09/06/2026
ڈاکٹر دوا فروش نہیں، معالج ہوتا ہے
آج کل واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مریضوں کا ڈاکٹروں سے رابطہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ سہولت اپنی جگہ مفید ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک غلط فہمی بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ فون یا واٹس ایپ پر صرف اپنی بیماری کا نام بتاتے ہیں اور فوراً یہ توقع رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر انہیں ایک دوا کا نام بتا دے اور مسئلہ حل ہو جائے۔ جب ڈاکٹر تفصیلی معلومات یا کلینک وزٹ کا مشورہ دیتا ہے تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ڈاکٹر صرف فیس وصول کرنا چاہتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
یاد رکھیے، طب ایک باقاعدہ علم اور فن ہے۔ کسی بھی مریض کا علاج صرف بیماری کے نام کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی بیماری کے دو مریض ظاہری طور پر ایک جیسے نظر آ سکتے ہیں لیکن ان کی علامات، مزاج، جسمانی کیفیت، بیماری کی شدت، مدت، سابقہ طبی تاریخ اور دیگر کئی عوامل ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مریض کے لیے مفید دوا دوسرے مریض کے لیے بے اثر یا بعض اوقات نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
خصوصاً ہومیوپیتھی میں تو مکمل کیس ٹیکنگ بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ معالج مریض کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی علامات کا جائزہ لیتا ہے، بیماری کے آغاز اور اس کے اسباب کو سمجھتا ہے، پھر تمام معلومات کو سامنے رکھ کر مناسب دوا کا انتخاب کرتا ہے۔ اگر صرف بیماری کا نام جان لینا ہی کافی ہوتا تو پھر دنیا بھر کے طبی اداروں، اسپتالوں اور کلینکس کی ضرورت باقی نہ رہتی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر کا کام صرف دوا کا نام بتانا نہیں بلکہ درست تشخیص کرنا، مرض کی نوعیت کو سمجھنا اور مریض کی مجموعی حالت کے مطابق علاج تجویز کرنا ہے۔ بعض اوقات ایک جیسی علامات کے پیچھے مختلف بیماریاں چھپی ہوتی ہیں۔ ایسی صورت میں جلد بازی سے دی گئی دوا اصل مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
ہر شعبے کی طرح طب کا بھی ایک سلیقہ، طریقۂ کار اور پروٹوکول ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انجینئر عمارت کا نقشہ دیکھے بغیر تعمیر کا مشورہ نہیں دے سکتا، اسی طرح ایک ذمہ دار معالج مریض کی مکمل کیفیت جانے بغیر علاج تجویز نہیں کر سکتا۔ اس لیے مریضوں کو چاہیے کہ وہ صرف دوا کا نام پوچھنے کے بجائے باقاعدہ مشورہ اور علاج کو اہمیت دیں۔ صحت ایک قیمتی نعمت ہے اور اس کے معاملے میں شارٹ کٹ تلاش کرنے کے بجائے درست طبی اصولوں کی پابندی کرنا ہی دانشمندی ہے۔
خوش رہیں