30/07/2026
پاکستان میں بڑھتی ہوئی اتائیت — خاموش قاتل یا اجتماعی غفلت؟
تحریر: ڈاکٹر محمد حیدر اعوان
صحت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب علاج کے نام پر نااہل اور غیر تربیت یافتہ افراد انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا شروع کر دیں تو یہ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی المیہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی اتائیت آج اسی المیے کی ایک خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جو خود کو ڈاکٹر، حکیم، اسپیشلسٹ یا سرجن ظاہر کرکے علاج معالجہ کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ مطلوبہ طبی تعلیم ہے، نہ قانونی اجازت اور نہ ہی مریض کے علاج کی پیشہ ورانہ صلاحیت۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ روزانہ سینکڑوں لوگ لاعلمی، غربت یا مجبوری کے باعث ایسے افراد کے ہاتھوں اپنی صحت اور بعض اوقات اپنی جان بھی گنوا دیتے ہیں۔
اتائیت کے فروغ کی بنیادی وجہ صرف قانون کی کمزور عملداری نہیں بلکہ صحت کی سہولیات کا غیر مساوی نظام بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں مستند ڈاکٹرز کی کمی، سرکاری اسپتالوں پر بے حد دباؤ، مہنگا نجی علاج اور عوام میں طبی شعور کی کمی نے اتائی عناصر کے لیے راستہ آسان بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر قانونی کلینکس، جعلی ڈگریوں اور نام نہاد معالجین کا کاروبار مسلسل پھیل رہا ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اتائی افراد غیر ضروری انجیکشن، اینٹی بایوٹکس اور سٹیرائیڈز کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ وقتی آرام کی خاطر دی جانے والی یہ ادویات مستقبل میں گردوں، جگر، دل اور جسم کے مدافعتی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ غلط تشخیص، علاج میں تاخیر اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار کئی مریضوں کے لیے ناقابلِ تلافی نتائج پیدا کرتے ہیں۔
اتائیت صرف مریض کا نقصان نہیں کرتی بلکہ پورے صحت کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اینٹی بایوٹک مزاحمت میں اضافہ، پیچیدہ بیماریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور مستند طبی ماہرین پر عوام کے اعتماد میں کمی بھی اسی مسئلے کے نتائج ہیں۔ جب کوئی مریض اتائی کے غلط علاج کے بعد اسپتال پہنچتا ہے تو اکثر بیماری اس حد تک بڑھ چکی ہوتی ہے کہ علاج مشکل، مہنگا اور بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت، متعلقہ ریگولیٹری اداروں، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مربوط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ غیر قانونی کلینکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، رجسٹرڈ طبی مراکز کی نگرانی، عوامی آگاہی مہمات اور دیہی علاقوں میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میڈیا، تعلیمی اداروں، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور طبی برادری کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ کسی بھی معالج سے علاج شروع کرنے سے پہلے اس کی قانونی رجسٹریشن اور پیشہ ورانہ اہلیت کی تصدیق کریں، اور کسی بھی مشتبہ طبی سرگرمی کی اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچائیں۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ مستند ڈاکٹرز اپنے پیشے کے اعلیٰ اخلاقی معیار برقرار رکھیں، کیونکہ عوام کا اعتماد صرف قانون سے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ دیانت، خدمت اور شفافیت سے بھی قائم ہوتا ہے۔
پاکستان کو ایک ایسے صحت کے نظام کی ضرورت ہے جہاں مریض کی جان کاروبار نہیں بلکہ امانت سمجھی جائے۔ اتائیت کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فرض ہے۔ اگر آج ہم نے اس خاموش خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں اس کی قیمت مزید قیمتی انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
صحت کوئی سہولت نہیں، ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ اس حق کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