26/06/2026
متبادل یا مساوی ادویہ
ہر جینرک دوا سچی جنیرک نہیں ۔
کیمیکل ایک ، فارمولا بظاہر ایک ، مگر یہ وعدہ ہمیشہ یکساں نتائج کی ضمانت نہیں بنتا ۔۔ سوچ سمجھ کر مشورہ دیں اور دعویٰ کریں ۔ آپ کیا جانتے ہیں؟ اور کیا نہیں جانتے؟ کیا کیا معلوم ہے؟ اور کیا کیا نامعلوم ہے؟ جو آپ جانتے ہیں وہ کیسے جانتے ہیں؟ "کیسے" جاننے کا طریقہ کیا قابل اعتماد ہے؟ اور کتنا قابل اعتماد ہے؟ جو اس موضوع پر اپ نہیں جانتے وہ کیا ہیں؟ وہسے آپ کیوں نہیں جانتے؟ کیا واقعی جو آپ جانتے ہیں وہ آپ سمجھتے بھی ہیں؟ آپکے سمجھنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور کشید کی ہوئ شواہد کی مضبوطی کا حجم کتنا ہے؟
بغیر ڈرائیونگ دیکھے کسی کو سڑک پر ڈرائیونگ کا لائسنس دینا خطرناک ہے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ غیر معیاری ڈرائیونگ کرتا ہے ، اسکو ڈرائیونگ لائسنس دینا ایک گھناؤنا جرم ہے ۔ کسی انسٹیوٹ سے جعلی ڈرائیونگ سرٹیفکیٹ کو بنیاد بناکر ڈرائیونگ لائسنس دینا کم گھناؤنا جرم نہیں ۔۔۔
ہم سب روزمرہ زندگی میں دوائیں استعمال کرتے ہیں۔ سر درد کی گولی پیراسیٹامول ہو یا تھائی رائیڈ ہارمون کی دوا تھائیرواکسن ، جب سرکار ، فارماسسٹ یا ڈاکٹر کہتے ہیں کہ یہ نئی گولی پرانی والی ہی جیسی ہے ، بس کمپنی بدلی ہے تو ہم بھروسہ کر لیتے ہیں ۔ مگر کیا یہ بھروسہ ہمیشہ درست ہوتا ہے؟ کیا واقعی یہ ادویات برابری کے معیار پر جانچی بھی گئی ہیں؟
پاکستان میں بائیو ایکویلنسی کی جانچ بہت محدود چند ایک ادویات تک ہی رہی ہے ، اس کا منظم اور جامع نفاذ ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے ہمارے یہاں بائیو ایکویلنسی کے عملی نفاذ ، نگرانی اور شفافیت پر ابھی بہت کام ہونا باقی ہے ۔ سب سے پہلے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری غفلت سنگین رہی ہے ۔ یہاں علم الادویہ سے وابستہ قد آور شخصیات کا دواؤں کی کوالٹی پر اندھا اطمینان کا مستقل جاری رویہ انتہائ پریشان کن ہے ۔ کوئ تو پوچھے کہ آپ نے کیوں اپنی دوا کو بغیر جانچے کوالٹی کا کہتے رہے ہیں ، آج بھی ایسا ہی کہتے ہیں ، کیا ایسا دعویٰ کسی مہذب معاشرے میں دیکھا یے ۔ چلیں چھوڑیں ، ذرا آگے چلتے ہیں ، ترقی یافتہ ممالک میں جہاں یہ جانچ لازمی ہوتی ہے ان کیلئے سوال اٹھاتا ہوں کہ کیا جو دوائیں اوسطاً درجن بھر صحت مند لوگوں میں برابر ثابت ہوتی ہیں ، وہ دوا ہر مریض کے جسم کے لیے بھی برابر ہوتی ہیں؟
آئیے! کچھ بنیادی باتیں سمجھتے ہیں ، فرض کریں کہ آپ نے ایک دوا 10 (دس) ملی گرام کھائ ، وہ دوا منہ سے معدے میں پہنچی ، اس سے اسکا اہم جز الگ ہوا اور وہ آنتوں سے جذب ہوکر خون کے اندر 7 (سات) ملی گرام پہنچی ، تو اسکا مطلب دوا %70 پہنچ سکی اور %30 نہیں پہنچ سکی ۔ یعنی دس لیٹر پانی لے کر نکلے ، گھر پہنچتے پہنچتے وہ 7 لیٹر تک گیا ، یعنی دوا کی بائیو اویلیبلیٹی 100 فیصد نہیں صرف 70 فیصد ہے ۔ ایک ہی دوا کئی کمپنیاں بناتی ہیں ۔ پر کا اپنا میٹریل ، اپنی ترکیب ، مختلف مشینری ، مختلف طریقہ کار ، مختلف علم ۔ پہلی دوا کو ریفرنس دوا سمجھا جاتا ہے اور بعد میں آنے والی جنیرک ادویات کو اس (ریفرنس دوا) کے ساتھ زیادہ تر صحت مند رضاکاروں کو اور بعض مخصوص حالات میں مریضوں کو کھلا کر یا لگا کر انکے خون میں پہنچنے والے مقدار ، اثر کی چھتری و رفتار کو الگ الگ ناپا جاتا ہے ، دیکھتے یہ ہیں کہ جسم کا دوا کے ساتھ رویہ کیسا رہا ، خون میں دوا کی مقدار مختلف اوقات میں باقاعدہ ناپی جاتی ہے جس سے جذب ہونے کی رفتار اور مقدار کا موازنہ کیا جاتا ہے ۔ پھر دونوں ادویات کے نتائج کا آپس میں براہ راست موازنہ کیا جاتا ہے ۔ اگر دونوں ادویات کی بائیو اویلیبلیٹی قریب قریب (کچھ ویلیوز متفقہ طور پر طے کی ہوئ ہیں) ہو تو انھیں مساوی ادویات سمجھا جاتا ہے ۔
