23/05/2026
جسم میں تیزابیت، خراب ہضم، خمیر اور تعفن آپس میں جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ جب معدہ اور آنتیں غذا کو صحیح طرح ہضم نہیں کرتیں تو کھانا اندر پڑا رہ کر پہلے خمیر بناتا ہے، جس سے گیس، اپھارہ، کھٹی ڈکاریں اور پیٹ میں گڑگڑاہٹ پیدا ہوتی ہے، اور اگر یہی کیفیت بڑھ جائے تو تعفن پیدا ہونے لگتا ہے جس کی علامت بدبودار گیس، منہ کی بو، جسمانی بھاری پن، جلن اور سستی ہوتی ہے۔ خون صرف عضلاتی تحریک سے نہیں بنتا بلکہ صاف خون بننے کے لیے معدہ، جگر، آنتوں اور غذا کے درست ہضم و جذب کا درست ہونا ضروری ہے۔ جب معدہ خراب ہو، قبض ہو، یا جسم میں خمیر و تیزابیت بڑھ جائے تو نیا اور صاف خون بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے معدہ اور آنتوں کی اصلاح ضروری ہے۔ نہار منہ نیم گرم پانی میں لیموں یا اصلی سیب کا سرکہ، اور کھانے کے بعد سونف، اجوائن اور زیرہ کا استعمال ہاضمہ بہتر کرتا اور ریاح کم کرتا ہے۔ چینی، میدہ، باسی غذا، کولڈ ڈرنکس اور رات دیر سے کھانا خمیر کو بڑھاتے ہیں، اس لیے ان سے پرہیز ضروری ہے۔ دیسی طب میں معدہ کو بیماریوں کی جڑ کہا گیا ہے، کیونکہ جب معدہ اور جگر درست ہوں تو خون بھی بہتر بنتا ہے، اعصاب بھی متوازن رہتے ہیں اور جسمانی کمزوری و کھچاؤ بھی کم ہونے لگتے ہیں۔ طبِ نبوی، سادہ غذا، مناسب نیند اور ذہنی سکون مل کر جسم کو اندر سے درست کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