26/08/2026
بیمار معاشرہ اور جنسی درندگی۔
جنسی درندگی ایک معاشرتی بیماری ہے جس کے خلاف خاموشی توڑنا ہوگی حالیہ دنوں میں گلگت اور ہنزہ میں سامنے آنے والے جنسی زیادتی کے واقعات نے ایک بار پھر ہمیں ایک ایسے تلخ معاشرتی مسئلے کے سامنے لا کھڑا کیا ہے جس پر اب خاموش رہنا کسی صورت مناسب نہیں۔ یہ صرف گلگت بلتستان یا ہنزہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں موجود ایک سنگین معاشرتی بیماری ہے، جس کے خلاف ہر گھر، ہر تعلیمی ادارے، ہر مذہبی و سماجی فورم اور ہر ذمہ دار شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جنسی درندگی صرف ایک جرم نہیں، بلکہ انسانی اقدار، اخلاق، اعتماد اور معاشرتی تحفظ پر حملہ ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات متاثرہ فرد کو ہی خاموش رہنے، بدنامی کے خوف یا معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اصل مجرم کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ مجرم کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ محفوظ اور غیر محفوظ لمس، ذاتی حدود، اعتماد کے قابل افراد اور خطرے کی صورت میں مدد حاصل کرنے کے بارے میں بھی عمر کے مطابق شعور دینا ہوگا۔ والدین کو بچوں کی بات سننی ہوگی، ان کے رویوں میں غیر معمولی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں بچہ کسی بھی خوفناک تجربے کے بارے میں بلاجھجھک بات کر سکے۔
اسی طرح معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عزت متاثرہ شخص کی خاموشی میں نہیں، بلکہ مجرم کے احتساب میں ہے۔ کسی متاثرہ فرد کو الزام دینا، اس کے کردار پر سوال اٹھانا، واقعہ چھپانا یا بدنامی کے خوف سے انصاف کا راستہ روکنا دراصل ظلم کو تقویت دینا ہے۔
ہمیں مذہبی، اخلاقی اور قانونی سطح پر واضح پیغام دینا ہوگا کہ بچوں، خواتین یا کسی بھی انسان کے ساتھ جنسی زیادتی کے لیے کوئی جواز، کوئی بہانہ اور کوئی معافی قابل قبول نہیں۔
گلگت بلتستان جیسے نسبتاً پُرامن اور باہمی اعتماد پر قائم معاشرے میں ایسے واقعات ہمارے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہیں۔ ہمیں صرف واقعہ رونما ہونے کے بعد غم و غصے کا اظہار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ پیشگی آگاہی، مضبوط خاندانی تربیت، بچوں کا تحفظ، ذمہ دار ادارہ جاتی نظام، فوری رپورٹنگ اور شفاف قانونی کارروائی کو اپنی اجتماعی ترجیح بنانا ہوگا۔
آئیے اس مسئلے پر خاموشی نہیں بلکہ شعور پیدا کریں؛ خوف نہیں بلکہ تحفظ دیں؛ متاثرہ فرد کو تنہا نہیں بلکہ سہارا دیں؛ اور مجرم کو چھپانے کے بجائے قانون کے سامنے جواب دہ بنائیں۔
خاموشی مجرم کی طاقت بن سکتی ہے، جبکہ شعور اور بروقت آواز کسی معصوم زندگی کو بچا سکتی ہے۔
یہ وقت صرف افسوس کرنے کا نہیں،
اپنے معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے عملی قدم اٹھانے کا ہے۔
gmdinhunzai.