03/06/2026
سرمایہ دار نظام نے انسان سے صرف روٹی نہیں چھینی، اس سے شعور بھی چھین لیا ہے۔
یہاں جہالت حادثہ نہیں، بلکہ ایک منصوبہ ہے۔
تعلیم کو جان بوجھ کر مہنگا کیا گیا تاکہ غریب کا بچہ ہمیشہ مزدور، ڈرائیور، چوکیدار اور فیکٹری کا غلام رہے، اور امیر کا بچہ حاکم، سرمایہ دار اور افسر بنے۔
آج یونیورسٹیاں علم کے مرکز نہیں، کاروبار کی منڈیاں بن چکی ہیں۔
ڈگریاں فروخت ہو رہی ہیں، کتابیں مہنگی ہیں، اسکول پرائیویٹ مافیاز کے قبضے میں ہیں، اور غریب نوجوان فیسوں کے بوجھ تلے اپنی زندگیاں دفن کر رہے ہیں۔
سرمایہ دار نظام نہیں چاہتا کہ مزدور کا بچہ سوچنا سیکھے، سوال کرنا سیکھے، یا اپنے حقوق مانگے۔
کیونکہ جس دن غریب باشعور ہو گیا، اس دن محلوں کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
یہ نظام نوجوانوں کو علم نہیں دیتا، بلکہ انہیں ٹک ٹاک، فضول مذہبی نفرت، قوم پرستی اور جھوٹے خوابوں میں الجھا دیتا ہے تاکہ وہ ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں۔
غریب آدمی سارا دن محنت کرتا ہے، پھر بھی پریشان، مقروض اور ذلیل رہتا ہے، جبکہ چند سرمایہ دار اس کی محنت پر محلات تعمیر کرتے ہیں۔
ہمارا نظریہ یہی کہتا ہے کہ تعلیم اور علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، کاروبار نہیں۔
عدل و انصاف والےنظام میں علم چند امیروں کی جاگیر نہیں ہوتا بلکہ ہر مزدور، ہر کسان، ہر غریب بچے تک مفت پہنچتا ہے۔
وہ سماج جہاں انسان کی قدر اس کے پیسے سے نہیں بلکہ اس کی محنت اور انسانیت سے ہو وہی حقیقی آزادی ہے۔
یاد رکھو:
جہالت میں رکھا گیا انسان کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔
اور جو نظام انسان کو علم سے محروم رکھے، وہ انسانیت کا دشمن ہے۔
ان ق ل ا ب صرف بندوق سے نہیں آتا، شعور سے آتا ہے۔
کتاب اٹھاؤ، سوال کرو، منظم ہو جاؤ، کیونکہ سرمایہ دار تمہاری خاموشی سے طاقتور ہے، اور تمہارے شعور سے خوفزدہ۔
Rawalakot today protest