Private Health Employees Kotli ,PHE

Directions

Private Health Employees Kotli ,PHE Private Health Emplyees Union AJK

جو لوگDPT/ BS Allied Health Sciences میں داخلے لے رہے ان کیلئے ایک مشورہ ہے کہ صرف کونسل سے مستند  یونیورسٹیوں یا انسٹیٹ...
19/10/2026

جو لوگDPT/ BS Allied Health Sciences میں داخلے لے رہے ان کیلئے ایک مشورہ ہے کہ صرف کونسل سے مستند یونیورسٹیوں یا انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیں.

19/10/2026

اٹھا رہا ہے جو فتنا میری زمینوں میں
وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں
کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں
کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں
قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں
یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
کہ اقتدار رہے اُن کے جانشینوں میں
یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

حبیب جالب

18/10/2026

آزاد کشمیر کی سیاست، اقتدار کی جنگ اور عوام کے ادھورے حقوق

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وفاق میں پیپلز پارٹی (PPP) اور مسلم لیگ ن (PML-N) اقتدار میں ایک دوسرے کی اتحادی ہیں، مگر ریاستی سیاست میں سیاسی مفادات اور اقتدار کی کشمکش جاری رہتی ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، سیاسی نعرے بدلتے ہیں، لیکن عام آدمی کے بنیادی مسائل بدستور حل طلب رہتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں وفاق اور آزاد کشمیر میں اقتدار، وزارتوں اور حکومتی مفادات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتی ہیں، تو پھر عوام کے بنیادی حقوق، مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں، آٹے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل حل کرنے کے لیے متحد کیوں نہیں ہو سکتیں؟

جب عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کی آواز کو سیاسی مخالفت، انتشار یا امن و امان کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے ان کے مطالبات کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ عوامی حقوق کی تحریکیں اس وقت جنم لیتی ہیں جب اداروں، حکومتوں اور روایتی سیاسی قیادت سے لوگوں کا اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کے دوران شہری ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال سے متعلق سنگین اطلاعات سامنے آئیں۔ ان واقعات کی شفاف، غیر جانب دار اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ کسی بھی شہری کی جان لینا، پُرامن احتجاج کو طاقت سے دبانا یا عوام کی آواز کو خوف کے ذریعے خاموش کرنا کسی جمہوری نظام کا قابلِ قبول راستہ نہیں ہو سکتا۔ انسانی جان اور شہری وقار ہر سیاسی مفاد سے بالاتر ہیں۔

اصل سوال PPP یا PML-N میں سے کسی ایک جماعت کی حمایت کا نہیں، بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی اور جواب دہی کا ہے۔ اگر دونوں جماعتیں اقتدار میں شریک ہیں تو انہیں عوام کے سامنے یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ بنیادی مسائل کے حل، سیاسی نمائندگی، معاشی انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کہاں ہیں؟

آزاد کشمیر کے عوام کو محض انتخابی نعروں، سیاسی وعدوں اور اقتدار کی تبدیلیوں کی نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں تعلیم، صحت، روزگار، بجلی، سستا آٹا، شفاف حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی یقینی ہو۔ جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور جہاں عوامی مطالبات کا جواب گولی، گرفتاری اور خوف کے بجائے مذاکرات، انصاف اور قانون کی حکمرانی سے دیا جائے۔

یاد رکھیے! عوام ریاست کی طاقت ہوتے ہیں، ریاستی طاقت کا نشانہ نہیں۔

عوامی حقوق کی جدوجہد کو پُرامن، منظم اور جمہوری انداز میں آگے بڑھانا ہی پائیدار تبدیلی کا راستہ ہے۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اقتدار کی سیاست سے آگے بڑھ کر عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔

عوام کے مسائل حل کرو، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرو، ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کرو، اور عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق دو۔

