Dr. Rashid Mehmood - Child Specialist

Dr. Rashid Mehmood - Child Specialist Child Health care provider

17/04/2026
"تقبل الله منا ومنكم وغفر الله لنا ولكم"."عيدكم مبارك، وكل عام وأنتم بخير"Eid Mubarak to our page followers and all Musl...
20/03/2026

"تقبل الله منا ومنكم وغفر الله لنا ولكم".
"عيدكم مبارك، وكل عام وأنتم بخير"

Eid Mubarak to our page followers and all Muslims across the globe.

ڈاکٹر ہونے کا ایک تاریک پہلو“تنہائی”گہری تنہائی۔آپ کے اردگرد ساتھی، مریض، دوست اور خاندان کے افراد موجود ہوتے ہیں…لیکن د...
18/03/2026

ڈاکٹر ہونے کا ایک تاریک پہلو

“تنہائی”

گہری تنہائی۔

آپ کے اردگرد ساتھی، مریض، دوست اور خاندان کے افراد موجود ہوتے ہیں…
لیکن دل کے اندر کہیں نہ کہیں آپ اکثر اکیلے کھڑے ہوتے ہیں۔

آپ کے خاندان والے آپ سے ہمدردی تو کرتے ہیں،
مگر یہ کم ہی سمجھ پاتے ہیں کہ آپ کیوں عید، تہوار، خاندانی تقریبات اور اہم لمحات مس کر دیتے ہیں۔
کیوں آپ کے بہت سے فون کالز جواب کے بغیر رہ جاتے ہیں
جب آپ وارڈ راؤنڈ پر ہوتے ہیں، ایمرجنسی ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں
یا کسی کی جان بچانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔

پرانے اسکول کے دوست کبھی کبھی سمجھتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔
کچھ اسے غرور کہتے ہیں۔
بہت کم لوگ سفید کوٹ کے پیچھے چھپی قربانیوں کو سمجھ پاتے ہیں۔

وقت کے ساتھ میڈیکل فیلڈ کی دوستیوں میں بھی فاصلے آ جاتے ہیں۔
ساتھی مختلف شہروں، ہسپتالوں یا ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔
ہر کوئی اپنی اپنی جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔

رشتے بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتے ہیں۔
اگر شریکِ حیات اسی پیشے سے ہو تو مقابلہ اور انا کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اور اگر کسی اور پیشے سے ہو تو وہ اکثر آپ کی ترجیحات کو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔

مریض آپ کے علم کا احترام تو کرتے ہیں،
لیکن ڈاکٹر اکثر پیشہ ورانہ فاصلہ برقرار رکھتے ہیں۔
دوستی کم ہی ہوتی ہے۔
مشکل وقت میں حقیقی ساتھ اس سے بھی کم ملتا ہے۔

ساتھی بظاہر دوستانہ لگتے ہیں،
مگر بہت سے لوگ خاموشی سے آپ کو مقابلہ سمجھتے ہیں۔

ہسپتال آپ کی قدر کرتے ہیں…
مگر صرف تب تک جب تک کوئی دوسرا آپ کی جگہ لینے کے لیے موجود نہ ہو۔

اس سب کے ساتھ میڈیکل غلطیوں کا دباؤ،
قانونی مقدمات کا خوف،
کام کی جگہ پر تشدد کا خطرہ
اور بے انتہا توقعات بھی شامل ہوتی ہیں۔

اور کبھی کبھی…

ڈاکٹر ہونا واقعی بہت تنہا کر دیتا ہے۔

ہر کوئی اس تجربے سے ایک جیسا نہیں گزرتا۔
لیکن بہت سے ڈاکٹر خاموشی سے اس حقیقت کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

کیونکہ اس اسٹیتھوسکوپ کے پیچھے…

ایک انسانی دل بھی دھڑکتا ہے

ڈاکٹر راشد محمود

آپکے بچوں کا ڈاکٹر

کیا مائیکرو ویو اوون Microwave oven میں گرم کیا ہوا کھانا کینسر پیدا کرتا ہے؟مختصر اور واضح جواب:👉 نہیں — مائکروویو اوون...
17/03/2026

کیا مائیکرو ویو اوون Microwave oven میں گرم کیا ہوا کھانا کینسر پیدا کرتا ہے؟

مختصر اور واضح جواب:

