19/03/2020
کرونا/کوویڈ-19بیماری
ایک عام پاکستانی کے لئے معلومات وھدایات
ڈاکٹر محمد عثمان خٹک
پروفیسر آف میڈیسن
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور
صدر ، پاکستان سوسائیٹی آف فزیشنز
سوال:کیا مجھے کرونا/کوویڈ-19 بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟
جواب: جی بالکل جیسا کہ پاکستان میں رھنے والے باقی لوگوں کو یا دنیا کے باقی ممالک کے باشندوں کو۰
سوال: یہ کتنی خطرناک بیماری ہے؟
جواب: یہ بیماری چونکہ نئی ہے اسلئے یہ کہنا کہ یہ عام زکام ، گلے کی خراش ، نزلہ اور بخار سے زیادہ کچھ نہیں قبل ازوقت ہے۰ تاہم جتنا اس بیماری کو اب تک ان دو تین ماہ میں سمجھا گیا ہے اس کے مطابق یہ زیادہ تر پہلے سے تندرست لوگوں میں کسی پیچیدگی کا باعث نہیں بنتی ۰صرف وہ لوگ جو پہلے سے کسی اور بیماری میں مبتلا ہوں یا جن کی قوت مدافعت کمزور ہو یا جو ستر سال سے اوپر کے ہوں ان میں یہ خطرے کا باعث بن سکتی ہے۰ اس طرح سے یہ بیماری عام زکام سے مماثلت رکھتی ہے کیونکہ عام زکام کے زیادہ تر نقصانات بھی اُنہی مریضوں میں سامنے آتے ہیں جو بوڑھے بزرگ ہوں یا جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہو۰
سوال:اس بیماری کا سنتے ہی میں کانپ اٹھتا ہوں ایسے میں مجھے کیا کرنا چاھئیے؟
جواب: ہر بیماری کی طرح یہ بھی خطرناک ہو سکتی ہے اور تھوڑا سا خوف بجا ہے مگر ساتھ ساتھ یاد رکھئیے کہ جیسے بچپن سے اب تک آپ وقتاً فوقتاً مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے رہے اور صحت یاب ہوتے رہےاگر آپ کو خدانخواستہ یہ بیماری ہو گئی تو اس بار بھی قوی امکان ہے کہ آپ صحتیاب ہوں گے جیسا کہ باقی 98 فیصد لوگ ہو چکے ہیں
سوال: اس وقت میں بالکل تندرست ہوں ۰ میں کیسے اس بیماری سے خود کو بچا سکتا ہوں؟
جواب: مناسب احتیاط سے۰ رش والی جگہ سے دور رہیں۰جن افراد ،دوستوں ، رشتہ داروں کو یہ بیماری ہو یا اس بیماری سے ملتی جلتی علامات ہوں (زکام، نزلہ ، کھانسی، بخار) ان سے کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھیں ۰ھاتھ باقاعدگی سے صابن سے دھویں۰ ماسک کا استعمال کریں یا رومال سے منہ اور ناک ڈھانپ کے رکھیں۰ لوگوں سے ھاتھ ملانے سے گریز کریں اور آتے جاتے اپنے ھاتھ غیر ضروری طور پر دیواروں دروازوں کھڑکیوں اور فرنیچر وغیرہ پر لگانے سے اجتناب کریں۰
سوال: زکام کھانسی نزلہ بخار تو مجھے پچھلے سال بھی ہوا تھا جب کرونا بیماری کا نام و نشان تک نہیں تھا۰ اگر اس بار بھئ یہی علامات ظاھر ہو جائیں تو میں اس کو کورنا/ کو ویڈ -19 کیوں سمجھوں عام زکام یا انفلوئنزا کیوں نہیں؟
جواب: بات میں وزن ہے۰ عام زکام یا انفلوئنزا ہمیں سالوں سے ہوتا رہا ہے اور اس بیماری کے بارے میں ہم کافی معلومات بھی رکھتے ہیں اور ایک حد تک مانوس بھی ہو چکے ہیں ۰اس بار بھی زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ کو جو علامات ہیں وہ عام زکام یا انفلوئنزا ہی ہو مگر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ علامات کرونا/ کوویڈ -19 کی ہوں جو کہ بالکل ایک نئی بیماری ہے جس کے بارے میں ہماری معلومات محدود ہیں۰ایسے میں تھوڑی لا پرواہی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۰
سوال: اس بیماری کی کیا کوئی ایک علامت ایسی ہے جو اگر کسی شخص میں پائی جائے تو ہم کہیں کہ اس کو بغیر کسی شک کے کرونا/ کوویڈ -19 ہی ہے؟
جواب: ابھی تک اس بیماری کی اس طرح کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی جو صرف اور صرف اس بیماری سے منسوب ہو۰
