Rida Clinic 72/15.l

Rida Clinic 72/15.l We provide Antenatal Service, Normal Delivery , Ultrasonography Reading. Medical Services on demand.

یہ تصویر ہرنیا (Hernia) کی مختلف اقسام کو دکھاتی ہے۔🩺 ہرنیا کیا ہے؟ہرنیا اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے اندر کا کوئی عضو (جیسے...
22/04/2026

یہ تصویر ہرنیا (Hernia) کی مختلف اقسام کو دکھاتی ہے۔
🩺 ہرنیا کیا ہے؟
ہرنیا اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے اندر کا کوئی عضو (جیسے آنت) کمزور پٹھوں کی دیوار سے باہر کی طرف نکل آتا ہے۔
📌 ہرنیا کی اقسام
1. ایپی گیسٹرک ہرنیا (Epigastric Hernia)
یہ پیٹ کے اوپری حصے میں (ناف کے اوپر) ہوتا ہے۔
2. امبیلیکل ہرنیا (Umbilical Hernia)
یہ ناف کے اردگرد ہوتا ہے، اور بچوں اور خواتین میں عام ہوتا ہے۔
3. لیٹرل ہرنیا (Lateral Hernia)
یہ پیٹ کے سائیڈ (کنارے) میں ہوتا ہے۔
4. انسیژنل ہرنیا (Incisional Hernia)
یہ کسی پرانی سرجری کے نشان (کٹ) والی جگہ پر ہوتا ہے۔
5. انگوائنل ہرنیا (Inguinal Hernia)
یہ ران کے اوپر (گروئن ایریا) میں ہوتا ہے اور مردوں میں سب سے زیادہ عام ہے۔
6. فیمورل ہرنیا (Femoral Hernia)
یہ ران کے اوپری حصے کے قریب ہوتا ہے اور خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے
ہومیوپیتھی میں ہرنیا کا علاج علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ہرنیا کی مختلف اقسام (جیسے کہ امبلیکل، انگوینل یا ہائیٹل ہرنیا) اور مریض کی کیفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل ادویات عام طور پر استعمال کی جاتی ہیں:
# # # اہم ہومیوپیتھک ادویات
* **Nux Vomica:** یہ ہرنیا کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا ہے، خاص طور پر جب مریض کو قبض کی شکایت ہو اور وزن اٹھانے یا کھانسنے سے درد میں اضافہ ہو۔
* **Calcarea Carbonica:** یہ دوا ان مریضوں کے لیے مفید ہے جن کا وزن زیادہ ہو اور جنہیں پیٹ کے عضلات میں کمزوری محسوس ہو۔
* **Lycopodium:** اگر ہرنیا دائیں طرف (Right side) ہو اور پیٹ میں گیس یا اپھارہ زیادہ رہتا ہو، تو یہ دوا بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
* **Cocculus Indicus:** یہ دوا اس وقت دی جاتی ہے جب پیٹ کے عضلات میں کھچاؤ اور درد محسوس ہو۔
* **Aurum Metallicum:** یہ اکثر بچوں میں ہونے والے ہرنیا یا خصیوں کے پاس ہونے والے ہرنیا کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔
# # # ضروری مشورے
1. **علامات کا مشاہدہ:** ہومیوپیتھی میں علاج ہمیشہ "ٹوٹلٹی آف سمپٹمز" (علامات کے مجموعے) پر منحصر ہوتا ہے۔
2. **احتیاط:** اگر ہرنیا میں اچانک شدید درد، الٹی یا سرخی ظاہر ہو، تو یہ "اسٹرینگولیٹڈ ہرنیا" (Strangulated Hernia) کی علامت ہو سکتی ہے جو کہ ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے، اس صورت میں فوری سرجن سے رجوع کریں۔
3. **پرہیز:** بھاری وزن اٹھانے سے گریز کریں اور ایسی غذا استعمال کریں جس سے قبض نہ ہو۔
**نوٹ:** یہ معلومات صرف تعلیمی مقصد کے لیے ہیں۔ کو

16/09/2025

یورک ایسڈ اور اس سے ہونے والی دردوں بارے بہت ساری پوسٹ آتی ہیں آج اس بارے تھوڑی وضاحت کردوں عام تاثر یہ ہے کہ یورک ایسڈ سرخ گوشت میں موجود پیورینز سے ہی ہوتا ہے گویا اگر سرخ گوشت بند کردیں گے تو یورک ایسڈ ختم ہو جائے گا یا ہو جان چاہیے مگر ایسا ہوتا نہیں دوسرا تاثر یہ ہے کہ گردے یورک ایسڈ کا اخراج نہیں کرتے لہذا یورک ایسڈ خون میں زیادہ ہوتا ہے ۔ دونوں باتیں درست ہیں بھی اور نہیں بھی ۔ چینی جو ہم بہ کثرت استعمال کرتے ہیں اس میں گلوکوز اور فرکٹوز دو مال کیول ہیں ۔
فرکٹوز جگر میں جا کے نہ صرف خود یورک ایسڈ میں تبدیل ہوتا ہے بلکہ سرخ گوشت سے آنے والے پیورینز کو بھی تیزی سے یورک ایسڈ میں بدل دیتا ہے اور چینی یا فرکٹوز کی وجہ سے انسولین زیادہ پیدا ہوتی ہے زیادہ انسولین کی موجودگی میں گردے یورک ایسڈ کو خارج نہ کرینگے
گویا چینی اور ھائی فرکٹوز بذریعہ کارن سیرپ یا جوسز وغیرہ سے انسولین زیادہ بنے گی یورک ایسڈ زیادہ بنے گا اور خارج بھی نہ ہوگا
لہذا پرہیز میں سب سے پہلے چینی بند جوس بند کرنا ہوگا بلکہ ہر قسم کا میٹھا بند کرنا ہوگا
صرف تین ہفتوں میں انسولین نیچے آئے گی جگر سے چربی ختم ہوگی اور یورک ایسڈ پیدا کم اور خارج زیادہ ہوگا
تاہمُازاں بعد یہ احتیاط آپ جاری رکھیں
میٹھے چینی جوس سے پرہیز رکھیں
کاپی پیسٹ مطب کامل

