Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani

Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani, Medical and health, Model Town, Lahore.

A Professor, clinician, researcher, and mentor in Rehabilitation Sciences and Physical Therapy with expertise in physiotherapy, research, healthcare innovation, academic leadership, education, and patient-centered care, dedicated to quality learning.

05/06/2026

Gillani Physio & Joint Care Model Town Lahore

19/04/2026

کیا آپ کو بھی کمر میں شدید درد یا ٹانگوں میں سنہراہٹ محسوس ہوتی ہے؟
In this video, Gillani Physio explains what actually happens when you have a "Bulging Disc" and how it affects your nerves. Understanding the cause is the first step to recovery without surgery!

14/01/2026

جب بڑی طاقتیں ٹکراتی ہیں، قیمت ہمیشہ چھوٹے ممالک ادا کرتے ہیں۔

14/01/2026

“امریکہ نواز ایران” ایک سیاسی خواب ہے، زمینی حقیقت نہیں۔

کامیاب زندگی کا اسلامی ماڈل: مثالی مسلمان شخصیتکیا آج کے دور میں ایک مثالی مسلمان ہونا ممکن ہے؟جب دنیا صرف کامیابی کو مق...
13/01/2026

کامیاب زندگی کا اسلامی ماڈل: مثالی مسلمان شخصیت
کیا آج کے دور میں ایک مثالی مسلمان ہونا ممکن ہے؟
جب دنیا صرف کامیابی کو مقصد سمجھتی ہو، اسلام ہمیں کردار، خدمت اور توازن سکھاتا ہے۔انسان کی شخصیت اس کی سوچ، عمل اور کردار سے بنتی ہے، اور ایک مضبوط اور متوازن شخصیت زندگی میں کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ زندگی فراہم کرتا ہے، جس میں اخلاق، علم، عمل اور روحانیت کا توازن موجود ہے۔ ایک مثالی مسلمان شخصیت وہ ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے آپ میں مضبوط اور ذمہ دار ہو بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند اور مثال قائم کرنے والا ہو۔
مثالی مسلمان کی سب سے بڑی خوبی اس کا ایمان اور اخلاق ہے۔ وہ سچ بولتا ہے، وعدے پورے کرتا ہے اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔ اس کی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال ہمیشہ رہتا ہے اور وہ کسی بھی موقع پر ظلم یا زیادتی کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کے اعمال اس کے اخلاق کی عکاسی کرتے ہیں، اور لوگ اس کی شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں۔
ایک مثالی مسلمان شخصیت میں علم اور عقل کا امتزاج بھی ضروری ہے۔ وہ نہ صرف دینی تعلیمات سے واقف ہوتا ہے بلکہ دنیاوی علم سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔ وہ فیصلہ کرتے وقت صرف جذبات یا رائے کی بنیاد پر نہیں بلکہ علم اور تجربے کی روشنی میں عمل کرتا ہے۔ یہی علم اسے صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتا ہے اور معاشرے میں رہنمائی کرنے کے قابل بناتا ہے۔
عمل بھی مثالی مسلمان شخصیت کا لازمی جزو ہے۔ وہ اپنی محنت اور کوشش سے زندگی میں آگے بڑھتا ہے اور دوسروں کے لیے مددگار بنتا ہے۔ وہ کسی کام کو چھوڑنے یا چھوٹے راستے اختیار کرنے کے بجائے صبر اور استقامت کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اور ہمت اسے مضبوط اور بااعتماد بناتی ہے۔
روحانیت اور خدا سے تعلق بھی ایک مثالی مسلمان کے کردار میں نمایاں ہوتا ہے۔ وہ اپنی عبادات اور ذاتی تعلق کے ذریعے اپنے دل و دماغ کو صاف اور پرامن رکھتا ہے۔ یہ روحانی طاقت اسے زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ اور سکون فراہم کرتی ہے اور اسے دوسروں کے ساتھ محبت اور ہمدردی کے رویے اپنانے کی تربیت دیتی ہے۔
مزید برآں، ایک مثالی مسلمان شخصیت سماجی ذمہ داری کا حامل بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنے خاندان، دوستوں اور معاشرے کے لیے مثبت مثال قائم کرتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور علم کو دوسروں کی خدمت میں استعمال کرتا ہے اور معاشرتی بہتری کے لیے کام کرتا ہے۔ ایک ایسا انسان معاشرے میں امن، اتحاد اور ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔
آج کے دور میں، جب دنیا میں اخلاقی قدریں کمزور ہو رہی ہیں اور لوگ صرف اپنی فلاح و ترقی پر توجہ دے رہے ہیں، ایک مثالی مسلمان شخصیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف اپنی خوشی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ہونا ہے۔ حقیقی کامیابی اور مقام وہی حاصل کرتا ہے جو ایمان، اخلاق، علم، محنت اور خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ مثالی مسلمان شخصیت ایک مکمل اور متوازن انسان کی تصویر ہے۔ وہ ایمان، اخلاق، علم، محنت، صبر، روحانیت اور خدمت سب کو اپنی زندگی میں ایک ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ایسی شخصیت نہ صرف اپنے آپ کے لیے باعث فلاح ہے بلکہ معاشرے اور قوم کے لیے بھی مشعل راہ بنتی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی زندگی اور معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی قسم کی شخصیت کو اپنا نصابِ عمل بنانا ہوگا۔


