Herbal Guru

Herbal Guru Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Herbal Guru, Medical and health, .

خواتین کے کولہے (hip )کیوں بڑھتے ہیں100‏ میں سے 85 فیصد خواتین کے ساتھ یہ مسلہ ہوتا ہے ان کے وزن کے ساتھ ساتھ ان کے یعنی...
03/07/2025

خواتین کے کولہے (hip )کیوں بڑھتے ہیں

100‏ میں سے 85 فیصد خواتین کے ساتھ یہ مسلہ ہوتا ہے ان کے وزن کے ساتھ ساتھ ان کے یعنی کولہے یا بیک سائیڈ کا سائز بڑھ جاتا ہے آج کا اس معاشرے میں اس چیز کو دلکش اور پر کشش کہا جاتا ہے لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ خواتین میں یہ بیماری ایک خاص وجہ سے ہوتی ہے جو پہلے تو کچھ سالوں تک کوئی نقصان نہیں دیتی لیکن جونہی عمر بڑھ جاتی ہے اور جوانی ختم ہونے لگتی ہے تو آہستہ آہستہ اپنا رنگ دیکھنا شروع کر دیتی ہے وزن بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ان کے ٹانگوں اور گھٹنوں میں ہر وقت درد رہتا ہے ان کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اکثر خواتین پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتیں اگر وہ لمبا سفر کرتی ہیں تو ان کی ٹانگیں درد سے بحال ہو جاتی ہیں ان کو کام کاج میں بھی مشکل آتی ہے کچھ خواتین تو بالکل ہی چار پائی پر آ جاتی ہیں یعنی ہی چلنے پھرنے سے رہ جاتی ہیں لڑکیوں کا یہ مسلہ زیادہ بیٹھنے یا لیٹنے اور ذیادہ ہمبستری کرنے سے یا گھی اور آئل وغیرہ میں تلی ہوئی چیزوں کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے بیک سائیڈ یعنی کولہے بڑھ جاتی ہے ان چیزوں سے پٹھوں میں ہوا پڑ جاتی ہے اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں ان میں سوزش ہونے لگتی ہے وزن اور سائز بھی ذیادہ ہونے لگتا ہے لڑکیوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ کافی دیر تک ٹی وی بیٹھ کر دیکھتی ہیں، یا سوتی رہتی ہیں کوئی کام یا ایکسر سائز نہیں کرتیں بیٹھ بیٹھ کر ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور کولہوں کاسائز بڑھ جاتا ہے اس مسلہ سے بچنے کیلۓ خواتین روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کریں اور کام کاج میں ذیادہ ٹائم گزاریں آئل اور تلی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں پٹھوں کو طاقت دینے والی چیزوں کا استعمال کریں۔
ھوالشافی
‏*
اجوائن کے پتے 100 گرام
‏*
لاکھ دانہ 100 گرام
‏*
کلونجی 100 گرام
‏*
کالا ذیرہ 100 گرام
‏*
ان تمام ایشاء کا سفوف بنا لیں صبح نہار منہ ایک چاۓ والا چمچ تازہ پانی سے لیں۔
゚viralシ

                    ﻋﺎﻗﺮﻗﺮﺣﺎ، ﻋﻘﺮﻗﺮﺣﺎ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ(Pyrethrum Radix) (PellitoryRoot)ﺩﯾﮕﺮﻧﺎﻡ : ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺦ ﻃﺮﺧﻮﻥ ﺑﻨﮕﻠﮧﻣﯿﮟ  ﺍ...
19/03/2025