11/09/2025

۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطب کامل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ سرخ مرچ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرخ مرچ کسی تعارف کی محتاج نہیں ھے پوری دنیا میں ھرایک جگہ دستیاب ھے تازہ اور خشک دونوں حالتوں میں میسر بھی ھے اور استعمال بھی ھوتی ھے بعض حضرات یہ سمجھتے ھیں کہ سوائے پاکستان وانڈیا کے باقی ممالک میں سرخ مرچ کا استعمال نہیں ھے جبکہ دنیا بھر میں کم یا زیادہ مقدار میں اس کا استعمال کیا جاتا ھے سرخ مرچ کی بعض اقسام ایسی بھی ھیں جنہیں کھانا بھی ناممکنات میں سے ھے یہ اقسام امریکہ میں ھیں کچھ عرصہ پہلے سرمد وقاص صاحب نے امریکہ سے سرخ مرچ کی مختلف اقسام کے بیج منگوائے تھے جہاں تک مجھے یاد ھے سرمد صاحب نے گیارہ یا تیرہ اقسام بتائی تھیں خیر وہ کمنٹس میں ان کی تفصیل بتا سکتے ہیں یادرھے مرچ کی باقی بھی کافی اقسام ھیں جن میں کالی مرچ سفید مرچ فلفل دراز جسے مگھاں بھی کہاجاتاھے کچھ مرچ کی اقسام جیسے شملہ مرچ ھے یہ بھی چار رنگوں میں دستیاب ھے میرے پاس اس وقت بھی شملہ مرچ کے چار رنگوں کے بیج موجود ھیں جو انشاء اللہ اس سال کاشت کرون گا ان میں سبز سرخ پیلا اور نیلا رنگ کی شملہ مرچ ھیں خیر میرا اپنا شوق ھے میں تو اپنے کھانے کے لیے مختلف اقسام کی سبزیوں کے بیج مختلف مقامات سے منگواتا رھتا ھوں جن میں کئی ایک اقسام کے ٹماٹر مولیاں گاجر شلجم ٹینڈیاں کدو کی اقسام لوبیا اور مٹر کی اقسام مختلف اقسام کے کھیرے وغیرہ خیر میں آرگینک سبزیاں استعمال کرنا پسند کرتا ھوں یہ ھوتی بھی نہایت اعلی ھیں ذائقہ بھی منفرد ھوتا ھے کھاد اپنی تیار کرتا ھوں خیر ایسا شوق پالنے کےلیے کچھ محنت وقت اور زمین بھی چاھیے ھوتی ھے جن کو ایسی سہولیات میسر ھیں وہ لازمی طور پر ایسی سرگرمیوں میں مصروف رھا کریں جوکہ ھرلحاظ سےآپکے اور ماحول کے لیے فائدہ مند رھتی ھیں اب جن دوستوں کو اس سلسلے میں مجھ سے راہنمائی چاھیے انشاء اللہ لازمی طور پر دوں گا خیر ھمارا موضوع سرخ مرچ ھے
سرخ مرچ کی اصل پیدائش انڈیا پاکستان نہیں ھے بلکہ سن 1176سے پہلے برصغیر میں اس کا نام ونشان بھی نہیں تھا اب 1176عیسوی میں یہ پرتگال سے ھندوستان پہنچی اسی طرح یہ سرخ مرچ 1595 میں انگلینڈ پہنچی
سرخ مرچ مزاج کے اعتبار سے گرم خشک یعنی غدی عضلاتی ھے
حرارت غریزی بڑی تیزی کے ساتھ اور بے شمار پیدا کرتی ھے ھندوستان اور پاکستان میں کھانوں کا ذائقہ اس وقت بن ھی نہیں سکتا جب تک سرخ مرچ کا استعمال نہ کیا جائے یادرھے ان کھانوں کوھضم کرنے کے لیے جو چیز سب سے زیادہ معاون ھے اس کا نام بھی سرخ مرچ ھی ھے بلکہ دور دور تک ھضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ھے اب بعض دوست سوچ رھے ھونگے کہ دور دور تک ھضم سے کیا مراد ھے تو دوستو ھاضمہ کاعمل صرف معدہ تک محدود نہیں ھے بلکہ ھضم کا عمل چار مراحل میں ھوتا ھے سرخ مرچ خون کا دوران اعضائے غذائی کی طرف تیز کرتی ھے اور پھر وھاں سے غشائے مخاطی کے ذریعے مختلف رطوبات میں ترشح پاکر مختلف صورتوں میں غذا کے ھضم کرنے میں معاون ھوتی ھے یعنی آخر تک اپنا عمل جاری رکھتی ھے یادرکھیں جب یہ جسم میں دوران خون کو تیز کرتی ھے تو شدید گرمی بھی پیدا کرتی ھے اس لیے یہ جراثیم کش بلکہ خون کے اندر موجود بے شمار زھروں کوبھی فنا کر دیتی ھے انہی خصوصیات کی بناء پر اسے مقوی معدہ مانا جاتا ھے اب ایک آسان سا تجربہ بلکہ دوا بتارھا ھوں کہ کیسے جراثیم کش اور مقوی معدہ ھے آجکل سیلاب پورے پاکستان میں ھے اب سیلاب کے دوران بعض علاقوں میں ایک مرض ھیضہ عموماً پھیل جاتا ھے جو بعض اوقات وبائی شکل بھی اختیار کر لیتا ھے ھیضہ کا جراثیم کالرا معدہ میں عمل کررھاھوتاھے جس کے باعث شدید اسہال اور الٹیوں کی شکایت ھوتی ھے پانی کی کمی اور جسم میں حرارت کی شدید کمی ھونے پہ عموماً انسانوں کی اموات ھوجایا کرتی ھیں وھاں طبی سہولیات نہ ھونے کے باعث ھنگامی بنیاد پر علاج میسر ھی نہیں ھوتا ایسی صورت میں یہ دوا ننانوے فیصد رزلٹ کی حامل ثابت ھوگی انشاء اللہ
سرخ مرچ اور رائی برابر وزن پیس کر خواہ نخودی گولیاں بنالیں ھر دس تا پندرہ منٹ بعد ایک تادوگولی ھمراہ قہوہ یا پانی دیں تین چار خوراک سے ھی ھیضہ جیسی موذی مرض شفایاب ھوجاتی ھے بعض لوگوں کو رائی میسر نہیں ھوتی تو تارا میرا کا استعمال رائی کی جگہ کر سکتے ہیں اب ان گولیوں سے تین چار عمل تیزی سے ھونگے فوری بدن میں گرمی بڑھنا شروع ھوجاتی ھے الٹیاں رک جاتی ھیں اگر کسی کو جوارش تمرھندی میسر ھو تولازمی کھلائیں اسہال فورا رک جاتے ھیں
سرخ مرچ کو نہایت اعلی قسم کا مصفی خون بھی مانا جاتا ھے اگر شنگرف کو چار گھنٹے کھرل کرکے برابر وزن سرخ مرچ ملا کر اچھی طرح پیس کر دانہ گندم برابر گولیاں بنا لیں ایک تادوگولی دن میں تین بار ھمراہ پانی دیں اعلی درجہ کی مصفی خون دوا ثابت ھوگی
۔دوستو جب فائدے اتنے ھیں تو کچھ نقصانات بھی سمجھ لیں
نکسیر پیدا ھونا یا بدن کے دیگر مقامات سے خون جاری ھوجانا جیسے بواسیر منہ میں زخم یا خون تھوکنا خونی قے خونی پیچش عورتوں میں کثرت حیض بلکہ بعض اوقات خون کے انتہائی جوش مارنے پہ بلڈ پریشر کا بڑھ جانا یہ سب کمالات بھی سرخ مرچ کے بہت زیادہ استعمال سے پیدا ھوا کرتےھیں اس لیے اعتدال سے بڑھ کر اسے کھانا بھی نقصان دہ ھےکیونکہ جب بدن میں گرمی بڑھتی ھے تو رطوبات کو بدن سے خشک کرنا اس کے لیے معمولی کام ھے جب رطوبات خشک ھونگی تو خون کا جاری ھونا معمولی سی بات ھے یادرکھیں اس کے بیج اگر دوسوگرام ھون تو ان سے بیس گرام تیل نکل آتاھے اگر اس تیل کو خالص حالت میں بدن کے کسی بھی حصہ پر لگائیں گے تو فوری طور پر خون نکلنے کاعمل شروع ھوسکتاھے اب اسی تیل کو شفائی توانائی میں بھی بدلا جاسکتا ھے کہ کم سے کم 500گرام سرسوں کے تیل میں دس گرام سرخ مرچ کا تیل شامل کرکے سر پہ مالش کی جائے تو وھاں کادوران خون تیز کرکے بال نکالنے میں اچھی دوا ھے صرف قابل طبیب ھی بنا کر استعمال کریں گنج پن کے لیے اعلی ترین دوا تیار ھے باقی دوستو سرخ مرچ کے بے شمار فائدے مختلف کتب مفردات میں لکھے موجود ھیں میں ان پہ بحث مباحثہ بالکل نہیں کرونگا ھاں ایک بات سچ ھے کہ شوگر کے وہ مریض جن کو شدت سے پیاس لگتی ھے وہ روزانہ شام کو دو ثابت مرچ پانی میں بھگو دیں صبح مل پن چھان کر پانی پی لیں تو پیاس ختم شد
اسی کےساتھ اجازت چاھوں گا محمود بھٹہ گروپ مطب کامل
کاپی پیسٹ