#اخلاق
#کردار
#روحانیت





11/01/2026
طلبہ کی ذہنی صحت: یونیورسٹی کا بوجھ یا ہماری اجتماعی ذمہ داری؟ایک طالب علم کی خاموش چیخ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہ...
11/01/2026

طلبہ کی ذہنی صحت: یونیورسٹی کا بوجھ یا ہماری اجتماعی ذمہ داری؟
ایک طالب علم کی خاموش چیخ ہماری اجتماعی ذمہ داری کی عکاس ہے۔پاکستانی جامعات میں حالیہ افسوسناک واقعات نے طلبہ کی ذہنی صحت کی اہمیت کو ایک بار پھر قومی سطح پر اجاگر کیا ہے ۔ ایسے سانحات کے بعد فطری طور پر عوامی ردعمل کسی ایک ادارے یا انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرانے کی طرف مائل ہو جاتا ہے، مگر یہ طرزِ فکر نہ تو مسئلے کی جڑ تک پہنچتا ہے اور نہ ہی دیرپا حل کی بنیاد رکھتا ہے۔ یونیورسٹیاں کسی خلا میں قائم نہیں ہوتیں؛ وہ خاندان، ثقافت، ریاستی پالیسیوں اور اخلاقی اقدار کے اندر کام کرتی ہیں۔ اس لیے طلبہ کی نفسیاتی پریشانی محض تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظامی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔
جامعات انسانی ترقی، پیشہ ورانہ مہارت اور معاشرتی فلاح کے اہم ترین ستون ہوتی ہیں۔ قدیم مدارس، یونانی درسگاہوں سے لے کر جدید تحقیقی جامعات تک، اعلیٰ تعلیم نے ہمیشہ علم، اخلاقی شعور اور سماجی ترقی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ دنیا بھر کی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم روزگار کے بہتر مواقع، صحت مند زندگی، شہری شعور اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دیتی ہے۔ جامعات طلبہ کو صرف ڈگریاں نہیں دیتیں بلکہ انہیں سوچنے، سوال اٹھانے، اخلاقی فیصلے کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ جب نفسیاتی بحران یونیورسٹی میں ظاہر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی مسئلہ پیدا کرتی ہے بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں طلبہ کے ساتھ گذشتہ برسوں کے دباؤ اور غیر حل شدہ جذبات سامنے آتے ہیں۔
طلبہ میں ذہنی دباؤ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ امریکہ، یورپ، ایشیا اور مسلم دنیا کی جامعات اس چیلنج سے دوچار ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اس کی بنیادی وجوہات برسوں پر محیط سماجی، خاندانی اور معاشی دباؤ ہوتے ہیں، نہ کہ صرف یونیورسٹی کا ماحول۔ اکثر طلبہ یونیورسٹی میں داخل ہوتے وقت پہلے ہی امتحان زدہ نظام، خاندان کی غیر حقیقی توقعات، ناکامی کا خوف اور معاشی غیر یقینی صورتحال اپنے ساتھ لائے ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی وہ جگہ ہوتی ہے جہاں یہ تمام دباؤ ایک ساتھ ظاہر ہو جاتے ہیں۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بعض جامعات میں انتظامی رویے طلبہ کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ایسے تعلیمی ادارے موجود ہیں جہاں انتظامیہ تعلیم اور انسانی فلاح کے بجائے مارکیٹنگ، ریٹنگز اور منافع کو ترجیح دیتی ہے۔ جب تعلیمی قیادت میں نفسیاتی فہم اور تعلیمی بصیرت کی کمی ہو تو طلبہ کے مسائل کو ہمدردی کے بجائے سخت قوانین اور تحقیر کے ذریعے نمٹایا جاتا ہے۔ مگر ان کمزوریوں کا مطلب یہ نہیں کہ یونیورسٹی خود قصور وار ہے یا نقصان دہ ہے۔ اصل مسئلہ انتظامی اہلیت اور ادارہ جاتی مقصد کے درمیان عدم توازن ہے، جس کا حل اصلاحات میں ہے، الزام تراشی میں نہیں۔
