Prof. Dr. Bilal Awan

Prof. Dr. Bilal Awan All About Fitness & Rapid Weight loss Diets all around the globe

عید الاضحیٰ اسپیشل ویٹ لاس گروپ (صرف خواتین ہماری بہنوں کے لیے ) سردیوں میں کھا کھا کر وزن بڑھ جانا ایک عام مسئلہ ہے… لی...
24/04/2026

عید الاضحیٰ اسپیشل ویٹ لاس گروپ (صرف خواتین ہماری بہنوں کے لیے )
سردیوں میں کھا کھا کر وزن بڑھ جانا ایک عام مسئلہ ہے… لیکن اب فکر کی کوئی بات نہیں! 💪💖
ہم نے واٹس ایپ پر خصوصی طور پر صرف خواتین کے لیے ایک سپورٹیو ویٹ لاس گروپ بنا دیا ہے، جہاں آپ کو ملے گا:
🌿 آسان اور ایفیکٹو ڈائٹ پلان
🥗 باڈی ڈیٹاکس گائیڈ
💃 ڈیلی موٹیویشن اور سپورٹ
📉 تیزی سے وزن کم کرنے کے ٹپس
👭 ایک پازیٹو اور انرجیٹک ماحول
بہت ساری خواتین بہنوں کے ساتھ مل کر گروپ ڈائٹ ۔
اب وزن کم کرنا مشکل نہیں… بس صحیح گائیڈنس اور صحیح ماحول چاہیے ✨
📲 ابھی جوائن کریں اور اپنی فٹنس جرنی شروع کریں!
03215522155 واٹس ایپ ۔

حکومت کا سولر سسٹم رکھنے والوں کو نیپرا سے لائسنس اور ایک ہزار روپیہ فی کلو واٹ کے حساب سے اضافی ادائیگی کیوں ؟چھت ہماری...
23/04/2026

حکومت کا سولر سسٹم رکھنے والوں کو نیپرا سے لائسنس اور ایک ہزار روپیہ فی کلو واٹ کے حساب سے اضافی ادائیگی کیوں ؟
چھت ہماری۔ انویسمنٹ ہماری۔ سورج حرارت کا ایک قدرتی ذریعہ جس پہ سب کا برابر کا حق۔
تو اس میں لائسنس لینے کی بات سمجھ سے باہر۔
دراصل
سولر لائسنس کا اصل معاملہ یوں ہے کہ وہ صارفین جو 12 کلوواٹ سے زیادہ نیٹ میٹرنگ پر ہوں گے انہیں نیپرا لائسنس لینا پڑے گا _ عام گھریلو صارفین جو گرین میٹر استعمال نہیں کرتے وہ سو کلوواٹ لگالیں کسی لائسنس کی ضرورت نہیں ہے _
خبر کی تحقیق کرلیا کریں ، الیکٹرانک میڈیا کی ہر خبر درست نہیں ہوتی _

وہیل: سمندر کی عظیم مخلوق — ایک سائنسی و معلوماتی مضمونوہیل زمین پر پائے جانے والے سب سے بڑے جانداروں میں شمار ہوتی ہیں۔...
23/04/2026