یہ تحریر ھر صاحب اولاد کو پڑھنی چاہئے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے سامنے جو دو تصاویر ہیں وہ ص...
07/09/2025

یہ تحریر ھر صاحب اولاد کو پڑھنی چاہئے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے سامنے جو دو تصاویر ہیں وہ صرف دماغ کی سادہ سی تصاویر نہیں بلکہ دو مختلف کہانیاں ہیں دو مختلف دنیائیں ہیں ان دونوں بچوں کی عمر تین سال ہے جیسا کہ ٹیکساس یونیورسٹی کے ماہر نفسیات ڈاکٹر بروس پیری نے یہ تحقیق شائع کی

بائیں جانب والے بچے کا دماغ مکمل طور پر صحت مند ہے کیونکہ وہ ایسے ماحول میں پلا بڑھا جہاں اس کو محبت ملی توجہ ملی اور تحفظ کا احساس ملا

جبکہ دائیں طرف والے بچے کو جذباتی اور نفسیاتی طور پر نظر انداز کیا گیا اسے ماں باپ کی گود محبت یا اہمیت کا احساس نہیں ملا نتیجہ یہ ہے کہ اس کا دماغ نہ صرف چھوٹا ہے بلکہ اس میں دماغی خلیات کی بھی شدید کمی پائی گئی

یہ فرق صرف دماغ کے سائز میں نہیں بلکہ ان کے مستقبل میں بھی ہوگا ان کی ذہنی صلاحیتوں میں ان کی نفسیاتی صحت میں اور ان کی پوری زندگی میں اس کا اثر رہے گا

بچپن صرف ایک وقت نہیں جو گزر جاتا ہے بلکہ بچپن وہ بنیاد ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے

ایک محبت بھرا جملہ ایک گود کا احساس ایک محفوظ ماحول یہ سب چیزیں بچے کے دماغ کو صحیح طریقے سے بناتی ہیں اور ایک تندرست انسان کی بنیاد رکھتی ہیں

لہٰذا اپنے بچوں کا صرف کھانے پینے کا خیال نہ رکھیں بلکہ ان کے دل کا بھی خیال رکھیں ان کو پیار دیں ان کو گلے لگائیں ان سے بات کریں کیونکہ بچہ صرف جسم سے نہیں دل سے بھی بڑا ہوتا ہے

بچپن کا لمس پوری زندگی کا رخ طے کرتا ہے
بچے کو صرف خوراک نہیں بلکہ محبت کی بھی بھوک ہوتی ہے

جو بچہ محبت سے محروم ہو جائے
اس کا دماغ بھی محرومی کا نقش لے بیٹھتا ہے
Copy past

حمل کے دوران ہم بستری (جنسی تعلق) کے بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں، جس میں ہر سہ ماہی (Trimester) کی وضاحت، ضروری ...
25/03/2025

حمل کے دوران ہم بستری (جنسی تعلق) کے بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں، جس میں ہر سہ ماہی (Trimester) کی وضاحت، ضروری احتیاطی تدابیر اور وہ عوامل شامل ہیں جن میں پرہیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔

---

1. حمل کے دوران ہم بستری کے عمومی اصول

اگر حمل نارمل ہے اور ڈاکٹر نے کوئی ممانعت نہیں کی تو حمل کے آخری مہینے کے علاوہ پوری مدت میں ہم بستری کی جا سکتی ہے۔

بعض خواتین میں حمل کے دوران جنسی خواہش کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، یہ ہارمونی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اگر ماں یا بچے کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو ہم بستری نقصان دہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ تعلقات میں محبت اور اعتماد کو بڑھا سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ حمل اور بچے پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔

---

2. سہ ماہی کے لحاظ سے ہم بستری کی تفصیل اور احتیاطی تدابیر

پہلی سہ ماہی (1 سے 3 ماہ)

✅ ہم بستری کی اجازت: ہاں، لیکن نرمی اور احتیاط کے ساتھ۔
⚠️ احتیاطی تدابیر:

ابتدائی مہینے حساس ہوتے ہیں کیونکہ حمل ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوتا۔

اگر کسی عورت کا پہلے اسقاط حمل (miscarriage) ہو چکا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

اگر خون کے دھبے (spotting) آ رہے ہوں یا پیٹ میں درد ہو تو ہم بستری سے پرہیز کریں۔

زیادہ دباؤ یا سخت پوزیشنز سے بچیں۔

متلی اور تھکن زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے بیوی کی طبیعت کے مطابق فیصلہ کریں۔

❌ ان صورتوں میں پرہیز کریں:

خون آنا یا اسقاط حمل کا خطرہ ہو۔

شدید تھکن یا کمزوری ہو۔

ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ (Bed Rest) تجویز کیا ہو۔

---

دوسری سہ ماہی (4 سے 6 ماہ)

✅ ہم بستری کی اجازت: ہاں، یہ حمل کا سب سے محفوظ اور آرام دہ وقت ہوتا ہے۔
⚠️ احتیاطی تدابیر:

اس دوران بچے کی حرکت محسوس ہونا شروع ہو سکتی ہے، لیکن یہ ہم بستری میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

ہلکی اور آرام دہ پوزیشنز استعمال کریں۔

اگر پیٹ میں درد یا دباؤ محسوس ہو تو فوری رک جائیں۔

❌ ان صورتوں میں پرہیز کریں:

قبل از وقت درد (Preterm labor) کی تاریخ ہو۔

پلیسینٹا پریویا (Placenta Previa) یعنی نال کا نیچے ہونا۔

ڈاکٹر نے کسی وجہ سے منع کیا ہو۔

---

تیسری سہ ماہی (7 سے 9 ماہ)

✅ ہم بستری کی اجازت: 7ویں اور 8ویں ماہ میں احتیاط کے ساتھ ممکن ہے، لیکن 9ویں ماہ میں پرہیز بہتر ہے۔
⚠️ احتیاطی تدابیر:

پیٹ بڑا ہونے کی وجہ سے آرام دہ پوزیشنز اپنائیں۔

گہری ہم بستری (Deep Pe*******on) سے بچیں۔

زیادہ دباؤ والی پوزیشنز سے گریز کریں۔

اگر رحم میں سکڑاؤ (Contractions) محسوس ہوں تو فوری رک جائیں۔

❌ 9ویں مہینے میں پرہیز کیوں؟

اس دوران قبل از وقت درد (Preterm Labor) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسپرم میں پروسٹاگلینڈن (Prostaglandin) نامی ہارمون ہوتا ہے، جو رحم کو نرم کر کے درد شروع کر سکتا ہے۔