#آزادکشمیر #جمہوریت #انصاف

17/10/2026

مزدور کی طاقت، طبقاتی کشمکش اور معاشی نظام
🪶🖌️
سرمایہ دارانہ نظام میں ایک طبقہ ذرائعِ پیداوار کا مالک ہوتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اپنی محنت بیچ کر زندگی گزارتا ہے۔ کارخانے مزدور چلاتا ہے، عمارتیں مزدور تعمیر کرتا ہے، فصلیں مزدور اگاتا ہے اور اداروں کا پہیہ محنت کش کے دم سے چلتا ہے، لیکن اکثر محنت کے ثمرات پر اختیار کسی اور کا ہوتا ہے۔
کارل مارکس کے مطابق تاریخِ انسانی طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔ سرمایہ دار کا مفاد منافع میں اضافے سے وابستہ ہوتا ہے، جبکہ مزدور کی جدوجہد مناسب اجرت، بہتر حالاتِ کار، روزگار کے تحفظ اور باعزت زندگی کے لیے ہوتی ہے۔ یہی مفادات کا تضاد طبقاتی کشمکش کو جنم دیتا ہے۔
مزدور کی اصل طاقت اس کی محنت کے ساتھ اس کا اتحاد، تنظیم اور طبقاتی شعور ہے۔ ایک مزدور کی آواز دبائی جا سکتی ہے، لیکن منظم اور متحد محنت کش طبقے کے مطالبات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔
مزدور کی طاقت کا استعمال نفرت اور انتشار کے لیے نہیں، بلکہ استحصال کے خاتمے، منصفانہ اجرت، آٹھ گھنٹے کام، سماجی تحفظ، ملازمت کے تحفظ اور معاشی انصاف کے لیے ہونا چاہیے۔ یونین سازی، اجتماعی جدوجہد اور پُرامن مزاحمت وہ راستے ہیں جن کے ذریعے محنت کش اپنے حقوق حاصل کرنے کی قوت پیدا کرتے ہیں۔
یاد رکھیں! صرف محنت کرنا کافی نہیں، اپنی محنت کی قدر کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ جب مزدور اپنے انفرادی مسائل کو اجتماعی مسئلہ سمجھتا ہے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ متحد ہوتا ہے، تبھی وہ اپنے حالات بدلنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔
محنت کشو! اپنے حقوق پہچانو، منظم ہو، متحد ہو اور اپنی اجتماعی طاقت کو انصاف کے قیام کے لیے استعمال کرو۔
کیونکہ معاشرہ محنت سے بنتا ہے، اور محنت کرنے والوں کو معاشی فیصلوں میں باعزت مقام ملنا چاہیے۔
دنیا بھر کے محنت کشو، متحد ہو جاؤ!

✊ مزدور اتحاد طبقاتی شعور معاشی انصاف

14/10/2026

ایک طرف حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں، دوسری طرف غریب کا بچہ فیس نہ ہونے کے باعث اسکول چھوڑ دیتا ہے۔
ایک طرف اشرافیہ کے لیے علاج کی خاطر بیرونِ ملک کے دروازے کھلے ہیں، دوسری طرف غریب انسان سرکاری اسپتال میں بستر اور دوائی کے لیے ترستا ہے۔
ایک طرف حکمرانوں کے لیے مہنگائی محض اعداد و شمار کا کھیل ہے، دوسری طرف مزدور کے لیے آٹے، بجلی کے بل اور بچوں کی فیس کا حساب زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے۔
ایک طرف دولت مند طبقہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مصروف ہے، دوسری طرف عام آدمی اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی اور باعزت زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
المیہ یہ نہیں کہ چند لوگوں کے پاس دولت ہے؛ المیہ یہ ہے کہ اکثریت کے پاس بنیادی سہولتیں بھی نہیں، اور پھر اسی اکثریت کو اُنہی طاقتور طبقوں کی حمایت میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، جن کے مفادات اکثر اُس کی مشکلات سے مختلف ہوتے ہیں۔
جس دن ہم شخصیات کی اندھی عقیدت سے نکل کر اپنے حقوق، تعلیم، صحت، انصاف اور معاشی برابری کے لیے شعوری جدوجہد شروع کر دیں گے، اُس دن سیاست محض نعروں کا کھیل نہیں رہے گی بلکہ عوام کی حقیقی طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہو گی۔
یاد رکھیے! حکمرانوں کی وفاداری سے زیادہ ضروری اپنے مستقبل سے وفاداری ہے۔ نظام تب بدلتا ہے،جب عوام اپنے حقوق کو کسی رہنما کا احسان نہیں، بلکہ اپنا بنیادی حق سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔

تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے!ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ تعلیم، صحت اور رو...
11/10/2026

تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے!
ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا مطالبہ ہے کہ تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات ہر باشندے کو بلاامتیاز فراہم کی جائیں۔ میرٹ کی بحالی، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر شہری عزت، تحفظ اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
ریاست کے اندر غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے، عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے اور ہر شہری کو پُرامن زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔ اختلافِ رائے کو جرم سمجھنے کے بجائے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے اور طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور جمہوری رویوں کو فروغ دیا جائے۔
طلباء کی فوری اور غیر مشروط رہائی یقینی بنائی جائے۔ طلبہ مستقبل کے معمار ہیں؛ انہیں خوف، پابندیوں اور غیر یقینی صورتِ حال کے بجائے تعلیم، آزادی اور پُرامن تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔
ہماری جدوجہد کسی تصادم کے لیے نہیں، بلکہ اپنے بنیادی حقوق، انصاف، مساوات، میرٹ اور پُرامن مستقبل کے لیے ہے۔ ریاست کی اصل مضبوطی عوام کے اعتماد، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں ہے۔