سوال: میں تو پاکستان سے باہر کبھی گیا ہی نہیں تو مجھے کیونکر یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے؟
جواب:چندھفتے پہلے تک اس بات کی اہمیت تھی کیونکہ ہمارے ملک میں اسکا ایک مریض بھی نہیں تھا۰جب سے ہمارے ملک میں یہ بیماری آچُکی ہے اب چاہے کوئی بیرون ملک گیا ہو یا نہیں دونوں صورتوں میں ہم وطنوں کو یہاں یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے
سوال:بتایا جا رھا ہے کہ اس بیماری کا علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا۰ جب علاج ہی نہیں تو میں لیباریٹری ٹسٹ کے زریعے بیماری کی تشخیص کر بھی لوں تو کیا فائدہ ؟
جواب: جس طرح کےمکمل علاج کا آپ کرونا/ کوویڈ -19 کے حوالے سے توقع رکھ رہے ہیں ایسا علاج تو ابھی تک عام زکام اور انفلوئنزا کے لئے بھی میسر نہیں ۰ ان بیماریوں میں بھی علامتی علاج ہوتا ہے۰ عام زکام یا انفلوئنزا بھی ایک وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں جس کے لئے ڈاکٹر کوئی دوا نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی اچھی دوا موجود ہے۰ اس کے باوجود بھی ایک عام زکام یا انفلوئنزا کا متاثرہ شخص ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تاکہ نمونیا اور اس طرح کی باقی پیچیدہ امراض کا بھی بر وقت پتہ چلایا جا سکے۰
اس کے علاوہ ٹسٹ اور تشخیص کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی تشخیص ہونے کے بعد آپ کو خلوت میں رکھ کر آپ کے دوست احباب اور پیاروں کو ایک ایسی بیماری سے بچایا جا سکے گا جس کے بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے
سوال: میرے دوست کو نزلہ زکام کھانسی اور بخار کی شکایت تھی۰ہسپتال والوں نے اس کے نمونے ٹسٹ کے لئے بھجوائے۰ نتیجہ کرونا/کوویڈ کے بر خلاف آیا۰ کیا اب وہ بے غم رہے اور احتیاط چھوڑ دے؟
جواب: احتیاط اب بھی بہت ضروری ہے ۰ آپ کے دوست کو کرونا/کوویڈ -19 ہونے کا اب بھی اتنا ہی امکان ہے جتنا آپ کو، مجھے یا ہم سب کو ہے۰
کرونا/ کوویڈ 19 کا منفی نتیجہ آنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو کلین چٹ مل گئی اور آپ اب بے غم رہیں ۰
سوال: اس بیماری کا جراثیم تو کھانسی یا چھینک کے زریعے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا ہے تو میں مریض سے یا لوگوں سے ھاتھ ملانے سے کیوں اجتناب کروں ؟
جواب: یہ جراثیم مختلف زریعوں سے بیمار شخص سے صحت مند شخص میں منتقل ہوتا ہے۰ ایک زریعہ تو آپ نے خود بتایا دوسرا یہ کہ یہ جراثیم مریض کے ھاتھوں پہ اپنے ہی منہ یا ناک سے لگ کے آیا ہوتا ہے جھاں یہ زندہ رہتا ہے اور ھاتھ ملاتے ہوئے یہ دوسرے صحت مند انسان کے ھاتھ سے ہوتے ہوئے اس کی ناک یا منہ میں پہنچتا ہے جہاں یہ بیماری کا باعث بنتا ہے۰
سوال: میرے بھائی کا ٹسٹ ریزلٹ مثبت آیا ہے مگر اسکی علامات معمولی نوعیت کی ہیں اور وہ ہسپتال میں داخل ہونے سے انکاری ہے۰اب ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟
جواب: بہتر جگہ تو ہسپتال ہے لیکن چونکہ وہ خود بھی انکاری ہے اور ہسپتال میں اتنے آئسولیشن رومز بھی نہیں تو متبادل کے طور پہ گھر میں خلوت میں رکھا جا سکتا ہے اگر وہاں مناسب سہولت ہو۰
سوال: گھر میں میرے بھائی کو کتنے عرصہ خلوت میں رھنا پڑے گا؟
جواب: جب تک اس کا بخار اُتر نہ جائے اور باقی علامات ٹھیک نہ ہو جائیں جس میں چند دنوں سے لیکر دو ھفتے لگ سکتے ہیں۰ اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو ٹسٹ بھی دوبارہ کروایا جا سکتا ہے جس کے نتیجے سے رھنمائی لی جا سکتی ہے۰