10/04/2026
ڈسپنسر اور دیگر ٹیکنالوجسٹ
صحت کے امور میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے یہ لوگ ھمیشہ ھی ایک فٹ بال بنے رھے بلکہ زیر عتاب رھے ھیں۔ ان کا کوئی بھی پرسان حال نہیں تھا
بہت سالوں کے بعد ان کو کونسل ملی تو عدالت نے ان کو ایک ھلکا سا ریلیف دیا ھے لیکن دیگر ادارے یہ ریلیف بھی ھضم کرنے کو تیار نہیں بلکہ مختلف اداروں کے گلے میں کانٹے کی طرح چبھنے والا یہ فیصلہ آج کل سوشل میڈیا کی زینت ھے۔دراصل احساس کمتری کا شکار کچھ لوگ نہیں چاھتے کہ ان لوگوں کو قومی دھارے میں لایا جائے ۔ یہ عطائی اتائی چیخنے والے زمینی حقائق سے اندھے لوگ اعدادوشمار سے شاید واقف نہیں کہ ان لوگوں نے صحت کے محکمے کا ستر فیصد بوجھ اٹھایا ھوا ھے۔۔۔۔
ایک منٹ کیلئے سوچیں
عطائی ملک سے ختم ھو گئے ان کی تعداد دیکھیں
پھر بتائیں کہ ستر فیصد خلا ھو گیا اس کو کون پورا کرے
ان کے وجود کو تسلیم کریں اور ان کی پریکٹس کی حدود متعین کر کے انہیں رجسٹرڈ کیا جائے ۔ میرا کہنے کا مقصد یہ ھے کہ پہلے اس خلا کو پر کریں پھر لفظ عطائی خود ختم ھو جائے گا۔
ان حالات میں تو یہ ڈسپنسر تین دن کام بند کر دیں اسپتالوں میں نہیں بلکہ پریکٹس والا کام تو سب کچھ چوپٹ ھو جائیگا
پلے نہیں دھیلہ تے کر دی میلہ میلہ
Facebook Allied Health Sciences Professional of West Bengal