07/06/2026
سپورٹ سٹاف کی قربانی اور انسانیت کی روشن مثال
کوئٹہ کے سول اسپتال میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ایک طرف انسانی درندگی کی عکاسی کرتا ہے تو دوسری طرف انسانیت، ہمدردی اور فرض شناسی کی ایسی مثال بھی سامنے لاتا ہے جس پر پورا معاشرہ فخر کر سکتا ہے۔
وارڈ بوائے عبدالرزاق نے اُس نازک اور خوفناک لمحے میں جس جرات، بہادری اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔ جب ایک خاتون ڈاکٹر تیزاب حملے کا شکار ہوئیں اور شدید تکلیف میں تھیں، تو عبدالرزاق نے اپنی جان اور سلامتی کی پروا کیے بغیر فوراً ان کی مدد کے لیے قدم بڑھایا۔ انہوں نے انسانی ہمدردی اور عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اپنی قمیض اتار کر متاثرہ ڈاکٹر کو ڈھانپ دیا اور انہیں مزید نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
اس عمل کے دوران وہ خود بھی تیزاب کے اثرات سے زخمی ہوئے، مگر انہوں نے اپنی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے متاثرہ خاتون کی جان اور عزت کی حفاظت کو ترجیح دی۔ یہ صرف ایک ملازم کا فرض ادا کرنا نہیں تھا بلکہ انسانیت کی اعلیٰ ترین اقدار کی عملی تصویر تھی۔
عبدالرزاق کی یہ قربانی درحقیقت پورے سپورٹ سٹاف کی نمائندگی کرتی ہے، جو دن رات ہسپتالوں میں خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مریضوں کی خدمت، صفائی، دیکھ بھال اور ہنگامی حالات میں ہر وقت صفِ اول میں موجود ہوتے ہیں، مگر اکثر ان کی خدمات منظر عام پر نہیں آتیں۔
آج عبدالرزاق نے ثابت کر دیا کہ انسانیت، جذبۂ خدمت اور ایثار کسی عہدے یا منصب کے محتاج نہیں ہوتے۔ ان کی بہادری، قربانی اور فرض شناسی قابلِ تقلید ہے اور پوری طبی برادری سمیت معاشرے کے ہر فرد کو ایسے گمنام ہیروز پر فخر ہونا چاہیے۔
عبدالرزاق اور تمام سپورٹ سٹاف کو ان کی بے لوث خدمات، قربانیوں اور انسان دوستی پر سلام اور خراجِ تحسین۔
اللہ تعالیٰ عبدالرزاق صاحب کو مکمل صحت عطا فرمائے اور انہیں اس نیکی اور بہادری کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
ملک خرم حیات چھبورا و
سپورٹ سٹاف ڈی ایچ کیو ہسپتال بھکر