Pakistan Society For Awareness And Community Empowerment

Pakistan Society For Awareness And Community Empowerment PACE is a platform created by professionals from different walks of life including journalists and h

10/07/2026

مصطفیٰ کمال نے کیا غلط کہا؟ غیر محفوظ جنسی تعلقات اب بھی ایچ آئی وی پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ ہے

محمد وقار بھٹی

اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال اب تک تقریباً 6,000 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ مرد ہیں، جبکہ ماہرین صحت کے مطابق غیر محفوظ جنسی تعلقات وائرس کی منتقلی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں اور مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مردوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی شرح دیگر گروہوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے حالیہ بیان پر ہونے والی تنقید کے باوجود دستیاب اعداد و شمار اور ایچ آئی وی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں وبا کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے اور غیر محفوظ جنسی تعلقات، متعدد جنسی ساتھیوں اور منشیات کے زیر اثر سیکس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

قومی ایڈز کنٹرول پروگرام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں ایچ آئی وی کے 14,182 نئے کیسز رجسٹر ہوئے۔ ان میں 8,386 بالغ مرد، 3,314 بالغ خواتین، 1,748 بچے اور 734 خواجہ سرا افراد شامل تھے۔

اس طرح گزشتہ سال رجسٹر ہونے والے مجموعی کیسز میں بالغ مردوں کا تناسب تقریباً 59 فیصد، بالغ خواتین کا 23 فیصد، بچوں کا 12 فیصد اور خواجہ سرا افراد کا پانچ فیصد سے زیادہ تھا۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک صنفی گروہ میں سب سے زیادہ کیسز بالغ مردوں میں رپورٹ ہوئے۔

رواں سال کے دستیاب اعداد و شمار میں بھی مردوں کی تعداد مجموعی کیسز کے 60 فیصد سے زیادہ بتائی جا رہی ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوجوان اور بالغ مرد ایچ آئی وی کی تیزی سے پھیلتی وبا کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ بنتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد، جنہیں طبی اور تحقیقی اصطلاح میں ایم ایس ایم کہا جاتا ہے، پاکستان میں ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل ہیں۔ سماجی بدنامی اور قانونی و معاشرتی دباؤ کے باعث اس گروہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد اپنی شناخت اور جنسی رویوں کو ظاہر نہیں کرتے، جس سے بروقت ٹیسٹنگ، احتیاط اور علاج تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔

نوجوان مردوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی وجہ کرسٹل میتھ یا آئس کے زیر اثر جنسی تعلقات ہیں، جنہیں دنیا بھر میں کیم سیکس کہا جاتا ہے۔ آئس استعمال کرنے والے افراد میں جنسی خواہش، بے خوفی اور طویل دورانیے تک جنسی سرگرمی بڑھ سکتی ہے، لیکن اس دوران فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور احتیاطی رویہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے کئی افراد نے بتایا کہ آئس کے نشے میں وہ کنڈوم کے استعمال، جنسی ساتھیوں کی تعداد اور بیماریوں کی منتقلی کے خطرے کو نظر انداز کرتے رہے۔ ایسے تعلقات بعض اوقات کئی گھنٹے جاری رہتے ہیں اور ایک سے زیادہ افراد اس میں شامل ہوتے ہیں، جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا امکان مزید بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ مقعدی جنسی تعلق میں ایچ آئی وی منتقل ہونے کا خطرہ اندام نہانی کے ذریعے جنسی تعلق کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ مقعد کی اندرونی جھلی نازک ہوتی ہے اور اس میں خراشیں یا معمولی زخم آسانی سے پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان زخموں کے ذریعے وائرس کو خون میں داخل ہونے کا راستہ مل جاتا ہے۔

جب ایسا تعلق کنڈوم کے بغیر، متعدد جنسی ساتھیوں کے ساتھ اور آئس یا دیگر منشیات کے زیر اثر قائم کیا جائے تو خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی امتزاج نوجوان مردوں، خواجہ سرا افراد، خواتین سیکس ورکرز اور ان کے جنسی ساتھیوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی کا اہم سبب بن رہا ہے۔

چھتیس سالہ عرفان احمد، جن کا نام شناخت چھپانے کے لیے تبدیل کیا گیا، اپنی ملازمت کے خاتمے، سماجی تنہائی، قانونی مسائل اور ایچ آئی وی کا شکار ہونے کا ذمہ دار آئس کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ کرسٹل میتھ کے زیر اثر غیر محفوظ جنسی تعلقات کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے بہت سے مرد طویل اور بے قابو جنسی سرگرمی کے لیے آئس استعمال کرتے ہیں۔ نشے کے دوران کنڈوم کا استعمال تقریباً ختم ہو جاتا ہے اور کسی شخص کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنے لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کیا۔

