National Homoeopathic Clinic

National Homoeopathic Clinic ⭐⭐⭐⭐⭐

"Welcome! Dr.Sohail Ahmed, a passionate classical homeopath with international clinical experience. Restoring health naturally.

My journey blends conventional medicine principles with holistic approaches. For appointment: 03253100003📲

02/05/2026

جواں سالہ بیٹے کی موت کا صدمہ اس قدر گہرا ہوا، جو شوگر 30 سال سے انسولین کے ساتھ کنٹرول میں تھی، پراسٹیٹ انگریزی دوائیوں کے ساتھ Manage ہو رہا تھا، گردوں کی رپورٹیں اور بلڈپریشر Nephrologist کے تابع manage ہو رہا تھا، بیٹے کے بچھڑنے کے غم نے ایک ایک فنکشن اور آرگن ہِلا کر رکھ دیا، سب آؤٹ آف کنٹرول کر دیا۔ جسم پر Edema اور Creatinine بڑھا دیا، Hba1c بڑھا دیا، پوٹاشیم بڑھا، Benign Prostate Hypertrophy-BPH میں شدت پیدا کر دی، قصہ المختصر بقولِ مریض کہ سارا جسم تکالیف سے نڈھال اور مردہ نُما کر دیا۔ جو چیز مریض کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن تھی وہ شوگر کا رات کو اچانک اتنا Low ہونا کہ بیہوشی اور بے جان سی کیفیت طاری ہو جانا، لرزہ، کپکپی، جسم میں ٹھنڈے پسینے آنا شامل تھا، اور aggravation کا کوئی طے شدہ وقت بھی نا تھا، مریض بتاتا ہے جب میرا بیٹا فوت ہوا تو میں نے دلبرداشتہ ہو کر آفس جانا چھوڑ دیا، جبکہ میری 19th گریڈ میں پرموشن قریب تھی، مجھے دوستوں کے کئی بلاوے آئے کہ صوبائی سیکرٹری نے پروموشن کے لیے میٹنگ کال کی ہے مگر میں دوبارہ کبھی محمکے کو جوائن نہیں کرنا چاہتا تھا۔ دوستو اس کیس میں ہم اکیوٹ اور کرونک ، دونوں حالتوں کو reverse کرنے اور مریض کی صحت اور انرجی بحال کرنے کی منطق جانتے ہیں۔ ایک cause/Iteology دو سال پرانا (Chronic Grief) صدمہ,, اور دوسرا factor Regret, اس مریض کا سب سے بڑا مسئلہ ہے Past , جب تک یہ ماضی میں رہے گا پچھتاوا دماغ پر قابض رہے گا، ہم نے فزیکل ایگزامن کر کے دیکھا کہ مختلف حصوں پر Edema موجود ہے مگر شدت زیادہ نہیں ہے بلکہ استسقاء ایک ہی حالت پر برقرار ہے۔ خصوصاً آنکھوں کے گرد، ہم نے ہسٹری مکمل کرنے، ناک اور آنکھوں کی لائنیں کنفرم کرنے کے بعد مریض کو روزانہ Natrum mur 30 دن میں 2 بار تجویز کرنے کا فیصلہ کیا، ساتھ اس کو گُردوں، اڈیما اور یورینری retension کے کیسز میں کمپلیمنٹ کرنے والی چوٹی کی دوا Apis 30 کا سہارا دیا۔ دوستو کیا آپ جانتے ہیں کہ نیٹرم میور میٹابولزم پر کام کرنے والی دوائیوں کی سرتاج دوا ہے؟ یہ Hyper-insulinemia, اور Hypo-Insulin دونوں فنکشنل خرابیوں کو اعتدال پر لاتی ہے، جس سے اچانک شوگر بڑھنے اور گھٹنے والے مریض فوراً رزلٹ حاصل کرتے ہیں۔ اور ایسے میٹابولک خرابیوں کے شکار مریضوں کے موٹاپا کو بھی Natrum Mur تیزی سے رفع کرتی ہے۔ میرے معزز قارئین کیا آپ جانتے ہیں کہ نیٹرم میور Low Blood pressure اور High Blood pressure دونوں کو کنٹرول کرتی ہے؟ وہ Anemic مریض جن کا BP خون کی کمی کی وجہ سے Down رہتا ہے ان کو بھی اعتدال پر لاتی ہے اور وہ مریض جن کا Blood Pressure الیکٹرولائٹس Electrolytes, واٹر بیلنس اور گردوں کی فنکشنل خرابیوں کےسبب ہائی رہتا ہے ان کو بھی اعتدال پر لاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ تمم کیمیکل میکانزمز اور فنکشنز میری وال پر موجود آرٹیکل (نیٹرم میور) میں ہم تفصیلاً ڈسکس کر چکے ہیں۔ مریض کے ایکسز میں شدید گرمی، شدید پیاس، تھکن، اور خشکی کے باعث ضدی قبض شامل تھی۔ اس کیس کو شئیر کرنے کا ایک ہی مقصد تھا کہ ہم کیسے Iteology کو سمجھ کر رزلٹس برآمد کر سکتے ہیں، مریض خود بتا رہا ہے کہ اب میرے جسم میں جیسے جان آ گئی ہو، مریض کا پیشاب نہیں رُکتا، جلن اور رکاوٹ نہیں ہو رہی، انسولین کے پوائنٹس بھی اب آدھے لگا رہے ہیں، رات کو اچانک شوگر Collapse نہیں کرتی، مریض اب اپنی صحت کو انجوائے کرنے لگا ہے، حتٰی کہ بیف بھی انجوائے کر لیتا ہے، مگر ہم نے منع کر رکھا ہے۔ ضلع شیخوپورہ سے ہر 15 دن بعد باقاعدہ فالواپ لیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمیں مریض بھی ریفر کرنے لگا ہے، جبکہ اِن کو لاہور میں مقیم ان کی بیٹی اور داماد نے ریفر کیا تھا۔






اللّٰہ کریم نے میری مریضہ  کو ہومیوپیتھک علاج سے  Conceive کرنے کی خوشی عطاء کر دی ۔   ♥️
22/04/2026

اللّٰہ کریم نے میری مریضہ کو ہومیوپیتھک علاج سے Conceive کرنے کی
خوشی عطاء کر دی ۔

♥️

حسبِ معمول سہ پہر 4 بجے اپنی opd میں مریضوں کے ساتھ مصروف تھا،  میرے معزز قارئین یہ آرٹیکل آخر تک پڑھنے والوں کے لیے خزا...
06/04/2026

