Matab DarulKidmat مطب دارالخدمت

Matab DarulKidmat مطب دارالخدمت مطب دارالخدمت عرصہ 42 سال سے انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے الحمدللہ

جسم میں تیزابیت، خراب ہضم، خمیر اور تعفن آپس میں جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ جب معدہ اور آنتیں غذا کو صحیح طرح ہضم نہیں کرتیں تو...
23/05/2026

جسم میں تیزابیت، خراب ہضم، خمیر اور تعفن آپس میں جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ جب معدہ اور آنتیں غذا کو صحیح طرح ہضم نہیں کرتیں تو کھانا اندر پڑا رہ کر پہلے خمیر بناتا ہے، جس سے گیس، اپھارہ، کھٹی ڈکاریں اور پیٹ میں گڑگڑاہٹ پیدا ہوتی ہے، اور اگر یہی کیفیت بڑھ جائے تو تعفن پیدا ہونے لگتا ہے جس کی علامت بدبودار گیس، منہ کی بو، جسمانی بھاری پن، جلن اور سستی ہوتی ہے۔ خون صرف عضلاتی تحریک سے نہیں بنتا بلکہ صاف خون بننے کے لیے معدہ، جگر، آنتوں اور غذا کے درست ہضم و جذب کا درست ہونا ضروری ہے۔ جب معدہ خراب ہو، قبض ہو، یا جسم میں خمیر و تیزابیت بڑھ جائے تو نیا اور صاف خون بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے معدہ اور آنتوں کی اصلاح ضروری ہے۔ نہار منہ نیم گرم پانی میں لیموں یا اصلی سیب کا سرکہ، اور کھانے کے بعد سونف، اجوائن اور زیرہ کا استعمال ہاضمہ بہتر کرتا اور ریاح کم کرتا ہے۔ چینی، میدہ، باسی غذا، کولڈ ڈرنکس اور رات دیر سے کھانا خمیر کو بڑھاتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ دیسی طب میں معدہ کو بیماریوں کی جڑ کہا گیا ہے، کیونکہ جب معدہ اور جگر درست ہوں تو خون بھی بہتر بنتا ہے، اعصاب بھی متوازن رہتے ہیں اور جسمانی کمزوری و کھچاؤ بھی کم ہونے لگتے ہیں۔ طبِ نبوی، سادہ غذا، مناسب نیند اور ذہنی سکون مل کر جسم کو اندر سے درست کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