ﻋﺎﻗﺮﻗﺮﺣﺎ، ﻋﻘﺮﻗﺮﺣﺎ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ
(Pyrethrum Radix) (Pellitory
Root)
ﺩﯾﮕﺮﻧﺎﻡ : ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺦ ﻃﺮﺧﻮﻥ ﺑﻨﮕﻠﮧ
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﻮﺭﺍ، ﮨﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﮐﺮﮦ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻠﯽ ﭨﻮﺭﯼ ﺭﻭﭦ ﻻﻃﯿﻨﯽ
ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﺮﯼ ﺗﮭﺮﻡ ﺭﯼ ﮈﮐﺲ
ﻣﺎﮨﯿﺖ : ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭘﻮﺩﮮ ﺑﺮﺳﺎﺕ
ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ
ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺷﺎﺧﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﺎﺑﻮﻧﮧ ﮐﯽ
ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻣﮕﺮﺍﺳﮑﮯ ﺯﻧﭩﮭﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﻠﮯ
ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻨﺎ ﺍﻭﺭﺷﺎﺧﯿﮟ ﺭﻭﺋﯿﮟ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﮍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ
ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ﺟﮍ ﺩﻭ ﺍﻧﭻ ﺳﮯ ﭼﺎﺭ
ﺍﻧﭻ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﺎ ﭘﻮﻥ ﺍﻧﭻ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﺟﮍ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻭﺍ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
ﭘﮭﻮﻝ ﺳﻔﯿﺪ ﯼ ﻣﺎﺋﻞ ﺯﺭﺩ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔
ﺍﻋﻠﯽٰ عقرقرحا ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﭘﺮ
ﺍﻧﺪﺭﺳﮯﺳﻔﯿﺪ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯﺯﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭﻣﻨﮧ ﻣﯿﮟ
ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﮧ
ﻣﯿﮟ ﺭﺍﻝ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ
ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ منہ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﺍﻭﺭ
ﺻﺎﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﻘﺎﻡ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ : ﺷﻤﺎﻟﯽ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ،ﺷﺎﻡ
‏(ﻣﺼﺮ ‏) ﺍﻟﺠﯿﺮﯾﺎ ‏(ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ‏) ﯾﻮﻧﺎﻥ ﻭﻏﯿﺮ
ﻣﺰﺍﺝ : ﮔﺮﻡ ﺧﺸﮏ ﺩﺭﺟﮧ ﺳﻮﻡ
ﺍﻓﻌﺎﻝ : ﻣﺨﺪﺭ ﺧﻔﯿﻒ ﻣﻔﺘﺢ ﺳﺪﺩ ،ﻣﻨﻘﯽ
ﺩﻣﺎﻍ ،ﻣﻨﻘﯽ ﺑﻠﻐﻢ ،ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ
ﮐﻼ ًﻭﻃﻼً ﻣﺪﺭﻟﻌﺎﺏ ﺩﮨﻦ ﻣﺪﺭﺣﯿﺾ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ : ﻣﻨﻘﯽ ﻓﻀﻮﻝ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﻘﯽ
ﺑﻠﻐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﺑﺎﺭﺩﮦ
ﺑﻠﻐﻤﯿﮧ ﻣﺜﻼًﻟﻘﻮﮦ ﻓﺎﻟﺞ ﺍﺳﺘﺮﺧﺎﺭﻋﺸﮧ ﮐﺰﺍﺯ
ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺍﻉ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ
ﻣﻌﺎﺟﯿﻦ ﻭﺣﺒﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ
ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮩﺪ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺷﮩﺪ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ
ﺍﺳﺘﺮﺧﺎﺋﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﻟﮑﻨﺖ ﻭﺟﺘﮧ ﺍﻟﺼﻮﺕ ﺑﻠﻐﻤﯽ
ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺲ ﮐﺮﺯﺑﺎﻥ ﻭﺣﻠﻖ ﭘﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭﮐﻢ ﻣﻘﺪﺍﺭﻣﯿﮟ ﮐﮭﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺳﺮﺩ ﻣﺰﺍﺝ
ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ ﮨﮯ۔ﺣﯿﺾ ﮐﻮ
ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ
ﺑﯿﺮﻭﻧﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ : ﻣﻘﻮﯼ ﺑﺎﮦ ﻃﻼﺅﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﻔﺮﺩ ﺍًﻭر ﻣﺮﮐﺒﺎ ًﻣﺴﺘﻌﻤﻞ ﮨﮯ۔ﺑﺎﮦ ﮐﻮ ﮨﯿﺠﺎﻥ ﻣﯿﮟ
ﻻﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻀﻮ ﮐﻮ ﻗﻮﯼ ﻭﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﺨﺪﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻣﺴﺎﮎ
ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ۔ﻣﺪﺭﻟﻌﺎﺏ ﺩﮨﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻔﯿﻒ ﻣﺨﺪﺭ
ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﺍﻧﺖ ﮐﮯ ﺩﺭﺩ
ﺍﺳﺘﺮﺧﺎ ﺋﮯ ﻟﮩﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻨﺎﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﻄﻮﺭ
ﺳﻨﻮﻥ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ
ﻣﺎﻭﻑ ﺩﺍﻧﺖ ﭘﺮ ﻋﺎﻗﺮ ﻗﺮﺣﺎ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺭﮐﮫ
ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﺑﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﻌﺎﺏ ﺑﮩﮧ ﮐﺮﺗﮭﻮﮌﯼ
ﺩﯾﺮﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩﺳﺎﮐﻦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎﮨﮯ۔ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺎﺅﮞ ﯾﺎ
ﮐﺴﯽ ﺩﯾﮕﺮﻋﻀﻮ ﮐﻮ ﮔﺮﻣﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻧﮯ
ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺧﺸﮏ ﺑﺎﺭﯾﮏ ﭘﯿﺲ ﮐﺮ ﯾﺎ
ﺭﻭﻏﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻼﮐﺮ ﻣﺎﻟﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﻔﻊ ﺧﺎﺹ : ﻣﻨﻘﯽ ﺩﻣﺎﻍ ،ﻣﻨﻘﯽ ﺑﻠﻐﻢ
ﻣﻀﺮ : ﭘﮭﯿﭙﮭﮍﮮ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﻣﺼﻠﺢ : ﮐﺘﯿﺮﺍ
ﺑﺪﻝ : ﺩﺍﺭ ﻓﻠﻔﻞ
ﻣﻘﺪﺍﺭﺧﻮﺭﺍﮎ :
ﺍﯾﮏ ﮔﺮﺍﻡ
ﺗﺎﺛﺮﯼ ﻋﻤﺮ : ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺳﺎﺕ ﺳﺎﻝ
ﺗﮏ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ
ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ : ﻋﺎﻗﺮﻗﺮﺣﺎ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﭘﺮﺍﻧﯽ
ﺁﯾﻮﺭﺩﯾﺪﮎ ﮐﺘﺐ ﺷﺸﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﮎ ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﺸﮩﻮﺭﻣﺮﮐﺐ : ﺳﻨﻮﻥ ﺧﺎﺹ۔ﺳﻨﻮﻥ ﻣﺠﻠﯽ
ﺩﻧﺪﺍﻥ

              مغز بنولہ ایک قسم کا قدرتی بیج ہے جو کہ پائن درخت کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بیج غذائیت سے بھرپور او...
18/03/2025



مغز بنولہ ایک قسم کا قدرتی بیج ہے جو کہ پائن درخت کے بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ بیج غذائیت سے بھرپور اور کئی صحت کے فوائد فراہم کرتا ہے۔ اس کا سائنسی نام Pinus ہے اور اسے "Pine Seed" یا "Pine Nut" بھی کہا جاتا ہے۔

مغز بنولہ کے فوائد:
دل کی صحت:

مغز بنولہ میں unsaturated fats (غیر مضر چکنائیاں) کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔
یہ خون کی روانی کو بہتر بناتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
معدنیات اور وٹامنز کا اچھا ذریعہ:

مغز بنولہ میں وٹامن E، وٹامن K، اور اہم معدنیات جیسے میگنیشیم، زنک اور آئرن کی وافر مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم کی مجموعی صحت کے لیے ضروری ہیں۔
یہ بیج جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے اور جسمانی تھکاوٹ کو دور کرتا ہے۔
وزن کم کرنے میں مدد:

مغز بنولہ میں موجود پروٹین اور فائبر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ لمبے عرصے تک پیٹ کو بھرا رکھتا ہے اور بھوک کو کم کرتا ہے، جو وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اس کا استعمال صحت مند وزن کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
ہاضمے کی صحت:

مغز بنولہ میں فائبر کی زیادہ مقدار ہے، جو ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور قبض کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔
توانائی اور جسمانی طاقت:

مغز بنولہ میں موجود توانائی بخش اجزاء جیسے پروٹین اور صحت بخش چکنائیاں جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور پٹھوں کی طاقت بڑھاتے ہیں۔
یہ بیج ورزش کرنے والوں کے لیے بھی فائدہ مند ہیں کیونکہ یہ جسم کی طاقت کو بڑھاتا ہے۔
جلد کی صحت:

مغز بنولہ میں موجود وٹامن E اور اینٹی آکسیڈنٹس جلد کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جھریوں کو کم کرتے ہیں اور جلد کو نرم و ملائم بناتے ہیں۔
دماغی صحت:

مغز بنولہ میں Omega-3 fatty acids موجود ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔
یہ یادداشت کو بہتر بناتا ہے اور ذہنی تناؤ کو کم کرتا ہے۔
مغز بنولہ کا استعمال:
سیدھا کھانا:

مغز بنولہ کو براہ راست کھایا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ہلکا اور خوش ذائقہ ناشتہ یا اسنیک بنتا ہے۔
اسے مکس چٹنیوں یا سالاد میں ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔
اسموتھی یا جوس میں:

مغز بنولہ کو اسموتھیز یا جوس میں ملا کر پیا جا سکتا ہے، جو کہ مزید غذائیت فراہم کرتا ہے۔
پکانے میں استعمال:

آپ اسے مختلف پکوانوں، جیسے پاستا، سوپ، اور کیک میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔
اس کا استعمال بعض مشہور میٹھوں جیسے پائ یا میٹھے پکوان میں بھی کیا جاتا ہے۔
پکانے کا تیل:

مغز بنولہ کے تیل کا استعمال بھی کھانا پکانے میں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں صحت مند چکنائیاں پائی جاتی ہیں۔
پاؤڈر کی شکل میں:

مغز بنولہ کو پیس کر پاؤڈر کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جو دودھ یا پانی میں ملا کر پیا جا سکتا ہے۔
احتیاطی تدابیر:
مغز بنولہ کو زیادہ مقدار میں نہ کھائیں کیونکہ یہ بہت زیادہ کیلوریز فراہم کرتا ہے، جو وزن بڑھا سکتا ہے۔
اگر آپ کو گری دار میوے سے الرجی ہے تو مغز بنولہ کا استعمال احتیاط سے کریں

                  حکیم اجمل خاندمہ کا علاج 1911ءمیں حکیم اجمل خان یورپ گئے۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یورپی ممالک...
18/03/2025


حکیم اجمل خان
دمہ کا علاج
1911ءمیں حکیم اجمل خان یورپ گئے۔ اس سفر کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یورپی ممالک میں طبی ترقیوں کا مطالعہ کر کے اس کی روشنی میں ہندوستان میں طب یونانی کے فروغ کے لئے کام کیا جائے۔ لندن پہنچ کر وہ چیئرنگ کراس ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر سٹینلے بائڈ، لندن کے چیئرنگ کراس ہسپتال کے سینئر سرجن تھے۔ تشخیص مرض اور فن سرجری دونوں میں ان کا اپنا مقام تھا۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری وہاں ہاﺅس سرجن تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے حکیم اجمل خاں کا ڈاکٹر بائڈ سے تعارف کرایا۔ ڈاکٹر بائڈ کی دعوت پر حکیم صاحب ان کی کلینیکل سرجری کی کلاس میں بھی گئے۔ یہ کلاس طلباءکی عملی تعلیم کے لئے تھی اور ہفتہ میں دو بار ہسپتال کے کسی نہ کسی وارڈ میں ہوا کرتی تھی۔ جب حکیم صاحب کلاس میں پہنچے تو ڈاکٹر بائڈ ایک مریض کے مرض کے بارے میں طلباءکو سمجھا رہے تھے۔ ان کی رائے میں مرض کی وجہ پتہ پرورم تھا۔ انہوں نے حکیم صاحب سے کہا کہ وہ بھی مریض کا معائنہ کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ معائنے کے بعد حکیم صاحب نے کہا کہ مریض کی آنتوں کے ابتدائی حصے پر پرانا زخم ہے، جس کے باعث داد کی تکلیف، یرقان اور حرارت ہے۔ ڈاکٹر بائڈ نے ان سے کہا کہ کل اس مریض کا آپریشن ہو گا، آپ ضرور آیئے۔ پھر ہنس کر بولے: یہ طب یونانی اور انگریزی طب کا امتحان ہے۔ دوسرے روز مریض کا پیٹ چاک کرنے پر حکیم صاحب کی تشخیص صحیح نکلی۔ ڈاکٹر بائڈ نے نہایت خوش دلی سے حکیم صاحب کو ان کی صحیح تشخیص پر نہ صرف مبارک باد دی، بلکہ انہیں اور ڈاکٹر مختار انصاری کو اپنے گھر ڈنر پر مدعو کیا۔ وہاں ڈاکٹر بائڈ نے اپنی بیوی سے، جو خود بھی سینئر سرجن تھیں، حکیم اجمل خاں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں ڈاکٹر انصاری کے ہم وطن، جنہوں نے تشخیص کے مقابلے میں مجھے شکست دی ہے!