بچے کی پوزیشن (Head Down) ہو چکی ہوتی ہے، اس لیے دباؤ سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔

---

3. کن صورتوں میں مکمل پرہیز ضروری ہے؟

اگر درج ذیل مسائل میں سے کوئی بھی موجود ہو تو ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر ہم بستری نہ کریں:

1. پہلے اسقاط حمل (Miscarriage) کی تاریخ ہو۔

2. قبل از وقت درد یا قبل از وقت پیدائش (Preterm labor) کا خطرہ ہو۔

3. خون آنا (Bleeding) یا پانی لیک ہونا۔

4. پلیسینٹا پریویا (Placenta Previa) ہو۔

5. پیٹ میں شدید درد یا دباؤ محسوس ہو۔

6. جڑواں بچے (Twins) ہوں یا زیادہ خطرے والا حمل ہو۔

7. ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ تجویز کیا ہو۔

---

4. حمل کے دوران ہم بستری کے لیے محفوظ پوزیشنز

چونکہ حمل میں پیٹ بڑا ہو جاتا ہے، اس لیے درج ذیل پوزیشنز زیادہ آرام دہ ہوتی ہیں:

1. سائیڈ-بائی-سائیڈ (Side-by-Side)

دونوں میاں بیوی پہلو کے بل لیٹیں، یہ زیادہ آرام دہ اور محفوظ ہوتی ہے۔

2. وومن آن ٹاپ (Woman on Top)

اس میں بیوی اپنی رفتار کنٹرول کر سکتی ہے اور پیٹ پر دباؤ نہیں آتا۔

3. ڈاگ اسٹائل (Doggy Style)

اس میں پیٹ پر دباؤ نہیں آتا، لیکن ہلکی ہم بستری ضروری ہے۔

4. چمچ (Spoon) پوزیشن

دونوں ایک ہی سمت میں لیٹیں، اس میں دباؤ کم پڑتا ہے۔

❌ پوزیشنز جو خطرناک ہو سکتی ہیں:

مشنری پوزیشن (Missionary Position) (یعنی بیوی نیچے اور شوہر اوپر) کیونکہ اس میں پیٹ پر دباؤ آ سکتا ہے۔

زیادہ جھکنے یا پریشر والی پوزیشنز۔

---

5. حمل کے دوران ہم بستری کے دیگر فوائد

ذہنی سکون: یہ تناؤ کو کم کرتا ہے اور تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

بلڈ سرکولیشن میں بہتری: ماں اور بچے دونوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

نیند بہتر بناتا ہے۔

درد اور تکلیف کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

---

نتیجہ

حمل میں ہم بستری آخری مہینے کے علاوہ زیادہ تر محفوظ ہوتی ہے، بشرطیکہ کوئی پیچیدگی نہ ہو۔

اگر کوئی غیر معمولی علامت (Bleeding, Pain, Preterm Labor) ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

زیادہ آرام دہ اور محفوظ پوزیشنز اپنائیں اور بے جا دباؤ سے گریز کریں۔

ہر سہ ماہی میں اپنی بیوی کی طبیعت اور ڈاکٹر کی ہدایت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔

copypast

14/03/2025

بالوں سے جوئیں ختم کرنے کے گھریلو ٹوٹکے
بالوں میں جوئیں ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ زیادہ تر چھوٹے بچوں کے سروں میں ہوتے ہیں۔ جوؤں کی موجودگی کی وجہ سے بالوں میں بہت زیادہ خارش ہونے لگتی ہے۔ جوئیں ایک طفیلی کیڑا ہے جو انسانی خون کو کھاتا ہے۔ ایک جوئی ایک مہینے میں 50 سے 100 انڈے دے سکتی ہے۔ اور جوئیں ہمارے سر میں یہ انڈے دیتی ہیں، 10 دن کے اندر یہ انڈے (جن کو عام زبان میں نٹس کہتے ہیں) نئی جوؤں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ جوئیں بالوں میں آسانی سے چھپ جاتی ہیں۔ جوؤں سے ہونے والی خارش کی وجہ سے انفیکشن کا خدشہ رہتا ہے۔ بالوں میں جوؤں کی موجودگی کی وجہ سے بچے کے سر میں خارش شروع ہو جاتی ہے جس سے سر میں خارش شروع ہو جاتی ہے اور سر کی جلد پر دانے پڑنے لگتے ہیں اور اگر ان مہاسوں کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کے نتائج اور بھی خطرناک ہو سکتے ہیں، اس لیے جوؤں کا علاج کروانا چاہیے۔ صحیح وقت پر علاج ضروری ہے.
سر کی جوؤں کی وجہ سے
جوئیں ایک شخص سے دوسرے شخص میں تیزی سے پھیل سکتی ہیں اگر وہ:
ٹوپی، اسکارف، کنگھی، برش، ہیئر کلپ یا بیریٹ، ہیئر بینڈ، ہیلمٹ یا کپڑے ایک دوسرے کے بدلے استعمال ہوتے ہیں۔
ایک ہی بستر، بستر یا قالین کا استعمال کریں۔ وہ بہت قریب سے کھیلتے ہیں۔
الماریوں یا لاکروں میں رکھی ہوئی چیزیں استعمال کریں جن میں جوئیں یا ان کے انڈے ہوں۔
جوئیں ایک دوسرے کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہیں اس لیے اپنی کنگھی کو دوسروں سے الگ رکھیں۔

جوؤں کو ختم کرنے کے لیے مارکیٹ میں کئی اقسام کی ادویات دستیاب ہیں، ان کا باقاعدگی سے استعمال کریں۔ اگر آپ چاہیں تو جوؤں کو دور کرنے کے لیے گھریلو ٹوٹکوں کا سہارا لے سکتے ہیں، جس کے لیے ذیل میں بہترین آزمائے گئے اور آزمودہ طریقے بتائے گئے ہیں جن کے کوئی مضر اثرات نہیں ہیں۔
بالوں سے جوئیں ختم کرنے کے گھریلو ٹوٹکے
پانچ چھ کالی مرچ پیس کر ایک کپ دہی میں ملا لیں۔ ایک لیموں کا رس بھی ڈالیں۔ بیس منٹ بعد سر دھو لیں۔ جوئیں ختم ہو جائیں گی۔
ناریل کے تیل میں لیموں کا رس ملا کر لگانے سے بھی جوؤں سے نجات ملتی ہے۔
نیم کے پتوں کو پیس کر لگانے سے بھی جوؤں سے نجات مل سکتی ہے۔ نیم کا تیل سر کی جوؤں اور نائٹس کو مار دیتا ہے۔ اس کے لیے اسے رات کو سونے سے پہلے بالوں میں لگائیں۔
لہسن کو پیس کر اس میں لیموں کا رس ملا کر رات کو سونے سے پہلے سر پر لگائیں۔ صبح اپنے سر کو شیمپو سے دھو لیں۔ اس کے مسلسل استعمال سے آپ کو دوبارہ جوئیں نہیں لگیں گی۔
نٹس سے نجات کے لیے بورک پاؤڈر کی بڑی مقدار پورے سر پر چھڑکیں اور 20 منٹ کے بعد باریک کنگھی کریں۔ تحریریں سامنے آئیں گی۔
جوئیں ہونے کی صورت میں پیاز کا رس بالوں میں لگائیں اور تین چار گھنٹے بعد بال دھو لیں۔ تین چار دن لگاتار ایسا کرنے سے سر کی جوئیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
رات کو بالوں میں کسٹرڈ سیب کے بیج کا پاؤڈر لگائیں۔ بالوں پر کپڑا مضبوطی سے باندھ لیں۔ اس سے سر کی جوئیں اور نٹس مارے جاتے ہیں۔