ہمارے مطالبات واضح ہیں:
✊ تعلیم، صحت اور روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
⚖️ میرٹ بحال اور انصاف فراہم کیا جائے۔
📢 غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
🕊️ عوام کو امن، تحفظ اور باعزت زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔
📚 طلباء کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔

ہمارا نعرہ:
تعلیم ہمارا حق، روزگار ہمارا حق!
میرٹ، انصاف اور امن ہر شہری کا حق!
طلباء رہا کرو، عوام کو جینے دو!
پُرامن جدوجہد، جمہوری حقوق اور روشن مستقبل یہی ہمارا مطالبہ ہے۔

08/10/2026

معاشرے کی حقیقت 🤔 دولت اور طاقت

معاشرے کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ دولت اور طاقت اکثر چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے، جبکہ محنت کرنے والی اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرتی رہتی ہے۔
جس کے پاس دولت ہوتی ہے، اس کے پاس وسائل ہوتے ہیں؛ اور جس کے پاس وسائل ہوتے ہیں، وہ اکثر فیصلہ سازی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یوں دولت سے طاقت اور طاقت سے مزید دولت پیدا ہوتی رہتی ہے، جبکہ عام انسان اسی دائرے سے باہر کھڑا رہ جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دولت اور طاقت عام کمیونٹی تک کیسے پہنچے؟
اس کا جواب کسی فرد سے دولت چھیننے میں نہیں، بلکہ ایک ایسے منصفانہ نظام میں ہے جہاں ہر شخص کو تعلیم، صحت، روزگار، مناسب اجرت، کاروبار کے مواقع، قانونی تحفظ اور اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہو۔
ریاستی وسائل عوام کی امانت ہیں۔ انہیں چند خاندانوں، اشرافیہ یا طاقتور گروہوں کے مفادات کے بجائے عام انسان کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ ہونا چاہیے۔
مزدور کو اس کی محنت کی مناسب اجرت، نوجوان کو روزگار، طالب علم کو معیاری تعلیم، مریض کو علاج، اور ہر شہری کو عزت و انصاف ملنا چاہیے۔
حقیقی ترقی یہ نہیں کہ چند لوگ ارب پتی بن جائیں؛ حقیقی ترقی یہ ہے کہ عام آدمی غربت، بے روزگاری اور محرومی سے نکل کر باعزت زندگی گزار سکے۔
طاقت کا مقصد عوام پر حکمرانی نہیں، عوام کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔
جب دولت کے مواقع وسیع ہوں گے، طاقت جواب دہ ہوگی اور فیصلوں میں عام انسان کی آواز شامل ہوگی، تب ہی ایک حقیقی، منصفانہ اور مضبوط معاشرہ تشکیل پائے گا۔
عوام کمزور نہیں، نظام انہیں کمزور بناتا ہے۔
اور منصفانہ نظام ہی عام انسان کو حقیقی طاقت دے سکتا ہے۔

#برابری

خوشخبری دوستو الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل آف پاکستان کی موجودہ انسپیکشن کے دوران  ملک بھر کے الائیڈ ہیلتھ انسٹیٹیوشنز /ی...
07/10/2026

خوشخبری
دوستو الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل آف پاکستان کی موجودہ انسپیکشن کے دوران ملک بھر کے الائیڈ ہیلتھ انسٹیٹیوشنز /یونیورسٹیوں اور الحاق شدہ انسٹیٹیوشنز میں الائیڈ ھیلتھ سائینسز کی ٹیچنگ فیکلٹیوں میں اکیڈمک پوزیشن پر ہزاروں رجسٹرڈ الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کی آسامیاں خالی ہیں جس میں ڈین الائیڈ ھیلتھ سائینسز ،پرنسپل ، ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اور ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف شامل ہیں
الائیڈ ھیلتھ سائینسز کے چار سالہ یا پانچ سالہ ڈگری پروگرام کے 50 اسٹوڈنٹس کے لئے ایک 01 پروفیسر ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر دو 02 اسسٹنٹ پروفیسر دو 02 لیکچرار اور چاروں کلینیکل انسٹرکٹر یا جونیئر لیکچرار یا ڈیمونسٹریٹر کی فیکلٹی ہونا ضروری ہے
اور الائیڈ ھیلتھ پروفیشنل کونسل کے اپوئینٹمنٹ پروموشن پالیسی کے مطابق :
جونیئر لیکچرار/ ڈیمونسٹریٹر/ کلینیکل انسٹرکٹر کے لئے تعلیمی قابلیت بی ایس /ڈی پی ٹی ڈگری متعلقہ شعبہ میں اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل سے رجسٹریشن لازمی ہے
اور
باقی نیچے دی گئی پوزیشنوں کی
تعلیمی قابلیت ایم ایس / ایم فل یا پی ایچ ڈی ڈگری متعلقہ شعبہ جات میں اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل میں رجسٹریشن لازمی ہے ہیں
-لیکچرار
-اسسٹنٹ پروفیسر
-ایسوسی ایٹ پروفیسر
-پروفیسر