حسبِ معمول سہ پہر 4 بجے اپنی opd میں مریضوں کے ساتھ مصروف تھا، میرے معزز قارئین یہ آرٹیکل آخر تک پڑھنے والوں کے لیے خزانہ ثابت ہو گا، انشاءاللہ۔ اچانک بغیر اپوائنٹمنٹ دو افراد ایک 75 سالہ بزرگ ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوسرا اُن کا جواں سالہ بیٹا، دونوں کلینک میں داخل ہوئے اور خاموشی سے کلینک کی انتظارگاہ (waiting area) میں براجمان ہو گئے، جب باری آئی تو دونوں کافی گرمجوشی سے مِلے اور صوفوں پر بیٹھ گئے، ڈاکٹر صاحب اپنا تعارف کروانے لگے کہ میرا نام ہومیو ڈاکٹر (ا ب ج) ہے اور میں فلاں ضلع (س ر گ) سے آیا ہوں، آپ یہ بتائیں کہ آپ کے تجربہ میں کوئی ایسی میڈیسن جو کنفرم اور پکا کینسر کا علاج ہو؟ میں حیرت سے ان کا منھ تکتا رہ گیا، میں نے کہا کہ آپ یہ کس لیے اور کِن کے لیے پوچھ رہے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب شاید بتانا نہیں چاہتے تھے، پھر ان کے بیٹے کے یہی سوال دہرانے پر میں نے بتایا کہ اس طرح کینسر کا کوئی بھی مصدق علاج نہیں ہے، جب تک میرے سامنے مریض نہیں ہو گا کچھ بھی بتانا فضول اور غیر حقیقی ہے۔ میرے سامنے مریض لے آئیں میں آپ کی مکمل معاونت کر دیتا ہوں۔ مگر ڈاکٹر صاحب وہی بات دہرا رہے تھے کہ آپ ہمیں کینسر کی کنفرم دوا بتائیں۔ یقیناً ڈاکٹر صاحب مجھے کافی پریشان لگ رہے تھے اور میں سمجھ چکا تھا مریض انھی کا فیملی مِمبر ہو گا، بیٹے نے پوچھا اگر ہم رپورٹ کی تفصیل بتا دیں تو آپ علاج بتا دینگے؟ میں نے دل توڑنے سے گریز کیا اور اپنا ہی اصول توڑ دیا، کہا جی بتائیں جو کچھ آپ کو معلوم ہے۔ ڈاکٹر صاحب مریضہ کی عمر پینسٹھ سال ہے ان کو مثانے کا کینسر ہے، Biopsy میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ سب سُننے کے بعد مجھے حیرانگی اس بات پر تھی کہ ایک ہومیو ڈاکٹر جن کا تجربہ غالباً نصف صدی سے زیادہ ہو گا اور وہ کینسر جیسی بیماری کا علاج پوچھنے آئے ہیں جبکہ اکتفا صرف مریضہ کی عمر، اور بیماری کے نام پر کر رہے ہیں۔
اللہ گواہ ہے میں نے چھے قدم آگے کا سوچ کر کہا بظاہری طور پر مجھے لگتا ہے مریضہ کو Thuj.Oc 30 کی ایک خوراک دینی چاہیے اور پھر ایک دو ہفتے انتظار کریں۔ ڈاکٹر صاحب فوراً کہنے لگے یار یہ تو موہکوں کی دوائی ہے، میں نے بھی سارے مٹیریا چھان مارے ہیں مگر یہ دوا نہیں بنتی، میں نے کہا جناب آپ میرے سامنے براجمان ہیں میں ابھی ہسٹری لیے بغیر آپ کی دوا بتا سکتا ہوں، یہی فرق ہے مریضہ کی موجودگی اور عدم موجودگی کا، اگر آپ اطمینان حاصل نہیں کر پائے تو مریضہ کو میرے کلینک لے آئیں۔ سینکڑوں مٹیریا پڑھنے یا رٹہ لگانے سے فرق نہیں پڑتا، جب بات ہی اسباب مرض پر ختم ہو گی تو پھر وہی شاہی علامت تصور ہو گی، اسی دوران بیٹا خود ہی کہنے لگا ڈاکٹر صاحب والدہ کو اکثر بار بار UTI ہوتا تھا تو ادھر سے ایلوپیتھک علاج کرواتے تھے۔ اور والدہ کو ریلیف مل جاتا۔ میرے معزز قارئین بیٹے کے اس ایک فقرے وقتی ریلیف ریلیف اور ریلیف نے میرے زہن کے سارے دریچے روشن کر دیے، اب آپ بتائیں اگر UTI ہی ہوتا تو کیا اتنا لمبا عرصہ وہ ادھر ہی رہتا؟ وہ تو تھا ہی Hidden Gonorrhea جو سالوں تک دبتا suppress ہوتا رہا، اور ایک سے بڑھ کر ایک اینٹی بائیوٹک اور سٹیرائڈ استعمال ہوتے رہے، ایک ٹائم آیا دبا ہوا سوزاک Suppressed gonorrhea مثانے کے کینسر میں بدل گیا، اور یہی ہومیوپیتھی کا فلسفہ ہے، میرے محترم ہومیوپیتھس میرا بیشتر بزرگ ہومیوپیتھس کے ساتھ بیٹھنے کا تجربہ بڑا شرمسار اور خفا ہونے والا رہا ہے، اس لیے میں بزرگ ہومیوپیتھس کی بیٹھکوں میں جانے سے کترانا ہوں کیونکہ یہ نا تو میازم سمجھتے ہیں اور نا ہی مرض کی Etiology, جبکہ ہومیوپیتھی اول و آخر بات ہی میازم/ اسباب کی کرتی ہے۔ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کلاسیکل ہومیوپیتھس جانتے ہیں کہ دبے ہوئے سوزاک suppressed gonorrhe کی سب سے پہلی اور بڑی دوا Thuj.oc ہی ہے۔ اور اس Etiology کے بعد زیادہ تر پیتھالوجی مردوں میں پراسٹیٹ کینسر جبکہ عورتوں میں مثانہ، رحم uterus اور بیضہ دانی (ovaries) اور بریسٹ کے کینسر، رسولیوں اور دیگر بڑھوتری growth کی صورت میں اُمڈ آتی ہیں۔ اب چاہے سوزاک دبنے کے بعد کینسر/ٹیومر مثانے کا ہو یا یوٹرس کا، یا پھر بریسٹ میں ہو، حتٰی کہ سپریشن کے بعد آنے والی جسم پر ہر Growth کی پہلی سرفہرست دوا thuj.oc ہی ہے۔ اللہ کرے کہ میری یہ تحریر متاثرہ ڈاکٹر صاحب بھی پڑھیں کیونکہ میں ڈاکٹر صاحب کا دل توڑنے اور کلینک میں موجود اپنے مریضوں کو ڈسٹرب کرنے سے بچانے کی خاطر یہ سب ان کو اس وقت سمجھا نہیں سکا، دوستو ہومیوپیتھی پری کینسر اور ابتدائی سٹیج پر کرشماتی نتائج دیتی ہے، مگر جب بات ثانوی اور آخری سٹیجز پر آ جائے تو پھر بات فقط سروائیول، مضراثرات کو کم کرنے تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی کینسر کو fix دنوں یا شیڈول تک مات دینے کا دعوٰی کرتا ہے تو وہ سراسر جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، وہ سوشل میڈیا پر دعوہ تو کر سکتا ہے مگر وہ ثابت نہیں کر سکتا۔ میرے پاس سب افلاطونوں کے مریض ریفر ہو کر آتے ہیں مجھے معلوم ہے وہ مریض کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ میں خود بھی مریض کو اتنی ہی آس امید دلاتا ہوں جتنا سچ ہو، مگر الحمداللہ میں اس بات پر متفق اور تیقن رکھتا ہوں کہ جو مریض کیموتھراپی، ریڈی ایشن کے ہتھے چڑھ کر دو تین سال میں گزر جاتا ہے وہ ہومیوپیتھک علاج کے سہارے موازناتی طور پر پندرہ بیس سال بھی گزار سکتا ہے اور وہ بھی توانائی کے ساتھ، اب ہم اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں،
دوستو! آپ کے پاس ہمیشہ دو طرح کے Thuja کے مریض آئیں گے، ایک وہ مریض جو کسی جسمانی بیماری کا غلط علاج یا دبنے سے آنے والی حالت میں تھوجا دے دینے کا تقاضا کرے گا، جبکہ دوسری خاص typical پکچر ایسی آئے گی جو اپنے ازلی کونسٹیٹیوشن کو ظاہر کرے گا، دوستو تھوجا جس محور یا مرکز کے گِرد گھومتی ہے وہ مرکز ہے دھوکہ Deceit یہ مریض بیک وقت مکار، فریبی، ملعون اور کاذب ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ کچھ ماہ کی وابستگی اور ایک خاص مشن سے آپ کو محسوس ہو گا یہ سب کرتوتیں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں کونسٹیٹیوشنل تھوجا میں بیک وقت implement ہو رہی ہوتی ہیں، تھوجا شخص سے وابستہ انسان کو ان باتوں کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب وہ اسی شخص سے پِیٹھ پر ٹھُڈا کھا کر گٹر میں جا گِرتے ہیں باتوں، مشن یا بہکاوے میں آ کر وہ اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ اور تھوجا کی یہی خصوصیات ہیں جس میں وہ اگلے انسان کو پتہ تک چلنے نہیں دیتا کہ اس کے اندر چل کیا رہا ہے۔ اسی لیے زیادہ تر تھوجا کو سوزاک gonorrhea کی تشخیص ہی نہیں ہوتی، اِدھر بھی Gonorrhea زندگی بھر hidden پوشیدہ ہی رہتا ہے جیسے اس کی حرکتوں اور کردار کا آخر تک کسی کو پتہ نہیں چلتا، سوائے اس victim کے جِس کو ایک خاص انداز میں دھوکہ ملنے پر پالا پڑتا ہے۔ اسی طرح تھوجا کو 90% ہومیوپیتھس بھی سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، یہ خاموشی، آئیں بائیں شائیں اور لاجوابی کی وجہ سے خود کو معصوم ظاہر کرنے اور ڈاکٹر کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ معزز ہومیوپیتھس اور میرے قارئین! آپ تھوجا میں اُمڈ کر آنے والی ایک ہزار حالتیں یا بیماریاں لے آئیں سب کی سب تھوجا کے ملعون کردار کی بدولت اِک خاص پیٹرن سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِن کے زیرِ اثر ملازمین، عملہ، ہمسائے، سٹوڈینٹس، رشتہ دار حتٰی کہ اس کے اپنے بیوی بچے بھی اس کے دھوکہ، فریب اور مگر سے محفوظ نہیں رہ پاتے، دستو میں نے اوپر اِک خاص پیٹرن کا زکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تھوجا کا مزاجی مریض جیسے جیسے دھوکہ فریب، تخریب کاریوں اور جھوٹے مشوروں میں آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے جسم میں خبیث قسم کی گلٹیاں، وریدوں اور شریانوں کا بے ترتیبی سے پھولنا، جسم پر موہکے مسے، اور سیاہیوں کا اُمڈ آنا شامل ہے۔ کبھی آپ نے victims کے منھہ سے یہ فقرہ سُنا ہو گا " اس کا چہرہ لعنتوں سے بھرا ہوا ہے" دوستوں یہی وہ تھوجا ہوتا ہے جو معاشرے میں بدنام ہو جاتا ہے اور ہر ایک کی بد دعاوں، گالیوں اور لعنتوں کا رُخ اس طرف ہو جاتا ہے۔ جب تک اس کے شکار کم ہوتے ہیں تب تک یہ survive کرتا ہے جب اس کی یہ خاص گناہوں والی nature اور حرکتوں کا معاشرے کو ادراک ہونے لگتا ہے لوگ اس سے دور بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ تعلقات توڑنا شروع کر دیتے ہیں یہ سماجی طور پر تنہا رہ جاتا ہے، پھر یہ اس جگہ سے دور بھاگتا ہے اور ان حرکتوں کے لیے کوئی نئی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اس کے لیے سب کچھ نیا ہو اور یہ دوبارہ اپنی زبان، کان، دل اور دماغ سے یہ سب نئے سِرے سے جاری و ساری رکھ سکے، دوستو یہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے پر قادر ہوتا ہے، یہ اپنی شاطرانہ چالوں اور تخریبی زہن کی بدولت سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کر دیتا ہے اور آپ کو تھوجا سیکھنے کے لیے میرے یہ الفاظ یاد رکھنا ہونگے، میرا زندگی میں دو تھوجاؤں سے واسطہ پڑا تھا اور میں ابھی تک سکون ڈھونڈ رہا ہوں 😀 مگر ہم نے ان کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا، یہ اکیلا کاروائیاں نہیں کرتا بلکہ ایک پورا ماحول تخلیق کرتا ہے اور یقیناً آخر کار ہر ناجائز اور ناحق ماحول نے مٹنا ہی ہوتا ہے یوں جب اس کا حصار ٹوٹتا ہے تو پھر درجنوں لوگ اس کی مخالفت میں سامنے آتے ہیں اور یہ وہاں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے یا پھر دنیا ہی چھوڑ جاتے ہیں آپ جانتے ہیں اللہ بھی بندے کی رسی کھلی چھوڑ دیتا ہے اور جب وہ حد سے زیادہ تجاوز کرتی ہے تو پھر پکڑ ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ پکڑ کینسر کی شکل میں ہی ہو۔ دوستو تھوجا ایک اینٹی سائیکوٹک ریمڈی ہے، سورا سے دب کر آنے والی بے تحاشہ حالتیں اسی دوا سے ٹھیک ہوتی ہے۔ یہ تھوجا کی پیتھالوجی کا ایک الگ رُخ ہے ہمیں فقط دو پیٹرن یاد رکھنا ہونگے، پھر ہی ہم دنیا میں اپنی دھوم مچا سکتے ہیں، یہاں یہ بات قابلِ رشک ہے کہ آپ میڈورینم کا ٹیسٹ کروائیں، ایسڈ نائٹرک کا کروائیں یا پھر ایگنس کاسٹس کا gonorrheal کلچر کروالیں، سب کی تشخیص ہو جائے گی، مگر مجال ہے جو تھوجا کا Hidden gonorrhea سامنے آ جائے۔ دوستو یہی ہومیوپیتھی کی خوبصورتی اور تھوجا کی پروونگ کی صورت میں عظیم ہانیمن کا ہم پر احسانِ عظیم ہے،
ہماری دوائیاں کیسے سائنٹفک میکانزم سے جسم اور بیماری کی تال میل میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔ نکالیں تھوجا کی ڈرگ پروونگ اور دیکھیں سارا انسائیکلوپیڈیا، کہ کیسے تھوجا نے خام حالت میں ایک صحت مند عورت اور مرد کے اعضاء کو متاثر کیا، لمف نوڈ کو پھیلا دیا، پورے جسم کے مختلف اعضاء میں لمف نوڈ پھول گئے، جس کی بدولت خصیے te**es, بیضہ دانیاں ovaries, پراسٹیٹ گلینڈ، پستان breasts اور دیگر ملحقہ اعضاء تک سوزش و کینسرس گروتھ نے جنم لیا۔
تھوجا کے پودے کے اندر ایک کیمیکل پایا جاتا ہے جس کا نام ہے تھوجون Thujon پروونگ کے وقت ایسی کیمیکل کی بدولت صحت مند انسانوں کے لمف نوڈ پھول گئے، اور جسم میں اِسی سے متعلقہ حساس اعضا میں گلٹیاں، اور بے ترتیب بڑھوتری نوٹ کی گئی۔ ا
قصہ المختصر تھوجا کا جسم جب تک ان حالتوں کا بوجھ برداشت کرتا ہے تب تک رعایت رہتی ہے جیسے ہی ردِعمل شروع ہو تو پھر جسم پر ایسی ایسی نامراد گلٹیاں اور سوزشیں ظاہر ہوتی ہیں جو مسلسل دب کر Proliferative cells کو دعوت دیتی ہیں جس کی ابتدا Lymph node میں سوزش کی صورت میں ہوتی ہے، اگر آپ انسانی جس کی ساخت Anatomy اور افعال Physiology کے ساتھ ہومیوپیتھک ڈرگ پروونگ کو سمجھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تھوجا کے مریض کو ہر اس آرگن کا کینسر ہو سکتا ہے جہاں جہاں سے لمفاوی غدود Lymph nodes گزرتے ہیں۔ اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں سمجھنے کی بات ہے، بار بار بیکٹیریا، وائرس، ییسٹ، کو ختم کرنے کی بجائے سپریشن کا سہارا لیا جائے تو Lymphocytes کا response کیا ہو گا؟ ہمارے جسم کا امیون سسٹم لمف نوڈ Lymph nodes پر انحصار کرتا ہے جو ہمیں بار بار ہونے والی مختلف انفیکشنز ، سوزش سے بچنے اور لڑنے میں مدد دیتا ہے، اور یہ wbc کا مسکن ہوتا ہے یہ ایک چھاننی کی طرح فلٹر کا کام کرتے ہیں، جب ہمارے جسم کا کوئی بھی فلوئڈ fluid ان میں سے گزرتا ہے تو یہ بیکٹیریا، وائرس، اور باقی طرح کے نقصان دہ toxic مادوں کو پکڑ کر خون میں شامل ہونے سے روک دیتا ہے، چونکہ ان میں WBC وائٹ بلڈ سیلز موجود ہوتے ہیں یہ سیلز کینسر زدہ خلیات Proliferative cells کو روکنے اور انہیں تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب بار بار UTI, یا Hidden Gonorrhea کو جڑ سے ختم کرنے کی بجائے سپریس کیا جائے تو WBC مخالف سیلز کے سامنے کمزور پڑنے لگیں گے، جسم کی امیونٹی کمزور سے کمزور تر ہوتی جائے گی، اس کے ردعمل میں لمف نوڈ بار بار لوڈ برداشت نہیں کر پاتے اور سوجن swelling شروع ہو جاتی ہے، اور یہ سوزش بآسانی اپنے قریبی اور حساس اعضاء بریسٹ، اووریز، ٹیسٹیز، پراسٹیٹ گلینڈ، ویجائنا، یوٹرس اور جبڑوں تک پھیل جاتی ہے یہی سوزش کچھ عرصے میں کینسر بن جاتی ہے۔ دوستو اس سے ایک بات تو کنفرم ہے کہ جہاں جہاں لمف نوڈز کی رسائی ہے وہاں وہاں کرونک سوزش اور کینسر ہو سکتا، اس بات کا انحصار مریض کی کئیر، ڈاکٹر کی سجھ بوجھ پر کرتا ہے، مگر ایک ایلوپیتھ یہ سب کیسے سمجھے؟ لحاظہ یہ بھی ثابت ہوا کہ 80% کینسر سپریشن suppression کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک ایلوپیتھگ ڈاکٹر کینسر کے مریض میں بار بار wbc تو چیک کرتا ہے مگر وہ یہ بات سجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ ان سیلز کو کمزور کس نے کیا تھا؟ 😃 حیرت ہے اس کا ذہن اس طرف جاتا ہی نہیں کہ اینٹی بائیوٹک نے نا تو uti ختم کی اور نا ہی اس کی رسائی hidden gonorrhea تک تھی بلکہ اس نے مریض کے امیون سسٹم کو تباہ و برباد کر دیا جو کہ اللہ نے ایک خاص انداز اور خوبصورتی سے جسم میں لوڈ کیا تھا۔ میرے معزز قارئین نکالیں اپنی اپنی ریپرٹریز repertories اور کھولیں یہ چیپٹرز، پھر سب کو بتائیں کہ لمف نوڈ، سوزش کی دشمن اور کینسر کی گلٹیوں کی سب سے بڑی دوائی Thuja.oc ہی ہے یا نہیں۔ میری پریکٹس کی سب سے خاص بات یہی ہے کہ میں اصلی تھوجا کا حافظ ہوں😃، جبکہ میرے نزدیک نقلی تھوجا موہکوں کی دوائی ہے۔ خیر یہ تو مزاح کی بات بھی ہے، میں نے اللہ کے حکم سے عورتوں کی ان بیماریوں کا قلع قمع کرنے کے حوالے سے شہرت پائی جس میں دوسرے طبقے کے نزدیک سرجری پکی must ہوتی ہے، مثلاً فائبرائڈ، گلٹیاں، پولپس، تھیلیاں، ہر طرح کی اندرونی سوزش، یاد رہے آپ تھوجا کو زیادہ تر کرونک حالت میں شمار considere کرینگے یا کوئی ایسی حالت cause جو اصل بیماری کے پیچھے کافی عرصے سے کارفرما ہو جیسے سپریشن یا کوئی ویکیسینیشن وغیرہ یعنی ہر وہ cause جو امیون سسٹم کو ڈیمج کر دے۔ ایکیوٹ سوزش میں تو یہی حالتیں یا بیماریاں تو برائٹا کارب، آرم میٹ اور لیکسس میں بھی آ سکتی ہیں مگر ہم نے اوپر جو زائچہ بیان کر دیا ہے امید ہے وہ اس پولی کریسٹ دوا کو باقی دواؤں سے الگ کرنے میں مکمل معاونت دے گا, میں موہکوں کو فقط hint کے طور پر لیتا ہوں، وگرنہ تو موہکے مختلف شکلوں میں بے شمار دوائیوں میں پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے ہم نے تھوجا کی Etiology اور اصل میازم پر روشنی ڈالی ہے۔ تھوجا کو محض موہکوں کی دوائی کہنے والے اس پوسٹ سے خصوصاً مستفید ہوں۔ مثلاً دو ہفتے پہلے میرے پاس سٹیٹ لائف ہاؤسنگ سوسائٹی سے ایک 26 سالہ لڑکی آئی جس کو right lateral Lipomatosis گروتھ کے باعث اس کا رائٹ Buttock پھیلتا جا رہا تھا اور نسوانی تقاضوں کے خلاف باہر کی طرف بڑھتا جا رہا تھا اور دبانے پر اس کے اندر ایک موٹی بڑے سائز کی گلٹی ظاہر ہو رہی تھی، مریض کافی پریشان تھی، میڈیکل ہسٹری پوچھنے پر مریضہ نے بتایا کہ وہ کچھ ماہ سے سر درد کے لیے مسلسل Arinac لے رہی تھی، اس کے درمیان میں ہی یہ شروع ہوا، میں نے بہت ساری ہسٹری لی، مگر اس کے شروع میں بولے گئے چند فقروں کی اندر ایک ہِنٹ نے مجھ پر تھوجا کو پانی کی طرح واضح کر دیا۔ میں نے اس مریضہ کو سکین تک کروانے سے منع کر دیا، فقط اس لیے کہ میں عملی اور مالی طور پر بھی خود کو اس مریضہ کا بطور ہومیوپیتھ منتخب کیے جانے کا فائدہ پہنچا سکوں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں لیب ٹیسٹ نہیں کرواتا۔ آج بروز بدھ وہ مریضہ دوسرے وزٹ پر کلینک آئی اور کہنے لگی ستر فیصد سوزش اور گلٹی زائل ہو چکی ہے۔ البتہ حرکت پر درد ہے۔ اس کیس پر آپ لگتا ہو گا کہ میں تو اپنی تحریروں میں گھنٹہ مریض کی ہسٹری لینے کی بات کرتا ہوں تو پھر یہاں خلاصہ کیوں؟ میرے قارئین کرام ہر کیس کو الف سے ے تک بتانا لازم نہیں ہوتا، محض اس کیس میں چھپا راز اور دوا کا محور سمج آ جائے تو یہی کافی ہے۔ اور میرا اتنی لمبی تحریروں کے پیچھے مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔ وگرنہ تو یہ آج کا تھوجا کا ایک تازہ فیڈبیک ہے میرے پاس سینکڑوں فیڈیکس اور الگ الگ زاویوں کے کیس موجود ہیں جن کو ادھر بیان کر کے آرٹیکل کی بجائے ایک کتابچے کی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایک بندے نے ایک بار کہا کہ میں آپ کی ایک 80 سالہ بابائے ہومیوپیتھ سے ملاقات کرواتا ہوں، میں نے ان کی عزت کی خاطر قبول کیا اور وہ میرے کلینک آ گئے جب وہ بابا جی نے سوال جواب شروع کیے تو میرا دل چاہا کہ میں کلینک بند کر کے گھر بھاگ جاؤں، ہومیو بابے نے میرے سے درجنوں سوال کیے سب کے سب نسخے اور ٹوٹکے پوچھنے میں گزار دیے۔ بٰخدا مجھے ایسے ٹوٹکوں کی محفل سے سخت بورنگ اور چِڑ چڑھتی ہے، ایک ینگ ہومیوپیتھ زندگی کے چند سالوں میں اس بات سے آشنا ہو سکتا ہے کہ حقیقی شفاء کے اصول اور طور طریقے کیا ہیں۔ تو کیا میرے بزرگ ایک صدی میں نہیں سمجھ سکتے؟ بہرحال دوستو میں نے کیپشن میں تین دوائیوں کا زکر کیا ہے، پہلی دوا Thuj.oc جو میرے استاد نے ایسے سکھائی کہ اگر رب زوالجلال نے مجھے آنکھیں یا روشنی نا بھی دی ہوتی تو میں مریض کے پہلے دو تین جملے بولنے سے ہی مُہر لگا کر اس مریض کو الگ کر لیتا، البتہ اس مقصد کے لیے میرے کان ضروری ہیں، کینسر کی دوسری بڑی دوا جس کا تفصیلی زکر تو اگلے آرٹیکل میں ہو گا، البتہ اللہ کریم نے مجھے سماعت یعنی کان نا بھی دیے ہوتے تو میں فقط اپنی آنکھوں سے مریض اور دوا کے درمیان مُہر لگا لیتا، مجھے مریض سے ایک بھی سوال کی ضرورت نا پڑتی۔ اور ہمارے کیپشن کے مطابق ہومیوپیتھی میں کینسر کی تیسری بڑی دوا ایسے سیکھی کہ اگر میری آنکھیں اور کان دونوں ہی نا ہوتے تو میں یہ دوائی فقط مریض کی خوشبو سے پہچان لیتا، جس کے لیے فقط میری سُونگھنے کی حِس یعنی ناک ضروری ہے۔ بلاشبہ میرے استاد نے مجھے اشارے سکھائے اور میں نے Love letter ہی سیکھ لیے۔ زندگی میں کبھی کسی بڑے پلیٹ فارم پر لیکچر دینے کا موقع مِلا تو یہ کینسر کی سب سے بڑی 3 دوائیوں کو صرف، آنکھ، کان، اور ناک کے سہارے الگ کرنا سکھاؤں گا۔ البتہ ابھی اس دوا کی Posology سکھا سکتا ہوں اس دوا کو ہمیشہ نچلی طاقت 30 میں پریفر کریں۔ زیادہ مستند معلومات اور مرض میں ایڈوانسمنٹ دیکھتے ہوئے 200 کا فیصلہ کریں۔ کیونکہ تھوجا کے مریض ہمیشہ advance پیتھالوجی لیکر آتے ہیں، کوئی ڈپریشن یا ocd لیکر نہیں آئے گا، ہومیوپیتھک لٹریچر، ماسٹرز کی تاکید اور میرا کلینکل تجربہ اسی اصول پر کاربند ہے کہ بیماری جتنی ایڈوانس، فزیکل اور اپنی جڑیں پھیلانے والی ہو گی پوٹینسی اتنی کم ہوتی جائے گی، اِک آسان سا اصول ہے۔ یوں فضول میں چند ہومیوپیتھس نے پوری قوم کے ہومیوپیتھس کو CM اور روزانہ 1M کے تڑکوں میں لگا رکھا ہے، اور سب کو ڈی ٹریک کر رکھا ہے، یہ سپریشن سے باہر نکل کر حقیقی شفاء کے اصولوں کو سیکھنا یا اپنانا ہی نہیں چاہتے۔ دوسرا اصول سب تھوجا تجویز کر دیں تو جلدی مت دہرائیں، مشاہدہ اور انتظار wait & watch پالیسی اپنائیں۔ کیونکہ تھوجا مرضیاتی حالت یا ظاہری تکلیف پر کام شروع کرنے سے پہلے میازمی بگاڑ، سپریشن کی رکاوٹوں اور systems کی تخریب کاریوں کو دور کرتی ہے۔ اس لیے یہ مرض (جس کی شدت یا مریض خود لیکر آتا) اس پر کام شروع کرنے یا ٹھیک کرنے میں ایک ہفتہ یا تین سے چار ہفتے لگا سکتی ہے۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں تھوجا کے دیر سے کام شروع کرنے کا تو لکھا ہوا مگر یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہوتا کیوں ہے، اور وہ وجہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ اس کی سپریشن کی cause بھی لمبی ہوتی ہے اور نتیجے میں آنے والا مرض بھی کرونک ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس سلفر کے چرچے بھی سُن رکھے ہونگے، جبکہ سلفر ایکیوٹ سپریشن کی کرونک دوا ہے۔ ظاہری external سپریشن پر سلفر کی پکچر واضح ہوتی ہے جبکہ میوکس ممبرینز یا وائٹل اعضاء کی سپریشن پر تھوجا کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔ مرض کوئی بھی اصل بات کیس کی نزاکت اور اسباب کو سمجھنے کی ہے۔
میں اکثر سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں کہ ہومیوپیتھس نے منافق یا دھوکا بازوں کی ایک دو دوائیاں اپنے زہن میں فِٹ کر رکھی ہیں اور وہ انھی کو ہر تحریر میں رگڑتے رہتے ہیں، جس میں سرفہرست بیچارا لائکوپوڈیم ہے۔ یقین کریں میں نے بڑے بڑے استاد نما ہومیوپیتھس کو دیکھا ہے، ان کو لائیکو کے علاوہ اپنا تعصب اور غصہ نکالنے کے لیے اور کوئی دوائی ہی نہیں مِلتی، دوستو ہماری دوائیوں کے محوارت اور مراکز اتنے سادہ نہیں ہیں کہ ان کو ایک ہی پہلو سے سمجھتے اور بیان کرتے پھریں۔ جیسا کہ لائکوپوڈیم کو منافقت کے ٹیگ میں روندا جاتا ہے۔ ہر دوا اپنی Etiology اور theme کے پیچھے مکمل پلوؤں سمیت چھُپی ہوتی ہے۔ جس کے مختلف زاویوں سے کئیلگا پہلو ہو سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے کولیگز کے ہتھے بس ایک پوائنٹ کہیں سےچڑھ جائے پھر وہ اس دوا کے اوپر ٹھپہ لگا کر جونئیرز اور طالبعلموں کو سیکھنے سے عاری کر دیتے ہیں۔ حالانکہ پتہ ان کو بھی نہیں ہوتا کہ یہ ماخذ آیا کیسے ہے۔ اور اس کے پیچھے کونسا میکانزم کار فرما ہے۔ البتہ ان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ Audience ان کے ایسے تڑکوں اور کہانی نما مثالوں کو پسند کرتی ہے۔ مگر وہ ہومیوپیتھک ادویات کو سائنسی نظریے کی شکل میں ثابت یا بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ دوستو ہم نے تھوجا کو اپنی پریکٹس کی روشنی میں دو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے ایک حالت مرضیاتی Nature کو mistreat کرنے اور بار بار وقتی افاقے لینے سے، جبکہ دوسری پکچر کونسٹیٹیوشنل تھوجا کی ہے۔ جب یہ مریض ہمارے سامنے آ کر بیٹھتا ہے تو اس کے عیب مکر و فریب اور دروغ گوئی deceitfulness کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں ؟ یقیناً ہم یہ سب پوچھ بھی نہیں پاتے، اور اس کے چہرے پر موجود سیاہیاں Blemishes, وارٹی خال اور tags دیکھ کر تھوجا کا ٹھپہ بھی نہیں لگا سکتے تو پھر ہم اس کی پہچان کیسے کریں ؟ دوستو اس کے لیے ایک ہومیوپیتھ کا غیرمعمولی زہین، باطن کو جانچنے کا ماہر ہونا ضروری ہے یا پھر دوسری صورت وہ جو میں آپ کو جلد کسی پلیٹ فارم پر سکھا دونگا، نا تو تھوجا اپنا آپ کہیں ظاہر کرتا بلکہ یہ یہ اپنی خبیث مرضیاتی گلٹیوں یا وریدی گروتھ کو بھی بتانے سے کتراتا ہے، چھپانا اور اگلے کو پرکھ کر دھوکہ دینا، یہی تھوجا کا خاصا ہے، اسی لیے زیادہ تر تھوجا کے مریض ایلوپیتھس سرجن کے پاس بھاگتے ہیں کیونکہ سرجنز کو اپنی فطرت بتانی نہیں پڑتی، اور نا ہی خود کے پرکھے یا مشاہدہ کیے جانے کا خوف ہوتا ہے، جبکہ کلاسیکل ہومیوپیتھ تو بہت کچھ پوچھ اور جان لیتے ہیں، ییی وجہ ہے کہ اکثر تھوجاوں کو آپ اکثر سرجریز کی طرف بھاگتے دیکھیں گے نا مشاہدے کا ڈر اور نا لمبا انتظار چونکہ یہ بار بار سپریشن کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے چند ماہ صبر ان کے بس کی بات نہیں ہوتی، یہ صرف مرض کا نام بتا کر حل چاہتے ہیں، جو کہ وہی ہومیوپیتھ کر سکتا ہے جو باطن تک غوطہ لگا کر کچھ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ بات موہکوں پر تو ختم ہونی نہیں، ہومیوپیتھی میں موہکوں کی بے تحاشہ دوائیں ہیں، تھوجا کی واحد اور مصدق سب سے بڑی پہچان بلکہ خزانہ ہم جلد سیکھیں گے ایک ہومیوپیتھک سیمینار کے اندر۔ جس کے بعد آپ اللہ کی قدرت اور کلاسیکل ہومیوپیتھی کی worth پر حیران رہ جائیں گے۔ تب تک میرے ساتھ جڑے رہیے، امید کرتا ہوں کہ آپ اس آرٹیکل سے بے حد مفید ہوں گے، اگر آپ کو یہ میرا یہ آرٹیکل انسانوں کی بقا و فلاح کے لیے فائدہ مند لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسرے لوگوں تک ضرور پہنچائیں شئیر کریں، تاکہ جلد کینسر میں نفع دینے والی ہماری دوسری بڑی ہومیوپیتھک دوائی پر جلد نیا آرٹیکل آ سکے۔ اور ہمیشہ کی طرح میری حوصلہ افزائی کرنے اور اپنی رائے دینے سے گریز نہیں کیجیے گا، یہی میری کمائی ہے جو آپ سے اس محنت کی بدولت چند الفاظ سُن لونگا۔

دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ حافظ

تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

Alhamdulillah ! 15000 followers 🤍🙏Thanks for follow us.
06/04/2026

Alhamdulillah ! 15000 followers 🤍🙏
Thanks for follow us.

❣️ عید مبارک ۔۔۔
21/03/2026

❣️ عید مبارک ۔۔۔

اسلام علیکم میرے معزز قارئین! اپنی کلینکل پریکٹس میں بے تحاشہ مریضائیں ٹھیک کرنے کے باوجودمیں اس دوا کے کرشمے سے تب حیرا...
16/03/2026

اسلام علیکم میرے معزز قارئین! اپنی کلینکل پریکٹس میں بے تحاشہ مریضائیں ٹھیک کرنے کے باوجود
میں اس دوا کے کرشمے سے تب حیران ہوا جب ایک عورت کی بجائے گھوڑی کو ٹھیک کرنے کا ماسٹرز کا ایک کیس پڑھا، ایک گھوڑی بچے کو جنم دینے والی تھی۔ اس کی مالکن نے ڈاکٹر سے رابطہ کیا، مسئلہ یہ تھا کہ پچھلے سال اس گھوڑی نے اپنے بچے کو کاٹ لیا اور لاتیں ماریں اور اسے دودھ بھی نہیں پینے دیا جس سے وہ بچہ مر گیا۔
ڈاکٹر نے اولاد سے نفرت کی بنیاد پر یہ دوا تجویز کر دی،
“بچے سے بے رخی؟ کیونکہ یہ تو اسی دوا کی علامت تھی۔”
چنانچہ گھوڑی کو اس کرشماتی دوا کی صرف ایک خوراک دی گئی۔❣️
اس سال جب اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ تمام گھوڑیوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ماں بن گئی اور ایک لمحہ بھی اپنے بچے کو نظروں سے دور برداشت نہ کرتی تھی۔ دوستو میں نے سینکڑوں عورتوں پر ایسے ہی نتائج برآمد کیے ہیں، مگر اس کیس کے بعد میں نے اس دوا کو اپنے چھوٹے سے پولٹری فارم میں موجود ایسی مرغیوں کو دیکر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اپنے ہی پنجوں اور چونچ سے اپنے ہی نئے نکلنے والے چوزوں اور انڈوں کو ختم کر ڈالتی ہے، جب یہ تجربہ مکمل ہوا تو آپ سب سے بھی شئیر کروں گا😊، میرے معزز قارئین یہاں سے ایک بات ثابت ہوتی ہے، کہ یہ دوا ہر اس حیوان پر اپنا اثر رکھتی ہے جس کا ہارمون کا نظام انسان سے مماثلت رکھتا ہے، خواہ عورت ہو یا گھوڑی، یا پھر مادہ خرگوش، ان سب کے لیے قدرت نے اس کرشماتی دوا کو محبت کا خزانہ بنا کر بھیجا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اس دوا کے مریض کی انفرادیت اور کلی علامات ان جانوروں پر ظاہر نا ہوں، کیونکہ جانور اپنی زبان سے اظہار نہیں کر سکتا البتہ اپنے رویے سے انسان کو سب بتا سکتا ہے، جیسا کہ اس گھوڑی نے کیا۔ کرشمات ضرور ہونگے مگر ہومیوپیتھک پوٹینسی کی حالت میں۔
لہٰذا
آج ہم صحت کے ایک ایسے سنگین بحران پر روشنی ڈالیں گے جو کہ اس رواں صدی کا سب سے بڑا اور مایوس کن موضوع بن کر اُبھرا ہے۔ جس میں گھر تباہ ہوتے ہیں، نفسیاتی بگاڑ آتا ہے، جسمانی خدوخال اور افعال دونوں ہی تباہی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ سب کے رویے اور ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں، سب حتی کہ اپنے مُحِبّین بھی زہر لگتے ہیں، دنیا ویران اور بے مقصد لگتی ہے، لہجہ متنفر ہو جاتا ہے، جسم ازل تا ابد تک تھکا ہوا، چکناچور لگتا ہے۔ میرے گزشتہ آرٹیکل تحریر کرنے کے بعد سے لیکر اب تک میرے کلینک میں کم و بیش 25 سے 28 جوڑے couple علاج کی غرض سے آ چکے ہیں، ہر ایک کی اپنی داستان ہے، کوئی دیر سے شادی کے مابعد اثرات کے عِوض اولاد سے محروم ہے تو کوئی سالہا سال سے گائنی Gynae کے تجربوں کا شکار، اور کوئی دہائیوں سے ہارمونل پروفائل کی کشمکش میں مبتلا ہے، ایسا جوڑا بھی آیا جن کی ایک کِلو رپورٹس تو ٹھیک ہیں مگر گائنی Prolactin hormone کی بارڈرلائن ہائی مقدار کو بنیاد بنا کر دو سال سے pfyzer کی Dostinex ٹیبلٹ کھلا رہی تھی جو کہ پاکستان میں اکثر بلیک میں ملتی ہے جو دو گولیاں ان کو کم و بیش سات آٹھ ہزار کی پڑتی ہیں۔ سلسلہ یہاں نہیں رُکا، ایک مریضہ جس کا ایسٹروجن لیول زرا کم تھا اور یہ مقدار بھی پانچ ہزار مالیت کا مصنوعی hcg ہارمون پروموٹر انجیکشنز کی بھرمار کے بعد ہی پرمانینٹ ابنارمل ہوا، ہر پیریڈ میں مریضہ کو جانور سمجھ کر یہ انجیکشن لگتے رہے، اس کا نتیجہ یہ نِکلا کہ مریضہ کا ایسٹروجن لیول ڈراپ ہو گیا، چنانچہ گائنی نے پھر اُسی imported کمپنی pfyzer کا Estrogen ہارمون لگانے کا فیصلہ کیا، اور یوں یہ سلسلہ دو سال تک چلتا رہا، ایک جوڑا couple ایسا بھی آیا جن کو شادی کے کچھ ماہ تک conceive نا ہونے کے سبب گائنی کے پاس بھیجا گیا، لیب رپورٹس ہوئیں، معلوم ہوا کہ عورت بالکل نارمل ہے، جبکہ شوہر کے سیمن میں انفیکشن اور سپرم کی شکل و صورت خراب ہے، مگر ہمیں گائنی کون کہے جب تک ہم نارمل عورت کو بھی دوا نا لگا دیں، چنانچہ شوہر کو بھاری ملٹی وٹامنز اور 500 mg سپروفلوکساسین لکھی گئی اور عورت کو بھی چند کڑوی candies لکھ دی گئیں، اور آج عورت مکمل طور پر exhaust ہو کر میرے پاس آئی جس کی رپورٹس اور مزاج دونوں میں بگاڑ آ چکا، کیا آپ جانتے ہیں اس لیول کی مینٹل، فزیکل اور سیکسوئل exhaustion کس دوا میں پائی جاتی ہے؟ شوہر بھاری بھرکم سپلیمنٹ لینے پر، نا مِٹنے والی الرجی کا شکار ہو چکا ہے، جاں پناہ، مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سب چل کیا رہا ہے۔ ایک گائنی مردوں کے جنسی علاج کی ماہر کیسے ہو سکتی؟ کیا یہ اس کی ڈومین میں آتا ہے؟ اور تو اور جو ڈومین میں آتا وہ بھی بگاڑ کر رکھ دیا، کیا یہ عطائیت نہیں ہے؟ میری حیرانی کا سبب یہ بھی ہے کہ تقریباً تمام جوڑے couples ایسی ہی ہم شکل داستانیں لیکر آتے ہیں، جو سالہا سال سے گائنی سِسٹروں کے شکنجہ میں کَس کے جکڑے ہوتے ہیں۔ آ جا کر وہی چار پانچ طرح کے پروٹوکل جب لاکھوں بٹور لیے، اور دیکھا کہ کیس کو کئی سال ہو چکے تو ہمدردی محسوس کروا کر چند عرصہ سپلیمنٹ لگائے اور پھر مریض سے رفتہ رفتہ جان چھڑا لی۔ میرے معزز قارئین کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسٹروجن کی درکار مقدار جب جسم میں زیادہ ہو جائے تو بچہ دانی کی رسولیاں، کینسر اور پانی کی تھیلیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک نارمل Human Physiologicy ہے، کہ ایسٹروجن ہارمون عورت کے پیلوک اعضاء میں خون کی سپلائی بڑھا کر پیلوک اور پورٹل congestion پیدا کرتا ہے، اور اس کی کثرت بچہ دانی اور ویجائنہ میں غیرضروری growth اور انفلامیشن شروع کر دیتی ہے جس سے رسولی، پانی کی تھیلی اور کینسر جیسی بیماری اُمڈ آتی ہے۔ اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ ہم جس ہومیوپیتھک دوا کا آج تذکرہ کرینگے اس کی ڈرگ پروونگ میں بھی یہی ہارمونل تبدیلیوں کا میکانزم ظاہر ہوا، جس نے عجیب و غریب احساسات اور مسائل کو جنم دیا، اور ہم اسی دوا کو پوٹینسی میں دے کر یہ علامات، احساسات اور بیماریاں ختم کر دیتے ہیں۔ مصنوعی ایسٹروجن ہارمون بنانے والی فارما کمپنیوں نے یہ خود بھی Leaflet پر لکھا ہوتا ہے، مگر گائنی ٹھوک ٹھوک کر ایسٹروجن لگانے پر بضد ہوتی ہے۔ چونکہ میں ہومیوپیتھی کو ایک سائنس مانتا ہوں اس لیے ہر کیس، ہر آرٹیکل اور ہر منطق کو سائنس کے مطابق واضح کرنا میرا اصول ہے۔ دوستو ہماری ڈرگ پروونگز سے حاصل کردہ علامات ایسی حالت میں موجود ہیں جن کو چاہ کر بھی زہن نشین نہیں کیا جا سکتا، اور دوسری جانب تمام سسٹم آف میڈیسنز کے ماہرین ہم سے پہلا سوال ہی یہی کرتے ہیں کہ آپ کی دوائی جسم میں جا کر کام کیسے کرتی ہے؟ ہم ان کے تمام سوالات کا جواب تب دے سکتے ہیں جب ہم یہ جان لیں کہ ایک صحت مند انسان پر ڈرگ پروونگ کے وقت جو علامات ظاہر ہوتی ہیں اس کے پس پردہ ڈرگ (خام حالت میں پودہ، پھول، سبزی، جانور، منرل، دھات، شعاؤں) میں کون کونسے کیمیکل خواص ہیں اور وہ جسم انسانی کے کس کس آرگن، سسٹم پر کیا کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ میرے گزشتہ آرٹیکلز میں دیکھ چکے ہیں جہاں ہم جسم انسانی اور ڈرگ کا تعلق، علامات کا اظہار، جسم کی اینڈوکرائنالوجی، پیتھالوجی اور فزیالوجی کے مطابق لاء آف سیمیلیا کو follow کرتے ہیں۔ آج کا آرٹیکل بھی ایسی ہی تفصیل اور مسائل کے حل کے طور پر لکھا گیا ہے۔ فقط آرٹیکل پڑھنے کے بعد آپ سے ایک ہی چیز درکار ہے اور وہ کمینٹ کی صورت میں آپ کی رائے کا اظہار، تاکہ میرا اگلا آرٹیکل اگلے سال کی بجائے اگلے ہفتے میں ہی دوبارہ لکھا جا سکے، آپ حوصلہ بڑھائیں گے تو میرا خون بڑھے گا۔ میرا گزشتہ آرٹیکل ساڑھے 4 لاکھ لوگوں نے پڑھا مگر reacts فقط 1800 لوگوں نے کیا، اور بشمول گروپس کے 250 سے زائد قارئین نے شئیر کیا۔ امید ہے آپ آرٹیکل پڑھنے کے بعد فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانیت کی بھلائی اور صدقہ جاریہ کے طور پر یہ مفید معلومات باقی لوگوں تک بھی شئیر کرینگے۔
میرے معزز قارئین اس دوا کی proving بذاتِ خود ہومیوپیتھی کے بانی عظیم ہانیمن نے اپنے شاگردوں اور صحت مند رضاکاروں کے ساتھ مِل کر کی ہے۔ جو کہ انہوں نے Materia medica pura اور مٹیریا میڈیکا آف کرونک ڈیزیز میں قلمبند کی ہے۔ جب ڈاکٹر کینٹ، کلارک اور وتھولکس جیسے عظیم ماسٹرز نے اس پروونگ کا ازسرِنو مطالعہ اور تحقیق کی تو انہوں نے اس دوا کے لیے ایک خاص اصطلاح term بیان کی اور اس ٹرم کے اردگرد پُوری سیپیا محفوظ ہو گئی یعنی دریا کو کُوزے میں بند کر دیا ( ہزاروں علامات کو ایسی جدید میڈیکل وضاحت میں پرویا کہ سب علامات ہیومن فزیالوجی Physiology اور اینڈوکرائنالوجی Endocrinology کی صورت میں سِمٹ کر fingertips پر دکھائی دینے لگی۔