کافور پاؤڈر کو ناریل کے تیل میں ملا کر لگانے سے جوئیں اور نائٹس بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
اگر بار بار علاج کرنے کے بعد بھی جوئیں ختم نہیں ہو رہی ہیں تو تین چمچ پانی میں ایک چمچ سرکہ ملا کر پی لیں۔ اس مکسچر کو ہفتے میں تین بار رات کو سونے سے پہلے بالوں میں لگائیں۔ صبح اپنے سر کو شیمپو سے دھو لیں۔ ایک ماہ تک ایسا کرنے سے سر سے جوئیں ختم ہو جائیں گی۔
رات کو سونے سے پہلے بالوں میں پیٹرولیم جیلی لگائیں اور صبح اپنے بالوں کو دھونے سے پہلے کنگھی کی مدد سے بالوں میں کنگھی کریں تاکہ مسلسل استعمال سے آپ کے بالوں میں موجود جوئیں مکمل طور پر مر جائیں۔
لہسن کا تیز ذائقہ جوؤں کو مارنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لہسن کا پیسٹ لیموں کے رس میں ملا کر نہانے سے پہلے سر پر لگانے سے بھی جوؤں سے نجات ملتی ہے۔
پیاس کو پیس کر اس کا رس نکالیں۔ اس رس کو اپنے بالوں میں 10 منٹ تک لگائیں اور بالوں کو کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ لیں، پیاز کی بجائے آپ مولی بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
جوؤں کو مارنے کا علاج: بے بی آئل لگائیں اور کنگھی کو بالوں میں اس طرح گھمائیں کہ جوئیں نیچے گرنے لگیں۔ اس کے بعد بالوں کو گرم پانی اور تھوڑے سے کپڑے دھونے والے صابن سے دھو لیں۔ یہ بھی پڑھیں -
جوؤں کے علاج کے لیے رات کو بالوں میں تھوڑا سا سرکہ لگائیں اور سر کے گرد تولیہ لپیٹ کر رات بھر بالوں پر لگا رہنے دیں۔ صبح نارمل شیمپو سے بال دھو لیں۔ بہترین نتائج کے لیے اس عمل کو 3 سے 4 دن تک استعمال کریں۔
زیتون کا تیل جوؤں کو سانس لینے سے بھی روکتا ہے اور انہیں مار دیتا ہے۔ رات کو سر کی جلد پر زیتون کا تیل لگائیں اور سر کو تولیہ یا شاور کیپ سے ڈھانپ لیں۔ یہ جوؤں کے علاج کے لیے بھی ایک اچھا علاج ہے۔
نٹس کو دور کرنے کے لیے ٹوٹکے - نمک اور سرکہ کا پیسٹ بنا کر سر پر لگائیں۔ ، اب سر کو شاور کیپ سے ڈھانپیں اور 2 گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد بالوں پر شیمپو اور کنڈیشنر استعمال کریں۔

جوؤں کو مارنے کے لیے پیٹرولیم جیلی کا بطور دوا استعمال بھی بہت کامیاب ہے۔ اس لیے جوؤں سے نجات کے لیے رات کو بالوں پر پیٹرولیم جیلی کی موٹی تہہ لگائیں اور سر کو تولیے سے ڈھانپیں۔ صبح کے وقت بالوں سے پیٹرولیم جیلی کو بے بی آئل میں ملا کر نکال لیں۔۔
دو چمچ لیموں کا رس اور دو چمچ ادرک کا رس ملا کر سر پر لگانے سے جوئیں ختم ہو جاتی ہیں۔
جوؤں کو مارنے کی دوا بنانے کے لیے 20 گرام شہد اور 20 گرام پھٹکری لے کر 250 ملی لیٹر نیم گرم پانی میں ملا کر سر پر لگانے سے جوؤں اور جوؤں سے نجات مل جاتی ہے۔
امرود کے پتوں کو پیس کر اس میں ہلدی ملا کر مکسچر بنائیں اور نہانے سے دو گھنٹے قبل سر پر لگائیں۔ اس سے آپ کو جوؤں سے نجات مل جائے گی۔۔
،
جوئیں مہندی کی بو سے بھاگتی ہیں۔ گھر کے ہر فرد کے تکیے کے اندر تھوڑی سی تازہ مہندی (2-3 چھڑیاں) رکھنی چاہیے۔ جوؤں سے نجات کے لیے ان کو تکیے کے نیچے بھی رکھا جا سکتا ہے۔۔
۔Copy past

14/03/2025

زرشک شیریں..(پھرناکہناہمیں خبرنہیں ھوئ)

ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭼﻨﺪ ﺩﺍﻧﮯ
ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﯾﻘﯿﻦ ﺟﺎﻧﯿﮯ ! ﯾﮧ ﺳﺴﺘﯽ ﺯﺭﺷﮏ
ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ …......

ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺍﮌﺍﻥ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻭﻟﻮﻟﮯ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺟﺬﺑﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺟﮭﭙﭩﻨﺎ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﭘﻠﭩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻟﮩﻮ ﮔﺮﻡ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ! ﺁﭖ ﻧﮯ ﮈﺑﻞ ﺭﻭﭨﯽ ﯾﺎﺑﻦ ﯾﺎ ﺑﯿﮑﺮﯼ ﮐﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻟﮯ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﮐﺸﻤﺶ ﯾﺎ ﺳﻮﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺩﺍﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﮈﺑﻞ ﺭﻭﭨﯽ ﯾﺎ ﮐﯿﮏ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﮐﺸﻤﺶ ﻧﻤﺎ ﯾﮧ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﺩﺍﻧﮯ ﻃﺐ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﺭﺷﮏ ﮐﮩﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﻨﺴﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ
ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﺎﻡ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ ﮈﺑﻞ ﺭﻭﭨﯽ ، ﺑﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻋﻠﻢ ﮨﮯ ﯾﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﯾﮧ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﮯ ﺳﺘﺮﮦ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﭧ ﮐﯽ ﺑﻠﻨﺪﯼ ﭘﺮ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﻧﻤﺎ ﭘﻮﺩﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﯾﮧ ﺑﮍﯼ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﯾﮧ ﮐﺎﻟﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺟﺴﮯ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﻟﻮﮒ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺑﯿﭽﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﭽﻠﺘﮯ ﭼﻼﺗﮯ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﻣﺤﺎﻭﺭﮦ ﭘﮍﮬﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺗﯿﺰ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮐﮧ ﻋﻘﺎﺏ ﮐﯽﺧﻮﺭﺍﮎ ﯾﮩﯽ ﮐﺎﻟﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﯾﻌﻨﯽﺟﻨﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻟﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﺎ ﻋﻘﺎﺏ ﺍﻥ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻭ ﺍﻟﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ
ﺑﮭﯽ ﺟﮭﭙﭧ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﻓﺎﺧﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭨﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻋﻘﺎﺏ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ
ﭼﻠﻨﮯ ﻭ ﺍﻟﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﮐﯿﮍﮮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻥ ﺗﯿﺰ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﮐﺎﻟﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﭘﻨﺴﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺎﻟﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺯﺭﺷﮏ ﮐﮩﯿﮯ ﮔﺎ
ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ۔۔۔