خاندان اور ثقافت بھی اس معاملے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر بچوں کو اس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے کہ محبت اور عزت کو کامیابی سے مشروط کر دیا جاتا ہے۔ جذبات کے اظہار کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور ناکامی کو ذاتی ناکامی یا اخلاقی جرم بنا دیا جاتا ہے۔ ثقافتی سطح پر ذہنی صحت کو آج بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور نفسیاتی مدد حاصل کرنا کمزوری یا ایمان کی کمی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث طلبہ طویل عرصے تک خاموشی میں مبتلا رہتے ہیں۔ جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے تو ہم اداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی اجتماعی ذمہ داری سے فرار اختیار کر لیتے ہیں۔
ریاست کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ کوئی بھی یونیورسٹی کمزور قومی ذہنی صحت کے نظام کا متبادل نہیں بن سکتی۔ جن ممالک میں طلبہ کی ذہنی صحت بہتر ہوئی ہے وہاں ریاست نے جامع ذہنی صحت پالیسیاں، کونسلنگ اور کرائسز سسٹمز، ماہر نفسیات تک آسان رسائی اور تعلیمی نظام میں ذہنی صحت کے انضمام کو یقینی بنایا ہوتا ہے۔ پاکستان میں ان سہولیات کی کمی جامعات کو شدید دباؤ میں رکھتی ہے اور ریاستی معاونت کے بغیر اداروں سے غیر معمولی توقعات رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
اسلامی تعلیمات میں انسانی جان کا تحفظ اعلیٰ ترین مقاصد میں شامل ہے۔ رحم، عدل اور انسانی وقار کو اسلام میں بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ ذہنی اور جذباتی تکلیف کو نظر انداز نہیں کیا جاتا بلکہ ہمدردی اور فہم کے ساتھ نمٹا جاتا ہے۔ اس تناظر میں طلبہ کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا کوئی مغربی تصور نہیں بلکہ اسلامی اخلاقیات کا تقاضا ہے۔
فلسفیانہ نقطہ نظر سے بھی تعلیم کو محض معاشی پیداوار تک محدود کرنا انسانی وقار کے منافی ہے۔ تعلیم کا مقصد فکری، اخلاقی اور جذباتی لحاظ سے ایک انسان کی تکمیل ہے ۔ جب طلبہ کو صرف ڈگری حاصل کرنے والی مشینوں میں بدل دیا جائے تو نفسیاتی بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔ انسانی فلاح کو تعلیمی نظام کے مرکز میں لانا کوئی رومانوی خیال نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
جامعات کو دفاعی رویہ اختیار کرنے کے بجائے خود احتسابی اور اصلاح کی راہ اپنانی چاہیے۔ موثر کونسلنگ، اساتذہ کی تربیت، انسانی تعلیمی پالیسیاں اور مکالمے پر مبنی ماحول اس سمت میں اہم اقدامات ہیں۔ مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب خاندان، سماج اور ریاست بھی اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ یونیورسٹیاں اکیلے یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔
جب کوئی طالب علم اپنی جان گنواتا ہے تو یہ ایک فرد یا ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ناکامی ہوتی ہے۔ الزام تراشی وقتی سکون تو دے سکتی ہے مگر اصلاح کی راہ نہیں دکھاتی۔ جامعات طلبہ اور معاشرے کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یونیورسٹیاں اہم ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ نوجوان ذہنوں کے لیے وہ ہمدردی، پالیسیاں اور اخلاقی سنجیدگی فراہم کرنے کو تیار ہیں جن کے وہ حق دار ہیں؟ اگر مشترکہ ذمہ داری قبول نہ کی گئی تو کوئی ادارہ اکیلا جانوں کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر ہم سب اپنا کردار ادا کریں تو یونیورسٹیاں اپنا اصل مقصد پورا کر سکتی ہیں۔


