Nadia Malik Clinical Psychologist

Nadia Malik Clinical Psychologist Consultant Clinical Psychologist at Akram Medical Complex and Ejaz Memorial Hospital.

Consultant clinical psychologist
ABA therapist _ provide services 👇
Psychological interventions ,ABA therapy online/home/in person sessions and IEPs.

Eid Mubarak! May this Eid bring peace, happiness, and countless blessings to you and your family. 🌙✨
27/05/2026

Eid Mubarak! May this Eid bring peace, happiness, and countless blessings to you and your family. 🌙✨

26/05/2026

yoga

25/05/2026

kids learning �

23/05/2026

let's breath......!!!

Tantrums and meltdowns may look similar from the outside because both can include crying, screaming, or throwing things,...
23/05/2026

Tantrums and meltdowns may look similar from the outside because both can include crying, screaming, or throwing things, but they are actually very different. A tantrum usually happens when a child wants something, wants attention, or is trying to avoid doing something. For example, a child may ask for a mobile phone, and when the parent says “no,” the child starts crying, shouting, or lying on the floor. In many cases, once the child gets the phone or receives attention, the behavior reduces. During a tantrum, the child is generally aware of what is happening around them and may still be able to control their behavior to some extent.

A meltdown, however, is not intentional and does not happen to manipulate others. It occurs when a child becomes emotionally or sensory overwhelmed and can no longer regulate themselves. This can happen because of loud noise, bright lights, crowded places, sudden routine changes, or too much emotional stress. For example, after being in a noisy environment for a long time, a child may begin screaming, covering their ears, throwing objects, or crying uncontrollably. Even if their favorite toy or item is offered, they may still be unable to calm down. During a meltdown, the child is not seeking attention or trying to “win”; they are overwhelmed and need comfort, patience, and support rather than punishment. An easy way to remember the difference is: a tantrum means “I want something,” while a meltdown means “I can’t handle this anymore.”

ٹینٹرم اور میلٹ ڈاؤن بظاہر ایک جیسے لگ سکتے ہیں کیونکہ دونوں میں رونا، چیخنا یا چیزیں پھینکنا شامل ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت میں دونوں بہت مختلف ہوتے ہیں۔ Tantrum عموماً اُس وقت ہوتا ہے جب بچہ کوئی چیز چاہتا ہو، attention لینا چاہتا ہو یا اپنی بات منوانا چاہتا ہو۔ مثال کے طور پر، اگر بچہ موبائل مانگے اور “No” سن کر رونا، چیخنا یا زمین پر لیٹ جانا شروع کر دے، لیکن موبائل یا attention ملتے ہی اُس کا behavior کم ہو جائے، تو یہ Tantrum کہلاتا ہے۔ ایسے وقت میں بچہ عموماً اپنے اردگرد کے ماحول سے aware ہوتا ہے ایسے وقت میں بچے کو سزا دینے یا ڈانٹنے کے بجائے اُسے support، reassurance، patience اور پرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
والدین کا ردِعمل بھی دونوں صورتوں میں مختلف ہونا چاہیے۔ Tantrum کے دوران calm رہنا، clear boundaries دینا اور فوراً ہر demand پوری نہ کرنا بچے کو emotional regulation سکھانے میں مدد دیتا ہے۔ جبکہ Meltdown کے دوران شور کم کرنا، بچے کو safe محسوس کروانا اور اُسے calm ہونے کے لیے وقت دینا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ ہر بچے کے emotions اور reactions مختلف ہوتے ہیں، اور بعض اوقات جو behavior “bad behavior” لگتا ہے، وہ دراصل بچے کے overwhelm یا distress کی علامت ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں یاد رکھیں:
Tantrum = “مجھے کچھ چاہیے”
Meltdown = “میں اب یہ سب handle نہیں کر پا رہا۔”

“وہ چیختا ہے… چیزیں پھینکتا ہے… مگر شاید وہ صرف کچھ بتانا چاہ رہا ہوتا ہے” 🧩Autism یا ADHD میں کئی بچے اپنے جذبات ضروریا...
22/05/2026

“وہ چیختا ہے… چیزیں پھینکتا ہے… مگر شاید وہ صرف کچھ بتانا چاہ رہا ہوتا ہے” 🧩
Autism یا ADHD میں کئی بچے اپنے جذبات ضروریات یا frustration کو الفاظ میں بیان نہیں کر پاتے۔
اسی لیے بعض اوقات وہ:
• زور سے چیختے ہیں
• روتے ہیں
• چیزیں پھینکتے ہیں
• یا aggressive ہو جاتے ہیں

یہ ہمیشہ ضد یا bad manners نہیں ہوتے۔

کبھی بچہ overwhelmed ہوتا ہے…
کبھی اسے سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ اپنی بات کیسے بتائے…
اور کبھی اس کا دماغ اور جسم ایک ساتھ بہت زیادہ stimulation محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔
مثال:
• زیادہ شور یا رش بچے کو پریشان کر سکتا ہے
• waiting مشکل ہونے پر بچہ react کر سکتا ہے
• communication difficulty frustration بڑھا سکتی ہے