وہیل: سمندر کی عظیم مخلوق — ایک سائنسی و معلوماتی مضمون
وہیل زمین پر پائے جانے والے سب سے بڑے جانداروں میں شمار ہوتی ہیں۔ بظاہر یہ مچھلی لگتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہیل ممالیہ (mammals) ہیں، یعنی یہ اپنے بچوں کو جنم دیتی ہیں، انہیں دودھ پلاتی ہیں اور سانس لینے کے لیے ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہیل وقفے وقفے سے سمندر کی سطح پر آتی ہیں اور اپنے سر کے اوپر موجود سوراخ (blowhole) کے ذریعے سانس لیتی ہیں۔
سائنسی اعتبار سے وہیل کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
Baleen whales اور Toothed whales۔ Baleen whales، جیسے Blue whale، چھوٹے جانداروں جیسے krill کو فلٹر کر کے کھاتی ہیں، جبکہ Toothed whales، جیسے S***m whale، مچھلیوں اور giant squid کا شکار کرتی ہیں۔ یہ تقسیم ان کی خوراک اور شکار کے طریقے کو واضح کرتی ہے۔
جسمانی ساخت کے لحاظ سے وہیل انتہائی طاقتور اور منفرد ہوتی ہیں۔ ان کا جسم پانی میں تیز رفتاری سے تیرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کی جلد کے نیچے موٹی چربی کی تہہ (blubber) ہوتی ہے جو انہیں سرد پانی میں گرم رکھتی ہے۔ یہی چربی انہیں توانائی کا ذخیرہ بھی فراہم کرتی ہے۔
وہیل کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی افزائش اور بچوں کی پرورش ہے۔ مادہ وہیل اپنے بچے کو جنم دینے کے بعد اسے دودھ پلاتی ہے۔ یہاں ایک حیران کن سائنسی حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہیل کا دودھ عام جانوروں کے دودھ جیسا نہیں ہوتا بلکہ اس میں چکنائی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو تقریباً 30% سے 50% تک ہو سکتی ہے۔ یہ دودھ اتنا گاڑھا اور چکنا ہوتا ہے کہ پانی میں گھلتا نہیں بلکہ ایک گاڑھی کریم یا پیسٹ جیسا ہوتا ہے۔ اس کی یہی خاصیت بچے کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے اور اسے تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ چونکہ وہیل پانی میں رہتی ہیں، اس لیے وہ اپنے بچے کے منہ میں دودھ “چھوڑتی” ہیں تاکہ وہ ضائع نہ ہو۔
وہیل کی عمر بھی خاصی طویل ہوتی ہے۔ مختلف اقسام کی وہیلز کی عمر مختلف ہوتی ہے، لیکن عام طور پر یہ 50 سے 90 سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔ کچھ اقسام، جیسے Bowhead whale، 150 سے 200 سال تک بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو انہیں دنیا کے طویل عمر والے جانداروں میں شامل کرتی ہے۔
ماحولیاتی لحاظ سے وہیل کا کردار بے حد اہم ہے۔ وہ سمندری نظام (marine ecosystem) کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے سمندر میں غذائی اجزاء کی گردش بہتر ہوتی ہے، جس سے phytoplankton کی افزائش ہوتی ہے۔ یہی چھوٹے پودے آکسیجن پیدا کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، یوں وہیل بالواسطہ طور پر زمین کے ماحول کو بہتر بنانے میں حصہ ڈالتی ہیں۔
تاہم، انسانی سرگرمیوں نے وہیل کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماضی میں شکار (whaling) کی وجہ سے ان کی تعداد میں نمایاں کمی آئی، جبکہ آج بھی آلودگی، سمندری شور (noise pollution) اور موسمیاتی تبدیلیاں ان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ عالمی سطح پر کئی تنظیمیں وہیل کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ اس عظیم مخلوق کو محفوظ رکھا جا سکے۔
نتیجہ:
وہیل نہ صرف سمندر کی سب سے بڑی مخلوق ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔ اس کا منفرد دودھ، طویل عمر اور حیرت انگیز جسمانی خصوصیات اسے قدرت کا ایک شاہکار بناتی ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مخلوق کی حفاظت کرے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس کی اہمیت اور خوبصورتی سے آگاہ رہ سکیں۔

راولپنڈی سے دیگر شہروں اور تحصیلوں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈوں کو 10 روز کے لیے 26 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ را...
17/04/2026

راولپنڈی سے دیگر شہروں اور تحصیلوں کو جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ بس اڈوں کو 10 روز کے لیے 26 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ

راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پیشگی اقدامات شروع کر دیے گئے
آج رات سے 26 اپریل تک تمام ٹرانسپورٹ پبلک بس اڈے بند رکھے جائیں ٹرانسپورٹ یونین کے عہدے داروں کو احکامات جاری

