12/03/2024
#سحری #افطار #رمضان2024
سحری میں بسیارخوری اور افطار میں ٹھنڈے مشروبات، بازاری پکوڑوں اورتلی ہوئی و کھٹی اشیاء کے استعمال سے گلے و پیٹ کے امراض پھیل سکتے ہیں اس لئے روزے دار اعتدا ل سے کام لیں .
سحری میں اتنا ہی کھائیں جتنا معمول کا ناشتہ کرتے ہیں، ٹھندے پانی سے گریز کریں، تلی ہوئی، زیادہ میٹھی اور ٹھنڈی چیزوں کےساتھ غیر معیاری بازاری اشیاء سے بھی پرہیز کریں۔
شہر کا موسم اچھا نہیں، بہت سارے وائرس پھیلے ہوۓ ہیں، موسم تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پہلے ہی گلے کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کےساتھ ہی عموماً گلے کے مریض بڑھ جاتے ہیں کیونکہ روزےدار احتیاط نہیں کرتے اور سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد افطار میں زیادہ کھاتے اور ٹھنڈے مشروبات استعمال کرتے ہیں جس میں اعتدال کی ضرورت ہے۔
سحری میں روزےدار بہت زیادہ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں حالانکہ اگر وہ ایک روٹی کھائیں یا پانچ روٹیاں کھائیں معدہ زیادہ سے زیادہ 5 سے 6 گھنٹے میں خالی ہو جاتا ہے لیکن زیادہ کھانے سے معدے پر دباؤ پڑتا ہے اور پیٹ کے امراض ہوجاتے ہیں۔
Cold/sweet & sour drinks, bazaari pakoras and fried/spicy foods can spread throat and stomach diseases in Suhoor and Iftar, so be moderate while fasting.
Eat as much in Suhore as you do for regular breakfast, avoid cold water, fried, too sweet and cold things along with substandard market items.
The weather in the city is not good, there are many viruses, the weather is changing rapidly and already the number of throat patients is high. With the arrival of Ramadan, throat diseases usually increase because the fasting people do not take precautions and after being hungry and thirsty all day, they eat more at Iftar and consume cold drinks, which requires moderation.
Fasting people prefer to eat a lot in Suhoor, even if they eat one roti or five rotis, the stomach empties in maximum 5 to 6 hours, but eating too much puts pressure on the stomach and causes stomach ailments.