 #روحانی
05/05/2026

#روحانی

15/04/2026

دارالخدمت روحانی و طبی مرکز

​دودھ سوڈا اور سٹرابیری ملک شیک: ایک طبی و فطری جائزہ

​بسا اوقات ہم اپنے معاشرے میں رائج بعض ایسی غذائی عادات کو اپنا لیتے ہیں جو بظاہر مرغوب نظر آتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہماری صحت کے لیے زہرِ قاتل ہوتی ہیں۔ انسانی فطرت کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی غلط روش معاشرے میں جڑ پکڑ لے، تو ہم بغیر کسی تحقیق یا عقلی دلیل کے اس کی پیروی شروع کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک محترم دوست جناب اصغر چانڈیہ صاحب کے تجسس اور سوال نے مجھے اس اہم موضوع پر قلم اٹھانے کی ترغیب دی۔
​مشروبات (Bottled Soda) کی حقیقت: ایک تلخ سچ
​سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کاربونیٹڈ مشروبات (Soft Drinks) جن اجزا سے تیار کیے جاتے ہیں، کیا وہ انسانی جسم کے لیے موزوں بھی ہیں یا نہیں؟ ان بوتلوں کے لیبل پر درج چند نمایاں اجزا یہ ہیں:
​کیمیاوی رنگ اور فلیورز
​فاسفورک ایسڈ (ایک طاقتور تیزاب)
​کافین اور مصنوعی مٹھاس
​کاربونیٹڈ واٹر (پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا آمیزہ)
​کاربن ڈائی آکسائیڈ: خارج ہونے والی شے، پی جانے والی کیوں؟
​قدرتِ الہٰی نے انسانی جسم کا نظام کچھ اس طرح وضع کیا ہے کہ آکسیجن حیات بخش ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ ایک فضلہ (Waste Product) ہے جسے جسم سے نکالنا لازمی ہے۔
​ہمارے پھیپھڑے سانس کے ذریعے اسے باہر پھینکتے ہیں۔
​معدہ ڈکار کی صورت میں اسے خارج کرتا ہے۔
​آنتوں کا نظام اسے ریح کی صورت میں بدن سے دور کرتا ہے۔
​حتیٰ کہ شریعتِ مطہرہ میں اس گیس کا بدن سے اخراج طہارت (وضو) کو متاثر کر دیتا ہے، جو اس کے "فضلہ" ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اب ذرا سوچیے، جس چیز کو جسم کا ہر حصہ دھتکار رہا ہو، اسے بوتلوں میں قید کر کے دوبارہ لذت کے نام پر حلق سے نیچے اتارنا کہاں کی دانشمندی ہے؟
​دودھ اور بوتل کا امتزاج: ایک کیمیاوی تصادم
​طبی نقطہ نظر سے دودھ ایک "الکلی" (Alkaline) غذا ہے، جبکہ کاربونیٹڈ بوتلیں شدید "تیزابی" (Acidic) خصوصیات رکھتی ہیں۔ جب ان دونوں متضاد فطرت کی چیزوں کو ملایا جاتا ہے، تو کیمیاوی عمل کے نتیجے میں دودھ پھٹ جاتا ہے۔ یہ بھاری آمیزہ جب معدے اور جگر تک پہنچتا ہے تو جگر کے افعال کو شدید متاثر کرتا ہے اور ہاضمے کے نظام میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔
​یہی اصول سٹرابیری ملک شیک پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سٹرابیری اپنی فطرت میں تیزابی (Citrus) ہے، اور اسے دودھ کے ساتھ یکجا کرنا ایک ایسا غیر فطری کمبینیشن بناتا ہے جو فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہے۔
​دودھ کی عظمت اور فطری حسن
​دودھ اللہ رب العزت کی دی ہوئی وہ عظیم نعمت ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی نہایت خوبصورت انداز میں آیا ہے۔ یہ انسان کی پہلی غذا ہے اور ایک مکمل غذا ہے۔ دودھ کی اپنی ایک قدرتی مٹھاس اور لذت ہے؛ اس میں مصنوعی چینی یا مضرِ صحت بوتلیں شامل کرنا درحقیقت اس نعمت کی توہین ہے۔
​حرفِ آخر:
صحت مند زندگی کا راز فطرت کی طرف لوٹنے میں ہے۔ مصنوعی لذتوں کے جال سے نکل کر سادہ اور خالص غذاؤں کو اپنائیے۔ دودھ کو اس کی اصل حالت میں استعمال کریں اور کیمیاوی مشروبات سے اپنے جسم (جو اللہ کی امانت ہے) کی حفاظت کریں۔
​فقط،
حکیم ڈاکٹر امان اللہ خان
دارالخدمت روحانی و طبی مرکز، مانسہرہ

06/03/2026

فطری اصول کسی بھی فارمولے کے استعمال کا

03/03/2026

معدے کی خرابی کی صورتیں اور علاج

اکسیرِ جگر و قلب: بدن میں نئی روح پھونکنے والا نایاب تحفہ ✨طب کی دنیا میں کچھ نسخہ جات ایسے ہوتے ہیں جو اپنی سادگی میں ا...
11/02/2026

