا ہے یا ناک بند رہتی ہے؟ 😴

کیا وجہ Tonsils، Adenoids یا Sinus کا مسئلہ ہو سکتی ہے؟
اور ان تینوں میں آخر فرق کیا ہے؟

آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں کہ بچوں میں یہ مسائل کیوں ہوتے ہیں اور کن علامات پر والدین کو توجہ دینی چاہیے۔

🎥 Episode 13 — Tonsils, Adenoids & Sinus

21/09/2026

بچہ رات کو بار بار جاگتا ہے؟ دیر سے سوتا ہے؟ نیند میں بے چین رہتا ہے؟ 😴
کیا یہ صرف ایک عادت ہے… یا بچے کا جسم اور ذہن ہمیں کوئی signal دے رہا ہے؟

🌙 بچوں کی نیندکیا آپ کا بچہ رات کو بار بار جاگتا ہے یا دیر تک جاگتا رہتا ہے؟ اس کی وجہ دن میں زیادہ سونا، موبائل کا استع...
20/09/2026

🌙 بچوں کی نیند
کیا آپ کا بچہ رات کو بار بار جاگتا ہے یا دیر تک جاگتا رہتا ہے؟ اس کی وجہ دن میں زیادہ سونا، موبائل کا استعمال، سونے کے وقت میں بےقاعدگی، خوف یا پریشانی اور جسمانی تکلیف ہو سکتی ہے۔
🌿 بچے کے لیے پرسکون ماحول بنائیں، سونے کا وقت مقرر رکھیں اور رات کو اسکرین کا استعمال کم کریں۔
اگر نیند کا مسئلہ مسلسل رہے، بچے کی روزمرہ سرگرمی یا نشوونما متاثر ہو، یا سانس لینے میں دشواری ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
یہ معلومات والدین کے لیے مفید ہو سکتی ہیں—Save اور Share ضرور کریں۔ ❤️
#والدین

19/09/2026

بچے بار بار بیمار کیوں ہوتے ہیں؟ 🤔
کبھی نزلہ، کبھی کھانسی، بخار، پیٹ کی شکایت یا جلد کے مسائل…

کیا یہ بچوں میں عام بات ہے، یا ان علامات کے پیچھے کوئی خاص pattern بھی ہو سکتا ہے؟

آئیے جانتے ہیں بچوں کی عام بیماریوں اور ان علامات کے بارے میں جن پر والدین کو توجہ دینی چاہیے۔

Address

Umer’s Homoeopathic Clinic, Main Ghori Garden Road Near Lehtrar Road Islamabad
Islamabad
44000

Opening Hours

Monday 14:00 - 22:00
Tuesday 14:00 - 22:00
Wednesday 14:00 - 22:00
Thursday 14:00 - 22:00
Friday 14:00 - 22:00
Saturday 14:00 - 22:00

Telephone

+923008545142

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umer’s Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Umer’s Homoeopathic Clinic:

Shortcuts

Share