23/07/2026
ہم سب کسی نہ کسی کے بعد والے آدمی ہیں
ہم جیسے لوگوں کی ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ہم خود کو آغاز سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ ہم میں سے کوئی بھی آغاز نہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی کہانی کا اگلا باب ہیں۔ ہم جس دروازے سے اندر داخل ہوتے ہیں، اس سے پہلے وہاں کسی اور کے قدموں کی آہٹ موجود ہوتی ہے۔ جس کرسی پر ہم بیٹھتے ہیں، اس کی لکڑی کسی اور کے انتظار، کسی اور کی تھکن اور کسی اور کی خاموشی سن چکی ہوتی ہے۔ جس قلم سے ہم لکھتے ہیں، اس نے پہلے بھی کسی کے خواب، کسی کے استعفے، کسی کی محبت اور کسی کی آخری درخواست لکھی ہوتی ہے۔ زندگی میں ہم پہلے آدمی نہیں ہوتے، ہم کسی نہ کسی کے بعد والے آدمی ہوتے ہیں۔
انسان کو اپنے بارے میں بہت زیادہ غرور نہیں کرنا چاہیے۔ یہ احساس آدمی کو چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ اسے مہذب بنا دیتا ہے۔ جب انسان جان لیتا ہے کہ وہ کسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، پوری زنجیر نہیں، تو اس کے لہجے میں نرمی آ جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی جگہ چھیننے کے بجائے اپنی جگہ سنوارنے لگتا ہے۔
کبھی کسی پرانے اسکول میں جائیے۔ دیواروں پر نیا رنگ چڑھا ہوگا، کمروں میں نئے بچے بیٹھے ہوں گے، اساتذہ بھی بدل چکے ہوں گے، مگر فضا میں کہیں نہ کہیں ان بچوں کی ہنسی اب بھی تیرتی محسوس ہوگی جو برسوں پہلے یہاں سے رخصت ہوئے تھے۔ زندگی شاید یہی ہے۔ انسان چلا جاتا ہے، مگر اس کی موجودگی پوری طرح ختم نہیں ہوتی۔ وہ آواز کی طرح نہیں، بازگشت کی طرح رہ جاتا ہے۔
ہم اپنے گھروں کو بھی صرف اپنا سمجھتے ہیں، حالانکہ گھر ہم سے پہلے بھی کسی کے تھے اور ہمارے بعد بھی کسی کے ہوں گے۔ کسی کھڑکی پر کبھی کسی ماں نے اپنے بیٹے کا انتظار کیا ہوگا، اسی کھڑکی سے آج کوئی بچہ بارش دیکھ رہا ہے، اور کل شاید کوئی بوڑھا شخص اسی کھڑکی سے شام کا سورج ڈوبتے ہوئے دیکھے گا۔ مکان وہی رہتا ہے، صرف کہانیاں بدلتی رہتی ہیں۔ دیواریں کبھی کسی ایک انسان کی نہیں ہوتیں، وہ صرف وقت کی امانت ہوتی ہیں۔
ہم سب اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم کسی کے بعد آئے ہیں۔ اسی بھول سے تکبر جنم لیتا ہے۔ ہمیں لگنے لگتا ہے کہ سب کچھ ہم سے شروع ہوا ہے۔ یہ دفتر، یہ ادارہ، یہ خاندان، یہ شہر، یہ روایت۔ حالانکہ ہم سے پہلے بھی لوگ تھے جو اتنی ہی سنجیدگی سے جیتے تھے، اتنی ہی شدت سے محبت کرتے تھے، اتنی ہی خاموشی سے روتے تھے اور ایک دن اسی خاموشی کے ساتھ چلے گئے۔
کتابیں شاید اسی لیے انسان سے زیادہ زندہ رہتی ہیں۔ آپ کسی پرانی کتاب کا پہلا صفحہ کھولیے۔ وہاں کسی کا نام لکھا ہوگا، کوئی تاریخ، شاید سیاہی سے لکھی ہوئی ایک دعا، یا کسی بچے کی بے ترتیب لکھائی۔ وہ شخص آج دنیا میں ہو یا نہ ہو، مگر اس کے ہاتھ کی جنبش اب بھی اس صفحے پر محفوظ ہے۔ ہم کتاب نہیں پڑھتے، ہم اپنے سے پہلے گزر جانے والے انسانوں کی موجودگی کو بھی پڑھتے ہیں۔ ہر کتاب دراصل یہ اعلان کرتی ہے کہ علم بھی وراثت ہے اور احساس بھی۔
