21/05/2026
حمل کے دوران دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل کا خطرہ بڑھنے کی بنیادی وجہ جسم میں ہونے والی ہارمونل، مدافعتی، لعابی (salivary)، غذائی اور رویّے کی تبدیلیاں ہیں۔ تحقیق کے مطابق حمل خود دانتوں کو براہِ راست خراب نہیں کرتا، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جس میں پلاک کے بیکٹیریا زیادہ سوزش اور دانتوں کے خراب ہونے (کیویٹی) کا سبب بنتے ہیں۔
1۔ حمل میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون کی سطح بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون:
* مسوڑھوں میں خون کی روانی بڑھاتے ہیں
* مسوڑھوں کو پلاک بیکٹیریا کے خلاف زیادہ حساس بنا دیتے ہیں
اس کے نتیجے میں:
* مسوڑھے سوج جاتے ہیں
* سرخی آ جاتی ہے
* برش کرتے وقت خون آتا ہے
* “حمل کی مسوڑھوں کی سوزش” (Pregnancy Gingivitis) پیدا ہوتی ہے
حمل کے دوران مسوڑھوں کی سوزش تقریباً 60 سے 75 فیصد خواتین میں دیکھی جاتی ہے۔
2۔ حمل میں ماں کا مدافعتی نظام (immune system) اس طرح تبدیل ہوتا ہے کہ جسم بچے کو قبول کر سکے۔ لیکن اس تبدیلی کا اثر منہ کے بیکٹیریا کے خلاف ردِعمل پر بھی پڑتا ہے۔
تحقیق کے مطابق:
* پلاک کے خلاف سوزشی ردِعمل بڑھ جاتا ہے
* سوزش پیدا کرنے والے مادّے (cytokines) زیادہ بنتے ہیں
* مسوڑھے سوزش کے لیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں
اسی لیے حمل سے پہلے جتنی ہلکی سوزش ہوتی تھی، حمل میں وہ زیادہ شدید ہو سکتی ہے۔
3۔ حمل منہ کے بیکٹیریا (Microbiome) کو تبدیل کرتا ہے
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہارمونل تبدیلیاں کچھ نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش کو بڑھا دیتی ہیں، جس سے منہ کے بیکٹیریا کا توازن خراب ہو جاتا ہے۔
کچھ بیکٹیریا ہارمونز کو اپنی نشوونما کے لیے استعمال بھی کر سکتے ہیں، اس لیے حمل میں ان کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔
4۔ لعاب (Saliva) میں تبدیلیاں دانتوں کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھاتی ہیں
حمل کے دوران:
* لعاب کی تیزابیت (pH) بدل سکتی ہے
* اس کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے
* لعاب کی ساخت میں تبدیلی آ سکتی ہے
ان تبدیلیوں کی وجہ سے دانتوں میں کیویٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جب لعاب کی حفاظت کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے تو دانتوں کی اوپری تہہ آسانی سے کمزور ہونے لگتی ہے۔
5۔ دورانِ حمل بار بار قے آنے سے دانت معدے کے تیزاب سے متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر اوپر والے دانتوں کی اندرونی سطح۔
اس سے:
* دانتوں کی اوپری تہہ خراب ہو سکتی ہے
* حساسیت بڑھ جاتی ہے
* کیویٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
6۔ کھانے کی خواہش اور بار بار snacks لینے سے کیویٹی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بار بار میٹھی چیزوں کے استعمال سے بیکٹیریا زیادہ تیزاب بناتے ہیں، جس سے دانت خراب ہونے لگتے ہیں۔
7۔ حمل میں متلی، تھکن، اور مسوڑھوں کی حساسیت کی وجہ سے عورتیں عموماً برش کرنا کم کر دیتی ہیں یا بعض بالکل ختم کر دیتی ہیں۔ اس سے دانتوں پر پلاک زیادہ جمع ہو جاتا ہے اور مسوڑھوں کی سوزش بڑھ جاتی ہے۔
8۔ مسوڑھوں کی بیماری حمل پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔
تحقیق میں مسوڑھوں کی بیماری کو ان مسائل سے جوڑا گیا ہے:
* دورانِ حمل بلڈ پریشر کا بڑھ جانا (پری ایکلیمپسیا)
* قبل از وقت پیدائش
* کم وزن بچہ پیدا ہونا
ممکنہ وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ سوزشی مادّے اور مسوڑھوں کے بیکٹیریا خون کے ذریعے پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں۔
*******
ایک اہم غلط فہمی کی وضاحت:
یہ بات غلط ہے کہ: "بچہ ماں کے دانتوں سے کیلشیم کھینچ لیتا ہے"
تحقیق کے مطابق حمل میں دانتوں کے مسائل کی اصل وجوہات یہ ہیں:
* پلاک سے ہونے والی سوزش
* تیزاب کی وجہ سے دانتوں کا خراب ہونا
* غذائی تبدیلیاں
* منہ کی صفائی میں کمی
* لعاب اور مدافعتی نظام میں تبدیلی
نہ کہ دانتوں سے کیلشیم نکل جانا۔
ڈاکٹر ایمن ندیم