ڈاکٹر کینٹ اور پروفیسر جارج وتھالکس کہتے ہیں کہ سیپیا کی دماغی، جزباتی، اور جسمانی تینوں تہوں پر Stasis پایا جاتا ہے، سٹیسس کا مطلب ہے کہ غیرمتحرک ہو جانا یا ایک ہی جگہ پر جم جانا، دوسرے لفظوں میں کسی چیز کا انجماد یا جمود، اور اِسی Theme کے گِرد ساری کی ساری سیپیا گھُومتی ہے۔ یہ سٹیسس Dynamic plan پر کسی عمل کے نتیجے میں آتا ہے، یعنی ہارمونز کے توازن میں خلل پیدا ہوتا ہے، جسمانی اور جنسی ہارمونز کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ ہوتا ہے، خودکار اعصابی نظام Autonomic nervois system، مکمل جواب دے جاتا ہے بوجہ Extreme exhaustion, کینٹ کے مطابق اس Stasis کی حالت اسی نظام کے collapse کرنے سے آتی ہے، جس سے ہارمونز میں مداخلت پیدا ہوتی ہے،اس Stasis کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جو بچپن سے ہی ہومیوپیتھک دوا سیپیا مزاج کی حامِل ہو گی ایسی مریضہ میں عورتوں والی قدرتی خواہشات اور خصلتیں ہی نہیں ہوتیں، حتٰی کے جو عورت ماحول کے عمل دخل اور teenage کے بعد سیپیا مزاج میں داخل ہو گی ایسی عورت میں بھی عورتوں والا قدرتی خدوخال، حُسن اور بناوٹ بگڑنا شروع ہو جائے گی۔ اور یہ ساری گیم Hormonal prosperity پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ وہ عورت ہوتی ہے جو اپنے سب سے زیادہ چاہنے والوں سے بھی اجنبیوں والا رویہ اختیار کر لیتی ہے، اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کتنی محبت کرتا ہے، کیونکہ دماغ سُن اور جزبات کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے، بالکل برف کی مانند stasis)۔ اور ایسا گھریلو بوجھ، ذمہ داریوں کی کثرت، کام کاج کی زیادتیوں، زیادہ بچوں کو جنم دینے اور ان کو پالنے پوسنے سے ہوتا ہے، جزبات اور دماغ کی مکمل بے حِسی، دوسروں کے لیے بے پرواہی، ہر وقت غصہ، چڑچڑاپن، ہر چیز سے بیزار اور متنفر، کام کاج میں سُست اور ڈِھیٹ مگر معمول کے مطابق رو دھو کر لگی رہنے والی، جزبات جب تحریک ختم ہو کر منجمد ہو گئے، ان میں جزبات نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی، کیفیتِ قلبی emotions کی اس قدر Deficiency کہ کسی بھی خوشی کو celebrate ہی نہیں کر پاتی اور نا ہی وہ خوشی لگتی ہے۔ دوستو ظاہر ہے جب serotonin اور dopamine ہی ہارمونل imbalance کی وجہ سے خارج نہیں ہونگے تو خوشی کیسے محسوس ہو گی؟ قصہ المختصر سیپیا کے جسم کا ایک ایک کیمیکل اور ایک ایک رگ و ریشہ سب منجمد Stasis کا شکار ہوتے۔ میرے معزز قارئین آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ سُنا ہو گا کہ "ہُن اوہ گلاں نئیں رہیاں" سیپیا بیچاری اسی قُرب میں مُبتلا ہو جاتی ہے۔ جب جزبات کو بار بار ٹھیس پہنچ چکی ہو، تو پھر دُکھ کو برداشت کرنے اور دُکھ کی شدت کو کم محسوس کرنے کی عادت سی ہو جاتی ہے یعنی
(practice makes a man perfect)
مگر یہاں man نہیں بلکہ woman ہے۔ دوستو جب سیپیا بغیر وقفہ کے بار بار بچوں کو جنم دیتی ہے اور ان کو کثرت سے دودھ پلاتی ہے تو چند سالوں میں اس کا ہر رگ و ریشہ خشک اور سرد مہری کا شکار ہو جاتا ہے، اپنے قدرتی حُسن اور جسم کی تحریک کو کھو دیتی ہے یوں اس کی تینوں سطحوں کے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں اور تہہ در تہہ انجماد Stasis کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کی تینوں ( physical, mental اور emotional ) تہیں collapse کر جاتی ہیں۔ عورت کے جنسی اعضاء پر اس کے انتہائی مُضر اثرات پڑتے ہیں، ایسٹروجن Estrogen ہارمون کم ہو جاتا ہے جس سے یوٹرس کے عضلات اور پٹھے مکمل collapse کر جاتے ہیں، بچہ دانی اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کہ اپنی جگہ سے ہٹ جاتی یا لٹک جاتی ہے جسے میڈیکل میں Prolapse of uterus کہتے ہیں۔ اس لیے سیپیا کی مریضہ کو ہمیشہ یہ احساس اور خوف رہتا ہے کہ جیسے ابھی اندر سے کوئی چیز باہر آ جائے گی، درحقیقت یہ چیز بچہ دانی ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ عورت کو ایک ٹانگ کے اوپر دوسری ٹانگ چڑھا کر بیٹھنا پڑتا ہے تاکہ وہ چیز باہر نا آ سکے، ہومیوپیتھک میڈیکل لٹریچر میں اس احساس کو Bearing down sensation کہا جاتا ہے، اور یہ رُبرک سیپیا دوا کا keynote سمجھا جاتا ہے، دوسری جانب اس عمل کو اور بھی مختلف رُبرکس میں میں cross reference کے طور پر ڈھونڈ سکتے ہیں جیسا کہ Female genitalia, must cross her legs, to prevent miscarriage وغیرہ وغیرہ۔ معزز قارئین ایسٹروجن کم ہو جانے سے یوٹرس کو اس کے سکڑنے یا سمِٹنے کی طاقت سے محروم رہنا پڑتا ہے، جس سے ویجائنا کی طرف Blood flow کم ہو جاتا ہے، تو اس کے جزبات کیسے اُبھریں گے؟ جب میاں بیوی کے درمیان جزبات اور رومینس ہی نہیں ہو گا تو پیلوک اعضاء میں اشتعال جوش کیسے آئے گا؟ ویجائنا میں چکناہٹ پیدا کرنے والا غدود Bartholine gland سرگرم کیسے ہو گا؟ جب بارتھولین va**nal Lubrication ہی نہیں کرے گا تو عورت intercource کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ جب ایک عورت کو آرگیزم or**sm ہوتا ہے تو عام طور پر اس پورے ایریا پر کنٹریکشن contraction پیدا ہو جاتی ہے جس کا اظہار عورت کے بوقتِ انزال or**sm جسم کے سکڑنے اور سمِٹنے سے ہوتا ہے، لیکن افسوس سیپیا میں ایسا نہیں ہوتا، اور یوں سیپیا ہمبستری Intercource سے نفرت کرنے لگتی ہے (aversion to s*x)۔ محبت اور رومینس کا ہارمون جسے oxytocin کہتے ہیں اس کی secretions کم ہونے لگتی ہیں جس سے جنسی جزبات ممفقود و معدوم ہونے لگتے ہیں۔ ج**ع کو وقت کا ضیاء اور اپنے لیے تکلیف دہ عمل سمجھنے لگتی ہے، دراصل جب یوٹرس ہی مردہ ہے تو لبریکیشن کیسے ہو گی، اندام نہانی va**na شدید خشکی کی وجہ سے جنسی عمل میں pe*******on کے دوران زخمی ہو کر درد سے بھر جاتی ہے، جسے Dyspareunia کہتے ہیں، ہم ہومیوپیتھس اسے ایک حالت یا علامت کہتے ہیں اور اس کے اصل سبب کو دور کرتے ہیں، جبکہ ایلوپیتھی میں گائناکالوجسٹ اس کو ایک الگ تھلگ بیماری تصور کر کے سطحی اور مقامی علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں مختلف ٹیوبز اور کریمیں شامل ہیں۔ جو کہ اندام نہانی va**na میں وقتی چکنائی کا کام کرتی ہیں۔ اور ساتھ پین کلر بمع اینٹی بائیوٹک لگا دیتے ہیں۔ اور یوں میں نے یہ مسِلہ سالوں بلکہ دہائیوں تک بھی چلتے دیکھا ہے، میرے پاس اکثر مریضائیں صرف یہی مسئلہ لیکر آتی ہیں، اور اللہ کے حُکم سے سبھی سیپیا اور اُس کی معاون ادویہ سے سو فیصد شفایاب ہو جاتی ہیں۔ مزید حرانگی کی بات بتاؤں تو یہ کریم یا جیل متاثرہ عورت کو نہیں دی جاتی بلکہ شوہر نے اپنے عضو پر اپلائی کرنی ہوتی، یہاں حساب لگائیں یہ کتنے گزارے اور جگاڑ سے کام چلاتے ہیں، شفاء نام کا کوئی تصور ہی نہیں۔
اب ہم اُن مریضاؤں کا زکر کرتے ہیں جو حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد بار بار اسقاطِ حمل recurrent miscarriages کا شکار ہو جاتی ہیں، ان اسقاط کے پس پردہ ایسا کونسا کیمیکل اور ہارمونل میکانزم کارفرما ہوتا ہے جس کی وجہ سے سیپیا ابتدائی مہینے میں ہی حمل ضائع کر لیتی ہے؟
پیارے ہومیوپیتھس یقیناً آپ جانتے ہونگے کہ سیپیا میں دو طرح کی خواتین اولاد کی غرض سے ہمارے کلینکس میں آتی ہیں، ایک وہ جو سِرے سے conceive تک نا کر پائی اور دوسری وہ جو conceive تو کر لے مگر ابتدائی ہفتوں یا پہلے مہینوں میں بار بار اسقاط ہو جاتا ہے، اور اس کا زمہ دار بنیادی ہارمون پروجیسٹرون Progesterone ہے، ماسٹر کہتے ہیں کہ سیپیا کی مریضہ میں جب ہارمونز اور اس کے فنکشنز کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو کوئی بڑھ جاتا ہے اور کوئی کم ہو جاتا ہے، یقیناً ہر لڑائی میں کوئی ایک ہی جیت سکتا ہے، جو ہارتا ہے اس کی کارکردگی کم ہوتی ہے، سیپیا Sepia میں پروجیسٹرون Progestrone کی کمی یا کمزوری ہوتی ہے۔ حمل کے آغاز میں fertilized egg جب رحم کی اندرونی جھلی (Endometrium) میں implant ہوتا ہے تو اسے برقرار رکھنے کے لئے progesterone انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ ہارمون ovulation کے بعد بیضہ دانی کے corpus luteum سے بنتا ہے اور رحم کی جھلی کو موٹا، غذائیت سے بھرپور اور جنین کے لئے محفوظ بناتا ہے، اس کے ساتھ uterine muscles کو relax رکھتا ہے تاکہ رحم میں غیر ضروری سکڑاؤ (uterine contractions) پیدا نہ ہو۔ اگر progesterone مناسب مقدار میں پیدا نہ ہو تو endometrium کے خلیوں میں glycogen اور ضروری غذائی مادے جمع نہیں ہو پاتے، uterine lining میں خون کی نالیوں blood vessels کی رسد اور بننے کا عمل کمزور رہتی ہے اور implantation کی جگہ stable نہیں رہتی جس کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر اندر جو ایمبریو ہوتا ہے اس کی سپورٹ مکمل ختم ہو جاتی ہے اور ابتدائی دنوں یا ہفتوں میں ہی اسقاط Miscarriage ہو جاتا ہے۔ ہم اوپر زکر کر چکے ہیں کہ اس مریضہ کا ایسٹروجن کم ہونے سے یوٹرس بھی انتہائی کمزور اور بے سہارا لٹکتا پھرتا ہے، جسے ہم پرولیپس آف یوٹرس کہتے ہیں، ہم یہ بھی تفصیلاً زکر کر چکے ہیں کہ سیپیا کی تینوں تہوں میں Stasis کی وجہ سے جزباتی اظہار اور اپنے جسم سے بھی بے ربط ہوتی ہے، دماغ کے سگنل جسم کو نہیں ملتے، جسم کے سِگنل دماغ کو نہیں ملتے، ہر سطح پر انجماد ہی انجماد ہے، چنانچہ پروجیسٹرون receptors
کو مطلوبہ hormonal signal نہیں ملتے۔ یعنی پچوٹری ہارمون Pituitary اور ہائپوتھیلمک ہارمون Hypothalmic hormone دونوں ہی دماغ کے ہارمون ہیں، جبکہ ان دماغی ہارمونز کا اووریز ovaries سے رابطہ یا ہم آہنگی اچھی خاصی متاثر ہو جاتی اور اس بے ربطگی کی وجہ سے پروجیسٹرون کی secretions کم ہو جاتی ہیں۔ اور حمل برقرار نہیں رہ پاتا۔ میں نے ایک ایسی مریضہ کو اللہ کے حُکم سے ٹھیک کیا جس کے پینتالیس سال کی عُمر میں چار بچے تھے اور پچھلے دس سال سے مسلسل حمل ضائع ہو رہا تھا، ہم اوپر ایک وجہ کا زکر کر چکے ہیں کہ اگر مرد انتہائی جنسی طاقت اور خواہشات رکھتا ہو تب بھی ایسی عورت کثرت ج**ع سے ہی سیپیا بن جاتی ہے، یہاں بھی یہ سلسلہ شاید مرد کی وجہ سے ہی چل رہا تھا، مگر عورت میرے پاس وہی حالات لیکر آئی جو ہم اب تک سیپیا کے بارے پڑھ چکے ہیں، مجھے اس کی وہ حالت سوچتے ہوئے اس کے شوہر پر ابھی تک شدید غصہ آتا ہے۔ خیر ہم نے اللہ کے کرم کی بدولت اس عورت کو سیپیا بمع معاون ادویہ دیکر حمل ٹھہروا دیا۔ وہی وہ ایام تھے جس کی وجہ سے اس عورت نے میرے کلینک کے اردگرد کے علاقے میں میری دُھوم مچا دی، میرے مریضوں کی چین حیرانکن طور پر بڑھنے لگی۔ اور آج میری کلینکل پریکٹس کے کافی سال گزرنے کے بعد مجھے اس طرح کے کیسز اپنی ایک نظر اور شاید چند سوالات کی مار لگتے ہیں۔ الحمداللہ

