11/09/2026
وقت خاموش تھا، ہوا کے سارے ترانے تھے
دل میں چھپے ہوئے کچھ درد کے فسانے تھے
سُر کوئی چھیڑوں، کوئی دُھن بناؤں میں
تیرے سامنے دل کے راز سنانے تھے
تیری آنکھیں بھی کبھی نم ہو جائیں
ایسے کچھ میرے دل کے افسانے تھے
ہم نے لفظوں میں کہا حالِ دل اپنا
ورنہ آنکھوں میں کئی قصے پرانے تھے
تُو نے پوچھا بھی نہیں دل کی کیفیت
ہم بھی خاموش رہے، غم بھی بہانے تھے
اب جو بچھڑے ہیں تو احساس ہوا اطہر
کچھ تعلق بھی فقط وقت کے بہانے تھے