• #جامعات



عقل اور روحانیت ساتھ چلیں تو انسان کہاں پہنچتا ہے؟ہم میں سے زیادہ تر لوگ یا تو حد سے زیادہ عقل پر چلتے ہیں یا آنکھیں بند...
10/01/2026

عقل اور روحانیت ساتھ چلیں تو انسان کہاں پہنچتا ہے؟
ہم میں سے زیادہ تر لوگ یا تو حد سے زیادہ عقل پر چلتے ہیں یا آنکھیں بند کر کے روایت کے مطابق چلتے ہیں مگر اصل راستہ کہاں ہے؟
کیا صرف عقل انسان کو کامیاب بنا سکتی ہے؟ یا روحانیت کے بغیر سب ادھورا ہے؟
انسان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کیسے اپنے علم، سوچ اور عقل کو استعمال کرے اور ساتھ ہی روحانی بصیرت اور اخلاقی رہنمائی کو بھی سمجھے۔ دنیا میں بہت سے لوگ صرف عقل پر انحصار کرتے ہیں، صرف حقائق اور تجربات کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں، اور روحانیت یا اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ دوسرے لوگ صرف مذہبی نصوص یا روایت پر یقین رکھتے ہیں اور عقل یا تجربے کو اہمیت نہیں دیتے۔ دونوں رویے اپنی جگہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقل اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کرے۔
عقل انسان کو سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ یہ اسے دنیاوی حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے اور زندگی کے عملی پہلوؤں میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بغیر عقل کے انسان دھوکہ، خوف اور الجھن میں رہ سکتا ہے۔ تاہم صرف عقل پر انحصار کرنے والا انسان اکثر اخلاقی رہنمائی اور روحانی سمت کھو دیتا ہے، اور اپنی زندگی کے مقصد سے دور ہو سکتا ہے۔
روحانی رہنمائی انسان کو اخلاق، مقصد اور اعلیٰ اصولوں کی پہچان سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو سچائی، انصاف، محبت اور قربانی کی راہ دکھاتی ہے۔ اگر انسان صرف نصوص پر عمل کرے مگر عقل کا استعمال نہ کرے، تو وہ محدود فہم، جہالت یا غیر منطقی رویے اختیار کر سکتا ہے۔ اسی لیے عقل اور روحانیت کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔
زندگی میں توازن کے لیے یہ ضروری ہے کہ عقل کو فیصلہ سازی اور تنقیدی سوچ کے لیے استعمال کیا جائے اور روحانیت کو اخلاقی رہنمائی کے لیے۔ مثال کے طور پر، ہم اپنے کاروبار یا کام میں عقل سے منصوبہ بندی کرتے ہیں، مگر فیصلوں میں ایمانداری، انصاف اور انسانیت کے اصولوں کو روحانی بصیرت سے پرکھتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم حاصل کرتے ہوئے تحقیق اور تجربے کی طاقت کو استعمال کریں، مگر سچائی اور ذمہ داری کے اصولوں کو نظر انداز نہ کریں۔
تاریخ میں ایسے بہت سے انسان اور قومیں ہیں جنہوں نے عقل اور روحانی اصولوں کو ساتھ استعمال کیا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ جو قومیں صرف عقل یا صرف روایت پر یقین رکھتی ہیں، وہ یا تو مادیت کی غلامی میں آ جاتی ہیں یا جمود کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس لیے توازن ہی انسان اور معاشرے کی کامیابی کی کلید ہے۔
آج کے دور میں یہ توازن پہلے سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور معلومات کی دنیا نے عقل کی طاقت کو بڑھا دیا ہے، لیکن روحانی اور اخلاقی رہنمائی کے بغیر انسان مایوسی، تضاد اور فکری الجھن کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر ہم عقل اور روحانیت کو ساتھ ساتھ استعمال کریں تو نہ صرف ہم بہتر فیصلے کر سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگی اور معاشرے کو مثبت سمت دے سکتے ہیں۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ عقل اور روحانیت کے درمیان توازن انسان کو مضبوط، با شعور اور بامقصد زندگی گزارنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ توازن انسان کو نہ صرف دنیاوی کامیابی دلاتا ہے بلکہ اس کے اخلاقی اور روحانی معیار کو بھی بلند کرتا ہے۔ جو شخص عقل اور روحانیت کے درمیان اس توازن کو برقرار رکھتا ہے، وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتا ہے۔