میرے معزز قارئین! جو عورت ایک بار بھی conceive نا کر پائی ہو اس کو بھی سیپیا اپنی اسی etiology کے تحت صاحبِ اولاد کرے گی، جو ہارمونز اور Stasis کا تھیم theme ہم اوپر بیان کر آئے ہیں، البتہ مریضہ کے محور دیکھنا لازم ہیں، سیپیا کی مریضہ ٹھنڈ سے حساس ہوتی ہے، اکثر سیپیائی مزاج مستورات کرونک اعضاء تناسل کی خارش Prurutis v***a کا شکار ہوتی ہیں، یا اکثر کو سالوں سے دھدر ringworm رہتی ہے، میں نے اپنی ایسی ہی ایک american مریضہ کو صرف سیپیا سے ٹھیک کیا جو کہ دہائیوں سے پرائیویٹ پارٹ کی الرجی کا شکار تھی۔ دُبلی عورت جو اپنے وائٹل فلوئڈ ضائع کر چکی ہو، خصوصاً لیکوریا اور بچے ضائع ہونے، یا ڈھیر سارے بچوں کو دودھ پلانے سے۔ سیپیا کی مریضہ ہو اور ہومیوپیتھ لیکوریا آنے کا سوال پوچھے، ایسا ہو نہیں سکتا کہ عورت نفی میں سر ہلائے، سیپیا کا لیکوریا کچھ خاص کریکٹرز رکھتا ہے مگر اس کی وجہ catarrhal irritation ہی ہوتی ہے کیونکہ ویجائنل mucous membrane اکثر خشک رہتی ہے۔ جب سیپیا ایسٹروجن کی کمی کا شکار ہو گی کنفرم ہے کہ اس مریضہ کو Hot flushes بھی آتے ہیں، یعنی کبھی شدید سردی کپکپی لگنا تو کبھی شدید گرمی جلن اور گھبراہٹ کا شکار، اس کی پیاس غائب ہوتی ہے۔ میں نے بے اولادی اور بانجھ پن کے ایسے کیسز میں سیپیا کو چند معاون ادویات کے ساتھ استعمال کروا کر
ہزاروں دعائیں لی ہیں۔

دوستو اب اس راز کو جانتے ہیں جس کے تحت سیپیا عورت اپنے بچوں اور شوہر سے نفرت کرتی ہے؟

