Young Doctor's Association SINDH-Reg''

Young Doctor's Association SINDH-Reg'' Organisation for welfare of doctors,healthcare providers and patients

YDA Chairman Dr. Farrukh Rauf Outlines Strategic Vision for Healthcare Reforms in SindhWhile the Young Doctors Associati...
06/08/2026

YDA Chairman Dr. Farrukh Rauf Outlines Strategic Vision for Healthcare Reforms in Sindh

While the Young Doctors Association (YDA) is often recognized for its public demonstrations, its true mission is rooted in advocating for systemic healthcare improvements and patient dignity.

In a recent comprehensive interview, Dr. Farrukh Rauf—Chairman of YDA Sindh and a leading orthopedic oncology surgeon at JPMC—sheds light on the critical challenges overwhelming our public hospitals and proposes a practical roadmap for reform.

Read the full article to explore his comprehensive plan to rescue and rebuild Sindh's healthcare infrastructure:
🔗 https://thetruthinternational.com/yda-chairman-sindh-dr-farrukh-rauf-seeks-primary-healthcare-reforms-with-more-hospitals-outlines-plan-to-rescue-public-hospitals/

By Humaira Motala KARACHI: The Young Doctors Association, YDA, is often seen by the public as violent, irresponsible doctors who take to the streets. But rarely does anyone see the other side of the coin. Behind the protests is a group of young doctors — the young blood of our healthcare system .....

04/08/2026

پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم پر ہونے والی حالیہ بحث نے ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ کیا کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) آج بھی اپنی افادیت رکھتا ہے یا یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنی ضرورت پوری کر چکا ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات، شخصیات یا وقتی سیاسی اختلافات میں نہیں بلکہ تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ کسی بھی ادارے کا صحیح تجزیہ اس کے قیام کے پس منظر، اس کے مقاصد، اس کی خدمات اور اس کے اثرات کو سمجھے بغیر ممکن نہیں۔

آج جب کچھ حلقے سی پی ایس پی کو محض ایک امتحانی ادارہ قرار دے کر اس کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان میں اس ادارے کی بنیاد کیوں رکھی گئی، اس نے کس خلا کو پر کیا، اور اگر یہ ادارہ نہ ہوتا تو پاکستان کا صحت کا نظام کس مقام پر کھڑا ہوتا۔ 1947 میں پاکستان صرف ایک نئی ریاست نہیں تھا بلکہ ایک ایسا ملک تھا جسے ہر شعبے میں شدید افرادی قلت کا سامنا تھا۔ طبی شعبہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد بڑی تعداد میں تجربہ کار معالج، اساتذہ اور ماہرین ہندوستان میں رہ گئے۔ پاکستان کے حصے میں محدود طبی ادارے، کم تدریسی وسائل اور نہایت کم تعداد میں سپیشلسٹ ڈاکٹر آئے۔

اس وقت زیادہ تر ڈاکٹر ایم بی بی ایس کے بعد عمومی طب کی پریکٹس کرتے تھے۔ منظم پوسٹ گریجویٹ تربیت کا کوئی قومی نظام موجود نہیں تھا۔ اگر کوئی ڈاکٹر کسی مخصوص شعبے میں مہارت حاصل کرنا چاہتا تو اسے برطانیہ جانا پڑتا، جہاں رائل کالجز کے امتحانات اور تربیت تک رسائی صرف چند خوش نصیب افراد کو حاصل ہوتی تھی۔ مالی وسائل، ویزا، سفری اخراجات اور خاندانی ذمہ داریوں کے باعث یہ راستہ بیشتر پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے ناقابلِ عمل تھا۔ نتیجتاً پاکستان میں سرجری، امراضِ قلب، اینستھیزیا، گائنی، بچوں کے امراض، پیتھالوجی اور دیگر اہم شعبوں میں ماہرین کی شدید کمی پیدا ہو گئی۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں تھا بلکہ عوامی صحت کا بحران تھا۔

اسی پس منظر میں 1962 میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان قائم کیا گیا۔ اس ادارے کا مقصد کسی یونیورسٹی کا متبادل بننا نہیں تھا بلکہ ایک ایسا قومی پیشہ ورانہ ادارہ تشکیل دینا تھا جو پاکستان کے اندر ہی عالمی معیار کی سپیشلسٹ تربیت اور امتحانات کا نظام قائم کرے۔ یہ تصور منفرد نہیں تھا۔ برطانیہ میں Royal Colleges، کینیڈا میں Royal College of Physicians and Surgeons، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے پیشہ ورانہ کالجز، اور امریکہ میں بورڈ سرٹیفیکیشن کے نظام اسی فلسفے پر قائم ہوئے کہ سپیشلسٹ بننے کے لیے صرف یونیورسٹی کی ڈگری کافی نہیں، بلکہ ایک آزاد، معیاری اور پیشہ ورانہ تربیتی و امتحانی نظام بھی ضروری ہے۔

سی پی ایس پی کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے پوسٹ گریجویٹ تربیت کو ذاتی شاگردی (Apprenticeship) کے غیر منظم نظام سے نکال کر ایک منظم، معیاری اور قابلِ احتساب ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ اس سے پہلے تربیت کا معیار زیادہ تر استاد اور ہسپتال پر منحصر ہوتا تھا۔ کہیں تربیت بہترین تھی اور کہیں نہایت محدود۔ کسی قومی معیار کا وجود نہیں تھا۔ سی پی ایس پی نے پہلی مرتبہ ایسے اصول متعارف کرائے جن میں منظور شدہ تربیتی مراکز، تسلیم شدہ سپروائزرز، طے شدہ تربیتی مدت، لاگ بکس، تحقیق اور معیاری امتحانات کو تربیت کا لازمی حصہ بنایا گیا۔ یہ صرف امتحان لینے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ اس نے پورے تربیتی نظام کو منظم کیا۔

سی پی ایس پی کے ناقدین اکثر امتحانات کی سختی پر توجہ دیتے ہیں، لیکن یہ سوال کم ہی پوچھتے ہیں کہ دنیا بھر میں سپیشلسٹ امتحانات سخت کیوں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سادہ ہے۔ ایک کنسلٹنٹ ڈاکٹر کی غلطی کسی امتحان میں کم نمبر لینے جیسی نہیں ہوتی۔ اس کی غلطی مریض کی جان لے سکتی ہے۔ اسی لیے دنیا کے تمام معتبر ادارے—خواہ وہ برطانیہ کے رائل کالجز ہوں، امریکہ کے بورڈز ہوں یا آسٹریلیا کے کالجز—علم، مہارت اور پیشہ ورانہ رویے کا سخت جائزہ لیتے ہیں۔ معیار کی سختی امیدوار کے خلاف نہیں، مریض کے حق میں ہوتی ہے۔

آج پاکستان کے تقریباً تمام بڑے تدریسی ہسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ تربیت کسی نہ کسی صورت سی پی ایس پی کے فریم ورک سے منسلک ہے۔ ہزاروں ریزیڈنٹ ڈاکٹر انہی ہسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ یہی ڈاکٹر ایمرجنسی میں مریض دیکھتے ہیں، آپریشن تھیٹر میں معاونت کرتے ہیں، آئی سی یو اور وارڈ سنبھالتے ہیں اور آئندہ نسل کے سپیشلسٹ بنتے ہیں۔ اگر یہ تربیتی ڈھانچہ موجود نہ ہوتا تو پاکستان میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعداد اور معیار دونوں شدید متاثر ہوتے۔

کسی بھی ادارے کی طرح سی پی ایس پی بھی تنقید سے بالاتر نہیں۔ امتحانی شفافیت، فیڈبیک، جدید تشخیصی طریقوں، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹرینی سپورٹ جیسے شعبوں میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ لیکن اصلاح کا مطلب ادارے کی بنیاد کو کمزور کرنا نہیں ہوتا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے پیشہ ورانہ کالجز کو ختم نہیں کیا؛ انہوں نے انہیں بہتر بنایا۔ پاکستان کو بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سی پی ایس پی کا قیام کسی بیوروکریٹک خواہش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک قومی ضرورت کا جواب تھا۔ اس نے پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم کو ایک منظم، معیاری اور قومی شکل دی۔ آج بھی اگر اس نظام میں اصلاح درکار ہے تو وہ شواہد، مکالمے اور ادارہ جاتی بہتری کے ذریعے ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے بنیادی کردار کو کمزور کر کے۔ پاکستان کو مضبوط ہسپتال، مضبوط یونیورسٹیاں اور مضبوط پیشہ ورانہ ادارے تینوں درکار ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی کمزوری پورے صحت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے سی پی ایس پی کے بارے میں بحث شخصیات یا وقتی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، مریضوں کی حفاظت اور طبی معیار کے تناظر میں ہونی چاہیے۔

CARE Cardiometabolic Assessment, Risk-reduction and Excellent programModule 1Obesity and weight mangement Date 30th July...
28/07/2026

CARE
Cardiometabolic Assessment,
Risk-reduction and Excellent program

Module 1
Obesity and weight mangement

Date 30th July Thursday

9.30 am to 1pm

Vanue Auditorium w5 jpmc

Official Update from YDA SindhStay informed about the latest House Job and Postgraduate inductions for JPMC and hospital...
27/07/2026

Official Update from YDA Sindh

Stay informed about the latest House Job and Postgraduate inductions for JPMC and hospitals across Pakistan!

Join official WhatsApp channel for real-time career updates and verified announcements. This initiative is proudly led by Dr. Imran Ali Arain, Spokesperson YDA JPMC, whose tireless efforts and unwavering dedication to guiding and helping young doctors continue to empower our entire medical community.

🔗 Join the channel here: https://whatsapp.com/channel/0029VaA1BM18F2pHyzuKsA2a

Please share this with your colleagues to ensure no one misses out on a vital career opportunity!

