08/09/2025
*A talk on case taking*
دوران کیس ٹیکنگ،پہلا سوال معالج کا ہوتا ہے،”جی فرماٸیے؟“ اس کے بعد کے سوالات،مریض کے پہلے جواب کے بعد اخذ کیے جاتے ہیں،انھیں کراس کوٸسچننگ کہا جاتا ہے۔مریض کے پہلے جواب کے بعد،معالج کے طور پر آپ نے ایک،کھوجی“ کی طرح مریض کے پیچھے پیچھے چل پڑنا ہے،اور وہاں رکنا ہے،جہاں پر آپ کسی ریمیڈی کے کلیو یا تھیم تک پہنچ جاٸیں۔
جن لوگوں کا میں، فیملی معالج ہوں،ان پر مجھے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ان سے فرینک نیس تو آلریڈی ہوتی ہی ہے،وہ بطور معالج،میری ریکواٸرمنٹس کو بھی سمجھتے ہیں۔اس لیے فرینڈلی و لاٸیٹلی انداز میں،گپ شپ کے انداز میں ہی ہم مریض کی مطلوبہ دوا تک پہنچ جاتے ہیں، ان شاء اللہ،الحمداللہ
دوران کیس ٹیکنگ،مریض کی بیماری کی علامات کے ساتھ، اس کے جنرلز پر فوکس زیادہ رکھا جاتا ہے۔خاندانی ہسٹری،ذہنی و مزاجی علامات،احساسات،خواہش ونفرت،کمی و زیادتی،عجیب و غریب علامات وغیرہ وغیرہ۔
جب کیس کی مطلوبہ ریمیڈی کا کلیو یا تھیم ہاتھ آ جاۓ تو پھر اس کی موٹی موٹی کیریکٹرسٹکس ہی،اپنے انداز میں کنفرم کرنا ہوتی ہیں۔نٸے مریض،جو ہومیوپیتھی کو بطور علاج پہلی بار لے رہے ہوتے ہیں،ان پر واقعی بہت مغز ماری کرنا پڑتی ہے۔
(Azmat Ali Khan Homeopathe)