تاہم کیم سیکس کا رجحان صرف ہم جنس تعلقات رکھنے والے مردوں تک محدود نہیں۔ خواجہ سرا سیکس ورکرز، خواتین سیکس ورکرز اور بعض مرد و خواتین بھی جنسی تعلقات کے دوران کرسٹل میتھ استعمال کر رہے ہیں، جس سے وائرس کے زیادہ خطرے والے گروہوں سے عام آبادی تک منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ اور وفاقی وزارت صحت کے سابق ایچ آئی وی مشیر ڈاکٹر قائد سعید کے مطابق پاکستان میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد ایچ آئی وی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار گروہوں میں شامل ہیں اور اس کمیونٹی میں میتھ ایمفیٹامین کا بڑھتا استعمال وبا کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

ان کے مطابق ایچ آئی وی کی منتقلی کا خطرہ جنسی تعلقات اور ساتھیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ بڑھتا ہے، جبکہ کنڈوم کا باقاعدہ استعمال خطرے کو کم کرتا ہے۔ آئس کے زیر اثر افراد اکثر تحفظ اور بیماری سے بچاؤ کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی کے بارے میں حقائق بیان کرنے کو سماجی یا اخلاقی تنقید سمجھنے کے بجائے صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کسی فرد یا کمیونٹی کو بدنام کیے بغیر یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ غیر محفوظ جنسی تعلقات، متعدد ساتھی اور کیم سیکس پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب بن چکے ہیں۔

ان کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے نوجوانوں کو درست معلومات، رضاکارانہ اور خفیہ ٹیسٹنگ، کنڈوم، پری ایکسپوژر پروفیلیکسیس یعنی PrEP اور نشے سے نجات کی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ ایچ آئی وی مثبت افراد کو فوری اینٹی ریٹرو وائرل علاج سے جوڑنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ صحت مند رہ سکیں اور وائرس کی مزید منتقلی کا خطرہ کم ہو-

15/06/2026
تونسہ کو بھول جائیں؛ اسلام آباد میں 618 نئے ایچ آئی وی کیسز، نوجوان سب سے زیادہ متاثراسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ای...
18/04/2026

تونسہ کو بھول جائیں؛ اسلام آباد میں 618 نئے ایچ آئی وی کیسز، نوجوان سب سے زیادہ متاثر

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کم از کم 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر میں ہر ماہ اوسطاً 41 سے زائد افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو رہے ہیں، متاثرین میں واضح اکثریت نوجوان مردوں کی ہے۔

وفاقی حکام کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں 40، فروری میں 43، مارچ میں 41، اپریل میں 39، مئی میں 36، جون میں 31، جولائی میں سب سے زیادہ 63، اگست میں 45، ستمبر میں 52، اکتوبر میں 36، نومبر میں 41 اور دسمبر میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں جنوری میں 41، فروری میں 39 اور مارچ میں 40 نئے کیسز سامنے آئے، جس سے مجموعی تعداد 618 تک پہنچ گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں سب سے زیادہ 63 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ جون اور دسمبر 2025 میں سب سے کم 31، 31 کیسز سامنے آئے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ ایچ آئی وی اب کسی ایک علاقے یا مخصوص گروہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر ماہ درجنوں نئے کیسز کے ساتھ ایک مسلسل شہری مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

متاثرہ 618 افراد میں سے 397 بالغ مرد ہیں جو مجموعی تعداد کا 64 فیصد سے زائد بنتے ہیں۔ بالغ خواتین کے 106 کیسز جبکہ93 خواجہ سرا متاثر ہوئے ہیں۔ بچوں میں بھی وائرس کی موجودگی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جہاں 14 لڑکوں اور 8 لڑکیوں سمیت مجموعی طور پر 22 بچے متاثر ہوئے ہیں۔

سال 2025 کے دوران اسلام آباد میں 498 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مزید 120 کیسز رپورٹ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے کیسز کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

پمز اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر کے مطابق متاثرہ افراد میں بڑی تعداد نوجوان مردوں کی ہے جو منشیات کے استعمال اور غیر محفوظ جنسی رویوں میں ملوث پائے گئے ہیں، خاص طور پر آئس کے زیر اثر تعلقات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق آئس کے استعمال کے بعد ہونے والے جنسی تعلقات طویل، بے قابو اور اکثر غیر محفوظ ہوتے ہیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کو ایسے ابھرتے ہوئے مراکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک گروہ تک محدود نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مرد، خواجہ سرا سیکس ورکرز، خواتین سیکس ورکرز اور بعض ہیٹرو سیکسوئل افراد بھی اس میں شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ منشیات کے استعمال کے ساتھ جڑے جنسی رویے کنڈوم کے کم استعمال، متعدد پارٹنرز اور خطرناک طرزِ عمل کو فروغ دیتے ہیں، جس سے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے جبکہ صرف محدود افراد کو اپنی بیماری کا علم ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اسلام آباد سمیت دیگر شہری علاقوں میں ایچ آئی وی ایک بڑے عوامی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری آگاہی، تشخیص، علاج اور روک تھام کی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

آٹھ ممالک سے ایم بی بی ایس کرنے والا ایک بھی پاکستانی گریجویٹ پی ایم ڈی سی امتحان میں کامیاب نہ سکاAbu Faruq Bhattiجنوری...
15/01/2026