ﭘﮩﻼ ﻓﺎﺋﺪﮦ :
ﯾﮧ ﺯﺭﺷﮏ ﺳﯿﺎﮦ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﺗﻘﻮﯾﺖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﮐﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﻃﺒﯽ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﭼﻤﭻ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺩ ﮪ ﮐﮯ ﻧﯿﻢ ﮔﺮﻡ ﺑﮍﮮ ﮔﻼﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮔﺮ ﻧﮩﺎﺭ ﻣﻨﮧ ﺧﻮﺏ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﮦ ﮐﻤﺎﻻﺕ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﻮﭺ ﻧﮩﯿﮟ
ﺳﮑﺘﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞﮐﻮ ﺯﺭﺷﮏ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﺎﺩﺩﺍﺷﺖ ﮐﮭﻮﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺗﮭﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﺗﮭﺎ ‘ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﻮﭼﯿﮟ
ﺍﻭﺭﺩﻣﺎﻍ ﺑﮩﺖ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﺎ ﺑﺎﻝ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻮﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺳﺮﺩﮐﮭﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﺮﺩﺭﺩ ﮐﮯ
ﻣﺮﯾﺾ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﺎ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺟﮭﺮﯾﺎﮞ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﻔﯿﺪ ﭘﺎﯾﺎ۔

ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺎﺋﺪﮦ :
ﮨﯿﭙﺎﭨﺎﺋﭩﺲ ﮐﺎ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺟﮕﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ‘ ﮐﺎﻻ ﯾﺮﻗﺎﻥ ﮨﻮ ﯾﺎ ﭘﯿﻼ ‘ ﺟﮕﺮ ﺳﮑﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﮐﯿﻨﺴﺮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﻃﺮﯾﺎﻕ ﺭﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﮐﯽ
ﺍﻧﻮﮐﮭﯽ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔

ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺍﯾﺎ ﭼﻨﺪ ﻣﺎﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧﺟﮕﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮍ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺟﮕﺮﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﺌﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ.
ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺾ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞﮑﻮ ﺟﻮ ﺟﮕﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
ﮐﺮﺍﯾﺎ۔

ﮔﺮﻣﯽ ﮐﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﻣﺰﮦ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﻋﺮﻕ ﮔﻼﺏ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮐﭗ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭼﻤﭻ ﺯﺭﺷﮏ ﮐﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﻮﺩﯾﮟ۔ ﺻﺒﺢ ﺯﺭﺷﮏ ﮐﮭﺎﮐﺮ ﺧﻮﺏ ﭼﺒﺎ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻠﮑﺎ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻋﺮﻕ ﮔﻼﺏ ﮐﺎ ﭘﯽ ﻟﯿﮟ ﺣﺴﻦ ‘ ﺟﻮﺍﻧﯽ ‘ ﻧﮑﮭﺎﺭ ‘ ﺷﺎﺩﻣﺎﻧﯽ ‘ ﺩﻣﺎﻍ ‘ ﺩﻝ ‘ ﭘﭩﮭﮯ ‘ ﺍﻋﺼﺎﺏ ‘ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻗﻮﺗﯿﮞ ﺎﻭﺭ ﮐﮭﻮﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻃﺎﻗﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﺼﻮﻝ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭘﮑﻮ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﻣﻮﺳﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭼﻤﭻ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﭗ ﺩﻭﺩﮪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﮕﻮ ﺩﯾﮞﺼﺒﺢ ﻭﮨﯽ ﺩﻭﺩﮪ ﮔﺮﻡ ﮐﺮﮐﮯ
ﮐﺸﻤﺶ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﺘﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﮌﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻻﻋﻼﺝ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﮉﯾﺎﮞﺘﮍﻭﺍ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﺩﺛﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﺍﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺯﺧﻢ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﯾﺎ۔ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﮩﯿﮞﻤﻠﮯ ﮔﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮﮌﻭﮞﮑﮯ ﺩﺭﺩ ‘ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﻮﭦ ‘ ﮨﮉﯾﻮﮞﮑﺎ ﺗﻮﮌ ﭘﮭﻮﮌ ‘ ﭘﻨﮉﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮞﺪﺭﺩ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮ ‘ ﮨﺮﻭﻗﺖ ﺍﯾﻨﭩﮭﻦ ‘ ﺳﻮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ‘ ﺍﻭﺭ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺗﯿﻞ ﮐﯽ
ﻣﺎﻟﺶ ﮐﺮﻭﮞ ﯾﺎ ﺧﻮﺏ ﮐﺲ ﮐﺮ ﭘﭩﯿﺎﮞ ﺑﺎﻧﺪﮬﻮﮞ ﯾﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺑﺎﺋﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﺎ ﺑﻌﺾ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﻭ ﭼﻤﭻ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮔﺮﻡ ﺩﻭﺩﮪ ‘ ﭼﺎﺋﮯ ﯾﺎ ﺗﺎﺯﮦ
ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﻮﭨﯽ ﮐﺎ ﭘﮭﻞ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭨﺎﺋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﺋﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﮐﯽ ﺁﻟﻮﺩﮔﯽ ﺗﻮ ﺁﻟﻮﺩﮔﯽ
ﺍﺱ ﮐﺎﺍﺛﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﺭﺍﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﺷﺒﻨﻢ ﺟﮭﻮﻡ
ﺟﮭﻮﻡ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭼﻮﻣﺘﯽ ﮨﮯ ‘ ﺑﺎﺭﺵ ﮈﻭﺏ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﺎﻟﺘﯽ ﮨﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﻮ ﻧﮑﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﮭﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔

ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﮐﺎﻟﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺗﻮ ﮐﺎﻟﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﺮﺑﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺭﺍﺯ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﻔﯿﺪﯼ ‘ ﺭﻧﮕﺖ ﺣﺴﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻓﭩﻨﺲ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻭﮦ ﺭﺍﺯ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍﺏﺗﮏ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﯾﻘﯿﻦ ﺟﺎﻧﯿﮯ ! ﯾﮧ ﺳﺴﺘﯽ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺏ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ … ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﺋﮯ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺍﮌﺍﻥ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻭﻟﻮﻟﮯ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺟﺬﺑﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﺟﮭﭙﭩﻨﺎ ‘ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﭘﻠﭩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻘﺎﺑﯽ ﻟﮩﻮ ﮔﺮﻡ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﮯ۔

ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ … ﮨﮯ ﻧﺎ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺭﺍﺯ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ‘ ﻟﯿﮑﻦ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺏ ﺁﺯﻣﺎﺋﯿﮟ ﺁﺝ ﮐﮭﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻠﮯ ﭘﮭﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﮮ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﭩﺮ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﺍﻥ ﮐﺎﻟﮯ ﺩﺍﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﭘﻨﺴﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﻠﻮ ﺑﮭﺮ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻟﯿﮟ ‘ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺟﺎﮌ ﻣﯿﮞﻤﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﻓﺮﯾﺞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺭﮐﮭﯿﮯ ﮔﺎ ﺑﺲ ﭼﻤﭻ ﯾﺎ ﺩﻭ ﭼﻤﭻ ﺑﮭﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﭼﺒﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﺋﯿﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﺋﯿﮯ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺿﯿﺎﻓﺖ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻼﺅ ﺯﺭﺩﮦ ﺑﺮﯾﺎﻧﯽ ﮐﺴﭩﺮﮈ ‘ ﭘﮑﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﺑﮭﯽ …

ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺯﺭﺷﮏ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺟﻮﮌﻭﮞ ‘ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﺍﻋﺼﺎﺏ ‘ ﻣﻌﺪﮦ ﻗﺒﺾ ‘ ﺟﮕﺮ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﺎﮞ ‘ ﮨﯿﭙﺎﭨﺎﺋﭩﺲ ‘ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺗﻘﻮﯾﺖ ‘ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ‘ ﻗﺒﻞ ﺍﺯﻭﻗﺖ ﺑﮍﮬﺎﭘﺎ ‘ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﻦ ‘ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺁﺯﻣﻮﺩﮦ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﮮ ﺍﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺁﭖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﺁﺯﻣﻮﺩﮦ ﮨﮯ۔۔۔۔۔
Copy past

14/03/2025

💫حمل کے لیے بہترین جنسی پوزیشن کون سی ہے؟🦄

hamal ki jinsi position

زیادہ تر جوڑوں کی طرح جو حاملہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ شاید سوچ رہے ہوں گے، “حاملہ ہونے کے لیے بہترین جنسی پوزیشن کیا ہے؟” یقین کریں یا نہیں، ماہرین کے پاس اب بھی حتمی ثبوت کی کمی ہے۔ “اس بارے میں بہت ساری سائنس نہیں ہے کہ کون سی پوزیشن حاملہ ہونے کے لیے بہترین ہے۔”

یہ کسی بھی چیز سے زیادہ لاجسٹک مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ “مخصوص جنسی پوزیشنوں پر تحقیق کرنا بہت مشکل ہے حمل کے عمل کو بڑھا سکتے ہیں۔” یہ جزوی طور پر اس لیے ہے کہ متعدد دیگر عوامل ہیں جو حاملہ ہونے کی مشکلات کو متاثر کرتے ہیں، جیسے کہ زچگی کی عمر اور ج**ع کا وقت (مثال کے طور پر بیضہ کے دوران جنسی عمل کرنا زرخیزی کو بڑھاتا ہے)۔

Table of Contents

جنسی پوزیشنز کیوں اہم ہیں؟
جلد حاملہ ہونے کے لیے بہترین جنسی پوزیشن کی اقسام
مشنری پوزیشن
ڈوگی اسٹائل
کندھوں پر ٹانگیں
عورت اوپر، مرد نیچے
پہلو بہ پہلو قینچی
وہیل بیرو
پیچھے سے داخلہ
کوئٹل آلائنمنٹ ٹیکنیک
ج**ع کے بعد
سیدھے لیٹے رہنا
اپنے شرونی کو سہارا دیں
ٹانگیں اوپر رکھیں
جنسی پوزیشنز کیوں اہم ہیں؟
اگرچہ کوئی بھی پوزیشن حاملہ ہونے کی ضمانت نہیں دے گی، مریضوں کو تجویز کی جاتی ہے کہ وہ ایسی پوزیشنوں پر غور کریں جو کشش ثقل کا فائدہ اٹھانے میں مدد کرتی ہیں، جیسے مشنری۔ آپ اور آپ کا ساتھی دونوں اپنے ڈاکٹروں سے ملیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ بچے پیدا کرنے کی اچھی صحت مند رینج میں ہیں ۔ جن دنوں آپ کی زرخیزی ہوتی ہے (عام طور پر پانچ دن بیضہ دانی تک اور اس کے 24 گھنٹے بعد)، آپ کو ہر دوسرے دن جنسی تعلق قائم کرنا چاہیئے ۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مشنری پوزیشن (اوپرمرد، نیچے عورت) حاملہ ہونے کے لیے بہترین ج**ع کی پوزیشن ہے۔ تاہم، اس دعوے کو بیک اپ کرنے کے لیے کوئی تحقیق نہیں ہے۔

مباشرت کی کوئی بھی پوزیشن جو سرویکس (یا اندام نہانی، اس معاملے کے لیے) کے قریب سپرم حاصل کرتی ہے آپ کو حاملہ کر سکتی ہے۔ نطفہ کشش ثقل کی مدد کے ساتھ یا اس کے بغیر تولیدی راستے کو تیرے گا۔

جلد حاملہ ہونے کے لیے بہترین جنسی پوزیشن کی اقسام
:حاملہ ہونے کی پوزیشنوں میں یہ پوزیشنز شامل ہوسکتی ہٰیں

مرد اوپر، عورت نیچے عرف مشنری پوزیشن
ڈوگی اسٹائل
کندھوں پر ٹانگیں
عورت اوپر، مرد نیچے
پہلو بہ پہلو عرف قینچی
پیچھے سے داخلہ
مشنری پوزیشن
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مشنری کی کوشش کی گئی اور سچ ہے، اوپر آدمی کا ہونا کشش ثقل کو آپ کے حق میں رکھتا ہے۔ (ڈاکٹرز کے مطابق وہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ ممکنہ طور پر بچے کو حاملہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ مقبول جنسی پوزیشنوں میں سے ایک ہے۔) عورتوں کے اوپر والی پوزیشنوں میں، سپرم کو اوپر کی طرف تیرنا پڑتا ہے، لیکن اوپر مرد آپ کی اندام نہانی کے سوراخ میں سپرم کو بہنے دیتا ہے اور آپ کے گریوا کی طرف. اضافی تاثیر کے لیے، اپنے نیچے تکیہ رکھیں، جو سپرم کے لیے اور بھی زیادہ سازگار زاویہ دے سکتا ہے۔

ڈاکٹروں نے سوچا کہ کیا طریقہ کار کے بعد افقی حالت میں رہنے سے حمل کی کامیابی میں بہتری آسکتی ہے۔ ایک تحقیق میں، انھوں نے پایا کہ جو لوگ سپرم کی منتقلی کے بعد 15 منٹ تک اپنی پیٹھ کے بل لیٹ گئے ان میں تین چکروں کے بعد حمل کی شرح 27 فیصد تھی۔ اس کا موازنہ ان لوگوں سے کریں جو منتقلی کے فوراً بعد اٹھے ان میں حمل کی شرح 18 فیصد تھی۔