اکسیرِ جگر و قلب: بدن میں نئی روح پھونکنے والا نایاب تحفہ ✨

طب کی دنیا میں کچھ نسخہ جات ایسے ہوتے ہیں جو اپنی سادگی میں ایک پورا "شفا خانہ" چھپائے ہوتے ہیں۔ آج میں اپنے مطب کے معمولات میں سے ایک ایسا ہی "پوشیدہ راز" آپ سب کی نذر کر رہا ہوں جو مردہ رگوں میں جان ڈالنے اور جمے ہوئے خون کو رواں کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔
🔍 طبی اصول (بمطابق قانون مفرد اعضاء):
جب انسانی بدن میں رطوبات (تری) کی زیادتی ہو جائے، مزاج میں سردی بڑھ جائے اور حرارتِ غریزی کمزور پڑ جائے، تو جسم پانی کا گھر بن جاتا ہے۔ پھیپھڑوں میں پانی (استسقاء صدری)، پیٹ کا بڑھنا، جگر پر چربی، اور جسم کا سن ہو جانا اسی "اعصابی" کیفیت کی علامات ہیں۔
یہ کورس دراصل "تحریکِ غدی" پیدا کرتا ہے، یعنی جسم میں حرارت کو جنم دے کر فالتو رطوبات کو خشک کرتا ہے اور صالح خون پیدا کرتا ہے۔
مریض کی حالت اور مرض کی نوعیت کے مطابق اسے تین درجات میں تقسیم کیا گیا ہے:
🩸 درجہ اول: خون کی فیکٹری (شدید کمی اور تھیلیسیمیا کا علاج)
یہ نسخہ صرف سستی اور کاہلی کا علاج نہیں بلکہ خون پیدا کرنے کی مشین ہے۔
اگر کسی مریض کا خون انتہائی کم ہو چکا ہو، ہیموگلوبن (Hb) لیول 5 یا 6 پوائنٹ تک گر گیا ہو، یا خدانخواستہ مریض تھیلیسیمیا جیسے موذی مرض کا شکار ہو، تو یہ دوا آبِ حیات کا کام کرتی ہے۔ اس کے استعمال سے اللہ کے فضل سے جسم میں قدرتی اور صالح خون کی پیدائش فوراً شروع ہو جاتی ہے اور چہرہ سرخ و سپید ہونے لگتا ہے۔
نسخہ نمبر 1:
🔹 ہیرا کسیس: 10 گرام
🔹 مرچ سیاہ: 30 گرام
🔹 ریوند خطائی: 40 گرام
ترکیب: تمام اجزاء کو باریک پیس کر کالی مرچ کے برابر (یا تھوڑی بڑی) گولیاں بنا لیں۔
مقدار خوراک: 2 سے 4 گولیاں (عمر اور وزن کے مطابق) دن میں 3 سے 4 بار پانی کے ساتھ۔
🚀 درجہ دوم: جب معاملہ ضدی موٹاپے اور فیٹی لیور کا ہو
اگر مریض کا مسئلہ صرف خون کی کمی نہیں بلکہ پیٹ کا بڑھنا، جگر پر ضدی چربی (Fatty Liver) اور شدید توند ہو، تو پہلے نسخے کے ساتھ اس "حبِ طلائی" کا اضافہ کر دیں، نتائج حیران کن ہوں گے۔
نسخہ نمبر 2 (معاون نسخہ):
🔸 روغنِ نوشادر: 10 گرام
🔸 ہلدی: 20 گرام
🔸 ریوند خطائی: 20 گرام
🔸 تارا میرا: 10 گرام
ترکیب: پیس کر کالی مرچ کے برابر گولیاں بنا لیں۔
مقدار خوراک: ایک ایک گولی دن میں 3 بار پانی کے ساتھ۔
❤️ درجہ سوم: امراضِ قلب، یورک ایسڈ اور شریانوں کی بندش
اگر معاملہ بگڑ چکا ہو، خون گاڑھا ہو، کلاٹس (Clots) بن رہے ہوں، جوڑوں میں یورک ایسڈ کی دردیں ہوں، دل کے والو بند ہو رہے ہوں یا انجائنا (دردِ دل) ہو، تو مندرجہ بالا دوائیوں کے ساتھ یہ تیسرا نسخہ سونے پر سہاگہ کا کام کرتا ہے۔
نسخہ نمبر 3 (شافی نسخہ):
✦ سنڈھ، نوشادر، درونج عقربی، اسگندھ، سرنجاں شیریں، سرنجاں تلخ، قسط (ہر واحد دوا 10 گرام)
✦ سقمونیا، ریوند عصارہ (ہر واحد دوا 3 گرام)
ترکیب: تمام ادویات کا سفوف بنا کر چنے (نخود) کے برابر گولیاں بنا لیں۔
مقدار خوراک: 2 گولیاں دن میں 3 بار پانی کے ساتھ۔
✅ حاصلِ کلام:
یہ مکمل کورس "عضلاتی اعصابی" سے لے کر "غدی عضلاتی" تک کے تمام پیچیدہ مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ نہ صرف خون کی کمی (Anemia) کو جڑ سے ختم کرتا ہے بلکہ شریانوں کی تنگی کو کھول کر انسان کو پھر سے جوان اور چاق و چوبند بنا دیتا ہے۔
خلوصِ نیت سے بنائیں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔
منجانب:
حکیم ڈاکٹر امان اللہ مدنی
ہربل فزیشن | روحانی و جسمانی معالج
📍 ادارہ دارالخدمت

دمہ (Asthma) اور پرانی کھانسی کا کامیاب دیسی علاجاز قلم: حکـــیم ڈاکٹـــر امـــان اللـــہ مــــدنیزندگی، سانسوں کے تسلسل...
09/02/2026

دمہ (Asthma) اور پرانی کھانسی کا کامیاب دیسی علاج

از قلم: حکـــیم ڈاکٹـــر امـــان اللـــہ مــــدنی

زندگی، سانسوں کے تسلسل کا نام ہے، اور جب اسی سانس کی ڈور میں گرہیں پڑنے لگیں تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ دمہ (Asthma) محض ایک بیماری نہیں، بلکہ نظامِ تنفس کی ایک ایسی اذیت ناک کیفیت ہے جہاں پھیپھڑوں کی ہوائی نالیوں (Bronchi) میں تشنج اور ورم پیدا ہو جاتا ہے، اور انسان ہوا کے ایک ایک گھونٹ کو ترستا ہے۔
طبی نقطہ نظر (قانونِ مفرد اعضاء):
نظریہ مفرد اعضاء کی رو سے دمہ اکثر اعصابی تحریک (غدی تسکین) یا پھر عضلاتی تشنج کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ جب جسم میں رطوباتِ غلیظہ (گاڑھا بلغم) حد سے بڑھ جائے اور پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمود اختیار کر لے، تو ہوا کا گزر مشکل ہو جاتا ہے۔ فطرت اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے "کھانسی" کا سہارا لیتی ہے، جو کہ جسم کا ایک دفاعی ردعمل ہے۔ ہمارا مقصد جسم میں حرارتِ غریزی پیدا کر کے اس جمے ہوئے مواد کو تحلیل کرنا اور خارج کرنا ہے۔
علاماتِ مرض (آئینہِ تشخیص):
اس موذی مرض کی ابتدا عموماً خشک اور معمولی کھانسی سے ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ شدت اختیار کر لیتی ہے۔ دیگر نمایاں علامات درج ذیل ہیں:
ضیقِ نفس: سانس لینے میں شدید دشواری اور سینے پر بوجھ۔
تنگیِ داماں: سانس کا پھولنا اور اکھڑنا۔
دورہِ سرفه: کھانسی کے مسلسل اور شدید دورے۔
کثرتِ بول: پیشاب کی زیادتی (جو اعصابی تحریک کی دلیل ہے)۔
شب بیداری: رات کے وقت کھانسی اور بے چینی میں اضافہ۔
اسبابِ مرض:
یہ مرض محض ایک سبب کا پابند نہیں، بلکہ مختلف عوامل اس کی راہ ہموار کرتے ہیں:
ہوائی نالیوں کا سکڑاؤ اور سوزش۔
ماحولیاتی آلودگی، گرد و غبار اور دھواں۔
سگریٹ نوشی اور منشیات کا استعمال۔
قوتِ مدافعت میں کمی، امراضِ معدہ، قبض اور ذہنی دباؤ (Depression)۔
نسخہِ کیمیا (شافی علاج)
قانونِ مفرد اعضاء کے عین اصولوں کے مطابق، یہ نسخہ پھیپھڑوں کو حرارت پہنچا کر بلغم کو پگھلاتا ہے اور نالیوں کی تنگی کو دور کرتا ہے۔
ھوالشافی:
ملٹھی: 20 گرام
نوشادر: 20 گرام
پھٹکنڈہ: 20 گرام
سہاگہ بریاں: 20 گرام
ترکیبِ تیاری:
سب سے پہلے سہاگہ کو توے پر یا کسی برتن میں ڈال کر آگ پر رکھیں، جب وہ پھول کر بریاں (خستہ) ہو جائے تو اتار لیں۔ اب تمام اجزاء کو باریک پیس کر مثلِ غبار کر لیں اور محفوظ کر لیں۔
بڑوں کے لیے: 1000 ملی گرام (بڑا کیپسول) بھر لیں۔
بچوں کے لیے: 500 ملی گرام (چھوٹا کیپسول) بھر لیں۔
مقدارِ خوراک:
دن میں تین بار (صبح، دوپہر، شام) ہمراہ پانی یا قہوہ استعمال کریں۔ ان شاء اللہ، محض ایک ہفتے کے استعمال سے سانس کی نالیوں کا ورم اور تنگی دور ہوگی اور طبیعت بحال ہو جائے گی۔
پرہیز و غذا:
یاد رکھیں.. پرہیز علاج سے بہتر ہے۔ چاول، چکنائی، تلی ہوئی اشیاء، ٹھنڈے پانی اور بادی اشیاء سے مکمل اجتناب برتیں۔
دعاگو:
حکیم ڈاکٹر امان اللہ مدنی
(ہربل فزیشن / روحانی و جسمانی معالج)
دارالخدمت ہربل کلینک

تحریکِ حرارتِ غریزی کا شاہکار نسخہ​(چائے کا بہترین نعم البدل)​انسانی صحت کا دارومدار "حرارتِ غریزی" پر ہے۔ جب جسم میں سر...
22/01/2026

تحریکِ حرارتِ غریزی کا شاہکار نسخہ
​(چائے کا بہترین نعم البدل)
​انسانی صحت کا دارومدار "حرارتِ غریزی" پر ہے۔ جب جسم میں سردی بڑھ جائے تو نظامِ انہضام سست پڑ جاتا ہے اور بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ یہ خاص ہربل قہوہ قانونِ مفرد اعضاء کے اصولوں کے عین مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جو جسم میں فوری توانائی اور حرارت پیدا کرتا ہے۔
​اجزائے ترکیبی (برائے ایک خوراک):
​سونف: 1 کھانے کا چمچ (ہاضم و کاسرِ ریاح)
​منقہ: 2 عدد (مصفیٰ خون و مقوی)
​انجیر: 2 عدد (محلل و ملین)
​ادرک: 1 انچ کا ٹکڑا (مقویِ معدہ)
​لہسن: 2 جوے (قدرتی اینٹی بائیوٹک)
​طریقہ تیاری:
تمام اجزاء کو ڈیڑھ (1.5) گلاس پانی میں ڈال کر اتنا جوش دیں کہ پانی خشک ہو کر ایک گلاس رہ جائے۔ چھان کر گرم یا نیم گرم نوش فرمائیں۔
​طبی افادیت (برائے قانونِ مفرد اعضاء):
یہ مرکب جسم میں "غدی تحریک" (Glandular Stimulation) پیدا کرتا ہے۔ یہ جسم سے زائد رطوبات (Coldness/Fluids) اور اعصابی سستی کو ختم کر کے اعضاء میں حرارت اور زندگی کی نئی لہر دوڑا دیتا ہے۔ سردی سے ہونے والے عوارضات، جوڑوں کے درد اور معدے کی خرابی میں تیر بہ ہدف ہے۔
​ہدایت:
اسے اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔ صبح و شام استعمال کریں اور مضرِ صحت چائے سے نجات حاصل کریں۔
​امان اللہ خان
روحانی نفسیاتی جسمانی معالج
دارالخدمت طبی اینڈ اسپرچوئل سینٹر









 #سلسلہ امراض و علاج: تبخیرِ معدہ (ایک طبی تجزیہ)​تبخیرِ معدہ کو محض ایک بیماری سمجھ لینا کم فہمی ہے، بلکہ درحقیقت یہ بد...
18/01/2026

#سلسلہ امراض و علاج: تبخیرِ معدہ (ایک طبی تجزیہ)
​تبخیرِ معدہ کو محض ایک بیماری سمجھ لینا کم فہمی ہے، بلکہ درحقیقت یہ بدن کے داخلی نظام میں رونما ہونے والے بگاڑ کا ایک ایسا اشارہ ہے جو کسی مفرد عضو کے غیر فطری افعال کی خبر دیتا ہے۔ افسوس کہ عام طور پر اسے 'عسر العلاج' (جس کا علاج مشکل ہو) گردانا جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کوتاہی ہے کہ معدے کے مزاج اور اس کی انفرادی کیفیت کو سمجھے بغیر، ہاضم ادویات کے انبار سے علاج کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ شفائے کاملہ اس کائنات کے رب کے بنائے ہوئے فطری قوانین کی پابندی میں مضمر ہے۔
​یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معدہ یا آنتوں میں اٹھنے والے بخارات اور ریاح کی کئی صورتیں ہیں۔ کبھی یہ خشکی کا شاخسانہ ہوتی ہیں، کبھی گرمی کی شدت کا نتیجہ، تو کبھی تری اور سردی کا اثر۔ لہٰذا، یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر مزاج کے مریض کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے اور ایک ہی نسخہ ہر کسی کے لیے تیر بہدف ثابت ہو؟
​اسباب و محرکات (خشکی کا غلبہ):
جب جسم میں خشکی اور سردی کا غلبہ ہو اور خلطِ سودا بڑھ جائے تو تبخیر جنم لیتی ہے۔ اس کا بنیادی سبب خشک اور سرد تاثیر والی غذاؤں کا بے دریغ استعمال ہے، جیسے بڑا گوشت، بینگن، مٹر، چنے، اچار اور کریلے وغیرہ۔ مزید برآں، دورِ حاضر کی عادات مثلاً انٹرنیٹ پر حد سے زیادہ وقت صرف کرنا، ذہنی دباؤ، شراب نوشی اور کاربونیٹڈ مشروبات (جیسے پیپسی وغیرہ) کی کثرت اس مرض کو ہوا دیتی ہے۔
​ظاہری و باطنی علامات:
معدے کے عضلات میں خشکی بڑھنے سے سکڑاؤ پیدا ہوتا ہے جس سے پیٹ میں ریاح کا طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ مریض گھبراہٹ، بے چینی، پیٹ درد اور نفخ (پھولنا) کا شکار رہتا ہے۔ غیر طبعی سودا کی وجہ سے ایک 'جھوٹی بھوک' جنم لیتی ہے جو مریض کو بار بار کھانے پر اکساتی ہے۔
اگر اس تحریک کا اثر بڑی آنت تک پہنچ جائے تو شدید قبض اور آنتوں میں تعفن (سڑاند) پیدا ہو جاتا ہے، جس سے پیٹ کے کیڑے اور مقعد پر خارش جیسی شکایات لاحق ہوتی ہیں جو بالآخر بواسیر کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔
ایسے مریض کی جسمانی حالت قابلِ رحم ہوتی ہے؛ جسم سوکھ کر لاغر ہو جاتا ہے، چہرے کی شادابی رخصت ہو جاتی ہے، آنکھیں گڑھوں میں دھنس جاتی ہیں اور ان کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں۔ ناک میں خشکی، منہ کا ذائقہ کبھی ترش اور کبھی کڑوا، جبکہ پیشاب کی مقدار کم اور رنگت سرخ یا سیاہ ہو جاتی ہے۔
​تدابیر و غذائی علاج:
دوا سے پہلے غذا کی اصلاح لازم ہے۔ مریض کو چاہیے کہ وہ بکرے کا گوشت، مونگ کی دال، ٹینڈے، میتھی کا ساگ اور ادرک کو اپنی خوراک کا حصہ بنائے۔ پھلوں میں شیریں آم، کھجور، تازہ انگور، امرود اور خربوزہ بہترین انتخاب ہیں۔
​نسخہ جات (مجربات):
​(1)۔ تریاقِ تبخیر (ہوالشافی):
​اجزاء: سنڈھ (خشک ادرک)، پودینہ خشک، دیسی اجوائن، کالی مرچ، مصطگی رومی اصلی، عقر قرحا اور کالا زیرہ (ہر ایک ڈھائی تولہ)، زعفران (9 ماشہ)۔
​ترکیب: زعفران کے علاوہ تمام ادویات کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔ چینی کا قوام (شیرہ) تیار کریں، پہلے اس میں زعفران حل کریں اور پھر باقی پسی ہوئی دوا شامل کر کے ملا لیں۔ (چینی دوا کے وزن سے تین گنا ہو)۔
​خوراک: 6 ماشہ سے 9 ماشہ تک، ہمراہ قہوہ استعمال کریں۔
​افادیت: یہ نسخہ امراضِ معدہ کے لیے اکسیر ہے اور خاص طور پر سوداوی تبخیرِ معدہ کے لیے تیر بہدف ہے۔
​(2)۔ حبِ شفاء (ہوالشافی):
​اجزاء: تخمِ نیم، رسوت انڈیا، کالی مرچ، گوگل خالص، کچور، ہلیلہ سیاہ اور مصطگی رومی اصلی۔
​ترکیب: تمام اجزاء ہم وزن لے کر خوب کوٹ پیس لیں اور پانی کی مدد سے جنگلی بیر کے برابر گولیاں تیار کر لیں۔
​خوراک: ایک گولی صبح نہار منہ اور ایک گولی عصر کے وقت پانی کے ساتھ۔
​افادیت: یہ نسخہ سوداوی تبخیر کے لیے چوٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ بادی بواسیر کا مکمل خاتمہ کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فاسد بخارات کو دماغ کی طرف چڑھنے سے روکتا ہے۔ یہ لاکھوں مریضوں کا آزمودہ راز ہے۔
​(نوٹ: مریض کی حالت کے مطابق قبض کشائی کے لیے غدی عضلاتی مسہل یا گرم تر ہاضم ادویات کا استعمال کروایا جا سکتا ہے۔)
​تبخیرِ معدہ کی دیگر اقسام اور صورتوں پر انشاء اللہ آئندہ نشست میں گفتگو ہوگی۔

​تحریر:
حکیم ڈاکٹر امان اللہ خان




#حکمت


14/01/2026

الحمدللہ: سفوفِ شوگرین کے بہترین نتایج مرتب ہورہے ہیں

آئینہِ مزاج اپنی فطرت کے پوشیدہ راز جانئیے​انسانی جسم قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی اپنی ایک زبان اور اپنا ایک آہنگ ہ...
02/01/2026

آئینہِ مزاج
اپنی فطرت کے پوشیدہ راز جانئیے
​انسانی جسم قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کی اپنی ایک زبان اور اپنا ایک آہنگ ہے۔ طبِ قدیم کی رو سے ہر انسان ایک خاص "مزاج" (Temperament) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ مزاج ہی وہ کلید ہے جس سے آپ کی صحت، پسند و ناپسند اور جذباتی کیفیات کے دروازے کھلتے ہیں۔
​کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا جسم آپ سے کیا کہہ رہا ہے؟ آئیے، چند لمحوں کے لیے اپنی ذات کے روبرو ہوں اور اس مختصر سوالنامے کے ذریعے اپنے مزاج کا تعین کریں:
​1. قوتِ عمل اور جسمانی توانائی:
(A) میں ہر دم متحرک اور سرگرم رہتا ہوں (آتش صفت)
(B) طبیعت متوازن رہتی ہے، کبھی تھکن، کبھی چستی (ہوا صفت)
(C) اکثر اعصاب پر تھکن طاری رہتی ہے (آب صفت)
(D) سستی غالب رہتی ہے، آرام زیادہ عزیز ہے (خاک صفت)
​2. خواب و بیداری (نیند):
(A) نیند کم مگر انتہائی گہری آتی ہے
(B) نیند درمیانی اور پرسکون ہوتی ہے
(C) نیند کا غلبہ رہتا ہے، بہت زیادہ سوتا ہوں
(D) نیند کچی ہے، بار بار آنکھ کھل جاتی ہے
​3. کیفیاتِ قلب (جذبات):
(A) اشتعال اور غصہ جلد آتا ہے
(B) ہنس مکھ، ملنسار اور خوش مزاج
(C) سنجیدہ، خاموش طبع اور گہرے
(D) دھیما مزاج، سست اور لاپرواہ
​4. موسموں کا اثر:
(A) سردی بھلی لگتی ہے
(B) معتدل موسم پسند ہے
(C) گرمی میں سکون ملتا ہے
(D) خشک موسم راس آتا ہے
​5. غذائی رغبت:
(A) ٹھنڈی تاثیر والی اور نرم غذائیں پسند ہیں
(B) گوشت اور طاقتور غذائیں مرغوب ہیں
(C) گرم اور ہلکی پھلکی غذا پسند ہے
(D) ترش (کھٹی) اور خشک چیزیں پسند ہیں
​نتیجہ کیا نکلا؟
اگر آپ کے جوابات میں (A) زیادہ ہے: تو آپ "صفراوی" (گرم و خشک) مزاج کے مالک ہیں۔
اگر (B) زیادہ ہے: تو آپ "دموی" (گرم و تر) مزاج رکھتے ہیں۔
اگر (C) زیادہ ہے: تو آپ "بلغمی" (سرد و تر) فطرت کے حامل ہیں۔
اگر (D) زیادہ ہے: تو آپ "سوداوی" (سرد و خشک) مزاج رکھتے ہیں۔
​اہم نوٹ:
یاد رکھیں! انسانی مزاج جامد نہیں ہوتا۔ آب و ہوا، ذہنی پریشانیوں، خاندانی حالات اور خوراک کے زیرِ اثر اس میں تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔
​علاج بالغذِا کا کمال:
دواؤں کے انبار سے بچیں! اپنے اصل مزاج کی شناخت کریں اور کسی ماہر طبیب کے مشورے سے اپنی خوراک (Diet) منتخب کریں۔ یقین جانئے، صرف غذا کی تبدیلی سے پرانے اور ضدی امراض کا خاتمہ ممکن ہے۔

حکیم ڈاکٹر امان اللہ خان ✍️

مزید مفید طبی مشوروں کے لیے ہمارا پیج فالو کریں اور کمنٹس میں بتائیں کہ آپ کا مزاج کیا نکلا؟

Address

Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923454117773

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Matab DarulKidmat مطب دارالخدمت posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Matab DarulKidmat مطب دارالخدمت:

Share

Category