پیرس میں وہ ایک ڈاکٹر سے ملے۔ تعارف ہونے پر اس نے بڑی حقارت سے کہا کہ جس طب میں تشخیص کا سب سے بڑا ذریعہ صرف نبض ہو وہ کیا طب ہو سکتی ہے۔ پھر زور دے کر کہا کہ اگر آپ کو اپنی تشخیص پر اتنا ہی اعتماد ہے، تو ذرا میرے ایک مریض کو دیکھئے، چنانچہ دوسرے روز ایک مریضہ حکیم صاحب کے ہوٹل میں لائی گئی۔ اسے ایک سال سے یہ شکایت تھی کہ اس کی ٹانگیں سکڑ گئی تھیں اور پیٹ میں درد ہوا کرتا تھا۔ ایکسرے اور دوسرے ذرائع تشخیص مرض کا پتہ لگانے میں ناکام ہو چکے تھے۔کسی ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ مرض کیا ہے۔ تشخیص مرض کے لئے حکیم صاحب نے اس خاتون سے بہت سے سوال کئے، تو معلوم ہوا کہ و ہ ٹینس بہت کھیلا کرتی تھی اور اسے گھڑ سواری کا بھی بہت شوق تھا۔ حکیم صاحب نے سوچ بچار کے بعد اسے ایک پڑیا میں دوائی دی اور کہا کہ وہ اسے 1/4 رتی روزانہ مکھن میں ملا کر کھائے۔ فرانسیسی خاتون اس ذرا سی پڑیا اور دوائی کی مقدار پر بے حد حیران ہوئی، لیکن پندرہ روز بعد وہ اپنے پاﺅں پر چل کر اُن کے پاس آئی، حالانکہ آٹھ مہینے سے وہ اس قابل نہیں تھی۔

حکیم صاحب نے بتایا کہ یہ کوئی معجزہ نہیں تھا۔ میرے ذہن میں یہ آیا کہ کیونکہ مریضہ ٹینس کھیلتی اور گھڑ سواری کرتی تھی، اس لئے ممکن ہے کہ اس کی کسی آنت میں کسی جھٹکے کی وجہ سے گرہ پڑ گئی ہو۔ ایسے مریض میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا، اس لئے مَیں نے اسے ایسی دوائی دی جو آنتوں میں کھجلی پیدا کرے۔ وہ دوا بہترین ثابت ہوئی۔ آنت کی گرہ کھل گئی اور متعلقہ اعضا اپنا کام کرنے لگے۔ اس علاج سے وہ فرانسیسی ڈاکٹر اتنا متاثر ہوا کہ حکیم صاحب سے گھنٹوں طب یونانی کے بارے میں گفتگو کرتا رہا۔ اس نے ان کے اعزاز میں ایک ڈنر بھی دیا، جس میں پیرس کے بڑے بڑے ڈاکٹر شریک ہوئے۔ یہ تھے حکیم اجمل خاں۔ طب یونانی میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا ہوا ہے۔ آج بھی پاکستان میں ہر جگہ ”دوا خانہ حکیم اجمل خاں“ احترام کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
حکیم صاحب کی شہرت ایسی تھی کہ سمر قند و بخارا تک کے لوگ علاج کے لئے آتے اور شفا یاب ہو کر جاتے تھے۔ غریب امیر سب کو یکساں توجہ سے دیکھتے اور بغیر کسی فیس کے۔حکیم صاحب کے مزاج میں کچھ شوخی بھی تھی۔ ایک بار ایک شخص دمہ سے ہانپتا کانپتا آیا۔ جیب سے پڑیا نکالی اور بولا:حکیم صاحب، میرے ساتھ بہت ہو گئی۔ آج میں سنکھیا کھاﺅں گا اور اس در پہ جان دے دوں گا۔ شوخی سے بولے: سنکھیا کھا کے کیوں مرتا ہے۔ مرنا ہی ہے تو دوا کھا کے مر.... پھر اس کا علاج کیا اور اس کا دمہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Herbal Guru posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Health & Beauty Business?

Share