👉 نہیں — مائکروویو اوون میں گرم کیا ہوا کھانا کینسر نہیں کرتا۔
یہ ایک عام مگر غلط فہمی (myth) ہے۔

---

🔬 اصل حقیقت کیا ہے؟

1) مائکروویو کس طرح کام کرتا ہے؟

یہ non-ionizing radiation استعمال کرتا ہے

یعنی یہ صرف کھانے کے پانی کے molecules کو ہلاتا ہے اور heat پیدا کرتا ہے

یہ DNA کو نقصان نہیں پہنچا سکتا

📌 اسی لیے: ➡️ کینسر پیدا کرنے والا radiation وہ ہوتا ہے جو DNA توڑے (جیسے X-rays)
➡️ مائکروویو ایسا نہیں کرتا

---

🧪 2) سائنسی ادارے کیا کہتے ہیں؟

FDA: درست استعمال پر مائکروویو محفوظ ہے

WHO اور Cancer Society:
➜ مائکروویو کا کینسر سے کوئی ثابت شدہ تعلق نہیں

---

❗ پھر لوگ کیوں ڈرتے ہیں؟

وجہ صرف لفظ “radiation” ہے
لیکن:

قسم خطرہ

Ionizing radiation (X-ray وغیرہ) خطرناک، کینسر کا سبب ہوتی ہیں لیکن

Microwave radiation
محفوظ، صرف heat پیدا کرتا ہے

---

⚠️ اصل احتیاط کہاں ضروری ہے؟

کینسر نہیں، مگر یہ چیزیں دھیان میں رکھیں:

❌ سستے یا non-microwave-safe پلاسٹک میں کھانا گرم نہ کریں
➜ اس سے chemicals نکل سکتے ہیں

✔️ glass یا microwave-safe برتن استعمال کریں

✔️ خراب (damage) مائکروویو استعمال نہ کریں

---

👍 ایک اہم بات

کچھ cases میں مائکروویو:

nutrients کو زیادہ بہتر محفوظ رکھتا ہے

کیونکہ cooking time کم ہوتا ہے

---

✔️ حتمی نتیجہ

👉 مائکروویو میں گرم کیا ہوا کھانا:

کینسر کا سبب نہیں بنتا ❌

سائنسی طور پر محفوظ ہے ✔️

Febrile Fits (بخار کے جھٹکے/دورے)بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے...
25/02/2026

Febrile Fits (بخار کے جھٹکے/دورے)

بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں تیز بخار کے دوران ہوتے ہیں۔

یہ دورے اس وجہ سے پڑتے ہیں کہ اس عمر میں بچے کا دماغ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا اور بخار کے اچانک بڑھنے پر دماغ عارضی طور پر جھٹکوں کی صورت میں ردِعمل دیتا ہے۔

یہ دورے عام طور پر پورے جسم میں اکڑاؤ، ہاتھ پاؤں کے جھٹکے، آنکھوں کا اوپر کی طرف چلے جانا اور چند لمحوں کے لیے ہوش ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر دورے ایک سے پانچ منٹ میں خود ہی رک جاتے ہیں اور بچے کو کوئی مستقل دماغی نقصان نہیں پہنچتا، حالانکہ والدین کے لیے یہ کیفیت نہایت خوفناک ہوتی ہے۔

بخار کے دوروں کی بنیادی وجہ تیز بخار ہے، خاص طور پر جب بخار اچانک اور تیزی سے بڑھے۔ اکثر بچوں میں یہ بخار وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے نزلہ، زکام، کان کا انفیکشن، گلا خراب ہونا، سینے یا پیٹ کا انفیکشن۔

بعض اوقات حفاظتی ٹیکوں کے بعد بھی بخار آ سکتا ہے جو چند بچوں میں دورے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دورہ بخار کی شدت سے زیادہ اس کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے پڑتا ہے، اسی لیے بعض بچوں کو نسبتاً کم بخار میں بھی دورہ ہو جاتا ہے۔

