29/03/2025
انسانی جسم میں گردے کی تبدیلی سے لیکر اس کی تمام بیماریوں کا علاج کرنے کے ماہر ڈاکٹر نئیر سلیم کا تعلق کبیروالا کی دھرتی سے ہے وہ یہاں صدیوں سے آباد ڈھڈی قبیلے کا چشم و چراغ ہے اس کے والد محترم سلیم رضا سردارپور چوک میں اپنا میڈیکل سٹور چلاتے تھے جب 1980میں ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی انہوں نے اس کا نام نئیر سلیم رکھا.
والدین کی طرف سے اعلی درجے کی تعلیم و تربیت سے نئیر سلیم میں قدرت کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتں نکھر کر سامنے آئیں نئیرسلیم نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کبیروالا سے 1994میں میٹرک ہائی فسٹ ڈویژن میں پاس کیا پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے 1996میں ایف ایس سی کرنے کے بعد وکٹوریہ میڈیکل کالج بہاولپور میں میرٹ پر داخلہ مل گیا یہاں سے 2002 میں ایم بی بی ایس کی ڈگری لیکر نئیر سلیم نے شیخ زید ہسپتال لاہور سے ایف سی پی ایس کیا اور نیفرالوجی میں سپیشلائزیشن کرنے کے دوران ریسرچ سکالر شپ پر ایک سال کیلئے چائنہ چلے گئے اس کے بعد ان کا سعودی عرب کنگ فیصل ہسپتال سے معاہدہ ہو گیا انہوں نے چار سال تک یہاں حج عمرے بھی کیے اور سعودی عوام کو گردے کی بیماریوں سے نجات دلانے کیلئے خدمات سر انجام دیں .
ڈاکٹر نئیر سلیم روایتی ڈاکٹروں کی طرح مال دولت کمانے پر یقین نہیں رکھتے اس لئے ان کے آگے بڑھنے کا سفر جاری رہا سعودی عرب میں چار سال گزارنے کے بعد وہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کینیڈا چلے گئے جہاں تین سال تک نیفرالوجی , کڈنی ٹرانسپلانٹ میں ایڈوانس سٹڈی کرتے رہے ڈاکٹر نئیر سلیم کو پروفیشنل مہارت ,تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر سعودی عرب ملٹری ہسپتال میں جاب کنٹریکٹ مل گیا
○2021 میں ڈاکٹر نئیر سلیم کو اپنی دھرتی اپنے وسیب کی محبت پاکستان کھینچ لائی یہاں کڈنی سنٹر ملتان میں بطور فزیشن ہیڈ خدمات پر مامور ہو گئے , سرکاری طور پر ڈیوٹی کے بعد بُچ ولاز ہسپتال ملتان میں بھی دستیاب ہوتے ہیں. ہر اتوار کو اپنے آبائی علاقہ کبیروالا میں آتے ہیں اور معمولی فیس پر گردے کے مریضوں کا علاج کرنے کیلئے کینال روڈ پر قبرستان کے بالمقابل ہارمون لیب پر بیٹھتے ہیں یہ ہارمون لیب ان کے چھوٹے بھائی احسن سلیم صاحب چلاتے ہیں دونوں بھائی انتہائی نفیس خوش مزاج اور غریب پرور انسان ہیں
○ڈاکٹر نئیر سلیم نے اس نمائندے کے ساتھ ملاقات میں بتایا کہ پاکستان میں ناقص خوراک اور بظاہر صاف لیکن جراثیموں سے بھر پور پانی, صحت مخالف لائف سٹائل کی وجہ سے گردے کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے گردے خراب ہونے سے شوگر بلڈ پریشر کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں گردے کی پتھری تو عام ہو رہی ہے متاثرہ مریضوں کو لیب ٹیسٹ کی طرف آنے کی ضرورت ہے کیونکہ گردے کی بیماریوں کا ابتدائی مرحلے میں علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے پتہ ہی نہیں چلتا اچانک گردے فیل ہونے کی خوفناک خبر آتی ہے اور مریض شاک میں چلے جاتے ہیں پھر دیسی حکیموں پیروں فقیروں کے پاس وقت ضائع کرتے ہیں جو غلط ہے ابتدائی سٹیج پر ہی پراپر علاج کرایا جائے تو ریکوری ممکن ہے ڈائیلاسز سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ٹرانسپلانٹ بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہا جو افراد گردہ ڈونیٹ کرنے سے ڈرتے ہیں انہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ایک گردے کے ساتھ کسی کی زندگی بچائی جا سکتی ہے اور ایک گردے پر مکمل زندگی گزاری جا سکتی ہے بس ہمیں مجموعی طور پر اپنا لائف اسٹائل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے باقاعدگی سے ورزش کی عادت اپنائیں چکنائی نمکین مصالحے دار مرغن غذاؤں سے پرہیز کریں سادہ طرز زندگی اختیار کریں .
○
To provide high quality accurate diagnostic tests at affordable price to the massesl.