احساس کمتری ناکامی کی اصل وجہ ہوتی ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ ناکام اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے ک...
09/01/2026

احساس کمتری ناکامی کی اصل وجہ ہوتی ہے
کیا آپ جانتے ہیں کہ اکثر لوگ ناکام اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ کمزور ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ خود کو کمزور سمجھتے ہیں؟ سب سے خطرناک دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کرتی ہے۔
انسان کی زندگی میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو کس طرح سے دیکھتا ہے۔ بعض لوگ اپنے آپ کو چھوٹا، کمزور یا غیر اہم سمجھ کر زندگی گزار دیتے ہیں، اور اسی سوچ کی وجہ سے اپنے خواب، صلاحیتیں اور مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ خودی کا فنا اسی کو کہا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس، کچھ لوگ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو مقصد کے ساتھ جیتے ہیں، جسے خودی کی تصدیق یا خود کی مضبوطی کہا جا سکتا ہے ۔
خودی کا فنا انسان کو اندر سے کمزور اور خوف زدہ بنا دیتا ہے۔ وہ دوسروں کی تقلید کرتا ہے، فیصلے کرنے سے ڈرتا ہے، اور اکثر حالات کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔ ایسی سوچ انسان کو اپنے خوابوں سے دور کر دیتی ہے اور اس کے اندر چھپی صلاحیتیں کبھی ظاہر نہیں ہو پاتیں۔ یہ وہ رویہ ہے جو مایوسی اور ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان خودی کو مٹانے کی بجائے اسے پہچانے اور مضبوط کرے۔
دوسری طرف، خودی کی تصدیق انسان کو اعتماد، حوصلہ اور عمل کی طاقت دیتی ہے۔ جب انسان اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو پہچانتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے قابل ہوتا ہے۔ محنت، صبر، مستقل مزاجی اور اخلاقی اصولوں پر قائم رہنا خودی کی تصدیق کے اہم اشارے ہیں۔ ایسے لوگ مشکلات کا سامنا ڈٹ کر کرتے ہیں، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی مثبت مثال بنتے ہیں۔
یہ تصور صرف فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ عملی زندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ تاریخ میں ہر کامیاب انسان یا معاشرہ وہی رہا ہے جس نے خودی کی تصدیق کی، نہ کہ جو اپنی صلاحیتوں کو کم تر سمجھ کر حالات کے ہاتھوں خود کو شکست خوردہ بنایا۔ ہر کامیاب شخص نے اپنے اندرونی اعتماد اور خود اعتمادی کو بڑھایا اور پھر دنیا میں اپنی قابلیت کا مظاہرہ کیا۔
روزمرہ زندگی میں بھی یہی حقیقت دہرائی جاتی ہے۔ جو طالب علم اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں کرتا، وہ امتحان میں کم نمبر حاصل کرتا ہے، جبکہ جو اپنی محنت اور قابلیت پر اعتماد رکھتا ہے، وہ بہترین کارکردگی دکھاتا ہے۔ جو ملازم خود کو دوسروں سے کمتر سمجھتا ہے، وہ ترقی سے محروم رہتا ہے، جبکہ جو اپنے کام اور خود پر یقین رکھتا ہے، وہ مسلسل ترقی کرتا ہے۔ یہ چھوٹی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ خودی کی تصدیق ہی زندگی کی کامیابی کی کنجی ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی ترقی اور خوشحالی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ خود کو مٹانے یا خوفزدہ کرنے والے ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ جو اپنی قدر پہچانتے ہیں، اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور مسلسل سیکھتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتے ہیں۔ حقیقی زندگی کا سفر اسی خودی کی تصدیق سے شروع ہوتا ہے، اور یہی انسان کو کامیابی اور سکون کی طرف لے جاتا ہے۔
#خودی


#کامیابی
#زندگی





/Pakistan

Address

Model Town
Lahore
5400

Opening Hours

Monday 10:00 - 22:00
Tuesday 10:00 - 22:00
Wednesday 10:00 - 22:00
Thursday 10:00 - 22:00
Friday 10:00 - 22:00
Saturday 10:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00

Telephone

+923001760117

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Prof. Dr. Syed Asadullah Arslan Gilani:

Share