خوشخبری الائیڈ ھیلتھ پروفیشنل کونسل آف پاکستان نے ملک بھر کے لئے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے یکساں سروس اسٹرکچر بنانے کے ل...
18/09/2026

خوشخبری
الائیڈ ھیلتھ پروفیشنل کونسل آف پاکستان نے ملک بھر کے لئے الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کے یکساں سروس اسٹرکچر بنانے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی

بڑا کٹھن ہے راستہ، جو آ سکو تو ساتھ دویہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو۔ہزار امتحاں یہاں، ہزار آزمائشیں، ہزار دکھ،ہزا...
11/08/2026

بڑا کٹھن ہے راستہ، جو آ سکو تو ساتھ دو
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو۔

ہزار امتحاں یہاں، ہزار آزمائشیں، ہزار دکھ،
ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو۔۔۔

نام نہاد آزاد جموں و کشمیر میں عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، مگر ان کے پُرامن احتجاج کا جواب طاقت، تشدد اور خوف کی صورت میں دیا جا رہا ہے۔

اپنی بنیادی ضروریات، روٹی، روزگار، تعلیم، علاج اور اپنے وسائل پر حق مانگنے والے عوام پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا، گولیاں چلائی گئیں اور بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کے زخم اور جدائی کا دکھ برداشت کرنا پڑا۔ ہزاروں نوجوانوں کے زخمی ہونے اور سینکڑوں افراد کے جان سے ہاتھ دھونے کی اطلاعات نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

مصنوعی مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور عوامی وسائل پر چند طبقات کے غلبے نے لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ذرائعِ مواصلات کی بندش اور مبینہ بلیک آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے عام شہری اپنے عزیزوں، دنیا اور ضروری معلومات سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

یہ کسی ایک فرد، جماعت یا گروہ کا مسئلہ نہیں؛ یہ عوام کے بنیادی حقوق کا سوال ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:

ظلم و تشدد فوری طور پر بند کیا جائے۔
پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال ختم کیا جائے۔
ہر شہری کو تعلیم، علاج اور باعزت روزگار کا حق دیا جائے۔
حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کو تسلیم کیا جائے۔
جعل سازی، کرپشن اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جائے۔
میرٹ بحال کیا جائے اور نوجوانوں کو ان کا جائز حق دیا جائے۔
تمام واقعات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
زخمیوں کو فوری اور بلاامتیاز علاج فراہم کیا جائے۔
متاثرہ خاندانوں کو انصاف اور داد رسی دی جائے۔
ذرائعِ مواصلات بحال کیے جائیں اور عوام کو معلومات تک آزادانہ رسائی دی جائے۔

کشمیر کے عوام دشمن نہیں، اپنے حقوق کے طلبگار ہیں۔
ان کے سوال کا جواب گولی نہیں، انصاف ہونا چاہیے۔
ان کی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جانا چاہیے۔

آج ضرورت نفرت کی نہیں، انصاف کی ہے؛
تصادم کی نہیں، مکالمے کی ہے؛
خاموشی کی نہیں، حق کی آواز بلند کرنے کی ہے۔

کشمیری عوام پر ظلم و ستم بند کرو۔
عوام کو ان کے بنیادی حقوق دو۔
انصاف دو، روزگار دو، تعلیم دو، علاج دو۔
حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی دو۔

بڑا کٹھن ہے راستہ، جو آ سکو تو ساتھ دو؛
یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو۔

ظلم کے خلاف، انسانیت کے حق میں
پُرامن آواز بلند کرتے رہیں۔

Address

Rawalakot City
Rawala Kot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Private Health Employees Kotli ,PHE posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share