30/12/2025
یہ کہانی اُس وقت کی ہے جب ہماری پریشانیاں گھر کی دیواروں سے نکل کر سڑکوں تک پھیل چکی تھیں۔
کچھ عرصے سے عجیب سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ہماری گاڑی بار بار حادثوں میں آ جاتی۔ کبھی ہلکا سا ایکسیڈنٹ، کبھی کسی موڑ پر اچانک بریک لگانی پڑتی، کبھی کوئی دوسری گاڑی آ کر ٹکرا جاتی۔ شکر تھا کہ جان کا نقصان نہیں ہوا، مگر ہر بار دل دہل جاتا۔ گاڑی مرمت میں جاتی، پیسے خرچ ہوتے، اور خوف دل میں بیٹھتا چلا جاتا۔
امی ہر سفر سے پہلے دعا کرتیں، ابو خاموشی سے اسٹیئرنگ پکڑتے، اور میں راستے بھر عجیب بےچینی محسوس کرتا۔ ایسا لگتا جیسے سڑک پر اترتے ہی کوئی انجانا خطرہ ہمارے ساتھ چلنے لگتا ہو۔ بعض اوقات تو بغیر کسی وجہ کے دل گھبرا جاتا، حالانکہ سامنے سب ٹھیک ہوتا۔
ایک دن ایک بہت قریبی حادثہ ہوا۔ گاڑی بالکل بچ گئی، مگر اس لمحے ہمیں احساس ہوا کہ یہ سب محض اتفاق نہیں لگ رہا۔ اسی دن گھر آ کر میں بہت دیر تک سوچتا رہا۔ تب مجھے وہی بات یاد آئی جو پہلے گھر کے بارے میں سنی تھی۔ حفاظت، پناہ، اور یقین۔
ہم نے اصحابِ کہف کے نقش کو صرف دیوار کی چیز نہیں سمجھا، بلکہ حفاظت کی دعا کی یاد سمجھا۔ وضو کر کے، دل سے اللہ سے حفاظت مانگ کر، وہ نقش ہم نے گاڑی میں بھی رکھا۔ کوئی شور نہیں، کوئی دعویٰ نہیں، بس خاموش یقین۔
اس کے بعد آہستہ آہستہ فرق محسوس ہونے لگا۔ سفر ہلکے ہو گئے، دل کا بوجھ کم ہونے لگا۔ وہ بےنام گھبراہٹ جو پہلے ہر موڑ پر ساتھ ہوتی تھی، کمزور پڑ گئی۔ حادثے رک گئے۔ لمبے سفر بھی خیریت سے ہونے لگے۔
ہمیں سمجھ آ گیا کہ اصل بات نقش کی نہیں، بلکہ اُس یقین کی ہے جو دل میں جاگتا ہے۔ جب انسان اللہ کی حفاظت کو یاد رکھتا ہے، تو راستے بھی نرم ہو جاتے ہیں۔
آج بھی ہم سفر سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر کر دعا کرتے ہیں۔ وہ نقش ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حفاظت لوہے، بریک یا رفتار میں نہیں، بلکہ اُس ذات کے ہاتھ میں ہے جو ہر موڑ سے پہلے دیکھ رہی ہوتی ہے۔
اور اب سڑکیں… خوف نہیں، شکر سکھاتی ہیں۔