11/08/2025
کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بیٹھے جسم میں عجیب سی کیفیت اُبھرنے لگتی ہے؟
آپ شاید سوچ رہے ہوں گے، کیسی کیفیت؟
تو جناب، وہ احساسات کچھ یوں ہیں:
سرسراہٹ، سنسناہٹ، ہلکی سی گدگداہٹ، ڈگمگاہٹ، تھرتھراہٹ، کپکپاہٹ، چٹپٹاہٹ، کلبلاہٹ، بھربھراہٹ یا پھر اچانک سی چلملاہٹ۔
ایسے میں لوگ عموماً فوراً دوائی کی طرف لپکتے ہیں، جیسے کوئی فلمی ہیرو جادو کی گولی کھا کر سب ٹھیک کر لے گا۔
لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے—ان کے لیے دوائیں کھانا اکثر وقتی سکون دیتی ہیں، اصل مسئلہ حل نہیں کرتیں۔
یہ علامات زیادہ تر ذیابیطس کے باعث اعصاب کی بیماری یعنی ڈائیبیٹک نیوروپیتھی کی نشانی ہیں۔
اس بیماری میں اعصاب آہستہ آہستہ کمزور اور خراب ہونے لگتے ہیں، جس کی بڑی وجوہات یہ ہیں:
میٹابولزم کا بگڑ جانا (جسم کا خوراک سے توانائی بنانا کمزور پڑ جانا)
مائیکروویسکولر ڈیمیج (چھوٹی خون کی نالیوں کا نقصان، جو اعصاب کو خوراک اور آکسیجن پہنچاتی ہیں)
آکسیڈیٹو اسٹریس (خطرناک فری ریڈیکلز کا بڑھ جانا، جو خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں)
یہ دوائیں بہت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں کیونکہ یہ دوائیں
Gabapentin اور Pregabalinاعصاب میں کیلشیم اور سوڈیم چینلز کی فطری کارکردگی بگاڑ دیتی ہیں، جس سے قدرتی سگنلنگ کمزور پڑ جاتی ہے۔
Amitriptyline اور Duloxetine دماغ اور اعصاب میں نئے خلیات اور ریشے بننے کے عمل کو سست کر دیتی ہیں۔
Steroids خون میں شوگر لیول بڑھا کر بیماری کو مزید جڑ پکڑنے کا موقع دیتے ہیں۔
Tramadol اور Morphine وقتی درد تو کم کرتی ہیں، مگر اعصاب پر دباؤ ڈال کر لمبے عرصے میں کمزوری بڑھاتی ہیں۔
یاد رکھیں—ادویات اکثر صرف علامت کم کرتی ہیں، وجہ نہیں۔
نیوروپیتھی کو بہتر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ خون میں شوگر متوازن رکھا جائے، وٹامن بی کمپلیکس (خاص طور پر B1, B6, B12) کی مناسب مقدار لی جائے، اینٹی آکسیڈینٹ غذائیں استعمال کی جائیں، اور باقاعدہ ہلکی جسمانی سرگرمی کی جائے تاکہ خون کی روانی بہتر ہو اور اعصاب کو غذائیت ملتی رہے۔