فیصلہ پبلک ٹرانسپورٹ یونین کے مختلف عہدے داروں کو طلب کر کے اجلاس میں کیا گیا
ضلعی انتظامیہ ٹریفک پولیس اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ اتھارٹی اجلاس میں موجود تھے
ٹرانسپورٹ یونین عہدے داران
پبلک ٹرانسپورٹ اڈے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کرنے کے لیے الرٹ کا کیا گیا ہے پولیس ذرائع
بوقت ضرورت دیگر شہروں سے انے والی پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کوچز کو راولپنڈی شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی ذرائع

اجلاس میں س سے زائد بس اڈوں مالکان اور یونین کے عہدے داران موجود تھے ٹرانسپورٹ یونین عہدے داران

اللہ اکبر یہ تصویر انسانی جسم کے تین اہم ترین نظاموں کو بہت ہی متاثر کن انداز میں واضح کرتی ہے۔ اس میں دکھائی گئی تفصیلا...
17/04/2026

اللہ اکبر
یہ تصویر انسانی جسم کے تین اہم ترین نظاموں کو بہت ہی متاثر کن انداز میں واضح کرتی ہے۔ اس میں دکھائی گئی تفصیلات انسانی تخلیق کی پیچیدگی اور خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
تصویر میں موجود تینوں حصوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:
# # # 1. انسانی ڈھانچہ (Skeletal System)
دائیں جانب انسانی ڈھانچہ دکھایا گیا ہے۔
* **ہڈیاں:** ایک بالغ انسانی جسم میں **206** ہڈیاں ہوتی ہیں۔
* **مقصد:** یہ جسم کو ایک مضبوط ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، اندرونی اعضاء (جیسے دل اور دماغ) کی حفاظت کرتا ہے اور ہمیں چلنے پھرنے میں مدد دیتا ہے۔
# # # 2. اعصابی نظام (Nervous System)
درمیان میں پیلے رنگ کا جو جال نظر آ رہا ہے، وہ ہمارا اعصابی نظام ہے۔
* **اعصاب کی لمبائی:** تصویر کے مطابق جسم میں اعصاب (Nerves) کی کل لمبائی تقریباً **72 کلومیٹر** بنتی ہے۔
* **مقصد:** یہ نظام دماغ سے پورے جسم کو پیغامات بھیجتا ہے۔ یہ ہمیں چھونے، درد محسوس کرنے اور جسمانی حرکات کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے۔
# # # 3. کارڈیو ویسکولر نظام (Cardiovascular System)
بائیں جانب سرخ رنگ میں خون کی گردش کا نظام دکھایا گیا ہے۔
* **خون کی رگیں:** یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ اگر ایک انسان کی تمام چھوٹی بڑی خون کی رگوں کو جوڑا جائے تو ان کی لمبائی تقریباً **95,000 کلومیٹر** بنتی ہے۔
* **مقصد:** دل ایک پمپ کی طرح کام کرتا ہے جو ان رگوں کے ذریعے آکسیجن اور غذائیت سے بھرپور خون پورے جسم تک پہنچاتا ہے۔
یہ تصویر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ایک انسانی جسم کے اندر کتنا بڑا اور پیچیدہ "انجینئرنگ" کا نظام چھپا ہوا ہے جو ہر لمحہ خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہے۔

پیارے چچا جان کے لیے 【پیارے】【چچا】【جان】【کیلئے】【پرپل】【کارپٹ】عام طور پر ڈپلومیٹک پروٹوکول میں سب سے اونچے درجے کے مہمانوں (...
17/04/2026

پیارے چچا جان کے لیے
【پیارے】
【چچا】
【جان】
【کیلئے】
【پرپل】
【کارپٹ】
عام طور پر ڈپلومیٹک پروٹوکول میں سب سے اونچے درجے کے مہمانوں (بادشاہ، صدر یا وزیراعظم وغیرہ) کو ریڈ کارپٹ ریسپشن دی جاتی ہے۔ ریڈ کارپٹ عزت، وقار اور اعلیٰ پروٹوکول کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