کچھ بچوں میں بخار کے دوروں کا رجحان خاندانی ہوتا ہے۔ اگر والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ داروں کو بچپن میں بخار کے دورے پڑے ہوں تو بچے میں بھی اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کو پہلا دورہ کم عمر میں پڑے، بخار کے دوران بار بار دورے ہوں یا دورہ نسبتاً لمبا ہو تو آئندہ بخار میں دوبارہ دورے پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ تر بچوں میں کسی خاص دماغی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ عام طور پر بخار کے دورے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں ڈاکٹر مزید جانچ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں دماغ کی برقی سرگرمی جانچنے کے لیے EEG اور دماغ کی ساخت دیکھنے کے لیے MRI برین ٹیسٹ شامل ہیں۔ یہ ٹیسٹ اس وقت ضروری ہو سکتے ہیں جب دورہ پندرہ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہوں، دورہ جسم کے ایک حصے تک محدود ہو، بچہ دورے کے بعد دیر تک ہوش میں نہ آئے یا بچے کی نشوونما پہلے سے نارمل نہ ہو۔

بخار کے دوروں کے لیے عموماً کسی مستقل علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل مقصد بخار کی وجہ کو پہچاننا، انفیکشن کا مناسب علاج کرنا اور بخار کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور دماغ پختہ ہوتا ہے، بخار کے دورے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے عام طور پر روزانہ یا طویل عرصے تک دوروں کی دوائیں دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

کچھ بچوں میں جنہیں بار بار بخار کے دورے پڑتے ہوں یا جن کے پچھلے دورے طویل رہے ہوں، ڈاکٹر بخار کے دنوں میں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا Va**um tablet (Diazepam) تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ دوا بخار کے شروع ہوتے ہی محدود مدت کے لیے دی جاتی ہے تاکہ دورے کے امکانات کم ہو سکیں۔ اس دوا کے ممکنہ اثرات میں غنودگی، کمزوری اور سستی شامل ہو سکتی ہے، اس لیے اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے، یا بچہ بار بار دورے میں جا رہا ہو اور فوری طور پر ہسپتال پہنچنا ممکن نہ ہو تو Re**al Diazepam (Va**um suppository) استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا پاخانے کے راستے دی جاتی ہے اور چند منٹ میں دورہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ ایسے بچوں کے والدین کو اس دوا کے درست استعمال، مقدار اور طریقہ کار کے بارے میں مکمل آگاہی اور تربیت دینا نہایت ضروری ہے۔

زیادہ تر بچوں میں بخار کے دوروں کے بعد مرگی ہونے کا خطرہ نہیں بڑھتا، تاہم کچھ خاص حالات میں مستقبل میں مرگی کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان خطرے کے عوامل میں دورے کا غیر معمولی ہونا، پندرہ منٹ سے زیادہ دیر تک رہنا، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہونا، دورے کا جسم کے ایک حصے تک محدود ہونا، بچے کی اعصابی نشوونما میں پہلے سے مسئلہ ہونا یا خاندان میں مرگی کے مسلے کا ہونا شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت مکمل طور پر نارمل زندگی گزارتی ہے۔

دورے کے دوران والدین کا پرسکون رہنا سب سے اہم ہے۔ بچے کو ایک کروٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ تھوک یا قے سانس کی نالی میں نہ جائے۔ اردگرد موجود سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، کپڑے ڈھیلے کریں اور دورے کا وقت نوٹ کریں۔ بچے کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں، نہ پانی پلائیں اور نہ ہی جھٹکے روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے دانت ٹوٹنے یا سانس رکنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی دن میں بار بار دورے پڑیں، بچہ دورے کے بعد ہوش میں نہ آئے، جسم کے کسی حصے میں کمزوری محسوس ہو، بخار کے ساتھ گردن اکڑ جائے، مسلسل قے ہو یا بچے کی عمر چھ ماہ سے کم ہو تو فوراً ہسپتال لے جانا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں کسی سنگین بیماری کو خارج کرنا لازمی ہوتا ہے۔

بخار کم کرنے والی دوائیں بچے کو آرام پہنچاتی ہیں اور بخار کی شدت کم کرتی ہیں، لیکن یہ بخار کے دوروں کو مکمل طور پر روک نہیں سکتیں۔ پیراسیٹامول یا بروفن بچے کے وزن کے مطابق اور مناسب وقفے سے دینی چاہیے۔ بار بار یا ضرورت سے زیادہ دوائیں دینے سے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اچھی اور متوازن غذا بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔ جب قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے تو انفیکشن کم ہوتے ہیں، بخار کم آتا ہے اور یوں بخار کے دوروں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ مکمل ویکسینیشن بچوں کو کئی سنگین بیماریوں سے بچاتی ہے، اس لیے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوانا بہت ضروری ہے۔

