16/03/2026
اسلام علیکم میرے معزز قارئین! اپنی کلینکل پریکٹس میں بے تحاشہ مریضائیں ٹھیک کرنے کے باوجود
میں اس دوا کے کرشمے سے تب حیران ہوا جب ایک عورت کی بجائے گھوڑی کو ٹھیک کرنے کا ماسٹرز کا ایک کیس پڑھا، ایک گھوڑی بچے کو جنم دینے والی تھی۔ اس کی مالکن نے ڈاکٹر سے رابطہ کیا، مسئلہ یہ تھا کہ پچھلے سال اس گھوڑی نے اپنے بچے کو کاٹ لیا اور لاتیں ماریں اور اسے دودھ بھی نہیں پینے دیا جس سے وہ بچہ مر گیا۔
ڈاکٹر نے اولاد سے نفرت کی بنیاد پر یہ دوا تجویز کر دی،
“بچے سے بے رخی؟ کیونکہ یہ تو اسی دوا کی علامت تھی۔”
چنانچہ گھوڑی کو اس کرشماتی دوا کی صرف ایک خوراک دی گئی۔❣️
اس سال جب اس نے بچے کو جنم دیا تو وہ تمام گھوڑیوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ماں بن گئی اور ایک لمحہ بھی اپنے بچے کو نظروں سے دور برداشت نہ کرتی تھی۔ دوستو میں نے سینکڑوں عورتوں پر ایسے ہی نتائج برآمد کیے ہیں، مگر اس کیس کے بعد میں نے اس دوا کو اپنے چھوٹے سے پولٹری فارم میں موجود ایسی مرغیوں کو دیکر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اپنے ہی پنجوں اور چونچ سے اپنے ہی نئے نکلنے والے چوزوں اور انڈوں کو ختم کر ڈالتی ہے، جب یہ تجربہ مکمل ہوا تو آپ سب سے بھی شئیر کروں گا😊، میرے معزز قارئین یہاں سے ایک بات ثابت ہوتی ہے، کہ یہ دوا ہر اس حیوان پر اپنا اثر رکھتی ہے جس کا ہارمون کا نظام انسان سے مماثلت رکھتا ہے، خواہ عورت ہو یا گھوڑی، یا پھر مادہ خرگوش، ان سب کے لیے قدرت نے اس کرشماتی دوا کو محبت کا خزانہ بنا کر بھیجا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ اس دوا کے مریض کی انفرادیت اور کلی علامات ان جانوروں پر ظاہر نا ہوں، کیونکہ جانور اپنی زبان سے اظہار نہیں کر سکتا البتہ اپنے رویے سے انسان کو سب بتا سکتا ہے، جیسا کہ اس گھوڑی نے کیا۔ کرشمات ضرور ہونگے مگر ہومیوپیتھک پوٹینسی کی حالت میں۔
لہٰذا
آج ہم صحت کے ایک ایسے سنگین بحران پر روشنی ڈالیں گے جو کہ اس رواں صدی کا سب سے بڑا اور مایوس کن موضوع بن کر اُبھرا ہے۔ جس میں گھر تباہ ہوتے ہیں، نفسیاتی بگاڑ آتا ہے، جسمانی خدوخال اور افعال دونوں ہی تباہی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ سب کے رویے اور ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں، سب حتی کہ اپنے مُحِبّین بھی زہر لگتے ہیں، دنیا ویران اور بے مقصد لگتی ہے، لہجہ متنفر ہو جاتا ہے، جسم ازل تا ابد تک تھکا ہوا، چکناچور لگتا ہے۔ میرے گزشتہ آرٹیکل تحریر کرنے کے بعد سے لیکر اب تک میرے کلینک میں کم و بیش 25 سے 28 جوڑے couple علاج کی غرض سے آ چکے ہیں، ہر ایک کی اپنی داستان ہے، کوئی دیر سے شادی کے مابعد اثرات کے عِوض اولاد سے محروم ہے تو کوئی سالہا سال سے گائنی Gynae کے تجربوں کا شکار، اور کوئی دہائیوں سے ہارمونل پروفائل کی کشمکش میں مبتلا ہے، ایسا جوڑا بھی آیا جن کی ایک کِلو رپورٹس تو ٹھیک ہیں مگر گائنی Prolactin hormone کی بارڈرلائن ہائی مقدار کو بنیاد بنا کر دو سال سے pfyzer کی Dostinex ٹیبلٹ کھلا رہی تھی جو کہ پاکستان میں اکثر بلیک میں ملتی ہے جو دو گولیاں ان کو کم و بیش سات آٹھ ہزار کی پڑتی ہیں۔ سلسلہ یہاں نہیں رُکا، ایک مریضہ جس کا ایسٹروجن لیول زرا کم تھا اور یہ مقدار بھی پانچ ہزار مالیت کا مصنوعی hcg ہارمون پروموٹر انجیکشنز کی بھرمار کے بعد ہی پرمانینٹ ابنارمل ہوا، ہر پیریڈ میں مریضہ کو جانور سمجھ کر یہ انجیکشن لگتے رہے، اس کا نتیجہ یہ نِکلا کہ مریضہ کا ایسٹروجن لیول ڈراپ ہو گیا، چنانچہ گائنی نے پھر اُسی imported کمپنی pfyzer کا Estrogen ہارمون لگانے کا فیصلہ کیا، اور یوں یہ سلسلہ دو سال تک چلتا رہا، ایک جوڑا couple ایسا بھی آیا جن کو شادی کے کچھ ماہ تک conceive نا ہونے کے سبب گائنی کے پاس بھیجا گیا، لیب رپورٹس ہوئیں، معلوم ہوا کہ عورت بالکل نارمل ہے، جبکہ شوہر کے سیمن میں انفیکشن اور سپرم کی شکل و صورت خراب ہے، مگر ہمیں گائنی کون کہے جب تک ہم نارمل عورت کو بھی دوا نا لگا دیں، چنانچہ شوہر کو بھاری ملٹی وٹامنز اور 500 mg سپروفلوکساسین لکھی گئی اور عورت کو بھی چند کڑوی candies لکھ دی گئیں، اور آج عورت مکمل طور پر exhaust ہو کر میرے پاس آئی جس کی رپورٹس اور مزاج دونوں میں بگاڑ آ چکا، کیا آپ جانتے ہیں اس لیول کی مینٹل، فزیکل اور سیکسوئل exhaustion کس دوا میں پائی جاتی ہے؟ شوہر بھاری بھرکم سپلیمنٹ لینے پر، نا مِٹنے والی الرجی کا شکار ہو چکا ہے، جاں پناہ، مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سب چل کیا رہا ہے۔ ایک گائنی مردوں کے جنسی علاج کی ماہر کیسے ہو سکتی؟ کیا یہ اس کی ڈومین میں آتا ہے؟ اور تو اور جو ڈومین میں آتا وہ بھی بگاڑ کر رکھ دیا، کیا یہ عطائیت نہیں ہے؟ میری حیرانی کا سبب یہ بھی ہے کہ تقریباً تمام جوڑے couples ایسی ہی ہم شکل داستانیں لیکر آتے ہیں، جو سالہا سال سے گائنی سِسٹروں کے شکنجہ میں کَس کے جکڑے ہوتے ہیں۔ آ جا کر وہی چار پانچ طرح کے پروٹوکل جب لاکھوں بٹور لیے، اور دیکھا کہ کیس کو کئی سال ہو چکے تو ہمدردی محسوس کروا کر چند عرصہ سپلیمنٹ لگائے اور پھر مریض سے رفتہ رفتہ جان چھڑا لی۔ میرے معزز قارئین کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسٹروجن کی درکار مقدار جب جسم میں زیادہ ہو جائے تو بچہ دانی کی رسولیاں، کینسر اور پانی کی تھیلیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک نارمل Human Physiologicy ہے، کہ ایسٹروجن ہارمون عورت کے پیلوک اعضاء میں خون کی سپلائی بڑھا کر پیلوک اور پورٹل congestion پیدا کرتا ہے، اور اس کی کثرت بچہ دانی اور ویجائنہ میں غیرضروری growth اور انفلامیشن شروع کر دیتی ہے جس سے رسولی، پانی کی تھیلی اور کینسر جیسی بیماری اُمڈ آتی ہے۔ اور یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ ہم جس ہومیوپیتھک دوا کا آج تذکرہ کرینگے اس کی ڈرگ پروونگ میں بھی یہی ہارمونل تبدیلیوں کا میکانزم ظاہر ہوا، جس نے عجیب و غریب احساسات اور مسائل کو جنم دیا، اور ہم اسی دوا کو پوٹینسی میں دے کر یہ علامات، احساسات اور بیماریاں ختم کر دیتے ہیں۔ مصنوعی ایسٹروجن ہارمون بنانے والی فارما کمپنیوں نے یہ خود بھی Leaflet پر لکھا ہوتا ہے، مگر گائنی ٹھوک ٹھوک کر ایسٹروجن لگانے پر بضد ہوتی ہے۔ چونکہ میں ہومیوپیتھی کو ایک سائنس مانتا ہوں اس لیے ہر کیس، ہر آرٹیکل اور ہر منطق کو سائنس کے مطابق واضح کرنا میرا اصول ہے۔ دوستو ہماری ڈرگ پروونگز سے حاصل کردہ علامات ایسی حالت میں موجود ہیں جن کو چاہ کر بھی زہن نشین نہیں کیا جا سکتا، اور دوسری جانب تمام سسٹم آف میڈیسنز کے ماہرین ہم سے پہلا سوال ہی یہی کرتے ہیں کہ آپ کی دوائی جسم میں جا کر کام کیسے کرتی ہے؟ ہم ان کے تمام سوالات کا جواب تب دے سکتے ہیں جب ہم یہ جان لیں کہ ایک صحت مند انسان پر ڈرگ پروونگ کے وقت جو علامات ظاہر ہوتی ہیں اس کے پس پردہ ڈرگ (خام حالت میں پودہ، پھول، سبزی، جانور، منرل، دھات، شعاؤں) میں کون کونسے کیمیکل خواص ہیں اور وہ جسم انسانی کے کس کس آرگن، سسٹم پر کیا کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ میرے گزشتہ آرٹیکلز میں دیکھ چکے ہیں جہاں ہم جسم انسانی اور ڈرگ کا تعلق، علامات کا اظہار، جسم کی اینڈوکرائنالوجی، پیتھالوجی اور فزیالوجی کے مطابق لاء آف سیمیلیا کو follow کرتے ہیں۔ آج کا آرٹیکل بھی ایسی ہی تفصیل اور مسائل کے حل کے طور پر لکھا گیا ہے۔ فقط آرٹیکل پڑھنے کے بعد آپ سے ایک ہی چیز درکار ہے اور وہ کمینٹ کی صورت میں آپ کی رائے کا اظہار، تاکہ میرا اگلا آرٹیکل اگلے سال کی بجائے اگلے ہفتے میں ہی دوبارہ لکھا جا سکے، آپ حوصلہ بڑھائیں گے تو میرا خون بڑھے گا۔ میرا گزشتہ آرٹیکل ساڑھے 4 لاکھ لوگوں نے پڑھا مگر reacts فقط 1800 لوگوں نے کیا، اور بشمول گروپس کے 250 سے زائد قارئین نے شئیر کیا۔ امید ہے آپ آرٹیکل پڑھنے کے بعد فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانیت کی بھلائی اور صدقہ جاریہ کے طور پر یہ مفید معلومات باقی لوگوں تک بھی شئیر کرینگے۔
میرے معزز قارئین اس دوا کی proving بذاتِ خود ہومیوپیتھی کے بانی عظیم ہانیمن نے اپنے شاگردوں اور صحت مند رضاکاروں کے ساتھ مِل کر کی ہے۔ جو کہ انہوں نے Materia medica pura اور مٹیریا میڈیکا آف کرونک ڈیزیز میں قلمبند کی ہے۔ جب ڈاکٹر کینٹ، کلارک اور وتھولکس جیسے عظیم ماسٹرز نے اس پروونگ کا ازسرِنو مطالعہ اور تحقیق کی تو انہوں نے اس دوا کے لیے ایک خاص اصطلاح term بیان کی اور اس ٹرم کے اردگرد پُوری سیپیا محفوظ ہو گئی یعنی دریا کو کُوزے میں بند کر دیا ( ہزاروں علامات کو ایسی جدید میڈیکل وضاحت میں پرویا کہ سب علامات ہیومن فزیالوجی Physiology اور اینڈوکرائنالوجی Endocrinology کی صورت میں سِمٹ کر fingertips پر دکھائی دینے لگی۔
ڈاکٹر کینٹ اور پروفیسر جارج وتھالکس کہتے ہیں کہ سیپیا کی دماغی، جزباتی، اور جسمانی تینوں تہوں پر Stasis پایا جاتا ہے، سٹیسس کا مطلب ہے کہ غیرمتحرک ہو جانا یا ایک ہی جگہ پر جم جانا، دوسرے لفظوں میں کسی چیز کا انجماد یا جمود، اور اِسی Theme کے گِرد ساری کی ساری سیپیا گھُومتی ہے۔ یہ سٹیسس Dynamic plan پر کسی عمل کے نتیجے میں آتا ہے، یعنی ہارمونز کے توازن میں خلل پیدا ہوتا ہے، جسمانی اور جنسی ہارمونز کا ایک دوسرے سے ٹکراؤ ہوتا ہے، خودکار اعصابی نظام Autonomic nervois system، مکمل جواب دے جاتا ہے بوجہ Extreme exhaustion, کینٹ کے مطابق اس Stasis کی حالت اسی نظام کے collapse کرنے سے آتی ہے، جس سے ہارمونز میں مداخلت پیدا ہوتی ہے،اس Stasis کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جو بچپن سے ہی ہومیوپیتھک دوا سیپیا مزاج کی حامِل ہو گی ایسی مریضہ میں عورتوں والی قدرتی خواہشات اور خصلتیں ہی نہیں ہوتیں، حتٰی کے جو عورت ماحول کے عمل دخل اور teenage کے بعد سیپیا مزاج میں داخل ہو گی ایسی عورت میں بھی عورتوں والا قدرتی خدوخال، حُسن اور بناوٹ بگڑنا شروع ہو جائے گی۔ اور یہ ساری گیم Hormonal prosperity پر منحصر ہوتی ہے۔ یہ وہ عورت ہوتی ہے جو اپنے سب سے زیادہ چاہنے والوں سے بھی اجنبیوں والا رویہ اختیار کر لیتی ہے، اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کتنی محبت کرتا ہے، کیونکہ دماغ سُن اور جزبات کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے، بالکل برف کی مانند stasis)۔ اور ایسا گھریلو بوجھ، ذمہ داریوں کی کثرت، کام کاج کی زیادتیوں، زیادہ بچوں کو جنم دینے اور ان کو پالنے پوسنے سے ہوتا ہے، جزبات اور دماغ کی مکمل بے حِسی، دوسروں کے لیے بے پرواہی، ہر وقت غصہ، چڑچڑاپن، ہر چیز سے بیزار اور متنفر، کام کاج میں سُست اور ڈِھیٹ مگر معمول کے مطابق رو دھو کر لگی رہنے والی، جزبات جب تحریک ختم ہو کر منجمد ہو گئے، ان میں جزبات نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوتی، کیفیتِ قلبی emotions کی اس قدر Deficiency کہ کسی بھی خوشی کو celebrate ہی نہیں کر پاتی اور نا ہی وہ خوشی لگتی ہے۔ دوستو ظاہر ہے جب serotonin اور dopamine ہی ہارمونل imbalance کی وجہ سے خارج نہیں ہونگے تو خوشی کیسے محسوس ہو گی؟ قصہ المختصر سیپیا کے جسم کا ایک ایک کیمیکل اور ایک ایک رگ و ریشہ سب منجمد Stasis کا شکار ہوتے۔ میرے معزز قارئین آپ نے اکثر یہ ڈائیلاگ سُنا ہو گا کہ "ہُن اوہ گلاں نئیں رہیاں" سیپیا بیچاری اسی قُرب میں مُبتلا ہو جاتی ہے۔ جب جزبات کو بار بار ٹھیس پہنچ چکی ہو، تو پھر دُکھ کو برداشت کرنے اور دُکھ کی شدت کو کم محسوس کرنے کی عادت سی ہو جاتی ہے یعنی
(practice makes a man perfect)
مگر یہاں man نہیں بلکہ woman ہے۔ دوستو جب سیپیا بغیر وقفہ کے بار بار بچوں کو جنم دیتی ہے اور ان کو کثرت سے دودھ پلاتی ہے تو چند سالوں میں اس کا ہر رگ و ریشہ خشک اور سرد مہری کا شکار ہو جاتا ہے، اپنے قدرتی حُسن اور جسم کی تحریک کو کھو دیتی ہے یوں اس کی تینوں سطحوں کے ہارمونز متاثر ہوتے ہیں اور تہہ در تہہ انجماد Stasis کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کی تینوں ( physical, mental اور emotional ) تہیں collapse کر جاتی ہیں۔ عورت کے جنسی اعضاء پر اس کے انتہائی مُضر اثرات پڑتے ہیں، ایسٹروجن Estrogen ہارمون کم ہو جاتا ہے جس سے یوٹرس کے عضلات اور پٹھے مکمل collapse کر جاتے ہیں، بچہ دانی اتنی کمزور ہو جاتی ہیں کہ اپنی جگہ سے ہٹ جاتی یا لٹک جاتی ہے جسے میڈیکل میں Prolapse of uterus کہتے ہیں۔ اس لیے سیپیا کی مریضہ کو ہمیشہ یہ احساس اور خوف رہتا ہے کہ جیسے ابھی اندر سے کوئی چیز باہر آ جائے گی، درحقیقت یہ چیز بچہ دانی ہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ عورت کو ایک ٹانگ کے اوپر دوسری ٹانگ چڑھا کر بیٹھنا پڑتا ہے تاکہ وہ چیز باہر نا آ سکے، ہومیوپیتھک میڈیکل لٹریچر میں اس احساس کو Bearing down sensation کہا جاتا ہے، اور یہ رُبرک سیپیا دوا کا keynote سمجھا جاتا ہے، دوسری جانب اس عمل کو اور بھی مختلف رُبرکس میں میں cross reference کے طور پر ڈھونڈ سکتے ہیں جیسا کہ Female genitalia, must cross her legs, to prevent miscarriage وغیرہ وغیرہ۔ معزز قارئین ایسٹروجن کم ہو جانے سے یوٹرس کو اس کے سکڑنے یا سمِٹنے کی طاقت سے محروم رہنا پڑتا ہے، جس سے ویجائنا کی طرف Blood flow کم ہو جاتا ہے، تو اس کے جزبات کیسے اُبھریں گے؟ جب میاں بیوی کے درمیان جزبات اور رومینس ہی نہیں ہو گا تو پیلوک اعضاء میں اشتعال جوش کیسے آئے گا؟ ویجائنا میں چکناہٹ پیدا کرنے والا غدود Bartholine gland سرگرم کیسے ہو گا؟ جب بارتھولین va**nal Lubrication ہی نہیں کرے گا تو عورت intercource کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ جب ایک عورت کو آرگیزم or**sm ہوتا ہے تو عام طور پر اس پورے ایریا پر کنٹریکشن contraction پیدا ہو جاتی ہے جس کا اظہار عورت کے بوقتِ انزال or**sm جسم کے سکڑنے اور سمِٹنے سے ہوتا ہے، لیکن افسوس سیپیا میں ایسا نہیں ہوتا، اور یوں سیپیا ہمبستری Intercource سے نفرت کرنے لگتی ہے (aversion to s*x)۔ محبت اور رومینس کا ہارمون جسے oxytocin کہتے ہیں اس کی secretions کم ہونے لگتی ہیں جس سے جنسی جزبات ممفقود و معدوم ہونے لگتے ہیں۔ ج**ع کو وقت کا ضیاء اور اپنے لیے تکلیف دہ عمل سمجھنے لگتی ہے، دراصل جب یوٹرس ہی مردہ ہے تو لبریکیشن کیسے ہو گی، اندام نہانی va**na شدید خشکی کی وجہ سے جنسی عمل میں pe*******on کے دوران زخمی ہو کر درد سے بھر جاتی ہے، جسے Dyspareunia کہتے ہیں، ہم ہومیوپیتھس اسے ایک حالت یا علامت کہتے ہیں اور اس کے اصل سبب کو دور کرتے ہیں، جبکہ ایلوپیتھی میں گائناکالوجسٹ اس کو ایک الگ تھلگ بیماری تصور کر کے سطحی اور مقامی علاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں مختلف ٹیوبز اور کریمیں شامل ہیں۔ جو کہ اندام نہانی va**na میں وقتی چکنائی کا کام کرتی ہیں۔ اور ساتھ پین کلر بمع اینٹی بائیوٹک لگا دیتے ہیں۔ اور یوں میں نے یہ مسِلہ سالوں بلکہ دہائیوں تک بھی چلتے دیکھا ہے، میرے پاس اکثر مریضائیں صرف یہی مسئلہ لیکر آتی ہیں، اور اللہ کے حُکم سے سبھی سیپیا اور اُس کی معاون ادویہ سے سو فیصد شفایاب ہو جاتی ہیں۔ مزید حرانگی کی بات بتاؤں تو یہ کریم یا جیل متاثرہ عورت کو نہیں دی جاتی بلکہ شوہر نے اپنے عضو پر اپلائی کرنی ہوتی، یہاں حساب لگائیں یہ کتنے گزارے اور جگاڑ سے کام چلاتے ہیں، شفاء نام کا کوئی تصور ہی نہیں۔
اب ہم اُن مریضاؤں کا زکر کرتے ہیں جو حمل ٹھہرنے کے فوراً بعد بار بار اسقاطِ حمل recurrent miscarriages کا شکار ہو جاتی ہیں، ان اسقاط کے پس پردہ ایسا کونسا کیمیکل اور ہارمونل میکانزم کارفرما ہوتا ہے جس کی وجہ سے سیپیا ابتدائی مہینے میں ہی حمل ضائع کر لیتی ہے؟
پیارے ہومیوپیتھس یقیناً آپ جانتے ہونگے کہ سیپیا میں دو طرح کی خواتین اولاد کی غرض سے ہمارے کلینکس میں آتی ہیں، ایک وہ جو سِرے سے conceive تک نا کر پائی اور دوسری وہ جو conceive تو کر لے مگر ابتدائی ہفتوں یا پہلے مہینوں میں بار بار اسقاط ہو جاتا ہے، اور اس کا زمہ دار بنیادی ہارمون پروجیسٹرون Progesterone ہے، ماسٹر کہتے ہیں کہ سیپیا کی مریضہ میں جب ہارمونز اور اس کے فنکشنز کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو کوئی بڑھ جاتا ہے اور کوئی کم ہو جاتا ہے، یقیناً ہر لڑائی میں کوئی ایک ہی جیت سکتا ہے، جو ہارتا ہے اس کی کارکردگی کم ہوتی ہے، سیپیا Sepia میں پروجیسٹرون Progestrone کی کمی یا کمزوری ہوتی ہے۔ حمل کے آغاز میں fertilized egg جب رحم کی اندرونی جھلی (Endometrium) میں implant ہوتا ہے تو اسے برقرار رکھنے کے لئے progesterone انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ ہارمون ovulation کے بعد بیضہ دانی کے corpus luteum سے بنتا ہے اور رحم کی جھلی کو موٹا، غذائیت سے بھرپور اور جنین کے لئے محفوظ بناتا ہے، اس کے ساتھ uterine muscles کو relax رکھتا ہے تاکہ رحم میں غیر ضروری سکڑاؤ (uterine contractions) پیدا نہ ہو۔ اگر progesterone مناسب مقدار میں پیدا نہ ہو تو endometrium کے خلیوں میں glycogen اور ضروری غذائی مادے جمع نہیں ہو پاتے، uterine lining میں خون کی نالیوں blood vessels کی رسد اور بننے کا عمل کمزور رہتی ہے اور implantation کی جگہ stable نہیں رہتی جس کے نتیجے میں چند ہفتوں کے اندر اندر جو ایمبریو ہوتا ہے اس کی سپورٹ مکمل ختم ہو جاتی ہے اور ابتدائی دنوں یا ہفتوں میں ہی اسقاط Miscarriage ہو جاتا ہے۔ ہم اوپر زکر کر چکے ہیں کہ اس مریضہ کا ایسٹروجن کم ہونے سے یوٹرس بھی انتہائی کمزور اور بے سہارا لٹکتا پھرتا ہے، جسے ہم پرولیپس آف یوٹرس کہتے ہیں، ہم یہ بھی تفصیلاً زکر کر چکے ہیں کہ سیپیا کی تینوں تہوں میں Stasis کی وجہ سے جزباتی اظہار اور اپنے جسم سے بھی بے ربط ہوتی ہے، دماغ کے سگنل جسم کو نہیں ملتے، جسم کے سِگنل دماغ کو نہیں ملتے، ہر سطح پر انجماد ہی انجماد ہے، چنانچہ پروجیسٹرون receptors