ایسے وقت میں بچے کو صرف “خاموش ہو جاؤ” کہنا کافی نہیں ہوتا،
بلکہ اسے regulate ہونا سکھانا ضروری ہوتا ہے۔
Helpful techniques:
✔️ Calm voice استعمال کریں
✔️ Visuals یا gestures سے communication سکھائیں
✔️ Sensory breaks دیں
✔️ Positive behavior کو reinforce کریں
✔️ Triggers observe کریں
یاد رکھیں:
ہر مشکل behavior کے پیچھے ایک unmet need یا difficulty ہو سکتی ہے۔

جب ہم بچے کے behavior کو “مسئلہ” نہیں بلکہ “پیغام” سمجھتے ہیں…
تبھی اصل مدد شروع ہوتی ہے۔

appointment: 0326-6459858

✨ “جب ہم دل ہی دل میں کسی سے بدلہ لینے لگتے ہیں…” ✨بعض اوقات کسی کی بات، رویّہ یا تکلیف ہمیں اندر سے زخمی کر دیتی ہے۔اور...
19/05/2026

✨ “جب ہم دل ہی دل میں کسی سے بدلہ لینے لگتے ہیں…” ✨

بعض اوقات کسی کی بات، رویّہ یا تکلیف ہمیں اندر سے زخمی کر دیتی ہے۔
اور پھر ہم خاموش رہتے ہوئے بھی دل میں غصہ، نفرت یا بدلہ رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

💭 مگر حقیقت یہ ہے:
بدلہ لینے کے خیالات سب سے پہلے انسان کے اپنے سکون کو ختم کرتے ہیں۔

ہم بار بار وہی بات سوچتے ہیں،
دل بھاری رہتا ہے،
غصہ بڑھتا جاتا ہے،
اور آہستہ آہستہ ذہنی سکون متاثر ہونے لگتا ہے۔

🌿 معاف کرنا ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ سامنے والا صحیح تھا…
کبھی کبھی معاف کرنا صرف اپنے دل کو سکون دینے کے لیے ہوتا ہے۔

✔️ اپنے جذبات کو سمجھیں
✔️ ہر ردِعمل ضروری نہیں ہوتا
✔️ بعض اوقات خاموشی اور distance ہی بہترین جواب ہوتے ہیں

اندر کا سکون… ہر بدلے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

🧠 Panic Attack — صرف گھبراہٹ نہیں، ایک شدید ذہنی و جسمانی کیفیتPanic Attack ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کو اچانک شدید ...
16/05/2026

🧠 Panic Attack — صرف گھبراہٹ نہیں، ایک شدید ذہنی و جسمانی کیفیت

Panic Attack ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کو اچانک شدید خوف، بے چینی اور جسمانی علامات محسوس ہوتی ہیں، حتیٰ کہ بعض افراد کو لگتا ہے کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہو رہا ہے یا وہ کنٹرول کھو رہے ہیں۔

عام علامات:
• دل کی دھڑکن تیز ہونا
• سانس لینے میں دشواری یا گھٹن محسوس ہونا
• سینے میں دباؤ یا درد
• ہاتھ پاؤں کانپنا یا پسینہ آنا
• چکر آنا یا کمزوری محسوس ہونا
• شدید خوف یا “کچھ برا ہونے والا ہے” کا احساس
اہم بات:
ہر گھبراہٹ Panic Attack نہیں ہوتی، اور ہر Panic Attack کمزوری کی علامت بھی نہیں۔
یہ Anxiety سے جڑی ایک حقیقی psychological condition ہے جسے سمجھنے اور manage کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مدد کیسے ممکن ہے؟
✔️ Cognitive Behavioral Therapy (CBT)
✔️ Breathing & Relaxation Techniques
✔️ Stress Management
✔️ Lifestyle Modification
✔️ ضرورت پڑنے پر Psychiatric Consultation

بروقت رہنمائی اور مناسب علاج سے Panic Attacks کو مؤثر طریقے سے manage کیا جا سکتا ہے، اور انسان دوبارہ اپنی روزمرہ زندگی کو اعتماد کے ساتھ گزار سکتا ہے۔

ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو ایسی علامات محسوس ہوتی ہیں تو پروفیشنل مدد لینے میں ہچکچاہٹ نہ کریں۔

appointment: 0326-6459858

07/05/2026

🧸 بچے چیزیں کیوں پھینکتے ہیں؟

کئی بچے غصے، بے چینی یا اپنی بات نہ سمجھا پانے کی وجہ سے چیزیں پھینکنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ صرف “شرارت” نہیں ہوتی، بلکہ اکثر ایک پیغام ہوتا ہے۔