لیکن جب کسی دوسرے رنگ کا کارپٹ بچھایا جائے، تو وہ اکثر خاص علامتی معنی رکھتا ہے:

پرپل (Purple) دنیا بھر میں شاہی وقار، شان و شوکت اور خصوصی عزت کا رنگ مانا جاتا ہے۔

عرب دنیا میں یہ رنگ اکثر شاہی خاندان اور بادشاہت سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستانی وزیراعظم کو عام ریاستی مہمان کے بجائے خصوصی شاہی احترام کے ساتھ خوش آمدید کہا۔

یعنی یہ ایک سنجیدہ ڈپلومیٹک سگنل ہے کہ سعودی قیادت پاکستان کے ساتھ تعلقات کو محض رسمی نہیں بلکہ قریبی اور عزت دارانہ تعلق کے طور پر دکھانا چاہتی ہے۔

📌 سادہ الفاظ میں: ریڈ کارپٹ عزت کا عام معیار ہے، لیکن پرپل کارپٹ دے کر سعودی عرب نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کو وہ اپنے اہم ترین شراکت داروں اور دوستوں میں شمار کرتا ہے۔

مبارک ہو حکومت ہمیں واپس پتھر کے زمانے میں لے گئی۔نہ پیٹرول کی ٹینشن نہ ڈکیتی کا خطرہ اور صحت بھی اچھی سائیکل کا زمانہ و...
03/04/2026

مبارک ہو حکومت ہمیں واپس پتھر کے زمانے میں لے گئی۔
نہ پیٹرول کی ٹینشن نہ ڈکیتی کا خطرہ
اور صحت بھی اچھی سائیکل کا زمانہ واپس آگیا ہے اپنا اپنا سائیکل دیکھ لیں🙂

03/04/2026

وہ دیکھو…
اسحاق ڈار سفارتی مسکراہٹوں کے ساتھ چین کی سرزمین پر قدم رکھ چکے،
وہ دیکھو…
شہباز شریف کے الفاظ کو
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی آواز دے دی،
وہ دیکھو…
سعودی عرب کی طرف سے تحفوں کی بارش ہو رہی ہے،
وہ دیکھو…
تیل و گیس کے ذخائر کے قصے سنہری خواب بن کر سنائے جا رہے ہیں،
وہ دیکھو…
خلیجی ہوائیں وعدوں کی خوشبو لے کر آ رہی ہیں۔
مگر یہ نہ دیکھو…
کہ گلیوں میں خاموشی چیخ رہی ہے،
کہ چولہے کی آگ اب سوال بن گئی ہے،
کہ امید کی آنکھ میں نمی بڑھتی جا رہی ہے،
اور عوام…
ہر گزرتے دن کے ساتھ
اپنے ہی خوابوں کے ملبے تلے دبتی جا رہی ہے

28 سال سے سیشن کورٹ گوجرانوالہ اور گرد ونواح میں جوتے پالش کرنے والے خان بھائی نے ایمانداری کی مثال قائم کردیا ، 35 لاکھ...
01/04/2026

