21/08/2026
سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بے شرمی کی انتہا کردی اور فارماسسٹس ایسوسی ایشن اور فارماسسٹس کے رائٹس کے نام نہاد رکھوالے خواب خرگوش میں ملوث رہے۔۔
جب آپ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں صرف ایک ادارے کی اجارہ داری چلتی ہے اور آپ All in All بننے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرے پروفیشنلز کو آپ کچھ نہیں سمجھتے تو آپ مغروری میں ایسا ہی کچھ کرتے ہیں
ایم بی بی ایس (MBBS) جو کہ صرف ایک سمیسٹر یا شاید ایک سال صرف فارما کولوجی پڑھتے ہیں اور ایک F.A یا B.A پاس میڈیکل ریپریزینٹو اسے ادویات کے استعمال اور فائدے نقصان کے بارے میں بتاتا ہے۔۔۔۔ تو آپ کیسے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ایک میڈیکل ریپ سے سیکھنے والا میڈیسن کے ایفیکیسی ، کاسٹ ایفیکٹونیس اور ڈرگ یوز ریویو کا ایکسپرٹ ہو سکتا ہے جسے خود ایک F.A B.A پاس گائیڈ کرتا ہے۔
ان میں سے اکثر کو تو cost effectiveness اور drug utilization review کی ڈیفینیشن بھی پتہ نہیں ہوگی
گورنمنٹ کو چاہئے کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند نہ رکھے اور بندر بانٹ نہ کرے اور میڈیسن ایکسپرٹ جو کہ صرف فارماسسٹ ہوتا ہے جس کے پاس فارماکو ویجیلینس ، ڈرگ سیفیٹی اور ایفیکیسی کا نالج ہوتا ہے اور کاسٹ ایفیکٹونیس کا ماہر ہوتا ہے تو فارماسسٹ کو ہی ایسی پوسٹس کے لئے ہائیر کیا جائے۔۔ جس سے ہسپتالوں پر ادویات کا خرچہ اور بوجھ بھی کم ہوگا۔۔
باقی فارماسسٹس ایسوسی۔ایشن کے بابے ابھی بھی سو رہے ہیں انکو ان پوسٹس اور تنقید کے بعد ہوش اور جوش آئے گا۔۔
جب ایک ملک میں 60 سے زیادہ پرسنٹ نوجوان ہیں وہاں ایک مخصوص طبقہ جو گورنمنٹ جابز کر رہا ہے اور اپنی عمر کا ایک مخصوص حصہ گزار چکے۔ہیں وہ ہماری ایسوسی ایشن کو ریپریزینٹ کر رہے ہیں۔ جبکہ نوجوان جاب لیس انکے منہ تک۔رہے ہیں۔۔