مثال:
• کچھ بچے توجہ حاصل کرنے کے لیے کھلونے پھینکتے ہیں
• کچھ بچے اپنی پسند کی چیز نہ ملنے پر چیزیں پھینک کر ردِعمل دکھاتے ہیں
• بعض اوقات sensory issues یا frustration بھی اس رویّے کی وجہ بن سکتی ہے

اگر یہ رویّہ بار بار ہو تو:
• گھر کے ماحول پر اثر پڑ سکتا ہے
• بچے کو خود بھی نقصان پہنچ سکتا ہے
• سیکھنے اور social interaction میں مشکلات آ سکتی ہیں
والدین کیا کریں؟
✔️ پہلے وجہ سمجھنے کی کوشش کریں
✔️ غصے میں چیخنے کے بجائے پرسکون رہیں
✔️ بچے کو صحیح طریقے سے مانگنا سکھائیں
✔️ “Throw mat karo, mujhe do” جیسے آسان جملے بار بار سکھائیں
✔️ اچھے رویّے پر فوراً تعریف کریں
✔️ خطرناک چیزیں بچے کی پہنچ سے دور رکھیں

یاد رکھیں:
ہر مشکل رویّے کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔
جب ہم وجہ سمجھتے ہیں، تبھی ہم صحیح مدد کر سکتے ہیں۔

📩 اگر آپ اپنے بچے کے رویّوں کے بارے میں رہنمائی چاہتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

04/05/2026

اسپیشل نیڈز بچوں کی ٹریننگ - ایک ذمہ داری، ہر بچہ سیکھ سکتا ہے… بس طریقہ مختلف ہوتا ہے۔

اسپیشل نیڈز بچوں (Autism, ADHD, Speech Delay وغیرہ) کو سکھانے کے لیے صبر، مستقل مزاجی اور صحیح حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ٹریننگ میں کیا شامل ہوتا ہے؟
✔️ Communication Skills (بولنے اور سمجھنے کی مہارت)
✔️ Daily Living Skills (کھانا، پہننا، خود کی دیکھ بھال)
✔️ Social Skills (دوسروں سے بات چیت اور برتاؤ)
✔️ Behavior Management (مشکل رویّوں کو بہتر بنانا)

چھوٹی مثالیں:
• اگر بچہ پانی مانگنے کے لیے روتا ہے، تو اسے لفظ یا اشارے کے ذریعے “پانی” کہنا سکھایا جاتا ہے
• اگر بچہ چیزیں پھینکتا ہے، تو اسے صحیح طریقے سے مانگنا اور انتظار کرنا سکھایا جاتا ہے

اہم بات:
ہر بچے کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے — اس لیے انفرادی پلان (Individualized Plan) بہت ضروری ہے۔

والدین کے لیے:
• بچے کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں
• ہر چھوٹی کامیابی کو سراہیں
• گھر پر بھی ٹریننگ کو جاری رکھیں

صحیح رہنمائی اور تھراپی سے بچے اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔

اگر آپ اپنے بچے کے لیے پروفیشنل ٹریننگ چاہتے ہیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
Appointment; 0326-6459858

30/04/2026

کچھ رویّے ہم نظر انداز کر دیتے ہیں…

ہم اکثر خود سے کہتے ہیں:
“میں بس تھوڑا سا غصے والا ہوں”
“میں بعد میں کر لوں گا”
“میں ایسا ہی ہوں…”

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی “چھوٹی” باتیں آہستہ آہستہ ہماری زندگی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔

جیسے:
• بار بار بات ٹالنا اور پھر پریشان ہونا
• معمولی بات پر زیادہ ری ایکٹ کرنا
• دل کی بات اندر ہی اندر رکھنا
• ہر چیز میں خود کو قصوروار ٹھہرانا
• دوسروں سے موازنہ کر کے خود کو کم سمجھنا
یہ سب صرف عادتیں نہیں… یہ اندر کی کیفیت کا اظہار ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے:
“میں بدلنا چاہتا ہوں مگر سمجھ نہیں آتا کیسے”
تو یہ ایک اہم پہلا قدم ہے — احساس (Awareness)

🦋 خود کو وقت دیں
چھوٹی تبدیلیاں لائیں
اور ضرورت ہو تو مدد لینے میں ہچکچاہٹ نہ کریں

کیونکہ بعض اوقات… جس چیز کو ہم نظر انداز کرتے ہیں، وہی ہمیں سب سے زیادہ متاثر کر رہی ہوتی ہے۔
اگر آپ خود کو بہتر سمجھنا چاہتے ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
for appointment: 0326-6459858

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 12:00 - 16:00
Tuesday 16:00 - 16:00
Wednesday 12:00 - 16:00
Friday 12:00 - 16:00
Saturday 12:00 - 16:00

Telephone

+923266459858

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nadia Malik Clinical Psychologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share