درخت بھی یہی سبق دیتے ہیں۔ ایک بوڑھا برگد کبھی اپنے لیے سایہ نہیں بناتا۔ وہ ان لوگوں کے لیے سایہ بنتا ہے جنہیں شاید وہ کبھی دیکھ بھی نہ سکے۔ اس کی جڑیں ماضی میں ہوتی ہیں اور اس کی ٹھنڈک مستقبل کے نام لکھی جاتی ہے۔انسان کی زندگی بھی تب ہی خوب صورت بنتی ہے جب وہ صرف اپنے لیے نہیں جیتا، بلکہ اپنے بعد آنے والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ جاتا ہے۔کوئی کتاب، کوئی خیال، کوئی دعا، کوئی درخت، کوئی نرم لہجہ، یا صرف ایک اچھی یاد۔
تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کو بدلنے والے لوگ اکثر اپنے بعد آنے والوں کے بارے میں سوچتے تھے۔ ایک اچھا استاد اس لیے محنت نہیں کرتا کہ شاگرد ہمیشہ اسے یاد رکھیں، وہ اس لیے پڑھاتا ہے کہ ایک دن شاگرد اس سے بھی بہتر ہو جائیں۔ ایک باپ اس لیے گھر نہیں بناتا کہ وہ ہمیشہ اس میں رہے، وہ اس لیے بناتا ہے کہ اس کے بعد بھی کسی کے سر پر چھت باقی رہے۔ ایک شاعر اس لیے نہیں لکھتا کہ اس کو صرف شہرت ملے، وہ اس لیے بھی لکھتا ہے کہ شاید کوئی اجنبی برسوں بعد اس کے کسی شعر میں اپنا دل دھڑکتا ہوا محسوس کر لے۔
یہ بات اتنی اہم نہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے کیا پایا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان سے ملی ہوئی امانت کا کیا کیا۔ کیا ہم نے دنیا کو ذرا سا بہتر چھوڑا، یا پہلے سے زیادہ شور، زیادہ نفرت اور زیادہ بے حسی اس کے حصے میں ڈال دی؟ ہر نسل اپنے سے اگلی نسل کے لیے موسم تیار کرتی ہے۔ اگر ہم نفرت بوتے ہیں تو ہمارے بعد والے کانٹوں پر چلتے ہیں، اور اگر ہم احترام، محبت اور دیانت کے بیج بوتے ہیں تو شاید ہمیں نہ سہی، انہیں سایہ ضرور مل جاتا ہے۔
سب سے خوب صورت احساس یہی ہے کہ ہمارے دنیا سے چلے جانے کے بعد راستے کم دشوار رہ جائیں۔ کسی کے دل میں انسان پر اعتماد کا ایک چراغ بجھنے نہ پائے۔ کسی بچے کو یہ یقین رہے کہ دنیا میں اچھے لوگ اب بھی موجود ہیں۔ بعض لوگ اپنی پوری زندگی میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیتے، مگر ان کے نرم لہجے، ان کی دیانت اور ان کی شفقت نسلوں تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو تاریخ کی کتابوں میں نہیں لکھا جاتا، مگر انسانوں کے رویّوں میں زندہ رہتا ہے۔
ہم سب ایک دن کسی اور کے لیے "پہلے والے آدمی" بن جائیں گے۔ ہماری کرسی پر کوئی اور بیٹھے گا، ہماری کتاب کوئی اور کھولے گا، ہمارے لگائے ہوئے درخت کے نیچے کوئی اور سانس لے گا، ہمارے گھر کی دیواروں پر کسی اور کے بچوں کی ہنسی گونجے گی۔ اس دن شاید کسی کو ہمارا نام بھی یاد نہ ہو، مگر اگر ہمارے وجود سے دنیا میں ذرا سی روشنی، ذرا سی مہربانی اور ذرا سا اعتماد بڑھ گیا، تو یہی ہماری اصل پہچان ہوگی۔
زندگی کا حسن یہی ہے کہ ہم ہمیشہ کسی کے بعد آتے ہیں اور کسی سے پہلے چلے جاتے ہیں۔ درمیان کا مختصر وقفہ ہماری ذمہ داری بھی ہے اور آزمائش بھی۔ یہی وقفہ بتاتا ہے کہ ہم نے صرف زندگی گزاری تھی یا زندگی کو اپنے بعد بھی تھوڑا سا زندہ چھوڑ گئے تھے۔