آئرن کی کمی والے بچوں میں بخار کے دورے زیادہ دیکھے گئے ہیں کیونکہ آئرن دماغ کی نشوونما اور اعصابی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے آئرن سے بھرپور غذا جیسے گوشت، کلیجی، انڈا، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات بچے کی روزمرہ خوراک میں شامل ہونے چاہئیں۔ اگر آئرن کی کمی زیادہ ہو تو ڈاکٹر آئرن کی دوا تجویز کرتے ہیں۔

بخار کے دوروں میں Piracetam کو مخصوص دوا کے طور پر معمول کے علاج میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کے فائدے کے حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس دوا کو بغیر واضح وجہ اور ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بخار کے دورے دیکھنے میں جتنے خوفناک محسوس ہوتے ہیں، زیادہ تر اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ درست معلومات، والدین کا سکون، بروقت فرسٹ ایڈ اور مناسب طبی رہنمائی بچے کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

کشمیر ،گلت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں برف باری سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ آمدورفت میں رکاوٹیں ہیں۔ایسے میں کسی بی...
29/01/2026

کشمیر ،گلت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں برف باری سے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ آمدورفت میں رکاوٹیں ہیں۔ایسے میں کسی بیماری کی صورت میں اسپتال تک پہنچنا اور علاج معالجہ کروانا لوگوں کے لیے شدید مشکل ہو رہا ہے۔ آپ یا آپ کے کسی بھی عزیز ،بالخصوص بچوں کی صحت کے حوالے سے کوئی ایشو ہو یا گھر بیٹھے آن لائن مشورہ درکار ہو تو آپ ہمیں میسج کر کے مشورہ کر سکتے ہیں۔ بیماری اور علامات کی مختصر تفصیل ٹیکسٹ میسج یا وائس نوٹ کی صورت میں فیس بک میسنجر یا وٹس ایپ نمبر پر بھیجیں۔ ڈیوٹی ٹائم میں جواب دینے میں تھوڑی تاخیر ہو سکتی ہے ۔ان شاءاللہ حتیٰ المقدور اس مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کی
خدمت کے لیے دستیاب ہوں ۔

پلیز غیر ضروری میسجز یا کالز سے اجتناب کریں ۔ شکریہ

ماؤں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پہلے بچے پر غصہ اور بعد میں آنسو !✍️ تحریر: عثمان بشیر (آئیڈیل لائف کونسلنگ)کئی مائیں اس...
03/01/2026

ماؤں کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ پہلے بچے پر غصہ اور بعد میں آنسو !
✍️ تحریر: عثمان بشیر (آئیڈیل لائف کونسلنگ)
کئی مائیں اس لمحے کو جانتی ہیں…
جب غصہ ختم ہو جاتا ہے،
اونچی آواز خاموش ہو چکی ہوتی ہے،
بچہ سو گیا ہوتا ہے اور پھر ماں اکیلی بیٹھ کر رونے لگتی ہے۔
بچے کی طرف دیکھ کر آنسو بہتے ہیں اور آنسو خود کے لیے سزا ہوتے ہیں۔
دل میں ایک ہی سوال بار بار آتا ہے:
“میں ایسی کیوں بن جاتی ہوں؟”

یہ غصہ اور آنسو ایک ہی کہانی کے دو حصے ہیں !
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے:
ماں کا غصہ اور ماں کے آنسو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی جذباتی تھکن کی دو صورتیں ہیں۔
غصہ اُس وقت نکلتا ہے جب ماں کے اندر سنبھالنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔
آنسو اُس وقت آتے ہیں جب دل کو احساس ہوتا ہے کہ میں وہ ماں نہیں بن پائی جو میں بننا چاہتی تھی۔