یاد رکھیے! کہ معمولی سی تبدیلی نتائج تبدیل کر دیتی ہیں ۔ بعض ادویات میں نتائج کی بڑی تبدیلی بھی نقصان نہیں پہنچاتی اور بعض میں معمولی تبدیلی بھی کسی کیلئے جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے ۔ احتیاط سے ، الگ الگ ، بہت احتیاط سے سمجھیں ۔ چلیں مثال دیتا ہوں ، یہ یورپ کا طاقتور ملک ہے 2017 میں لاکھوں لوگ لیووتھائیروکسن (تھائی رائیڈ کی دوا) استعمال کر رہے تھے ۔ شمالی امریکہ سے تعلق رکھنے والی ادویہ ساز کمپنی نے ترکیب (فارمولیشن) بدلی تاکہ دوا زیادہ مستحکم رہے ۔ 204 صحت مند رضاکاروں پر بائیو ایکویلنسی کی جانچ کی گئی ، ٹیسٹ مطلوبہ معیار پر پاس ہو گیا ۔ مگر حقیقی مریضوں میں 31,000 سے زائد شکایات آئیں ، سر درد ، چکر ، تھکاوٹ ، نیند نہ آنا ۔ کیونکہ فارمیسی نے مریضوں کو بغیر بتائے دوا تبدیل کر دی تھی ۔ کمپنی اور ریگولیٹرز کو جب بتایا گیا تو انھوں نے ذہنی اختراع (نوسیبو اثر) کہا ۔ اعتماد تو ٹوٹنا تھا اور اعتماد ٹوٹ گیا کیونکہ بعد کے مطالعات میں یہ امکان سامنے آیا کہ اگرچہ اوسط نتائج بائیو ایکویلنسی کے معیار پر پورے اترتے تھے لیکن بعض مریضوں میں خون میں دوا کی دستیابی میں انفرادی سطح پر قابلِ ذکر فرق دیکھا گیا ۔ کئی مثال میرے آنکھوں کے سامنے گھوم رہی ہے ۔ کوئ پوچھے تو مزید شئیر کروں گا ۔۔۔ دوا کا کام اوسط انسان کے لیے نہیں ، آپ کے جسم کے لیے ہونا چاہیے ۔ بائیو ایکویلنسی ایک اچھا معیار ہے مگر اسے مریض کی خودمختاری کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے ۔ شفافیت ، بہتر معلومات ، مضبوط نگرانی اور انفرادی توجہ سے ہم اعتماد بحال کر سکتے ہیں ۔
تحریر کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ تمام ادویات یکساں حساس نہیں ہوتیں ۔ بعض ادویات ایسی ہیں جن میں بڑا فرق بھی کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں کرتا لیکن کچھ ادویات ایسی بھی ہیں جن میں خون میں دوا کی مقدار کا بہت معمولی سا اتار چڑھاؤ بھی مریض کی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے ۔ فرق اتنا ہی ہے جتنا روئی کو لیکر بھیڑ میں چلنے اور ننگی دھار والا چاقو چھریاں ہجوم میں لیکر چلنے میں ہوتا ہے ۔ بائیو ایکویلنسی ایک اہم سائنسی معیار ہے مگر یہ کسی دوا کی کہانی کا آخری باب نہیں ۔ نا ہی ایک بار کرکے سویا جاسکتا ہے یا ہمیشہ کیلئے اعتماد رکھا جاسکتا ہے ۔ بعض حساس ادویات میں اوسط نتائج کے ساتھ ساتھ مریض کی انفرادی کیفیت ، مسلسل نگرانی، شفاف معلومات اور معالج کی پیشہ ورانہ بصیرت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے ۔ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی قدر نہیں ، اسی لیے ہر وہ قدم جو دوا پر اعتماد کو مضبوط بنائے درحقیقت ہم پیشہ ور ادویہ سازوں پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے ۔
مضمون ڈاکٹرز ، فارماسسٹ اور خصوصی عام قاری کی آگاہی کیلئے تحریر کیا گیا ہے ۔ سوالات کا خیر مقدم کروں گا ۔
خیراندیش
عبید علی ۔ 26 جون 2026