Tibbi Raaz Tilismi Nuskhay

Tibbi Raaz Tilismi Nuskhay یہ پیج خدمت خلق کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس میں میرا ساتھ دے ۔شکریہ

31/07/2026
عجیب المیہہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نہ صرف حیران کن ہوتے ہیں بلکہ دل کو بھی دکھ دیتے ہی...
06/06/2026

عجیب المیہ
ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسے رویے دیکھنے کو ملتے ہیں جو نہ صرف حیران کن ہوتے ہیں بلکہ دل کو بھی دکھ دیتے ہیں۔ طلاق یافتہ، بیوہ یا رنڈوے افراد کی دوسری شادی کو اکثر تنقید، طعنوں اور بے جا تبصروں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ ان کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں، حالانکہ وہی لوگ کسی کی تنہائی، مجبوریوں، ذمہ داریوں اور جذباتی ضرورتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی صرف جوانی کا نام نہیں۔ عمر کے ہر مرحلے میں انسان کو محبت، عزت، ساتھ اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص شریکِ حیات سے محروم ہو جائے، یا کسی وجہ سے ازدواجی زندگی ختم ہو جائے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی خوشیوں کا حق بھی ختم ہو گیا۔ ہر انسان کو اپنی زندگی نئے سرے سے سنوارنے اور بہتر مستقبل کی تلاش کا حق حاصل ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں پر فیصلے سنانے میں بہت جلدی کرتے ہیں، مگر ان کے حالات، آزمائشوں اور دل کی کیفیت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ ایک بیوہ عورت یا ایک رنڈوا مرد صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتا، اکثر ان کے ساتھ بچوں کی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر وہ دوبارہ شادی کا فیصلہ کریں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ ایک مثبت اور ذمہ دارانہ قدم ہو سکتا ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف انہیں ایک ساتھی ملتا ہے بلکہ بچوں کو بھی ایک بہتر خاندانی ماحول میسر آ سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تنہائی ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک مضبوط انسان بھی اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے، مگر معاشرے کے خوف سے خاموش رہتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کی دوسری شادی پر تنقید کرتے ہیں، وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ کل یہی حالات ان کے اپنے یا ان کے کسی عزیز کے ساتھ بھی پیش آ سکتے ہیں۔
ایک مہذب اور باشعور معاشرہ وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے جائز فیصلوں کا احترام کرے، ان کے زخموں پر نمک نہ چھڑکے بلکہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ کسی کی زندگی کے بارے میں رائے دینے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہم اس کے حالات سے پوری طرح واقف بھی ہیں یا نہیں۔ اکثر وہ جنگیں جو انسان خاموشی سے لڑ رہا ہوتا ہے، دنیا کو دکھائی نہیں دیتیں۔
ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ اگر ہم کسی کے لیے آسانی پیدا نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے لیے مشکل بھی نہ بنیں۔ دوسروں کی خوشیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان کے لیے دعا کرنا سیکھیں۔ کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے، اور ہر انسان عزت، سکون اور خوشی کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے۔
یاد رکھیے، کسی کی دوسری شادی پر طنز کرنا آسان ہے، مگر اس کے دل کی تنہائی، اس کی ذمہ داریوں اور اس کے درد کو محسوس کرنا مشکل ہے۔ انسانیت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم فیصلے سنانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کریں، تنقید کے بجائے حوصلہ دیں، اور نفرت کے بجائے احترام کا رویہ اپنائیں۔ یہی وہ سوچ ہے جو معاشروں کو بہتر بناتی ہے اور انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے

13/01/2026

جب بھی شدید سردی کے دو ماہ آتے ہیں۔ فیس بک پر اس طرح کی پوسٹیں شرو ع ہوجاتی ہیں
"والد صاحب/ والدہ محترمہ/ ساس صاحبہ/ سسر صاحب کا قضائے الہی سے انتقال ہوگیا"

ہم آپ کو خبردار کر رہے ہیں کہ ان بزرگوں کا انتقال قضائے الہی سے تو ہوتا ہی ہے لیکن وجہ سردی بنتی ہے۔ والدین کبھی بھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔ انہیں اشد ضرورت بھی ہو تو نہیں مانگتے۔ یہ کام ان سے ہو ہی نہیں پاتا۔ حتی کہ ساری زندگی دین کا کام کرنے والے بھی بوڑھاپے میں اولاد سے کچھ نہیں مانگ پاتا

سو خود احساس کیاکیجئے اور انہیں گرم رضائیاں، گرم کپڑے، کوٹ، گرم موزے، جوتے اور گرم خوراکیں مہیا کیجئے۔ اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل اور ان کے گرم کپڑے آپ کے گرم کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔ کیونکہ بوڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔ باقی قوتوں کی طرح ان کی قوت مدافعت بھی بہت کمزور ہوچکی ہوتی ہے۔ سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں غیر معمولی اضافہ اس نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتے۔ یہ نئی تہذیب میں پلنے والے جا کر پوچھتے