ماں کی نفسیاتی حقیقت اس وقت یہ ہوتی ہے کہ جب ماں مسلسل!
خود کو روکتی رہے
اپنی تھکن چھپاتی رہے
اور “مجھے سب سنبھالنا ہے” کا بوجھ اٹھاتی رہے تو اس کا Emotional System ایک حد پر جا کر ٹوٹ جاتا ہے۔
اس وقت:
دماغ جذبات کو regulate نہیں کر پاتا
غصہ impulsive ہو جاتا ہے
اور بعد میں guilt حملہ آور ہو جاتی ہے

اسی لیے یہ چکر بنتا ہے:
غصہ → خود سے نفرت → آنسو → خود کو وعدے → پھر وہی غصہ
یہ آپکی کمزوری نہیں یہ نظامِ اعصاب کی تھکن ہے۔

ماں خود کو کیوں سب سے زیادہ سزا دیتی ہے؟
غصے کے بعد ماں خود کو سزا دیتی ہے:
“میں بہت خراب ہوں”
“میرے بچے مجھ سے محفوظ نہیں”
“کاش میں ایسی نہ ہوتی”

یہ سزا اس لیے سخت ہوتی ہے کیونکہ ماں کا دل اپنے بچے سے بے حد محبت کرتا ہے۔

جتنا زیادہ پیار اتنی ہی زیادہ شرمندگی۔

اور ماں کے اندر Inner Conflict: دل اور تھکن کی جنگ چل رہی ہوتی ہے۔
ماں کے اندر دو آوازیں چل رہی ہوتی ہیں:
🖤 ایک آواز کہتی ہے:
“میں مزید برداشت نہیں کر پا رہی”

🤍 دوسری آواز کہتی ہے:
“مجھے صبر کرنا چاہیے”

جب یہ دونوں آوازیں ٹکرا جاتی ہیں تو غصہ باہر آتا ہے اور آنسو اندر۔

اس چکر کو کیسے توڑا جائے؟

1️⃣ غصے کے بعد خود کو مجرم نہ بنائیں
غصے کے بعد سب سے خطرناک کام یہ ہے کہ ماں خود کو برا ثابت کرنے لگے۔

اس وقت بس اتنا کہیں:
“میں نے غلط react کیا،
مگر میں بری نہیں ہوں”

یہ الفاظ اس چکر کو آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں۔

2️⃣ آنسوؤں کو کمزوری نہ سمجھیں
اگر غصے کے بعد آنسو آتے ہیں تو اس کا مطلب ہے:
دل ابھی زندہ ہے
ضمیر ابھی جاگ رہا ہے
اور آپ بدلنا چاہتی ہیں
یہ آنسو ماں کی ناکامی نہیں بلکہ یہ اندر کی انسانیت ہے۔

3️⃣ اگلے دن کے لیے سوچیں اور پرانہ بھول جائیں
اکثر مائیں غصے کے بعد خود سے وعدے کرتی ہیں:
“اب کبھی غصہ نہیں کروں گی”
یہ وعدہ ممکن نہیں۔

اس کے بجائے یہ کہیں:
“اگلی بار میں تھوڑا پہلے رکنے کی کوشش کروں گی”
چھوٹی کوشش بڑی تبدیلی لاتی ہے۔

اسلامی نکتہ نظر سے بھی سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں!
اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی جدوجہد سے پہچانتا ہے
ماں کا بار بار سنبھلنے کی کوشش کرنا اللہ کے نزدیک بار بار اٹھنے جیسا ہے۔

رسول ﷺ نے فرمایا:
“سب سے مضبوط انسان وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو روک لے”
اور خود کو روکنے کی کوشش خود میں عبادت ہے۔

آخر میں… ایک سچ جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہے
اگر آپ بچے پر غصہ کر کے رو پڑتی ہیں
خود کو برا کہتی ہیں اور دل میں یہ خواہش رکھتی ہیں کہ میں بہتر بن جاؤں

تو یقین کریں:
آپ کا مسئلہ محبت کی کمی نہیں ہے بلکہ آپ کا مسئلہ تنہائی اور تھکن ہے۔
اور تھکی ہوئی ماں برا انسان نہیں ہوتی وہ بس اکیلی ہوتی ہے۔

کیا آپ نے بھی کبھی غصے کے بعد خود کو ٹوٹتا محسوس کیا؟
دل چاہے تو کمنٹ میں لکھیں۔

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Rashid Mehmood - Child Specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share