Regards,
YDA Sindh

Follow Dr Imran Ali Arain's WhatsApp Channel. Navigating postgraduate medical training requires timely information and reliable resources. As a dedicated platform for medical professionals, I provide the latest, most accurate updates on FCPS, MD, and MS induction schedules, application deadlines, and merit lists across institutions in Pakistan. Paired with comprehensive study tools like the Path2Pass application, my mission is to empower aspiring specialists with the guidance they need to secure their training slots and advance their medical careers.

My Instagram: https://www.instagram.com/imran.a.arain?igsh=czVsdzU2OTE5czBy&utm_source=qr

My Facebook: https://www.facebook.com/share/1GpxEXYzTV/?mibextid=wwXIfr

My Official Website: drimranaliarain.com

DM for Paid Promotions: 03420330880

Path2Pass Playstore Link: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.rizdev.apexqbank&hl=en
Official Path2Pass Website: path2pass.net. Join 11K followers for the latest updates.

YDA Sind stands with the President of CPSP, who stated in his press conference that the decision is a gross injustice to...
26/07/2026

YDA Sind stands with the President of CPSP, who stated in his press conference that the decision is a gross injustice to Level IV and Level V candidates. The Government of Punjab,KPK should not make unilateral decisions on such important matters. Instead, it should consult the relevant medical authorities, especially the College of Physicians and Surgeons Pakistan (CPSP), which is the country's highest postgraduate medical training and examination institution.

Govt of Punjab ,KPK,should revsie their decision in largest interest of medical doctors in Punjab and facilitate them.

آج کل کچھ حلقے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ CPSP ایک "پرائیویٹ ادارہ" ہے، گویا اس کی حیثیت کسی نجی کمپنی یا کاروباری ادارے جیسی ہو۔ یہ دعویٰ نہ صرف قانونی طور پر غلط ہے بلکہ عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ College of Physicians and Surgeons Pakistan (CPSP) حکومتِ پاکستان نے 1962 میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ ایک ایکٹ کے تحت قائم کیا۔ یہ ایک Statutory Autonomous Institution ہے، یعنی ایسا ادارہ جو قانون کے ذریعے وجود میں آیا، اپنی کونسل کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور اپنے انتظامی و امتحانی معاملات میں خودمختار ہے۔

اس کی کونسل کسی فرد، خاندان یا حکومت کی نامزد کردہ نہیں بلکہ CPSP کے فیلوز اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔ یہی ادارہ نصاب، تربیت، امتحانات اور فیلوشپس کے معیار کا تعین کرتا ہے۔ یہی خودمختاری (Autonomy) اس کی مضبوطی ہے، نہ کہ کوئی کمزوری۔

تعجب اس بات پر ہے کہ بعض لوگ Autonomous اور Private کا فرق بھی نہیں جانتے، لیکن طبی تعلیم کے معیار پر لیکچر دیتے ہیں۔ اگر قانون، آئین اور اداروں کی بنیادی حیثیت کا ہی علم نہ ہو تو پھر صرف "سرکاری یونیورسٹی" کا نام لینے سے علمی برتری ثابت نہیں ہوتی۔

اگر واقعی اپنے ادارے پر اعتماد ہے تو اس کی برتری تحقیق، تربیت، امتحانی شفافیت، میرٹ، بین الاقوامی قبولیت اور گریجویٹس کی صلاحیت سے ثابت کریں۔ منفی پروپیگنڈا کسی ادارے کو بڑا نہیں بناتا بلکہ اپنے مؤقف کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کے ہزاروں ماہرینِ طب، کنسلٹنٹس اور اساتذہ CPSP کے تربیت یافتہ ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کسی ادارے کی اصل پہچان اس کے فارغ التحصیل افراد کا کردار، قابلیت اور خدمات ہوتی ہیں، نہ کہ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہمات۔

اختلاف ضرور کریں، تنقید بھی کریں، لیکن حقائق، قانون اور دلیل کے ساتھ۔ اداروں کو کمزور کرنے سے نہیں، انہیں مضبوط بنانے سے ملک کا طبی نظام بہتر ہوگا۔

YDA Sindh Expresses Deep Concern Regarding the Incident at Darul Sehat Hospital and Appeals for Adherence to Legal Proto...
22/07/2026

YDA Sindh Expresses Deep Concern Regarding the Incident at Darul Sehat Hospital and Appeals for Adherence to Legal Protocols

Heartiest congratulations to Dr. Farrukh Bhanbhro on his appointment as Director Health, Sukkur.
16/07/2026

Heartiest congratulations to Dr. Farrukh Bhanbhro on his appointment as Director Health, Sukkur.

Today YDA jpmc ,Sindh protest at jpmc against the brutal murder of Dr Akash And raised concerned on overall security con...
14/07/2026

Today YDA jpmc ,Sindh protest at jpmc against the brutal murder of Dr Akash
And raised concerned on overall security condition of city, and demanded the immediate arrest of culprit.

Address

Rafiq Shaheed Road Jinnah Hospital Khi
Karachi
021

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Young Doctor's Association SINDH-Reg'' posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share