"ابا جی کچھ چاہئے تو نہیں ؟"

وہ آگے سے ناں میں جواب دیدیتے ہیں اور یہ اس ناں کو قبول کر لیتے ہیں

جس طرح آپ کے بچپن میں والدین اس بات پر توجہ دیا کرتے تھے کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں ؟ بعینہ وہی رول اب آپ نے پلے کرنا ہے۔ بڑھاپے میں عموما دیسمبر جنوری فروری میں بوڑھوں کے جسم کے اندر بھی جو موسم چل رہا ہوتا ہے وہ دیسمبر جنوری فروری کا ہوتا ہے تو کوشش کریں ان کو خوراک، غذاء، لباس ایسا محیا کریں کہ ان کے جسم کے اندر کا موسم جون جولائی والا ہو جائے۔ اس سے ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوگا

پوچھا مت کیجئے والدین سے پوچھیں گے تو جواب ناں میں ملے گا ...

22 رجب کی کُونڈوں کی نیاز – حقیقت قرآن کی روشنی میں22 رجب کو جو کُونڈوں کی نیاز کی جاتی ہے، عوام میں اسے عموماً حضرت اما...
13/01/2026

22 رجب کی کُونڈوں کی نیاز – حقیقت قرآن کی روشنی میں
22 رجب کو جو کُونڈوں کی نیاز کی جاتی ہے، عوام میں اسے عموماً حضرت امام جعفر صادقؒ یا بعض جگہ حضرت علیؓ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے بارے میں درج ذیل باتیں سمجھنا ضروری ہیں:
1۔ قرآن سے ثبوت قرآنِ مجید میں کسی خاص تاریخ (مثلاً 22 رجب) کو نیاز، کُونڈے، یا مخصوص کھانے کی تقسیم کا کوئی حکم موجود نہیں۔
قرآن میں نیکی، صدقہ اور کھانا کھلانے کی ترغیب ضرور دی گئی ہے، مگر کسی خاص دن یا خاص طریقے کو لازم قرار نہیں دیا گیا۔
مثال: "اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں"
(سورۃ الدہر: 8)
یہ آیت عام صدقہ و خیرات کی ترغیب دیتی ہے، نہ کہ کسی مخصوص دن یا رسم کی۔
2۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ کا عمل نبی کریم ﷺ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمہ دین سے 22 رجب کی نیاز یا کُونڈوں کا کوئی عمل ثابت نہیں۔
اگر یہ دین کا حصہ ہوتا تو سب سے پہلے یہی حضرات اس پر عمل کرتے۔
3۔ تاریخی حقیقت 22 رجب کی نیاز کا رواج کئی صدیوں بعد برصغیر میں پھیلا۔ اس کا تعلق مقامی روایات اور کہانیوں سے ہے، نہ کہ قرآن و سنت سے۔
اکثر بیان کی جانے والی حکایات مستند حدیث یا معتبر تاریخ سے ثابت نہیں۔
4۔ شریعت کا اصول دین میں عبادت یا ثواب کے کام وہی معتبر ہوتے ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔
بغیر دلیل کے کسی عمل کو ثواب یا دین کا حصہ سمجھنا بدعت کہلاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
5۔ کھانا کھلانا کب جائز ہے؟ اگر کوئی شخص:
اللہ کی رضا کے لیے
بغیر کسی مخصوص دن کو لازم سمجھے
بغیر اس عقیدے کے کہ یہ دین کا خاص عمل ہے
عام صدقہ یا کھانا کھلاتا ہے تو یہ نیکی ہے۔
لیکن:
22 رجب کو خاص سمجھنا
اس دن نیاز کو ضروری یا باعثِ نجات ماننا
نہ کرنے پر نقصان کا عقیدہ رکھنا
یہ سب باتیں قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔
نتیجہ 22 رجب کی کُونڈوں کی نیاز:
قرآن سے ثابت نہیں
حدیث سے ثابت نہیں
صحابہؓ و ائمہ دین کے عمل سے ثابت نہیں
البتہ صدقہ، خیرات اور کھانا کھلانا ہر دن جائز اور باعثِ اجر ہے، بشرطیکہ اسے دین کا لازمی حصہ نہ سمجھا جائے۔
دین میں اصل معیار قرآن اور سنت ہیں، رسم و روایت نہیں۔

Address

Khokhar Road
Lahore
54770

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tibbi Raaz Tilismi Nuskhay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tibbi Raaz Tilismi Nuskhay:

Shortcuts

Share