21/04/2026
خطے کے موجودہ حالات کے باعث کراچی میں اچانک فضائی اور بحری ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی اہمیت حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ لمحہ محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک آزمائش بھی ہے—ہماری بصیرت، ہماری سنجیدگی اور ہمارے اجتماعی عزم کی آزمائش۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور دور اندیش گرینڈ پلان ترتیب دیں۔
اگرچہ کراچی مختلف اداروں اور اتھارٹیز کے سپرد ہے، لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ کوئی ایک مضبوط قیادت ابھر کر سامنے آئے اور اس عظیم شہر کو ایک واضح سمت دے۔ ٹریفک کی روانی، نکاسیٔ آب، شہری سہولیات اور جدید انفراسٹرکچر کے حوالے سے مربوط اور دیرپا منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ تیس سے چالیس برسوں میں ہونے والی تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات کو بتدریج ختم کرنا ہوگا، قبضہ مافیا کو لگام دینا ہوگی، اور شہر کی اصل خوبصورتی کو بحال کرنا ہوگا—وہی شان جو کسی بھی میٹروپولیٹن سٹی کا طرۂ امتیاز ہوتی ہے۔
یقین مانیے، کراچی آج بھی حالات کی سختیوں کے باوجود لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہے۔ یہ کسی ایک فرد، ایک صوبے یا ایک طبقے کا شہر نہیں، بلکہ پورے پاکستان کا شہر ہے۔ یہاں ملک کے ہر کونے سے لوگ آتے ہیں اور اپنی محنت سے اپنے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیتے ہیں۔ اگر کراچی ترقی کرے گا تو اس کی خوشحالی پورے ملک میں روشنی کی طرح پھیل جائے گی۔
یہ کسی شہر کا دوسرے شہر سے مقابلہ نہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے کراچی اور لاہور کا تقابل بنا لیا، حالانکہ ترقی سب کا حق ہے۔ میں حال ہی میں لاہور سے واپس آیا ہوں—اس کی خوبصورتی، میگا پلاننگ اور مسلسل اپگریڈیشن دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ خوشی ہونی بھی چاہیے، مگر دل کے کسی کونے میں ایک کسک بھی جاگتی ہے کہ کاش یہی توجہ کراچی کو بھی نصیب ہو۔ جیسے اسلام آباد میں ہفتوں میں انڈر پاسز مکمل ہو جاتے ہیں اور ایک مربوط میگا پلان دکھائی دیتا ہے، ویسی ہی سنجیدگی اور رفتار کراچی کے لیے بھی درکار ہے۔
میری خواہش سادہ مگر سچی ہے: لاہور بھی ترقی کرے، اسلام آباد بھی، اور کراچی بھی۔ کیونکہ کراچی کا استحکام پاکستان کی معیشت کا استحکام ہے۔ یہ شہر اگر سنور گیا تو یقیناً پورا ملک سنور جائے گا۔
کراچی صرف ایک شہر نہیں—یہ پاکستان کی دھڑکن ہے۔
اور دھڑکن کو مضبوط رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