کو مطلوبہ hormonal signal نہیں ملتے۔ یعنی پچوٹری ہارمون Pituitary اور ہائپوتھیلمک ہارمون Hypothalmic hormone دونوں ہی دماغ کے ہارمون ہیں، جبکہ ان دماغی ہارمونز کا اووریز ovaries سے رابطہ یا ہم آہنگی اچھی خاصی متاثر ہو جاتی اور اس بے ربطگی کی وجہ سے پروجیسٹرون کی secretions کم ہو جاتی ہیں۔ اور حمل برقرار نہیں رہ پاتا۔ میں نے ایک ایسی مریضہ کو اللہ کے حُکم سے ٹھیک کیا جس کے پینتالیس سال کی عُمر میں چار بچے تھے اور پچھلے دس سال سے مسلسل حمل ضائع ہو رہا تھا، ہم اوپر ایک وجہ کا زکر کر چکے ہیں کہ اگر مرد انتہائی جنسی طاقت اور خواہشات رکھتا ہو تب بھی ایسی عورت کثرت ج**ع سے ہی سیپیا بن جاتی ہے، یہاں بھی یہ سلسلہ شاید مرد کی وجہ سے ہی چل رہا تھا، مگر عورت میرے پاس وہی حالات لیکر آئی جو ہم اب تک سیپیا کے بارے پڑھ چکے ہیں، مجھے اس کی وہ حالت سوچتے ہوئے اس کے شوہر پر ابھی تک شدید غصہ آتا ہے۔ خیر ہم نے اللہ کے کرم کی بدولت اس عورت کو سیپیا بمع معاون ادویہ دیکر حمل ٹھہروا دیا۔ وہی وہ ایام تھے جس کی وجہ سے اس عورت نے میرے کلینک کے اردگرد کے علاقے میں میری دُھوم مچا دی، میرے مریضوں کی چین حیرانکن طور پر بڑھنے لگی۔ اور آج میری کلینکل پریکٹس کے کافی سال گزرنے کے بعد مجھے اس طرح کے کیسز اپنی ایک نظر اور شاید چند سوالات کی مار لگتے ہیں۔ الحمداللہ
میرے معزز قارئین! جو عورت ایک بار بھی conceive نا کر پائی ہو اس کو بھی سیپیا اپنی اسی etiology کے تحت صاحبِ اولاد کرے گی، جو ہارمونز اور Stasis کا تھیم theme ہم اوپر بیان کر آئے ہیں، البتہ مریضہ کے محور دیکھنا لازم ہیں، سیپیا کی مریضہ ٹھنڈ سے حساس ہوتی ہے، اکثر سیپیائی مزاج مستورات کرونک اعضاء تناسل کی خارش Prurutis v***a کا شکار ہوتی ہیں، یا اکثر کو سالوں سے دھدر ringworm رہتی ہے، میں نے اپنی ایسی ہی ایک american مریضہ کو صرف سیپیا سے ٹھیک کیا جو کہ دہائیوں سے پرائیویٹ پارٹ کی الرجی کا شکار تھی۔ دُبلی عورت جو اپنے وائٹل فلوئڈ ضائع کر چکی ہو، خصوصاً لیکوریا اور بچے ضائع ہونے، یا ڈھیر سارے بچوں کو دودھ پلانے سے۔ سیپیا کی مریضہ ہو اور ہومیوپیتھ لیکوریا آنے کا سوال پوچھے، ایسا ہو نہیں سکتا کہ عورت نفی میں سر ہلائے، سیپیا کا لیکوریا کچھ خاص کریکٹرز رکھتا ہے مگر اس کی وجہ catarrhal irritation ہی ہوتی ہے کیونکہ ویجائنل mucous membrane اکثر خشک رہتی ہے۔ جب سیپیا ایسٹروجن کی کمی کا شکار ہو گی کنفرم ہے کہ اس مریضہ کو Hot flushes بھی آتے ہیں، یعنی کبھی شدید سردی کپکپی لگنا تو کبھی شدید گرمی جلن اور گھبراہٹ کا شکار، اس کی پیاس غائب ہوتی ہے۔ میں نے بے اولادی اور بانجھ پن کے ایسے کیسز میں سیپیا کو چند معاون ادویات کے ساتھ استعمال کروا کر
ہزاروں دعائیں لی ہیں۔
دوستو اب اس راز کو جانتے ہیں جس کے تحت سیپیا عورت اپنے بچوں اور شوہر سے نفرت کرتی ہے؟
اگر اس کیفیت کو ہم فزیولوجی اور نیوروکیمسٹری کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کریں تو اس کے پیچھے عموماً جسم کے ہارمونل اور عصبی نظام میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ یہی بات ہم اوپر بھی ماسٹرز کا حوالہ دیکر بیان کر چکے ہیں، زیادہ تر یہ حالت ایسی عورتوں میں دیکھی جاتی ہے جو بار بار حمل اور ولادت کے مراحل سے گزری ہوں، یا جن میں طویل عرصے تک جسمانی اور ہارمونل تھکن exhaustion پیدا ہو گئی ہو۔ ان حالات میں جسم کے اہم جنسی ہارمونز، خصوصاً Estrogen اور Progesterone کا توازن متاثر ہو جاتا ہے۔ جب یہ ہارمون imbalance ہو جائیں تو عورت کے جذباتی نظام پر براہِ راست اثر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں چڑچڑاہٹ، جذباتی بے حسی, انجماد stasis اور قریبی رشتوں کے ساتھ وابستگی میں کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