آٹھ ممالک سے ایم بی بی ایس کرنے والا ایک بھی پاکستانی گریجویٹ پی ایم ڈی سی امتحان میں کامیاب نہ سکا
Abu Faruq Bhattiجنوری 14, 2026

اسلام آباد: بارباڈوس، کیوبا، قبرص، ڈومینیکن ری پبلک، جارجیا، فلپائن، سینٹ لوشیا اور سوڈان سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والا ایک بھی پاکستانی گریجویٹ دسمبر 2025 میں منعقدہ نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن (این آر ای) اسٹیپ ون پاس نہ کر سکا۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے اعدادوشمار اور نتائج کے مطابق بیرون ملک سے میڈیکل ڈگری لینے والے ڈاکٹروں میں مجموعی طور پر صرف ہر پانچ میں سے ایک امیدوار کامیاب ہو سکا، جس سے درجنوں ممالک میں دی جانے والی میڈیکل تعلیم کے معیار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ آٹھ ممالک سے ایک بھی امیدوار کا پاس نہ ہونا انفرادی ناکامی نہیں بلکہ بیرون ملک طبی تعلیمی نظام کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق نیشنل رجسٹریشن ایگزامینیشن اسٹیپ ون میں مجموعی طور پر 7,076 امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے صرف 1,473 کامیاب جبکہ 5,603 ناکام ہوئے۔ اس طرح مجموعی کامیابی کی شرح 20.8 فیصد رہی۔

اعدادوشمار میں ان ممالک کی کارکردگی بھی انتہائی تشویشناک قرار دی گئی ہے جہاں ہزاروں پاکستانی طلبہ میڈیکل تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کرغزستان سے سب سے زیادہ 4,256 امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جن میں سے صرف 951 کامیاب ہو سکے، یعنی کامیابی کی شرح تقریباً 22 فیصد رہی۔

چین سے 2,154 امیدواروں میں سے 333 کامیاب ہوئے، جو محض 15.5 فیصد بنتی ہے اور بڑے ممالک میں یہ سب سے کم شرح رہی۔

وسطی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی نتائج حوصلہ افزا نہ رہے۔ قازقستان سے 174 میں سے 54 امیدوار کامیاب ہوئے، ازبکستان سے 116 میں سے 35، جبکہ تاجکستان سے 91 میں سے صرف 30 امیدوار پاس ہو سکے۔

روس سے امتحان دینے والے 16 امیدواروں میں سے صرف دو کامیاب ہوئے۔

جنوبی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک میں افغانستان سے 160 امیدواروں میں سے 18 کامیاب ہوئے، یوکرین سے 14 میں سے دو، ملائشیا اور بیلاروس سے تین، تین امیدواروں میں سے ایک ایک امیدوار پاس ہوا۔

اس کے برعکس چند ممالک میں جہاں امیدواروں کی تعداد بہت کم تھی، کامیابی کی شرح زیادہ رہی، تاہم حکام نے ان نتائج کو شماریاتی طور پر غیر اہم قرار دیا ہے۔

بنگلہ دیش سے 11 میں سے 10 امیدوار کامیاب ہوئے، ایران سے 39 میں سے 20، جبکہ بحرین، سعودی عرب، ہنگری، پولینڈ، رومانیہ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے ایک سے تین امیدواروں نے سو فیصد کامیابی حاصل کی۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ ناکامیوں کا بڑا بوجھ انہی ممالک میں مرکوز ہے جہاں پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد داخل ہے اور جہاں داخلہ ایجنٹس اور نجی ادارے محدود نگرانی میں سرگرم ہیں۔

ان کے مطابق این آر ای اسٹیپ ٹو، جو کلینیکل صلاحیت کا امتحان ہے، میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے اور اسٹیپ ون پاس کرنے والوں میں سے بھی نصف سے زائد کے ناکام ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق متعدد امیدوار بنیادی تصورات، کلینیکل ریژننگ اور مریضوں کے علاج سے متعلق مہارت میں کمزور پائے گئے ہیں۔

پی ایم ڈی سی بارہا خبردار کر چکا ہے کہ ناقص تربیت یافتہ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس ملک کی صحت عامہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سرکاری اسپتال پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ریگولیٹرز نے اس بحران کے معاشی پہلو کی بھی نشاندہی کی، جس کے مطابق پاکستانی خاندان ہر سال بیرون ملک میڈیکل تعلیم پر سینکڑوں ملین ڈالر خرچ کرتے ہیں، جس سے قیمتی زر مبادلہ ضائع ہوتا ہے جبکہ کئی طلبہ کو ایسی تربیت ملتی ہے جو کم از کم پیشہ ورانہ معیار پر بھی پوری نہیں اترتی۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ این آر ای کے تفصیلی نتائج پالیسی سازوں، والدین اور طلبہ کے لیے وارننگ ہیں، اور اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ غیر ملکی میڈیکل اداروں کی سخت نگرانی کی جائے، گمراہ کن داخلہ ایجنٹس کے خلاف کارروائی ہو، اور پاکستان میں پریکٹس کی اجازت دینے سے قبل گریجویٹس کی جانچ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

17/12/2025

Address

Karachi
75400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Society For Awareness And Community Empowerment posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share