28 سال سے سیشن کورٹ گوجرانوالہ اور گرد ونواح میں جوتے پالش کرنے والے خان بھائی نے ایمانداری کی مثال قائم کردیا ، 35 لاکھ روپے کے نوٹوں سے بھرا شاپر دیکھا تو پہلا خیال دل میں کیا آیا ، ہر ایمان والا اور بے ایمان اگلی لائنیں ضرور پڑھے ۔۔۔۔۔۔اس جوان نے 7 سال کی عمر میں آبائی گاؤں سے گوجرانوالہ آکر مزدوری شروع کی ، جوتے پالش کرنے کا کام پچھلے 15 سال سے کررہے ہیں کبھی ہزار اور کبھی 1500 یا 2 ہزار کی دیہاڑی بھی لگ جاتی ہے ، چند روز قبل صبح صبح کام پر آئے تو ایک جگہ ڈیرہ لگا لیا پاس ہی کچھ لوگ ایک وکیل کے پاس بیٹھے تھے تھوڑی دیر گزری تو سب اٹھ کر چلے گئے اور ایک سفید رنگ کا شاپر وہاں پڑا تھا صاف پتہ چل رہا تھا کوئی بھول گیا ہے ، اس نوجوان نے یہ شاپر اٹھایا اور کھولا تو اسے میں اتنے نوٹ تھے جو اس نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھے تھے ، پہلا خیال دل میں آیا کہ مسجد جاتا ہوں اعلان کرواتا ہوں جسکے ہونگے آکر لے جائے گا ، انہوں نے یہ شاپر اپنے اپنی باکس میں محفوظ کرلیا اور اپنے کام میں لگے رہے ، تھوڑی دیر بعد ایک وکیل صاحب آئے اور کہا ، خان آپ نے یہاں کوئی شاپر دیکھا ہے ، اس میں کافی سارے پیسے تھے اور میں کہیں رکھ کر بھول گیا ہوں ، خان بھائی نے تسلی کے لیے پوچھا کتنے پیسے تھے ، وکیل صاحب بولے 35 لاکھ روپے ہیں ۔۔۔ میں نے انہیں کہا پریشان نہ ہوں اور ایک دو وکیل صاحب کو بلائیں تاکہ اگر رقم آپ کی ہے تو میں آپ کے حوالے کروں ، قریب سے دو معزز اور جانے پہچانے وکلاء کو بلا لیا گیا ،اور رقم گنی گئی ، پورے 35 لاکھ روپے نکلے ، خان نے پیسوں سے بھرا شاپر وکیل صاحب کے حوالے کیا تو انکی آنکھیں نم تھیں ، انہوں نے خان کو 1000 روپے انعام دینے کی کوشش کی لیکن خان نے مسکرا کر اور شکریہ ادا کرکے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔۔
اللہ سلامت رکھے بے شک دنیا میں اب بھی اچھے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کا حق کھانا حرام سمجھتے ہیں ۔۔۔

بجلی کے صارفین پر بڑھتا ہوا بوجھ — انصاف کب ملے گا؟پاکستان میں بجلی کے صارفین اس وقت شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہی...
01/04/2026

بجلی کے صارفین پر بڑھتا ہوا بوجھ — انصاف کب ملے گا؟
پاکستان میں بجلی کے صارفین اس وقت شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ آئے روز بڑھتے ہوئے بل، ناقابلِ فہم ٹیکسز، اور اضافی چارجز نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف بجلی کے بلوں نے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک صارفین اس بوجھ کو برداشت کرتے رہیں گے؟
بجلی کے بل کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل بجلی کے استعمال سے کہیں زیادہ رقم مختلف مدات کی صورت میں وصول کی جا رہی ہے۔ ان میں فیول ایڈجسٹمنٹ، مختلف سرچارجز، اور خصوصاً میٹر رینٹ جیسے چارجز شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب صارف پہلے ہی میٹر کی قیمت ادا کر چکا ہوتا ہے تو پھر ہر ماہ میٹر کا کرایہ کس اصول کے تحت لیا جا رہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا واضح اور تسلی بخش جواب عوام کو آج تک نہیں دیا گیا۔
بجلی کے نظام کی نگرانی کرنے والا ادارہ نیپرا اور بجلی کی ترسیل و تقسیم سے وابستہ ادارے جیسے واپڈا اس معاملے میں خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ چارجز قانونی ہیں تو ان کی مکمل وضاحت عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتی؟ اور اگر ان میں کوئی زیادتی شامل ہے تو اس کا ازالہ کیوں نہیں کیا جاتا؟
اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندے، جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر عوام کے حقوق کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، اس اہم مسئلے پر خاموش نظر آتے ہیں۔ چاروں صوبوں کی اسمبلیاں ہوں یا قومی اسمبلی و سینیٹ، کہیں بھی اس مسئلے پر سنجیدہ قانون سازی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ خاموشی یقیناً سوالیہ نشان ہے اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پورے نظام کا شفاف آڈٹ کیا جائے اور بجلی کے بل میں شامل ہر چارج کی واضح وضاحت دی جائے۔ میٹر رینٹ جیسے متنازعہ چارجز کو فوری طور پر ختم یا کم از کم ان کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے پر جامع قانون سازی کرے تاکہ آئندہ کسی بھی قسم کی غیر ضروری یا غیر واضح وصولی کا راستہ روکا جا سکے۔
آج وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔ بجلی کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے، اور اس پر ناجائز بوجھ ڈالنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف معاشی دباؤ کو بڑھائے گا بلکہ عوامی بے چینی میں بھی اضافہ کرے گا۔
حکومت، متعلقہ اداروں اور عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور فوری طور پر ایسے اقدامات کریں جو صارفین کو حقیقی ریلیف فراہم کر سکیں۔ کیونکہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد اس کے مطمئن اور خوشحال شہری ہوتے ہیں، نہ کہ پریشان حال اور مجبور عوام۔

