04/06/2026
عيد_الغدير_الأغر
غدیر کا پیغام اور فضائلِ امیرالمؤمنینؑ
"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ"
تاریخِ اسلام میں بعض لمحات ایسے ہیں جو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی پیغام بن جاتے ہیں۔ غدیرِ خم کا دن بھی ایسا ہی ایک عظیم دن ہے، جب خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہزاروں مسلمانوں کے مجمع کے سامنے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا دستِ مبارک بلند کر کے ارشاد فرمایا، "من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ"۔ یہ اعلان صرف ایک شخصیت کی تعریف نہیں تھا بلکہ اس ہستی کے مقام، فضیلت، قربت اور عظمت کا اظہار تھا جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت، رسولِ اکرمؐ کی نصرت اور حق کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔
امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی پرورش آغوشِ رسالت میں ہوئی۔ آپؑ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپؑ نے بچپن سے لے کر آخری دم تک رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ جب کفارِ مکہ نے ہجرت کی رات حضورؐ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو علیؑ نے جان کی پروا کیے بغیر بسترِ رسولؐ پر سو کر وفا اور ایثار کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علیؑ کا نام آتا ہے تو وفاداری، شجاعت، علم، تقویٰ اور عدل کی ایک پوری دنیا آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔
احد و بدر کے میدان سے لے کر غدیر کے اعلان تک پوری تاریخِ اسلام علیؑ کے فضائل کی محتاج دکھائی دیتی ہے۔ بدر کی فتح میں علیؑ کی تلوار کی جھنکار سنائی دیتی ہے، احد میں علیؑ کی جانثاری کی داستان رقم ہے، خندق میں علیؑ کے ایک وار کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن و انس کی عبادت سے افضل قرار دیا، اور خیبر میں وہ منظر تاریخ کا حصہ بن گیا جب "لا فتیٰ الا علی، لا سیف الا ذوالفقار" کی صدائیں بلند ہوئیں۔ اگر بدر سے علیؑ کی شجاعت، احد سے علیؑ کی وفاداری، خندق سے علیؑ کی جرأت، خیبر سے علیؑ کی قوتِ ایمانی اور غدیر سے علیؑ کی عظمت و ولایت کو نکال دیا جائے تو تاریخِ اسلام کے کئی روشن ابواب اپنی درخشانی کھو دیں گے۔
حضرت علیؑ کے القابات خود ان کی عظمت کا آئینہ ہیں۔ آپؑ امیرالمؤمنین ہیں کیونکہ اہلِ ایمان کی قیادت کا شرف آپؑ کو حاصل ہے۔ آپؑ شیرِ خدا ہیں کیونکہ میدانِ جنگ میں آپؑ کی بہادری دشمن کے دلوں پر لرزہ طاری کر دیتی تھی۔ آپؑ مرتضیٰ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو پسند فرمایا۔ آپؑ بابُ مدینۃ العلم ہیں کیونکہ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں۔ آپؑ مولائے متقیان ہیں کیونکہ اہلِ تقویٰ آپؑ کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آپؑ ساقیٔ کوثر ہیں اور آپؑ کا ذکر اہلِ محبت کے دلوں میں عقیدت اور عشق کی شمع روشن کرتا ہے۔
حضرت علیؑ کی عظمت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی۔ آپؑ عدل و انصاف کا ایسا نمونہ تھے جس کی مثالیں آج بھی دنیا کے حکمرانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ بیت المال کے معاملے میں آپؑ نے کبھی اپنے اور عام مسلمان کے درمیان فرق روا نہ رکھا۔ آپؑ نے فرمایا کہ حکومت کا مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ حق کو قائم کرنا اور مظلوم کو انصاف دلانا ہے۔ نہج البلاغہ میں محفوظ آپؑ کے خطبات، خطوط اور اقوال حکمت، دانش اور انسانی حقوق کا عظیم سرمایہ ہیں۔
غدیرِ خم کا واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اسلام محض عبادات کا نام نہیں بلکہ وفاداری، حق شناسی اور اہلِ بیتِ رسولؐ سے محبت کا بھی نام ہے۔ حضرت علیؑ سے محبت دراصل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تسلسل ہے، کیونکہ علیؑ کی پوری زندگی اطاعتِ رسولؐ، خدمتِ اسلام اور رضائے الٰہی کے لیے وقف رہی۔
آج جب دنیا ظلم، ناانصافی، فرقہ واریت، کرپشن اور اخلاقی زوال کا شکار ہے تو حضرت علیؑ کی سیرت پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے۔ اگر حکمران علیؑ کا عدل اختیار کر لیں، علماء علیؑ کا علم اپنا لیں، نوجوان علیؑ کی شجاعت کو اپنا شعار بنا لیں اور معاشرہ علیؑ کی انسان دوستی کو اپنا لے تو بہت سی مشکلات خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ یہی غدیر کا پیغام ہے، یہی ولایت کا پیغام ہے اور یہی محبتِ علیؑ کا حقیقی مفہوم ہے۔
سلام ہو امیرالمؤمنین، مولائے کائنات، شیرِ خدا، بابِ مدینۃ العلم، ساقیٔ کوثر، امام المتقین حضرت علی المرتضیٰ علیہ السلام پر، جن کی سیرت حق و عدل کا چراغ ہے، جن کا کردار وفا و شجاعت کی معراج ہے، اور جن کا نام رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے دلوں کو نور بخشتا رہے گا۔
عیدِ اکبرِ غدیر ہمیں سچ، وفاداری اور انصاف یاد دلاتی ہے۔ قیادت کوئی تخت و تاج نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے، مگر کچھ لوگ اسے ذاتی جاگیر سمجھ لیتے ہیں۔ جب انصاف خاموش ہو جائے اور سچ بولنے پر پابندی لگے تو معاشرہ نہیں چلتا، بس دکھاوا رہ جاتا ہے۔