اگر اس کیفیت کو ہم فزیولوجی اور نیوروکیمسٹری کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں تو اس کے پیچھے عموماً جسم کے ہارمونل اور عصبی نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ یہی بات ہم اوپر بھی ماسٹرز کا حوالہ دیکر بیان کر چکے ہیں، زیادہ تر یہ حالت ایسی عورتوں میں دیکھی جاتی ہے جو بار بار حمل اور ولادت کے مراحل سے گزری ہوں، یا جن میں طویل عرصے تک جسمانی اور ہارمونل تھکن exhaustion پیدا ہو گئی ہو۔ ان حالات میں جسم کے اہم جنسی ہارمونز، خصوصاً Estrogen اور Progesterone کا توازن متاثر ہو جاتا ہے۔ جب یہ ہارمون imbalance ہو جائیں تو عورت کے جذباتی نظام پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں چڑچڑاہٹ، جذباتی بے حسی, انجماد stasis اور قریبی رشتوں کے ساتھ وابستگی میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح ماں اور بچے کے درمیان محبت اور جذباتی تعلق پیدا کرنے میں ایک اہم ہارمون Oxytocin خاص کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون زچگی، دودھ پلانے اور جسمانی قربت کے، kissing, یا hug کے دوران زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے اور ماں میں بچے کے لیے فطری محبت اور وابستگی کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے آکسیٹوسن کی سرگرمی کم ہو جائے یا اس کے پس پردہ ہارمونز کے نظام میں کوئی کمزوری آ جائے تو جذباتی وابستگی کم ہو سکتی ہے اور ماں کو اپنے بچے سے وہ فطری قربت محسوس نہیں ہوتی جو عام حالات میں ہوتی ہے۔ یہی کیفیت ہومیوپیتھی میں سیپیا کی ڈرگ پکچر میں “اولاد سے بے رخی” aversion to offspring اور aversion to husband کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
دماغ کے بعض اہم نیوروٹرانسمیٹر بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ خاص طور پر Dopamine اور Serotonin انسان کے مزاج، خوشی کے احساس اور جذباتی تحریک کو منظم کرتے ہیں۔ جب ان کی سطح کم ہو جائے تو انسان میں جذباتی سرد مہری، خوشی یا محبت محسوس نہ ہونے کی کیفیت اور چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی حالت بعض اوقات زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ یا ڈپریشن سے ملتی جلتی ہوتی ہے، جس میں عورت اپنے قریبی رشتوں سے دوری محسوس کرنے لگتی ہے۔ ہم نے ایسے بے تحاشہ مریض ٹھیک کیے ہونگے اور لاتعداد شکرانے اور دعائیں وصول کی ہیں۔

سیپیا کی مریضہ کو کئی کئی ماہ تک ماہواری کیوں نہیں آتی ؟
دوستو یہاں بھی وہی جزباتی، ہارمونل بے ربطگی اور وہی theme لاگو ہوتا ہے، یعنی ہائپوتھیلمس اور اوریز کا کنیکشن failure۔ ہائپوتھالمس Hypothalamus سے Gonadotrophin ریلیزنگ ہارمون خارج ہوتا ہے، اور یہی ہارمون جا کر Pituitary gland کو سِگنل دیتا ہے، پچوٹری پھر آگے 2 ہارمون خارج کرتا ہے، FSH اور LH۔
ا FSH اووری میں follicles کو میچور کرتا ہے، اور ایسٹروجن بننے میں مدد دیتا ہے، جبکہ لیوٹینائزنگ ہارمون ovulation کرواتا ہے، اووری میں کارپس لیوٹیم بناتا ہے اور پروجیسٹرون کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ قصہ المختصر یہ کہ جب سیپیا کے دماغ اور جسم کی اووری کا رابطہ ہی نہیں تو پھر ہائپوتھیلمس گونیڈوٹرافن کدھر اور کیسے خارج کرے گا؟ اور انڈہ دانی o***y میں ovulation تک بات کیسے پہنچے گی؟ جب اوولیشن نہیں ہوتی تو endometrium صحیح طرح تیار نہیں ہوتی، چنانچہ کئی کئی ماہ تک پیریڈ رُکے رہتے ہیں۔ وزن بڑھتا رہتا ہے، اووری میں سوزش آ جاتی ہے، یا پانی کی تھیلیاں (cysts) بن جاتی ہیں۔ معزز قارئین ہمارے پاس Amenorrhea اور pcos کا شکار بے تحاشہ لڑکیاں ریفر ہو کر آتی ہیں، جن کے ہاتھوں میں گائنی کی دس دس بار کروائی گئیں ہارمونل پینل کی رپورٹیں موجود ہوتی ہیں، بٰخُدا ہم ان رپورٹوں کے بغیر بھی ان مریضاوں کی بہتر تشخیص اور علاج کر لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ خواتین جن کے پس پردہ پرولیکٹن ہارمون کی زیادتی اور تھائرائڈ گلینڈ کے مسائل ہوں ایسے کیسز کی etiology مختلف ہو سکتی ہے، ان کو سیپیا کے ضمرے میں نہیں لائیں گے۔ ہاں اگر ایکسز اور مماثلت اجازت دے تو پھر ممکن ہے کسی بھی حالت میں کرشمہ ہو جائے۔ آپ جان کر حیران ہونگے کہ میں میں نے اب تک 3 Mbbs ڈاکٹرز کے ہارمون کا علاج کیا ہے، جن میں سے ایک سکِن سپیشلسٹ اور دوسری خود گائنی trainee جو کہ اپنی فیلڈ کے ہاتھوں ہی مایوس تھی، جبکہ تیسری مریضہ سیکنڈ ائیر mbbs کی سٹوڈینٹ تھیں، وہ کہتے ہیں:
ہم پہ گزرے تھے رنج سارے
جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
اب میری ان مریضاوں کا ہومیوپیتھی کے بارے نقطہ نظر بہت مثبت اور کشادہ ہے،
میرے دوستو سیپیا Hormones imbalance کا شکار خواتین کی مہینوں سے رُکی ہوئی ماہواری تیزی سے جاری کرواتی ہے البتہ ایک معالج کو دوا کے درُست اور بالمثل انتخاب اور مناسب پوٹینسی کا علم ہونا چاہیے۔ اگر مریضہ اس دوا کی حالت کی عکاسی نہیں کر رہی ہو تو پھر چاہے سیپیا کا ایک ڈرم بھر کر پلا دیں، ککھ فائدہ نہیں دے گی۔

معزز قارئین ہمارے thumbnail سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ سیپیا چہرے پر آنے والے پیلے نشان اور چھائیوں کی خاص دوا ہے، آئیے جانتے ہیں کہ یہ کن چھائیوں پر کام کرے گی؟
سیپیا کی مریضہ کو زیادہ تر blood deficiency یعنی انیمیا کی شکایت رہتی ہے ہیموگلوبن hemoglobin
کم ہونے سے جلد کی nutrition اور oxygenation متاثر ہوتی ہے, کم oxygenated blood کی وجہ سے جلد کا رنگ مدھم اور پیلا پڑ جاتا ہے۔ جلد کے خلیے stress میں آ کر زیادہ melanin بناتے ہیں، اور یہ عمل اس وقت بڑھ جاتا ہے جب خاص طور پر hormonal imbalance موجود ہو۔ مگر میں سیپیا کی مریضہ سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہوں اور وہ ہے چھائیاں ناک سے شروع ہوئیں یا گالوں cheeks سے؟ اللہ نے اس دوا کی بدولت ایسی کرم نوازی کی ہے کہ یہ دوا بمع ایک معاون دوا اور سکِن سیرم لاہور کی ایک معروف ڈرماٹولوجسٹ کو bulk مقدار میں جاتا ہے جو وہ اپنی پریکٹس میں استعمال کرتی ہیں۔ بہت ساری بیوٹی پارلر والی باجیاں ہمارا چلتا پھرتا اشتہار ہیں، مگر ان کے ساتھ ایک غیر یقینی صورتحال رہتی ہے۔ کیونکہ کسی بھی پارلر کے ریفرنس پر ہم صرف فیشل سیرم ہی دے سکتے ہیں۔ کلینکل پریکٹس اس امر میں involve نہیں ہوتی۔ خیر بات کہاں سے کہاں تک نکل گئی۔
آخر میں ایک دلچسپ بات بتا دوں کہ ہمبستری سے نفرت کرنے والی ایسی خواتین جس کی شکایت وہ خود نہیں بلکہ ان کے شوہر کرتے ہیں۔ میں نے سیپیا دینے کے بعد ہمیشہ ایسے شوہروں کو میٹھی میٹھی شرمساری میں ہمیشہ ہاں
(all is well😍)
میں سر ہلاتے پایا ہے۔
میرے معزز ہومیوپیتھس یقیناً آپ سب نے اس آرٹیکل کا دلچسپی سے مطالعہ کیا ہو گا اور سمجھا بھی ہو گا، میں جانتا ہوں بہت سارے مریض بھی اس آرٹیکل کو پڑھ رہے ہونگے مگر آپ سب سے ایک ہی تمنا ہے اور وہ ہے اس آرٹیکل کو دوسروں تک شئیر کرنا، مفید لگے تو اپنی رائے کا اظہار کرنا، کمینٹ کے زریعے میرے حوصلے کو بڑھانا۔ انشاءاللہ میں آپ کے لیے لکھتا رہوں گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس تحریر میں کافی بولڈ قسم کے فقرے اور رُبرکس شامل ہو گئے ہیں مگر گمراہی سے بچنے کے لیے Ethical s*x education بہت ضروری ہے۔ اور یہ ایک فریضہ بھی ہے۔ بچے اور بچیاں رنگ برنگے فحش قسم کے ناول اور مواد دیکھتے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے جسم کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ ہو سکتا اور ان مسائل کا حل کیسے ممکن ہے۔ آرٹیکل آخر تک پڑھنے پر شکریہ۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ جزاک اللہ خیرا

تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

Address

49, C Block, Guldasht Town
Lahore

Opening Hours

Monday 13:00 - 21:00
Tuesday 13:00 - 21:00
Wednesday 13:00 - 21:00
Thursday 13:00 - 21:00
Friday 15:00 - 21:00
Saturday 13:00 - 21:00

Telephone

+923253100003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to National Homoeopathic Clinic:

Share