پاکستان حج نوٹپاکستانی حج نوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ وہ مخصوص کرنسی نوٹ تھے جو 1950 سے 1978 کے دوران...
26/03/2026

پاکستان حج نوٹ
پاکستانی حج نوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ وہ مخصوص کرنسی نوٹ تھے جو 1950 سے 1978 کے دوران صرف حجاج کرام کے لیے سعودی عرب میں استعمال کے لیے بنائے گئے تھے۔

اہم خصوصیات اور تاریخ
مقصد: ان نوٹوں کا مقصد زرمبادلہ (Foreign Exchange) کے ذخائر کی حفاظت کرنا اور پاکستانی کرنسی کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنا تھا۔
استعمال: یہ نوٹ پاکستان کے اندر بطورِ قانونی کرنسی استعمال نہیں ہو سکتے تھے۔ حجاج انہیں سعودی عرب کے بینکوں میں دے کر ریال حاصل کرتے تھے، اور پھر وہ بینک یہ نوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو واپس کر کے اپنا زرمبادلہ وصول کر لیتے تھے۔
مالیت: یہ نوٹ زیادہ تر 10 روپے اور 100 روپے کی مالیت میں جاری کیے گئے۔
ڈیزائن: ان کا ڈیزائن عام نوٹوں جیسا ہی تھا، لیکن ان پر مخصوص عبارت جیسے "حج کے لیے مخصوص" یا "صرف سعودی عرب میں استعمال کے لیے" (انگریزی اور اردو میں) درج ہوتی تھی۔
آخری اجراء: ان نوٹوں کا سلسلہ 1978 میں ختم کر دیا گیا، جس کے بعد حجاج کے لیے عام غیر ملکی کرنسی کے تبادلے کے طریقے اپنائے گئے۔

موجودہ قیمت (بطورِ قدیم مجموعہ)
آج کل یہ نوٹ دنیا بھر کے سکے اور کرنسی جمع کرنے والوں (Collectors) کے لیے بہت قیمتی سمجھے جاتے ہیں:
10 روپے کا نوٹ: بین الاقوامی مارکیٹ (جیسے ای بے) پر یہ نوٹ اپنی حالت کے لحاظ سے 1500 ڈالر سے لیکر 3000 ڈالر تک فروخت ہو رہے ہیں۔
100 روپے کا نوٹ: نایاب اور بہترین حالت (UNC) میں ہونے کی صورت میں اس کی قیمت $600 یا اس سے بھی زائد ہو سکتی ہے۔
پاکستانی مارکیٹ: پاکستان میں سکے جمع کرنے والوں کے گروپس پر ایک عام 10 روپے کا حج نوٹ 12000سے 15000روپے تک کی قیمت میں دیکھا گیا ہے۔

Address

Islamabad

Telephone

+923215522155

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof. Dr. Bilal Awan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category