ڈوگی اسٹائل
ایم آر آئی اسکینوں کا استعمال کرتے ہوئے، محققین اس بات کا موازنہ کرنے کے قابل ہیں کہ کون سی جنسی پوزیشن مشنری یا “ڈوگی اسٹائل” گریوا کے سب سے قریب انزال ہوتی ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہو سکتی ہے کہ مشنری پوزیشن کے مقابلے میں عقبی اندراج عضو تناسل کو نطفہ پہنچانے کے لیے مثالی مقام کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ یہ تحقیق ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتاتی ہے کہ اس سے حمل کی کامیابی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے ۔

اگر آپ مشنری پوزیشن سے بور ہو چکے ہیں، لیکن آپ پھر بھی ایسی پوزیشن چاہتے ہیں جو حاملہ ہونے کے لیے بہترین ہو، تو پیچھے داخلے پر غور کریں۔

ڈوگی اسٹائل حاملہ ہونے کی کوشش کرنے کے لیے ایک بہترین پوزیشن ہو سکتا ہے کیونکہ آپ کے پاس دخول کی بہترین گہرائی ہوتی ہے، عضو تناسل کے سر کو گریوا کے کھلنے کے دائیں طرف رکھنا- جس کا مطلب یہ ہے کہ سپرم گریوا کے ذریعے سفر کے لیے بہترین پوزیشن میں خارج ہوتے ہیں۔

کندھوں پر ٹانگیں
یہ تقریباً بہت آسان لگتا ہے، لیکن جب حاملہ ہونے کی بات آتی ہے تو کشش ثقل ایک کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر مشنری کے لیے اس مہم جوئی کا مشورہ دیتی ہیں جب آپ پیچھے لیٹ جائیں اور اپنی ٹانگیں اپنے ساتھی کے کندھوں پر رکھیں۔ مرد کا عضو تناسل کشش ثقل کے ذریعے عورت کی اندام نہانی کی طرف کھینچا جاتا ہےاور انزال کے بعد، یہ سپرم کے لیے گریوا تک اور اس سے گزرنا بہت آسان بنا دیتا ہے۔

عورت اوپر، مرد نیچے
اوپر عورت والی پوزیشن خواتین کی پسندیدہ پوزیشن میں سے ایک ہے جس میں آپ کا چہرہ اپنے ساتھی کے پاؤں کے سامنے ہوتا ہے، آپ کے ٹکرانے اور پیسنے پر قابو رکھتاہے۔ اور جب آپ عمل پر قابو رکھتے ہیں، تو آپ یہ بھی یقینی بنا سکتے ہیں کہ آپ گریوا سے گزرنے کے لیے سپرم کے لیے بہترین پوزیشن میں ہیں۔ اوپر عورت والی پوزیشن میں، آپ دخول کی گہرائی کو کنٹرول کر سکتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ انزال کے دوران گریوا عضو تناسل کے بالکل اوپر ہے۔ یہ ایک خوبصورت جنگلی سواری بھی بنا سکتا ہے۔

پہلو بہ پہلو قینچی
اس پوزیشن میں مشغول ہونے پر، جوڑے اپنے پہلوؤں پر لیٹتے ہوئے ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ رومانٹک ہے (جو بچے بنانے والے جنسی تعلقات میں شامل اعصاب کو آسان بنا سکتا ہے)، بلکہ یہ گہرے داخلے کی بھی اجازت دیتا ہے۔

وہیل بیرو
نہیں، اس کو آزمانے کے لیے آپ کو یوگی یا جمناسٹ بننے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن یہ حاملہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ مہم جوئی والی جنسی پوزیشنوں میں سے ایک ہے۔ یہ یقینی طور پر بیبی بمپ کے ساتھ کرنے کی پوزیشن بھی نہیں ہے، تو کیوں نہ اسے اپنی لسٹ سے باہر کر دیا جائے؟ عورت اس پوزیشن میں آجاتی ہے، جیسے کہ وہ پہیے کی دوڑ میں وہیل بیرو بننے والی ہو ہاتھ فرش یا بستر پر (آپ اپنی کہنیوں پر بھی آرام کر سکتے ہیں)۔ مرد ایک عورت کی ٹانگیں پکڑتا ہے اور اپنی رانوں کو اس کے درمیان لگاتا ہے، پیچھے سے داخل ہوتا ہے، جس سے گہرے دخول کی اجازت ہوتی ہے جو نطفہ کو انڈے کے قریب لا سکتا ہے۔

پیچھے سے داخلہ
ڈوگی اسٹائل کی طرح، اس پوزیشن میں آدمی کا پیچھے سے داخل ہونا شامل ہے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ عورت اپنے پیٹ کے بل لیٹی ہے اور مرد اپنے آپ کو اس پر جھکا لیتا ہے۔ پیچھے کا اندراج گہری رسائی حاصل کرنے کا ایک یقینی طریقہ ہے۔

کوئٹل آلائنمنٹ ٹیکنیک
مشنری آپ کے مطابق نہیں ہے؟ یہ پوزیشن خواتین کے لیے خشگوار اور کارآمد ثابت ہو سکتی ہے (جو واضح طور پر، تصور میں ایک عنصر نہیں ہے، لیکن یہ ایک اضافی بونس ہے!) جبکہ سپرم کو نیچے کی طرف تیرنے دیا جاتا ہے۔ عورت اپنے گھٹنوں کو باہر نکالتی ہے تاکہ مرد کا نچلا دھڑ درمیان میں فٹ ہو جائے۔ پھر، زور دینے کے بجائے، مرد اور عورت تال میں ایک ساتھ اپنے کمروں کو ہلاتے ہیں- جو اب بھی آپ کو مشنری کی کشش ثقل سے معاون اثر فراہم کرتا ہے۔

ج**ع کے بعد
کیا ج**ع کے فوراً بعد آپ جو کچھ کرتے ہیں وہ حمل کو مزید ممکن بنا سکتا ہے؟ ایک بار پھر، اس کے لئے بہت کم سائنسی ثبوت ہے. لیکن کئی اقدامات سپرم کو ان کے انڈے تک پہنچنے اور فرٹیلائز کرنے کے سفر میں لڑنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

سیدھے لیٹے رہنا
ایسا کرنے سے نطفہ کو وہاں پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے جہاں وہ جا رہے ہیں۔ 10-15 منٹ یہ کرنا چاہیے۔ پھر، اپنے مثانے کو خالی کریں تاکہ آپ کے پیشاب کی نالی کے قریب موجود کسی بھی جراثیم کو دور کرنے میں مدد ملے جو پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔

اپنے شرونی کو سہارا دیں
جنسی تعلقات کے بعد اپنے کولہوں کے نیچے تکیہ رکھیں تاکہ کشش ثقل منی کو آپ کے رحم کی طرف لے جا سکے۔ ایک بار پھر، اس میں سے 10 سے 15 منٹ کافی ہیں۔

ٹانگیں اوپر رکھیں
اپنی ٹانگوں کو دیوار پر رکھ کر آرام کریں، جو کشش ثقل کو سپرم کی مدد کرنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ آپ کبھی کبھی جنسی تعلقات کے بعد اپنے زیر جامہ یا ٹوائلٹ پیپر پر نمی محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ ممکنہ طور پر منی ہے، سپرم کا مائع حصہ۔ جنسی تعلقات کے 10 سے 15 منٹ تک، وہ پہلے سے ہی آپ کے رحم میں ہوتے ہیں اور فیلوپین ٹیوبوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔
Copy past

Address

Khanewal
58031

Telephone

+923049019559

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rida Clinic 72/15.l posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share