اسی طرح ماں اور بچے کے درمیان محبت اور جذباتی تعلق پیدا کرنے میں ایک اہم ہارمون Oxytocin خاص کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ہارمون زچگی، دودھ پلانے اور جسمانی قربت کے، kissing, یا hug کے دوران زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے اور ماں میں بچے کے لیے فطری محبت اور وابستگی کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے آکسیٹوسن کی سرگرمی کم ہو جائے یا اس کے پس پردہ ہارمونز کے نظام میں کوئی کمزوری آ جائے تو جذباتی وابستگی کم ہو سکتی ہے اور ماں کو اپنے بچے سے وہ فطری قربت محسوس نہیں ہوتی جو عام حالات میں ہوتی ہے۔ یہی کیفیت ہومیوپیتھی میں سیپیا کی ڈرگ پکچر میں “اولاد سے بے رخی” aversion to offspring اور aversion to husband کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔
دماغ کے بعض اہم نیوروٹرانسمیٹر بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ خاص طور پر Dopamine اور Serotonin انسان کے مزاج، خوشی کے احساس اور جذباتی تحریک کو منظم کرتے ہیں۔ جب ان کی سطح کم ہو جائے تو انسان میں جذباتی سرد مہری، خوشی یا محبت محسوس نہ ہونے کی کیفیت اور چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی حالت بعض اوقات زچگی کے بعد ہونے والے ذہنی دباؤ یا ڈپریشن سے ملتی جلتی ہوتی ہے، جس میں عورت اپنے قریبی رشتوں سے دوری محسوس کرنے لگتی ہے۔ ہم نے ایسے بے تحاشہ مریض ٹھیک کیے ہونگے اور لاتعداد شکرانے اور دعائیں وصول کی ہیں۔
سیپیا کی مریضہ کو کئی کئی ماہ تک ماہواری کیوں نہیں آتی ؟
دوستو یہاں بھی وہی جزباتی، ہارمونل بے ربطگی اور وہی theme لاگو ہوتا ہے، یعنی ہائپوتھیلمس اور اوریز کا کنیکشن failure۔ ہائپوتھالمس Hypothalamus سے Gonadotrophin ریلیزنگ ہارمون خارج ہوتا ہے، اور یہی ہارمون جا کر Pituitary gland کو سِگنل دیتا ہے، پچوٹری پھر آگے 2 ہارمون خارج کرتا ہے، FSH اور LH۔
ا FSH اووری میں follicles کو میچور کرتا ہے، اور ایسٹروجن بننے میں مدد دیتا ہے، جبکہ لیوٹینائزنگ ہارمون ovulation کرواتا ہے، اووری میں کارپس لیوٹیم بناتا ہے اور پروجیسٹرون کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ قصہ المختصر یہ کہ جب سیپیا کے دماغ اور جسم کی اووری کا رابطہ ہی نہیں تو پھر ہائپوتھیلمس گونیڈوٹرافن کدھر اور کیسے خارج کرے گا؟ اور انڈہ دانی o***y میں ovulation تک بات کیسے پہنچے گی؟ جب اوولیشن نہیں ہوتی تو endometrium صحیح طرح تیار نہیں ہوتی، چنانچہ کئی کئی ماہ تک پیریڈ رُکے رہتے ہیں۔ وزن بڑھتا رہتا ہے، اووری میں سوزش آ جاتی ہے، یا پانی کی تھیلیاں (cysts) بن جاتی ہیں۔ معزز قارئین ہمارے پاس Amenorrhea اور pcos کا شکار بے تحاشہ لڑکیاں ریفر ہو کر آتی ہیں، جن کے ہاتھوں میں گائنی کی دس دس بار کروائی گئیں ہارمونل پینل کی رپورٹیں موجود ہوتی ہیں، بٰخُدا ہم ان رپورٹوں کے بغیر بھی ان مریضاوں کی بہتر تشخیص اور علاج کر لیتے ہیں۔ لہٰذا وہ خواتین جن کے پس پردہ پرولیکٹن ہارمون کی زیادتی اور تھائرائڈ گلینڈ کے مسائل ہوں ایسے کیسز کی etiology مختلف ہو سکتی ہے، ان کو سیپیا کے ضمرے میں نہیں لائیں گے۔ ہاں اگر ایکسز اور مماثلت اجازت دے تو پھر ممکن ہے کسی بھی حالت میں کرشمہ ہو جائے۔ آپ جان کر حیران ہونگے کہ میں میں نے اب تک 3 Mbbs ڈاکٹرز کے ہارمون کا علاج کیا ہے، جن میں سے ایک سکِن سپیشلسٹ اور دوسری خود گائنی trainee جو کہ اپنی فیلڈ کے ہاتھوں ہی مایوس تھی، جبکہ تیسری مریضہ سیکنڈ ائیر mbbs کی سٹوڈینٹ تھیں، وہ کہتے ہیں:
ہم پہ گزرے تھے رنج سارے
جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
اب میری ان مریضاوں کا ہومیوپیتھی کے بارے نقطہ نظر بہت مثبت اور کشادہ ہے،
میرے دوستو سیپیا Hormones imbalance کا شکار خواتین کی مہینوں سے رُکی ہوئی ماہواری تیزی سے جاری کرواتی ہے البتہ ایک معالج کو دوا کے درُست اور بالمثل انتخاب اور مناسب پوٹینسی کا علم ہونا چاہیے۔ اگر مریضہ اس دوا کی حالت کی عکاسی نہیں کر رہی ہو تو پھر چاہے سیپیا کا ایک ڈرم بھر کر پلا دیں، ککھ فائدہ نہیں دے گی۔
معزز قارئین ہمارے thumbnail سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ سیپیا چہرے پر آنے والے پیلے نشان اور چھائیوں کی خاص دوا ہے، آئیے جانتے ہیں کہ یہ کن چھائیوں پر کام کرے گی؟
سیپیا کی مریضہ کو زیادہ تر blood deficiency یعنی انیمیا کی شکایت رہتی ہے ہیموگلوبن hemoglobin
کم ہونے سے جلد کی nutrition اور oxygenation متاثر ہوتی ہے, کم oxygenated blood کی وجہ سے جلد کا رنگ مدھم اور پیلا پڑ جاتا ہے۔ جلد کے خلیے stress میں آ کر زیادہ melanin بناتے ہیں، اور یہ عمل اس وقت بڑھ جاتا ہے جب خاص طور پر hormonal imbalance موجود ہو۔ مگر میں سیپیا کی مریضہ سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہوں اور وہ ہے چھائیاں ناک سے شروع ہوئیں یا گالوں cheeks سے؟ اللہ نے اس دوا کی بدولت ایسی کرم نوازی کی ہے کہ یہ دوا بمع ایک معاون دوا اور سکِن سیرم لاہور کی ایک معروف ڈرماٹولوجسٹ کو bulk مقدار میں جاتا ہے جو وہ اپنی پریکٹس میں استعمال کرتی ہیں۔ بہت ساری بیوٹی پارلر والی باجیاں ہمارا چلتا پھرتا اشتہار ہیں، مگر ان کے ساتھ ایک غیر یقینی صورتحال رہتی ہے۔ کیونکہ کسی بھی پارلر کے ریفرنس پر ہم صرف فیشل سیرم ہی دے سکتے ہیں۔ کلینکل پریکٹس اس امر میں involve نہیں ہوتی۔ خیر بات کہاں سے کہاں تک نکل گئی۔
آخر میں ایک دلچسپ بات بتا دوں کہ ہمبستری سے نفرت کرنے والی ایسی خواتین جس کی شکایت وہ خود نہیں بلکہ ان کے شوہر کرتے ہیں۔ میں نے سیپیا دینے کے بعد ہمیشہ ایسے شوہروں کو میٹھی میٹھی شرمساری میں ہمیشہ ہاں
(all is well😍)
میں سر ہلاتے پایا ہے۔
میرے معزز ہومیوپیتھس یقیناً آپ سب نے اس آرٹیکل کا دلچسپی سے مطالعہ کیا ہو گا اور سمجھا بھی ہو گا، میں جانتا ہوں بہت سارے مریض بھی اس آرٹیکل کو پڑھ رہے ہونگے مگر آپ سب سے ایک ہی تمنا ہے اور وہ ہے اس آرٹیکل کو دوسروں تک شئیر کرنا، مفید لگے تو اپنی رائے کا اظہار کرنا، کمینٹ کے زریعے میرے حوصلے کو بڑھانا۔ انشاءاللہ میں آپ کے لیے لکھتا رہوں گا۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس تحریر میں کافی بولڈ قسم کے فقرے اور رُبرکس شامل ہو گئے ہیں مگر گمراہی سے بچنے کے لیے Ethical s*x education بہت ضروری ہے۔ اور یہ ایک فریضہ بھی ہے۔ بچے اور بچیاں رنگ برنگے فحش قسم کے ناول اور مواد دیکھتے ہیں، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے جسم کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ ہو سکتا اور ان مسائل کا حل کیسے ممکن ہے۔ آرٹیکل آخر تک پڑھنے پر شکریہ۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ جزاک اللہ خیرا
تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور