Tib-e-Jadeed

Tib-e-Jadeed Easy and usefull herbal treatment

آبِ جو۔۔۔ آبِ حیات​آبِ جو کے فوائد:​آبِ جو کو اگر آبِ حیات کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ بڑھاپے کے اثرات کو روکتا ہے، ا...
07/08/2026

آبِ جو۔۔۔ آبِ حیات
​آبِ جو کے فوائد:
​آبِ جو کو اگر آبِ حیات کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ یہ بڑھاپے کے اثرات کو روکتا ہے، انتہائی مقویِ قلب (دل کو طاقت دینے والا) ہے، کینسر کے مرض سے بچاتا ہے، ذیابطیس کے مرض میں مفید ہے، معدہ اور آنتوں کے افعال کو بہتر کرتا ہے، فشارِ خون (بلڈ پریشر) کو کم کرتا ہے، مثانہ اور گردے کی پتھری کو خارج کرتا ہے، گردوں کے افعال کو درست کرتا ہے، نظامِ تنفس کے لیے مفید ہے، تناؤ، کند ذہنی اور ذہنی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ صحت کے لیے قدرتی ٹانک ہے، ہر طرح کے وٹامن کا قدرتی نعم البدل ہے۔ اس کے بیشمار فوائد کے پیشِ نظر گھر میں پکاکر رکھیں اور تمام اہل خانہ صبح شام استعمال کریں اور فائدہ اٹھائیں۔
​آبِ جو بنانے کا طریقہ:
​1 کلو جو کو دھو کر 6 لیٹر پانی میں رات بھر بھگو چھوڑیں۔ صبح ہلکی آنچ پر پکائیں، جب پانی 3 لیٹر رہ جائے تو اتار کر گرم گرم چھان لیں۔ آبِ جو تیار ہے۔ ٹھنڈا ہونے پر بوتلوں میں بند کر کے فریج میں رکھ لیں، صبح شام کھانوں سے پہلے حسبِ ذائقہ شہد شامل کر کے پیئیں
عطیہ .محمدہادی
۔بشکریہ ہربلسٹ امین صاحب۔

   #نسخہ فلفل دراز ، فلفل سیاہ ، دارچینی ، سنڈھ ، سہاگہ ، تمام ایک ایک تولہ ، کچلہ مدبر 5 تولہ۔۔۔  کچلہ حسب ضرورت لیکر ر...
05/08/2026




#نسخہ
فلفل دراز ، فلفل سیاہ ، دارچینی ، سنڈھ ، سہاگہ ، تمام ایک ایک تولہ ، کچلہ مدبر 5 تولہ۔۔۔


کچلہ حسب ضرورت لیکر روغن گاو میں بریاں کر لیں۔اس نسخہ میں یہی مستعمل ہے۔
تمام کا پاؤڈر بنا کر 250 ملی گرام کیپسول بھر لیں۔


صبح شام ایک کیپسول ہمراہ ، دارچینی اور پوست کوکنار برابر وزن ایک چمچ کے قہوے کیساتھ

#فوائد
گینٹھیا کا برسوں کا مریض پہلی خوراک سے ہی افاقہ محسوس کرتا ہے ، اور چند دن میں مکمل ٹھیک ہو جاتا ہے۔
نزلہ ، زکام ، کھانسی کیلۓ یہی نسخہ اسی ترتیب سے صرف گینٹھیا کا برسوں کا مریض پہلی خوراک سے ہی افاقہ تین دن ہی کافی ہیں.
بشکریہ.
حکیم سیف اللہ ہزاروی
فاضل طب والجراحت

ایک معمولی سا دھکا جسے آپ بمشکل یاد رکھ پاتے ہیں، اس کے بعد بھی نیل (Bruise) کا نشان بن سکتا ہے۔لیکن جب نیل بار بار، آسا...
25/07/2026

ایک معمولی سا دھکا جسے آپ بمشکل یاد رکھ پاتے ہیں، اس کے بعد بھی نیل (Bruise) کا نشان بن سکتا ہے۔
لیکن جب نیل بار بار، آسانی سے یا کسی واضح چوٹ کے بغیر ظاہر ہونے لگیں، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ جلد، خون کی نالیوں، پلیٹلیٹس (Platelets) یا خون جمنے کے نظام پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
اس کی ایک ممکنہ—لیکن نسبتاً غیر معمولی—وجہ وٹامن سی کی شدید کمی ہو سکتی ہے۔
وٹامن سی صرف ایک اینٹی آکسیڈینٹ نہیں ہے، بلکہ یہ **کولیجن** (Collagen) بنانے اور اسے مستحکم رکھنے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے، جو جسم کے اہم ترین ساختاتی پروٹینز میں سے ایک ہے۔
کولیجن جلد، مسوڑھوں، ہڈیوں، پٹھوں، رباط (Ligaments) اور خون کی نالیوں کی دیواروں کو طاقت اور سہارا فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے حیاتیاتی فریم ورک کے طور پر کام کرتا ہے جو خلیات اور بافتوں (Tissues) کو جوڑ کر رکھتا ہے۔
مضبوط اور مستحکم کولیجن بنانے کے لیے، جسم کو نئی بننے والی کولیجن کی تہوں میں مخصوص امینو ایسڈز کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل میں حصہ لینے والے انزائمز کو وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب ایک طویل عرصے تک وٹامن سی کی شدید کمی ہو جائے، تو کولیجن کے ریشے عام طریقے سے نہیں بن پاتے اور نہ ہی مستحکم ہو پاتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جسمانی بافتیں (Connective tissues) کمزور ہو جاتی ہیں۔
یہ اثر کیپلیریز (Capillaries)—یعنی جسم کی سب سے باریک خون کی نالیوں—میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ کیپلیریز کی دیواریں انتہائی باریک ہوتی ہیں اور وہ سہارے کے لیے اپنے اردگرد کی بافتوں پر انحصار کرتی ہیں۔
جب وہ سہارا کمزور ہو جاتا ہے، تو عام سا دباؤ، معمولی لمس یا روزمرہ کی حرکت بھی ان باریک نالیوں کو آسانی سے نقصان پہنچا سکتی ہے۔
نتیجتاً خون جلد کے نیچے رسنے لگتا ہے، جس سے نیلے، جامنی، سرخ یا پیلے رنگ کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔
وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے جلد کے نیچے خون کے بالکل چھوٹے اور باریک دھبے (Petechiae) بھی بن سکتے ہیں۔ یہ نشانات خاص طور پر ٹانگوں پر بالوں کی جڑوں کے ارد گرد دکھائی دے سکتے ہیں۔
شدید کمی کی زیادہ پیش رفتہ حالت میں **اسکروی** (Scurvy) نامی بیماری جنم لے سکتی ہے۔
اسکروی کی علامات میں درج ذیل شامل ہو سکتے ہیں:
* آسانی سے نیل پڑنا
* سوجے ہوئے یا خون بہتے ہوئے مسوڑھے
* زخموں کا دیر سے بھرنا
* تھکاوٹ اور کمزوری
* جوڑوں یا پٹھوں کا درد
* شدید حالتوں میں دانتوں کا ہلنا
* جسم کے بالوں کا غیر معمولی طور پر مڑ جانا یا اسپرنگ کی شکل اختیار کر لینا
یہ علامات صرف چند دن پھل یا سبزیاں نہ کھانے سے پیدا نہیں ہوتیں۔
جسم میں وٹامن سی کی ایک محدود مقدار ذخیرہ ہوتی ہے، اور طبی لحاظ سے اہم کمی عام طور پر طویل عرصے تک وٹامن سی کی انتہائی کم خوراک لینے یا جسم میں اس کے درست جذب نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
زیادہ خطرے سے دوچار افراد میں وہ لوگ شامل ہو سکتے ہیں جو شدید محدود غذا کا استعمال کرتے ہیں، غذائی قلت کا شکار ہیں، کھانے کے عارضے (Eating disorders) میں مبتلا ہیں، الکحل کے عادی ہیں، غذا کو جذب نہ کر پانے کی بیماری رکھتے ہیں، یا ایسی بیماریوں کا شکار ہیں جن کی وجہ سے کھانا مشکل ہو جاتا ہے۔
اکیلے رہنے والے معمر افراد اور وہ لوگ جن کی غذا میں پھل یا سبزیاں بہت کم ہوتی ہیں، وہ بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سیگرٹ نوشی سے وٹامن سی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ جسم میں آکسیڈیٹیو اسٹریس (Oxidative stress) کو بڑھاتی ہے اور خون میں وٹامن سی کی سطح کو کم کرتی ہے۔
تاہم، بغیر کسی وجہ کے پڑنے والے تمام نیل خود بخود وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ نیل زیادہ پڑنے لگتے ہیں کیونکہ جلد پتلی ہو جاتی ہے اور اس کے نیچے چربی اور حمایتی بافتیں کم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے معمولی چوٹ پر بھی چھوٹی رگیں آسانی سے پھٹ سکتی ہیں۔
ادویات بھی اس کی ایک عام وجہ ہو سکتی ہیں۔
ایسپرین (Aspirin)، خون پتلا کرنے والی ادویات (Anticoagulants)، پلیٹلیٹ روکنے والی ادویات، کارٹیکوسٹیرائیڈز (Corticosteroids)، اور کچھ دیگر ادویات خون کے جمنے، پلیٹلیٹ کی سرگرمی، یا جلد کی طاقت کو متاثر کر کے نیل پڑنے کا امکان بڑھا سکتی ہیں۔
وٹامن کے (Vitamin K) کی کمی سے خون جمنے کے عوامل متاثر ہو سکتے ہیں۔ جگر کی بیماری بھی خون جمنے کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے، جبکہ پلیٹلیٹس کی کمی یا پیدائشی طور پر خون بہنے کی بیماریاں غیر معمولی خون بہنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
وٹامن سی کی کمی میں نیل زیادہ تر اس لیے پڑتے ہیں کیونکہ بافتیں اور خون کی نالیوں کو ملنے والا سہارا کمزور ہو جاتا ہے۔
جبکہ خون کے جمنے کی خرابیوں (Clotting disorders) میں نالیوں کا ڈھانچہ تو نارمل ہو سکتا ہے، لیکن نالی کے متاثر ہونے کے بعد جسم خون کے بہاؤ کو روکنے میں ناکام رہتا ہے۔
دونوں ہی صورتوں میں بظاہر ایک جیسے نیل بن سکتے ہیں۔
اسی لیے صرف شکل و صورت دیکھ کر اصل وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
روزمرہ کی عام سرگرمیوں کے بعد ہاتھوں یا ٹانگوں پر کبھی کبھار نیل پڑ جانا عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا۔
طبی معائنہ تب ضروری ہو جاتا ہے جب نیل:
* کسی بھی چوٹ یا یاداشت کے بغیر بار بار بننے لگیں،
* غیر معمولی طور پر بڑے یا دردناک ہوں،
* سینے، پیٹ، کمر، یا چہرے پر ظاہر ہوں،
* نا ناک سے بار بار خون بہنے یا مسوڑھوں سے خون آنے کی شکایت ہو،
* ان کے ساتھ سرخ یا جامنی رنگ کے متعدد باریک دھبے ظاہر ہوں،
* یا کوئی نئی دوا شروع کرنے کے فوراً بعد بننا شروع ہوں۔
پیشاب یا پاخانے میں خون آنا، حیض (Menstruation) کے دوران غیر معمولی زیادہ خون بہنا، چھوٹے زخموں سے دیر تک خون بہنا، بخار، شدید تھکاوٹ، بغیر کسی وجہ کے وزن کا کم ہونا، یا خاندانی طور پر خون بہنے کی بیماری کی ہسٹری ہونے کی صورت میں بھی طبیب سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ایک طبیب آپ کی خوراک، ادویات، الکحل کے استعمال، طبی تاریخ اور دیگر علامات کا جائزہ لے سکتا ہے۔ صورت حال کے مطابق، ٹیسٹوں میں مکمل بلڈ کاؤنٹ (CBC)، پلیٹلیٹ کی مقدار، جگر کے ٹیسٹ، خون جمنے کی جانچ، یا غذائی کمی کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔
جب وٹامن سی کی کمی کی تصدیق ہو جائے، تو اس کا علاج عام طور پر غذا کے ذریعے اور طبیب کے مشورے سے وٹامن سی کے سپلیمنٹس سے کیا جاتا ہے۔
بہترین غذائی ذرائع میں ترش پھل (Citrus fruits)، امرود، کیوی، بیریز، شملہ مرچ، بروکلی، ٹماٹر، آلو، اور بہت سے دوسرے پھل اور سبزیاں شامل ہیں۔
جسم خود وٹامن سی نہیں بنا سکتا، اس لیے اسے غذا کے ذریعے مسلسل حاصل کرنا ضروری ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیادہ وٹامن لینا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔
متوازن غذا کھانے والے لوگوں کے لیے وٹامن کے بڑے سپلیمنٹس کی ش*ذ و نادر ہی ضرورت ہوتی ہے، اور زیادہ مقدار پیچش (Diarrhea)، پیٹ کی تکلیف اور دیگر اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔ بغیر وجہ جانے اور اس کا علاج کیے بغیر، نیل کے نشانات کو چھپانے کے لیے سپلیمنٹس استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
**اہم پیغام بالکل سادہ ہے:**
وٹامن سی آپ کی جلد اور سب سے باریک خون کی نالیوں کو سہارا دینے والے کولیجن فریم ورک کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
اس کی شدید کمی ان نالیوں کو کمزور کر سکتی ہے اور آسانی سے نیل بننے کا سبب بن سکتی ہے۔
لیکن چونکہ نیل پڑنے کی اور بھی کئی ممکنہ وجوہات ہوتی ہیں، اس لیے بار بار یا بغیر وجہ کے پڑنے والے نشانات کو خود سے محض کسی وٹامن کی کمی قرار دینے کے بجائے طبیب سے چیک کرواٸیں۔

دل....دریا۔ سمندروں ڈونگھے / یعنی دل سمندر اور دریا سے بھت گہرا ھوتا ھے/یہ ایک مثال ھے حالانکہ دل کی سچویشن اس سے کہیں ز...
12/07/2026

دل....دریا۔ سمندروں ڈونگھے
/ یعنی دل سمندر اور دریا سے بھت گہرا ھوتا ھے/
یہ ایک مثال ھے حالانکہ دل کی سچویشن اس سے کہیں زیادہ بڑی ھے ایک انسان کی اوسط عمر 60 70 سال ھو گی معلومات زندگی میں ھر اعضاء تھک کر ریسٹ مانگتا ھے
مگر دل وہ واحد اعضاء ھے جو عمر سے بھی چند ماہ پہلے دھڑکن شروع ھوتا ھے اور موت کی آخری ھچکی تک بغیر روکے دھڑکتا ھے
❤️ کے کیا مسائل ھیں کیوں ھوتے ھیں
ان پر تفصیلی بات
_________________
ھمارے ملک پاکستان میں پچھلے 20 25 سالوں سے دل کے امراض اور فالج بلیڈ پریشر کے مریضوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ھے بالکہ کم عمر کے لوگوں میں بھی یہ مسلہ پیدا ھو رھا ھے ملتان شہر میں ایک دل کے امراض کا بھت بڑا ھسپتال ھے وھاں مریضوں کا اتنا رش ھوتا ھے کہ بندا یہ سوچتا ھے شائد پورے پاکستان میں سب لوگ دل کے مریض ہیں
یہ اتنا کیوں بڑ رھا ھے
مطلعقہ محکمہ اور حکومت وقت کے سوچنے کی بات ھے
وجہ کیا ھے
_________________
ھمارے ملک میں بننے والا بناسپتی گھی تقریباً 80 سے 90 فیصد ناقص ھے
اور ھم مسلسل کھا رھے ھیں بالکہ صبح کھاتے ھیں دوپہر کھاتے ھیں اور شام
زندگی بھر.......
محکمہ صحت ایسے ھی حکیموں کے پیچھے پڑ جاتا ھے کہ آپ کی دوا سے لوگ بیمار ھو رھے ھیں حکیم کی دوا کوئی
10 دن 15 دن 30 دن کھا لے گا اس کچھ نہیں ھوتا
بیماری تو اس سے پیدا ھوتی ھے گھی ناقص
دودھ 2 نمبر مرچ مصالحہ ملاوٹ والا
حتاکہ پانی بھی صاف میصر نہیں تو پھر بیماری ھی بیماری
منافع خوری نے ھر چیز ملاوٹ شدہ بنا دی اور زندگیاں مشکل میں ڈال دی
بات دل کی شروع کی تھی تو دل پر بات کرتے ھیں
دل اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ھے کہ اس کے مسلز پٹھے پورے جسم سے مختلف ھیں جسم کا ھر اعضا اپنا کام سرانجام دیتے ھوے ایک وقت پر تھک کر ریسٹ منگتا ھے مگر دل وہ اعضا ھے انسان کی پیدائش سے بھی 5 6 ماہ پہلے دھڑکنا شروع ھوتا ھے اور موت کی آخری ھچکی تک بغیر رکاوٹ دھڑکتا ھے پوری زندگی ایک سیکنڈ کے لئے نہیں رک سکتا اس کا رکنا ھی موت ھے
اللہ تعالیٰ نے دل اور دماغ ایسے میٹیریل سے بناے ھیں کہ جسم کا کوئی بھی اعضا ان جیسا نہیں
یہ جلدی بیمار بھی نہیں ھوتے مگر ھماری اپنی کمی کوتاہی کی وجہ سے ان میں مسلے پیدا ھوتے ھیں
دل پورے جسم کا بادشاہ ھے یہ بیک وقت پورے جسم سے خون وصول کر کے پھیپھڑوں گردوں سے صافی کروا کے پھر دوبار پورے جسم کو سپلائی کرتا ھے یہ کام پوری یکسوئی کے ساتھ دن رات جاری رھتا ھے
پاوں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک سپلائی جاری رکھتا ھے جو پورے جسم سے خون لے کر دل کی طرف جاتی ھیں ان کو وریدئیں اور جو دل سے صاف خون لے کر جسم کے ھر حصہ میں جاتی ھیں ان کو شریانیں کہتے ھیں یہ تقسیم در تقسیم اور بریک سے بریک ھو کر پورے جسم پھیلی ھوتی ھیں خون ان سے جسم میں پھیل جاتا ھے جسم اپنی ضرورت کے مطابق آکسیجن لحمیات چکنائی وغیرہ وصول کر کے کاربن ڈائی آکسائڈ گیس وآپس خون کو دے کر ویدوں کے ذریعے دل کی طرف روانہ کر دیتا ھے
یہ سرکٹ زندگی بھر اسی طرح چلتا رھتا ھے
مسلے کہاں شروع ھوتے ھیں___________
جب ھم غذا لیتے ھیں جس میں ٹھوس اور لیکورڈ سب شامل ھوتی ھے معدہ میں جا کر ھضم ھوتی ھے معدہ اس کو بلو بلو کر ایک پیسٹ کی شکل بنا دیتا ھے
یہ پیسٹ مکمل تیار ھو جاتی ھے تو یہ چھوٹی آنت میں منتقل ھو جاتی ھے جو کہ تقریباً 13 میڑ کے قریب ھوتی ھے یہاں اس کا دوسرا انھضام شروع ھوتا ھے اچھے اجزا جذب ھو کر جگر میں منتقل ھو جاتے ھیں فضلہ بڑی آنت میں چلا جاتا ھے
چھوٹی آنت جب معدہ سے نکلتی ھے وھاں قریب ھی دو نالیاں اور شامل ھوتی ھیں ایک میں لبلبہ سے آنے والی رطوبت (انسولین) ھوتی ھے
اور دوسری نالی سے پتہ سے آنے والا رطوبت (صفرہ) ھوتی ھے
انسولین گلوکوز کو ھضم کر کے توانائی میں تبدیل کرتی ھے اگر انسولین کی مقدار کم ھو جاے تو مرض شوگر ھو جاتا ھے
اور اسی طرح پتہ سے آنے والا صفرہ چکنائی ھضم کرتا ھے اگر اس کی مقدار کم ھو جاے تو
چکنائی ھضم کے بغیر خون میں شامل ھو کلسٹرول پیدا کرتی ھے
موٹاپا پیدا کرتی ھے یہی کلسٹرول خون کو گاڑھا کرتا ھے شریانوں کی اندرونی سطح پے کوٹڈ ھونا شروع ھو جاتا ھے اور گاڑھا خون کو سپلائی کرنے میں دل کو زور لگانا پڑتا ھے جس سے مرض بلیڈ پریشر
بناتا ھے اور مسلسل زور لگانے سے دل بھی کمزور ھوتا جاتا ھے
جس سے دل کے امراض
فالج
برین ھمرج(شریان پھٹنا)
پٹھوں کا کمزور ھونا
گاڑھا خون پوری طرح جسم کو سپلائی نہیں ھو جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری غالب آنا شروع ھو جوتی ھے
امراض دل
___________________
دراصل 24 سے 25 سال کی عمر تک جسمانی گروتھ مکمل ھو جاتی ھے
اب چکنائی کی ضرورت بھی جسم کو کم پڑتی ھے
ھم جب ضرورت سے زیادہ چکنائی (وہ بھی ناقص قسم کی) لیتے ھیں تو وہ جسم میں یا تو موٹاپا کا سبب بنتی ھے یا خون میں شامل ھو کر دوسرے امراض کی وجہ بننا شروع ھوتی ھے
دل جو پورے جسم کو خون سپلائی دیتا ھے اور خود بھی خون سے بھرا ھونے کے باوجود بھی دل کو صاف خون کی ضرورت ھو تی ھے کیوں نہ ھو اپنے لئے صاف خون حاصل کرنے کےلئے دل سے نکلنے والی بڑی شریان سے دو بریک شریانوں کے ذریعے وصول کرتا ھے یہ دو شریانیں تقسم در تقسیم ھو کر پورے دل گرد پھیل کر خود دل کو خون کی سپلائی کرتی ھیں
اب جب کہ چکنائی کلسٹرول بن کر پورے جسم کی شریانوں وریدوں میں گھوم رھا ھوتا ھے اور کلاک بناتا ھے وھی خون دل کی شریانوں میں بھی جاتا ھے اور زندگی میں کبھی نہ کبھی ان دل کی شریانوں مین معمولی سا چربی ٹکڑ بن کر جم جاتا ھے شروع میں یہ ایک نقطہ کی طرح ھوتا ھے اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ بڑا ھوتا ھے کیونکہ یہ کلاک ھر آنے والے دن مزید چربی کو دعوت دیتا ھے
اس طرح بڑتے بڑتے 50 فیصد شریان کو بند کر دیتا ھے مگر مریض کو کوئی پتہ نہیں ھوتا
جب یہ 80 فیصد سے اوپر شریان بند کرتا ھے تو پھر ھلکا ھلکا دل کو درد اور تیز چلنے سے سانس پھولنا شروع ھو جاتا ھے
چیک اپ کے بعد پتہ چلتا ھے کہ ھم کو یہ مسلہ بن چکا ھے
اگر 80 فیصد سے زیادہ شریان بند ھو جاے تو کسی وقت بھی ھارٹ اٹیک ھو سکتا ھے
اگر اس وقت بائی پاس ھو جاے تو بہتر ھے ورانہ زندگی کو خطرہ ھے
احتیاط
__________________
اگر وقت پر تشخیص سے پتہ چل جاے کہ خون میں کلاک بن رھے ھیں اور بیڈ کلسٹرول کا لیول زیادہ ھو چکا ھے تو چکنائی. انڈا چربی والا گوشت چھوڑ دیں
نمک کی مقدار کم لیں
ھمارے جسم کا یہ اصول ھے کہ اپنی ضرورت اگر خوراک سے پوری نہ ھو تو جسم اپنے اندر سے تلاش کرتا ھے
اس طرح اگر جسم کی چکنائی بند کر دی جاے
تو وہ اپنے اندر سے چکنائی اٹھنا شروع کر دیتا ھے اور یہ کلاک وغیرہ ختم ھو جاتے ھیں
مگر یہ ھے بھت صبر آزما کام ھے
کیونکہ یہ نہ تو چند میں بننا شروع ھوتے ھیں اور نہ جلدی ختم ھوتے ھیں
خوراک کی احتیاط کے ساتھ بغیر ناغہ ورزش لازمی ھے
خون کو مسلسل پتلا رکھنے کی کوشش کی جاے
ھمارے ملک کے نامور طبیب بانی ھمدرد دواخانہ جناب حکیم محمد سعید صاحب ایک مختصر اور جامع نسخہ لکھتے ھیں اور خود بھی یوز کرتے تھے
یہ ھمشہ استعمال میں رکھو تو دل کے بھت سارے امراض سے محفوظ رہ سکتے ھو
-----------------------------
نسخہ
پان کا ایک مکمل پتہ
لہسن کی تری 3 عدد
انگلی کی پور کے برابر ادرک
کلونجی آدھا چمچہ
سب کو چھری سے قیمہ کی طرح بریک کاٹ لیں
اور رات ایک گلاس پانی میں بھگو دیں صبح خالی پیٹ چھان کر پی لیں
یہ مختصر نسخہ اور فوائد کا حامل ھے
اگر ھارٹ اٹیک ھو تو
_________________
کیا جاے
رات کے یا گھر پر گھر سے باھر ایسا ھو جاے
فری ھسپتال جانا چاھئے
اس سے پہلے کچھ ٹپس
جو اٹیک کو کم کر سکتی ھو
نمبر 1
اگر آپ کو آپ کے کسی عزیز کا پہلے سے پتہ ھے کہ دل کا پرابلم بن رھا ھے تو
انجے سیڈ ٹیبلٹ ھمشہ ساتھ رکھیں جیسے ھی چھاتی میں درد محسوس ھو بلڈ پریشر بھت زیادہ ھو تو ایک گولی زبان کے نیچے رکھ لیں سکون ھو جاے گا
سب سے اول نمبر جو میڈیسن ھے وہ
ایسپرین ھے
جو مختلف ناموں سے میڈیکل سٹور سے مل جاتی ھے ایک مشھور برانڈ ڈسپرین ھے جو چند سیکنڈ میں خون پتلا کر دیتی ھے اور مریض کو ریلیف مل جاتا ھے ھسپتال جانے کا وقت بھی
نمبر 2
اس کے بعد ھومیوپتھ کی دوا ایکونائٹ 200
جیسے ھی طبیعت خراب ھو 5 قطرے زبان پر ڈال دیں
5 مینٹ بعد دوسری خوراک اسی طرح
پھر 5 مینٹ بعد تیسری خوراک دیں
مریض کو سکون مل جاے گا
یہ دوائیں آپ کو گھر دفتر. گاڑی میں ھر وقت رکھنی چھئے
نمبر 3
اگر گھر میں ان دوائوں میں کچھ بھی نہیں اور مسلہ بن گیا تو تو تو...
جناب پھر مریض کے منہ میں ایک چٹکی پسی ھوئی سرخ مرچ ڈال دیں
جس سے دوران خون تیز ھو کر کچھ نہ کچھ درد سے افاقہ ھو سکتا ھے
_________________
کوشش کر کے دل کا خیال کیا کریں جو چیز اس کے لیے خطرہ ھو اس کے قریب بھی نہ جائیں
اچھی اورگھر کی خوراک لیں مناسب اور تازہ موسم کے مطابق فورٹ لازمی لیں
ڈبہ بند خوراک فرئی کی ھوی غذا بازاری ناشتے سے پرھیز ھی بہتر ھے
گاے کا گوشت کم سے کم اور بھنا ھو گوشت کبھی نہ کھائیں
ورزش کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں لازمی
بھوک کے بغیر کبھی نہ کھائیں اور بھت کم کھائیں
اللہ تعالیٰ آپ سب کو صحت مند اور تندرست
رکھے آمین.
بشکریہ.
حکیم محمد لطیف صاحب۔

*چھوٹے عضو تناسل پر تفصیل اور یونانی نقطہ نظر* سب سے پہلے یہ سمجھ لیں: ہر مرد کا جسم مختلف ہوتا ہے۔ سائز میں فرق فطری با...
05/07/2026

*چھوٹے عضو تناسل پر تفصیل اور یونانی نقطہ نظر*

سب سے پہلے یہ سمجھ لیں: ہر مرد کا جسم مختلف ہوتا ہے۔ سائز میں فرق فطری بات ہے۔

*1. "نارمل سائز" کیا ہے؟*
یونانی و جدید طب دونوں کے مطابق عضو کا کام سائز سے نہیں، خون کی روانی اور سختی سے چلتا ہے۔

*بالغ مرد میں اوسط سائز:*
- *ڈھیلا حالت میں:* 3 سے 5 انچ
- *سختی کے بعد:* 4.5 سے 6.5 انچ

1 سے 2 انچ کا فرق نارمل ہے۔ 3 انچ سے کم سختی میں ہو تو اسے "چھوٹا" کیٹیگری میں دیکھا جاتا ہے جسے طب میں *صغر عضو* کہتے ہیں۔

*2. چھوٹا محسوس ہونے کی 5 عام وجوہات - یونانی طب کے مطابق*
**وجہ** **تفصیل**
**1. خون کی کمی** عضو تک خون پورا نہ پہنچے تو سختی اور سائز کم لگتا ہے
**2. موٹاپا** پیٹ کی چربی کی وجہ سے بیس کا حصہ اندر چلا جاتا ہے
**3. سردی و رطوبت** جسم میں بلغم زیادہ ہو تو اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں
**4. بچپن کی کمزوری** غلط عادات یا غذائی کمی سے نشوونما پوری نہ ہو
**5. ذہنی ٹینشن** سٹریس سے خون کی روانی کم ہو جاتی ہے
*3. یونانی 6 مجرب نسخے - خون اور اعصاب کی طاقت کے لیے*

یونانی طب میں مقصد "سائز بڑھانا" نہیں بلکہ *خون کی روانی، سختی اور طاقت* بڑھانا ہے۔

*A. اندرونی طاقت*
1. *معجون فلاسفہ*
5 گرام صبح نہار منہ نیم گرم دودھ سے۔ 40 دن۔ اعصاب اور خون کو طاقت دیتی ہے۔

2. *لبوب کبیر + کشتہ قلعی*
5 گرام لبوب + چٹکی کشتہ قلعی رات کو دودھ سے۔ کمزوری دور کرتی ہے۔

3. *سفوف جریان خاص*
`تالمکھانہ 20g + تخم پیاز 20g + مصری 50g` پیس لیں۔ 1 چمچ صبح شام۔

*B. بیرونی طاقت*
4. *روغن زیتون + روغن مالکنگنی + روغن دارچینی*
برابر مقدار مکس کر کے نیم گرم کر کے 5 منٹ ہلکی مالش۔ ہفتے میں 3 بار۔ خون کی روانی بہتر کرتا ہے۔

5. *حب جدوار + حب مقوی باہ*
حکیم کے مشورے سے۔ جگر اور گردے کی طاقت کے لیے۔

*C. خوراک*
6. *دودھ + کھجور + بادام + شہد*
روز رات کو۔ جسم میں گرمی اور طاقت پیدا کرتا ہے۔

*4. 4 لازمی پرہیز*
1. *موٹاپا کم کریں* - پیٹ کم ہوگا تو بیس والا حصہ نظر آنے لگے گا
2. *غلط عادات سے بچیں* - اعصاب کمزور ہوتے ہیں
3. *سگریٹ، شراب، کولڈ ڈرنک بند* - خون کی نالیاں تنگ کرتی ہیں
4. *ٹینشن نہ لیں* - 90% مسئلہ ذہنی ہوتا ہے۔ پارٹنر کو سائز سے نہیں، تعلق سے فرق پڑتا ہے

*5. ورزش اور عادتیں*
1. *روز واک 30 منٹ* - دل اور خون کی روانی بہتر
2. *کیگل ورزش* - شرونی کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، کنٹرول اور سختی بہتر ہوتی ہے
3. *گرم پانی سے دھونا* - ہفتے میں 2 بار

*6. کب ڈاکٹر/حکیم سے ملیں؟*
اگر بلوغت کے بعد بالکل نشوونما نہ ہوئی ہو، یا ساتھ ہارمون کا مسئلہ، شوگر، بلڈ پریشر ہو تو *یورولوجسٹ یا ماہر طب* سے ہارمون ٹیسٹ کروائیں۔

*اہم بات:*
دنیا میں کوئی تیل، گولی یا پمپ مستقل سائز نہیں بڑھاتا۔ جو چیز بڑھتی ہے وہ ہے *سختی، طاقت، خون کی روانی اور اعتماد*۔ اور یہی ازدواجی زندگی کے لیے اصل چیز ہے۔

*خلاصہ 1 لائن:*
*چھوٹا محسوس ہونا = خون کی کمی + موٹاپا + کمزوری۔ علاج = معجون + طاقت کی خوراک + ورزش + ٹینشن فری*

*30 دن کا مکمل کورس پلان*

*صبح نہار منہ - 7 بجے*
1. *معجون فلاسفہ* - 5 گرام
2. *نیم گرم دودھ 1 گلاس + 2 کھجور + 1 چمچ شہد*
`فائدہ`: جسم کو گرمی، طاقت، خون بناتا ہے

*ناشتے کے بعد - 10 بجے*
3. *سفوف مقوی*
`تالمکھانہ 20g + تخم پیاز 20g + مصری 50g` پیس لیں۔
*1 چمچ پانی سے*
`فائدہ`: جریان، احتلام، کمزوری کے لیے

*دوپہر کھانے کے بعد*
4. *سونف 1 چمچ + دھنیا 1 چمچ کا قہوہ*
`فائدہ`: ہاضمہ، قبض ختم، جسم میں گرمی کنٹرول

*رات سونے سے 1 گھنٹہ پہلے - 10 بجے*
5. *لبوب کبیر* - 5 گرام
6. *دودھ 1 گلاس + 4 بادام + 2 دانہ الائچی*
`فائدہ`: نیند اچھی، اعصاب ریکور، طاقت

*ہفتے میں 3 بار بیرونی مالش*
7. *روغن* - `زیتون 2 چمچ + مالکنگنی 1 چمچ + دارچینی 4 قطرے`
نیم گرم کر کے 5 منٹ ہلکی مالش۔ پھر 1 گھنٹہ بعد دھو لیں۔
`فائدہ`: خون کی روانی

*2. 30 دن کی خوراک اور پرہیز*
**کھائیں** **نہ کھائیں**
دودھ، کھجور، بادام، شہد، انڈا، گوشت کولڈ ڈرنک، فاسٹ فوڈ، مرچ مصالحہ
پالک، چقندر، گاجر - خون کے لیے سگریٹ، شراب، چائے زیادہ
پانی 8 گلاس، سلاد دیر سے کھانا، پیٹ بھر کر کھانا
*3. روز کی 3 عادتیں - 15 منٹ*
1. *واک 20 منٹ* - خون کی روانی کے لیے
2. *کیگل ورزش 3 سیٹ x 10 بار* - شرونی کے پٹھے مضبوط
3. *ٹینشن فری نیند 7-8 گھنٹے* - رات 11 بجے سو جائیں

*4. 4 اہم ہدایات*
1. *40 دن پورے کریں* - 10 دن میں رزلٹ نہیں آتا۔ صبر لازمی ہے
2. *قبض نہ ہونے دیں* - رات کو گلقند 2 چمچ
3. *موبائل/غلط مواد سے بچیں* - دماغ ٹھنڈا رکھیں
4. *وزن چیک کریں* - پیٹ کم کریں گے تو فرق خود نظر آئے گا

*5. کب بند کر دیں؟*
اگر جسم میں بہت زیادہ گرمی، چھالے، یا معدہ خراب ہو جائے تو 3 دن وقفہ کر کے آدھی مقدار سے شروع کریں۔

*6. کتنی دیر میں فرق آئے گا؟*
- *10 دن*: کمزوری کم، نیند بہتر
- *20 دن*: سختی اور طاقت میں فرق
- *40 دن*: مکمل رزلٹ

*خلاصہ 1 لائن:*
*کورس = معجون صبح + سفوف دوپہر + لبوب رات + دودھ + ورزش + پرہیز*

بھائی یہ عام مقوی نسخے ہیں۔ اگر آپ کو شوگر، بلڈ پریشر یا کوئی اور بیماری ہے تو پہلے حکیم/ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔
بشکریہ
حکیم مولانا رحیم الدین نقشبندی

گوند کتیرا یا (Tragacanth Gum) اور گوند ببول یا(Gum Acacia)گوند ببول یا Gum Acacia کی تاثیر گرم ہوتی ہے اسے سردیوں میں پ...
27/06/2026

گوند کتیرا یا
(Tragacanth Gum)
اور گوند ببول یا
(Gum Acacia)

گوند ببول یا
Gum Acacia
کی تاثیر گرم ہوتی ہے اسے سردیوں میں پسے ہوئے بادام گری، کاجو، پستہ ، السی ، بھنے چنے ، کدو کے بیج وغیرہ پیس کر اس کے لڈو بنا کر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس پوسٹ میں ہم گوند کتیرا یعنی
Tragacanth Gum
کے حوالے سے لکھیں گے۔
گوند کتیرا اپنے ٹھنڈے مزاج کی وجہ سے خاص طور پر گرمیوں میں کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے یہ قدرتی گوند ہے جو
Astragalus
درخت کے رس سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ سفید، سفیدی مائل پہلا یا کریمی رنگ کی ہوتے ہے۔
​اس کے اہم فوائد اور استعمال کا درج زیل ہیں
​1. گوند کتیرا کے اہم فوائد
​گرمی اور لو سے بچاؤ:
اس کی تاثیر انتہائی ٹھنڈی ہوتی ہے اس لئے اسے صرف گرمیوں میں استعمال کیا جانا چاہئے یہ جسم کے درجہ حرارت کو اعتدال میں رکھتا ہے اور صبح کے وقت استعمال سےلو لگنے (Heat stroke) سے بچاتاہے۔
کاربوہائیڈریٹ ہونے کی وجہ سے ​توانائی اور مردانہ کمزوری کا خاتمہ:
یہ جسمانی کمزوری کو دور کر کے فوری توانائی فراہم کرتا ہے۔
چونکہ یہ viscose fluid ہوتا ہے اور رات بھر پانی میں بھگونے سے جیلی نما مائع بن جاتا ہےاسلئے یہ مردوں میں جریان وغیرہ میں یہ انتہائی مفید مانا جاتا ہے۔
​خواتین کے مسائل کا حل:
خواتین میں لیکوریا، جسمانی درد اور زچگی (Delivery) کے بعد کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے اسے لڈو یا پنجیری میں ملا کر دیا جاتا ہے۔
​نظامِ ہضم کی بہتری:
اگر اس کے استعمال کے بعد پانی کا معقول استعمال کیا جائے تو یہ قبض (Constipation) کو دور کرتا ہے اور معدے کی جلن، تیزابیت اور السر میں راحت پہنچاتا ہے اگر دن بھر پانی کا معقول استعمال نا کیا جائے تو یہ قبض کھولنے کی بجائے قبض کا باعث بن سکتی ہے۔
​وزن میں کمی:
پانی میں بھیگنے کے بعد یہ پھول جاتا ہے۔ اسے کھانے سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے، جس سے زیادہ بھوک نہیں لگتی اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے بشرطیکہ آپ اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹ اور چکنائی کا استعمال کم رکھیں اور پروٹین والی خوراک اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔
​جلد اور بالوں کے لیے مفید:
اس میں اینٹی ایجنگ خصوصیات ہوتی ہیں جو جھریاں کم کرنے اور جلد کو چمکدار بنانے میں مدد کرتی ہیں۔
​2. گوند کتیرا کا استعمال کیسے کریں؟
​اہم بات: گوند کتیرا کو کبھی بھی خشک یا بغیر بھگوئے استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ پیٹ میں جا کر پھولتا ہے اور آنتوں کو بلاک کر سکتا ہے اس لئے گوند کتیرا استعمال کرنے کے بعد دن بھر پانی اور دوسری مائع کا جیسا کہ سکنجبین ، لسی وغیرہ کا استعمال زیادہ کریں۔
​طریقہِ تیاری:
​گوند کتیرا کے ۱ سے 2چھوٹے ٹکڑے لے کر ایک گلاس پانی میں رات بھر کے لیے بھگو دیں۔
​صبح تک یہ پھول کر بالکل سفید جیلی (Jelly) یا برف کے چورے کی طرح ہو جائے گا۔
​استعمال کے مختلف طریقے:
​شربت یا دودھ میں: اس جیلی کے 1 سے 2 چمچ صبح نہار منہ ایک گلاس ٹھنڈے دودھ، پانی، یا صندل/بزوری کے شربت، سکنجبین یا لیموں پانی میں ملا کر پی لیں۔
​تخم بالنگا /چھما چھم یا (Basil Seeds) ، اسپغول (Psyllium Husk) اور Nuts جیسا کہ بادام ، کاجو، مغز وغیرہ کے چورے کے ساتھ:
گرمی کے توڑ کے لیے اسے تخم بالنگا جسے ہم چھما چھم بھی کہتے ہیں اور اسپغول کے چھلکے کے ساتھ ملا کر پینا بہترین مشروب بنتا ہے اس میں مزید نٹس گراؤنڈ کر کے مزیدار بنایا جا سکتا ہے۔
​فالودہ اور آئس کریم: اسے فالودے، لسی یا آئس کریم کے اوپر ڈال کر بھی کھایا جا سکتا ہے۔
​ احتیاطی تدابیر
​اسے ہمیشہ وافر مقدار میں پانی کے ساتھ استعمال کریں تاکہ یہ حلق یا آنتوں میں نہ پھنسے۔
​جن لوگوں کو سانس کا مسئلہ (جیسے دمہ) ہو، وہ اس کے استعمال میں احتیاط کریں یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
منقول۔

کثرت مباشرت  مشت زنی لونڈے بازی سے پیدا ھونے والی بیماری کا اصولی علاج مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں صاحب کا طریقہ علاج ...
24/06/2026

کثرت مباشرت مشت زنی لونڈے بازی سے پیدا ھونے والی بیماری کا اصولی علاج
مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں صاحب کا طریقہ علاج هی بہتر طریقہ علاج هے
مسکن مغلظ محرک یہ کیا هے آو سنو دوستو

مردانہ کمزوری کا شکار افراد میں سے اکثر کو جو بھی نسخہ ملتا ہے بلا

سمجھے سوچے بے دھڑک

استعمال کر لیتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اور مریض نسخہ بتانے والے کا

گلہ کرتا ہے کہ تم نے

نسخہ اچھا نہیں دیا ۔بعض اوقات تو بجائے فائدے کے نقصان بھی ہوتا ہے اس

لیئے میں آپ کو مردانہ

کمزوری کا علاج کرنے کا طریقہ بتاتا ہوں ان ہدایات پر عمل کر کے آپ انشاءاللہ

اچھے نتائج حاصل کریں

گے

ہدایت نمبر 1
مردانہ کمزوری کے علاج کا طریقہ

علاج جب بھی شروع کریں تو پہلے معدہ اور جگر پر توجہ دیں ضرورت ھو تو مناسب اصلاح کریں

مردانہ کمزوری کی جڑ معدہ سے بھی

شروع ہوتی ہے۔قبض۔

بدہضمی۔تیزابیت۔کھانا کا ہضم نہ ہونا۔بھوک کی کمی۔وقت بےوقت کھانا۔بسیار

خوری ان سب علامات کی

موجودگی ہو تو سب سے پہلے ان امراض و عادات کا علاج کریں اس کے لیئے

آپ کا معدہ مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے تو پھر دوسرے سٹیپ کی جانب بڑہیں

ہدایت نمبر2


معدے کی درستگی کے بعد جو سب سے پہلے آپ نے علاج کرنا ہے وہ ہے

ذکاوت حس ھے
اور آپ میں
سے اکثر کو ذکاوت حس کا پتہ ہی نہیں ہوگا۔ذکاوت حس
کیا ھے
سیکس کا خیال

ذہن میں آتے ہی عضو خاص سے مذی یا منی یا پھر پانی جیسی رطوبت کا
اخراج ہونا۔اکثر آپ میں کنوارے
یا شادی شدہ حضرات اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ سمجھیں مردانہ کمزوری کے تمام امراض میں
اگر ذکاوت حس کا مسئلہ ہے اور آپ اس کو حل کیئے بغیر دیگر طاقت یا
ٹائمنگ کی دوائی کھاتے ہیں تو
وہ بے کار ہے۔اس لیئے ذکاوت حس کا علاج ایسے ہی ہے جیسے کس عمارت
بنانے میں اس کی بنیاد بنانا ہوتا ہے
ہدایت نمبر3
ذکاوت حس کا علاج جب ہو جائے تو مغلظ ادویات استعمال کرنی چاہیے اب آپ
کو مغلظ کا بھی سمجھاتاہوں مغلظ یعنی مادہ منویہ یا منی کو گاڑھا کرنے کی دوائی کو مغلظ کہتے ہیں
اس میں سفوف معجون گولی
یا پھر کیپسول کوئی بھی طریقہ استعمال کر سکتے ہیں ۔مردانہ کمزوری کے
علاج میں مادے کو گاڑھا کرنا
کا علاج اس لیئے ضروری ہے کہ اگر مادہ گاڑھا ہوگا تو ہی جسم میں سے خارج ھونے میں میں وقت لے گا اور ٹائمنگ زیادہ ھو گی جو نہایت ھی ضروری ھے اور شفاف سیمن میں سپرم بہتر پرورش پائیں گے اور ان کی تعداد تیزی سے بڑھے گی
اس لئے اس مسئلہ کیطرف خصوصی توجہ دین
ہدایت نمبر4

طریقہ
مادہ کا پتلا پن کا علاج کرنے کے بعد اگلا قدم عضو خاص کو طاقت دینے والی
ادویات کا استعمال ہے۔اس
کے لیئے آپ اندرونی و بیرونی طور پر دونوں طریقےاستعمال کریں اندرونی
طور پرسفوف ۔ معجون۔ گولی ۔
یا پھر کیپسول اور کوئی بھی کھانے والا نسخہ استعمال کر سکتے ہیں جب آپ
اپنے آپ کو اندرونی طور پرفٹ محسوس کریں تو بیرونی علاج کی طرف آ جائیں۔بیرونی علاج کے بے
شمار طریقے ہیں اس میں آئیل
مرہم ۔ ٹکور ۔ پٹی لگانا۔اور بھی کافی طریقے ہیں آپ کوشش کریں کہ آسان اورسادہ طریقہ استعمال کریں۔
اور لگانے والی چیز وہ استعمال کریں جس سے عضو پے چھالے یا دانے نہ
بنیں۔اگر کوئی طلاء لگانے
سے چھالےیا دانے نکلیں تو دوا لگانا چھوڑ کر عضو پر دیسی گھی یا مکھن
لگا لیا کریں۔
یہ 4 آسان سادی ہدایات ہیں ان پر عمل کر کے آپ انشااللہ مرادنہ کمزوری سے
نجات حاصل کر سکتے ہیں
یہاں آپ کو ذکاوت حس کا اندرونی اور بیرونی علاج بتاتے ھیں
یہ مرض کم نفسیاتی مسلہ زیاده هوتا هے ایک احساس سا هوتا هے نوجوانوں میں زیاده اور زیاده عمر والو میں بهت کم پایا جاتا هے یہ
مسلسل کئی سال کی گئی مشقت زنی سے هاتھ کی سختی کی وجہ سے مخصوص اعضاء انتہائی حساس هو جاتے هیں
خاص کر کیپ والا حیصہ جو کپڑے کی معمولی رگڑر سے بهی دغده پیدا کر کے دماغ کو انزال پر مائل کر لیتا هے
ذهن پہلے هی ہر وقت جنسی خیالات سے پور هوتا هے رهی سہی کسر فاحش میڈیا نے پوری کی هوئی هوتی هے ہر قسم کی گندی فلم بینی مشقت زنی کا سبب بنتی هے اور مرض ذکاوت کا آغاز شروع هوتا هے جو سرعت انزال اور نامردی کی وجہ بنتا هے
انسان کا اپنے پر کنٹرول یا رکاوٹ رکهنے کی حثیت ختم هوجاتی هے یہ بیماری هم نے کئی سال کی جدجہد کے بعد حاصل کی هوتی هے تو اس کے علاج کے لے وقت تو درکار هوتا هے دماغ جو انتشار کا شکار هوتا هے خواهش بے قابو هوتی هے اس کو سکون کی ضرورت هے بهرپور نید بهی اس کا علاج هے مگر ساتھ کچھ ادویات بهی هو
دماغ کے سکون کے لئے مقوی دماغ غذا اور مقوی معده
دوا سے شروع کریں
نفس کی حساسیت کے لئے مسکن طلا لگائیں 15 20 دن تک لازمی یوز کریں
ساتھ مسکن دوا بهی صاف ستھری زندگی گزارین اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں
ہر مریض جس نے اپنا خانہ آپ خراب کیا هوتا هے وه علاج بهی خود هی کرنا چاهتے هیں مگر ایسا هو نہیں سکتا
کیونکہ یہ محنت کئی سال کی کئی هوتی هے علاج کو بهی تو وقت ملنا چاهئے اور اصول سے علاج هونا ضروری هے20 سے 35 سال کی مریض کی دوا 50 سال والے کو فائده نہیں دیتی 50 والے کی چهوٹی عمر والے مریض کو نقصان دے گی محرک دوا سے علاج کبهی شروع نہ کریں همشہ مسکن مغلظ مقوی محرک کی ترتیب سے شروع کریں
مسکن علاج کے دو نسخہ حاضر هیں
طلا مسکن
پاره 1 تولہ 5 ماشہ
گندهک 6 تولہ 5 ماشہ
پارہ گندھک کو 6 گھنٹے کھرل کر کے کجلی تیار کریں جب پارہ کی چمک ختم ھو جاے تو کجلی تیار ھے
کجلی 1 تولہ
کافور 1 تولہ
وزلین 6 تولہ
سب اشیاء ملا کر کریم تیار کریں
استعمال
رات سوتے وقت چنے کے برابر کریم کیپ چهوڑ کر نفس پر مساج کریں
صبح گرم پانی سے دهو دیں 20 دن کے لئے
خوراکی دوا
کشنیز 6 تولہ
موصلی سفید انڈیا والی 5 تولہ
کوکنار 3 تولہ
پوٹاشیم برومائیڈ 2 تولہ
پوڈر بنا لیں صبح منہ نہار ایک چمچہ شام 4 بجے ایک چمچہ ٹهنڈا پانی کے ساتھ 25 30 دن کے لئے
کوکنار ناپید هو تو خشخاش ملا لیں
پرهیر
خیالات پاک صاف رکھیں گرم محرک تلی اشیاء
ترش اشیاء
پوری تفصل سے لکھ دیا هے مزید سوال کی ضرورت تو نہیں پهر بهی بندا حاضر خدمت هے
دعا میں یاد رکهنا۔
بشکریہ.
حکیم محمد لطیف

لبلبہ پینکریاز کے کام کرنے کا فنکشن ۔شوگر کیا ہے لبلبہ میں دو سیل ہوتے ہیں ایک سیل گلوکاگان Glucagon  ہارمون ہے جو لبلبہ...
29/05/2026

لبلبہ پینکریاز کے کام کرنے کا فنکشن ۔

شوگر کیا ہے

لبلبہ میں دو سیل ہوتے ہیں
ایک سیل گلوکاگان Glucagon ہارمون ہے جو لبلبہ کے الفا سیل یعنی خلیوں سے خارج ہوکر خون میں گلوکوز اور فیٹی ایسڈ کی مقدار بڑھاتا دیتا ہے

اور لبلبہ کا دوسرا سیل بیٹا سیل یعنی خلیوں سے خارج ہونے والا ہارمون انسولین کہلاتا ہے ۔جو خون میں گلوکوز (شوگر ) کی مقدار خرچ کرکے کم کرتا ہے ۔
جبکہ فرنگی طب جس کو ایلوپیتھی کہتے ہیں ڈاکتر حضرات عوام کو بیوہ قوف بنا رکھا ہے کہ جی لبلبہ ڈیڈ ہوچکا ہے لہذا انسولین لینی ہے گولی لینی ہے کتنی بڑی جہالت ہے فرنگی طب کی
اب دوستو آپ خود بتائیں کیا ایسا مردہ بھی دیکھا ہے جو سن تو سکتا ہو لیکن بول نہ سکتا ہو یا بول تو سکتا لیکن سن نہ سکتا ہو تو پھر ہم کیسے لبلبہ کو ڈیڈ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کے دونوں سیلوں میں ایک کام کرتا ہے ایک کام چھوڑ دیتا ہے ۔
آپ نے کئی بار دیکھا ہوگا کہ کئی مریضوں کی شوگر لو ہوجاتی ہے تو آپ الفا سیل کو ایکٹیو کرنے کے لیئے میٹھی چیز کھلاتے ہیں اگر لبلبہ ڈیڈ ہے تو مٹھاس کھلانے سے کیوں پھر شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔

بیٹا سیل کو بھی ہم بدنام کرتے ہیں ورنہ وہ ایماندار مزدور کی طرح اپنی طاقت سے زیادہ کام کرتا ہے وہ تو پہلے سے بھی زیادہ انسولین بناتا ہے ۔

ابھی یہاں آپ کو انسولین
What is the insuline resistance
کو سمجھنا ہوگا

انسولین رزسٹینس کیا ہوتی ہے؟

جب ہم کوئی بھی خوراک کھاتے ہیں جس میں میٹھا، عام آٹے کی روٹی، چاول، آلو یا دیگر کاربوہائیڈریٹس ہوں تو اس خوراک سے جسم کیلئے ایندھن بنانے اور باقی کو بطور چربی کے جسم میں جمع کرنے کیلئے جسم میں ہی موجود لبلبہ نامی ایک عضو ایک ہارمون بناتا ہے جس کا نام ہے "انسولین"، جو کاربوہائیڈریٹس کو شوگر کی شکل میں جگر اور جسم کے تمام خلیوں میں داخل کرتا ہے تاکہ جسم کو طاقت ملے اور ضرورت سے زیادہ شوگر کو چربی میں تبدیل کر کے جسم میں ہی جمع کرتا جاتا ہے۔

انسولین رزسٹینس کا مطلب ہے کہ انسولین کے عام مقدار میں جسم کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہونے کی صورت میں لبلبہ سے اور زیادہ مقدار میں نکلنا۔

انسولین رزسٹینس تب پیدا ہوتی ہے جب جگر کے ارد گرد بہت سی چربی جمع ہو جائے اور انسولین شوگر کو آسانی سے جگر میں داخل نہ کر سکے۔ اس صورتحال میں اور زیادہ انسولین کا اخراج ہوتا ہے تاکہ زور لگا کر شوگر کو جگر میں داخل کیا جائے۔ یعنی زیادہ موٹاپا تو زیادہ انسولین جس سے مزید جگر اور جسم میں چربی اور پھر اس کیلئے اور زیادہ انسولین۔ یعنی مسئلہ کی اصل جڑ ہے موٹاپا اور وہ خوراک زیادہ کھانا جس میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں۔ تو مسئلے کا حل کیا ہوا پھر ؟
جی بالکل درست، اس کا حل ہے وزن کم کرنا، چاول کھانا بند کرنا اور کاربوہائیڈریٹس فری خوراک کھانا چاہیئے ۔

پاکستان شوگر میں نمبر 1 کیوں ہے؟

جواب: خوراک کی وجہ سے

پاکستانیو کی خوراک کا بڑا حصہ ان اشیاء پر مشتمل ہے جن میں شوگر کی بھرمار ہے

• 1 عدد روٹی = 40 گرام شوگر
• 1 پلیٹ چاول = 30 گرام شوگر
• 1 سلائس بریڈ= 10 گرام شوگر
• 1 عدد رس= 8 گرام شوگر
• 1 کولڈ ڈرنک= 25 گرام شوگر
• 1 آلو = 15 گرام شوگر

جب صبح شام فائبر نکلی ہوئی، شوگر سے بھرپور خوراک کھائی جائے تو نتیجہ شوگر کی صورت میں نکلتا ہے

بات صرف شوگر پر ہی ختم نہیں ہوتی، شوگر بڑھ کر 4 بیماریاں اور پیدا کرتی ہے

ہائی شوگر = اعصابی کمزوری = زخموں کا ٹھیک نہ ہونا = معذوری

ہائی شوگر = ہائی ٹرائی گلیسرایڈز= ہائی بلڈ پریشر = ہارٹ اٹیک

ہائی شوگر = ہائی Creatinine = گردے فیل

ہائی شوگر = شریانیں بند = فالج

ڈھیروں دوائیاں اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس الگ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں

آپ کی زندگی میں جتنے روٹی چاول اللّٰہ نے لکھے تھے وہ آپ کھا چکے ہیں

اگر آپ کی شوگر روٹی، چاول کھانے کے ساتھ کنٹرول نہیں ہو رہی تو وہ آپ کے لیے زہر ہے، آپ کی جان کی دشمن ہیں، خود کشی کے مترادف ہے

اللّٰہ کی لاکھوں نعمتیں ہیں، وہ کھائیں، واک ورزش کریں، شوگر کنٹرول رہے گی

شوگر کے مریض غفلت کی جس نیند میں سو رہے ہیں ان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی ضرورت ہے

شوگر مافیا کی کہانی

شوگر مافیا کہتا ہے کوئی مسئلہ نہیں، آؤ علاج شروع کرتے ہیں

پہلے چیک اپ پر Hba1c ٹیسٹ کرواؤ، گردوں کا ٹیسٹ کرواؤ، کولیسٹرول، یورک ایسڈ کا ٹیسٹ کرواؤ اور رپورٹس لے کر اگلے وزٹ پر آؤ

دو دن بعد دوبارہ سے فیس دو، شوگر ہو گئی ہے تو گلوکوفیج لکھ دو، اگر زیادہ ہائی ہے تو گلوکوفیج کے ساتھ ایمریل، گیٹرل بھی لکھ دو، ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی ہائی ہے تو دو دوائیاں اور لکھ دو

خوراک کا کوئی پرہیز نہیں، سب کچھ کھاؤ بس دوائی کھانی نہیں بھولنی

ہر ماہ یہی کھیل جاری رہتا ہے شوگر تو کنٹرول نہیں ہوتی البتہ دوائیاں بڑھتی جاتی ہیں

اب پاؤں جلتے ہیں، معدہ خراب رہتا ہے، ٹانگیں سن رہتی ہیں، پیشاب جلن کے ساتھ آتا ہے، کوئی بات نہیں، 3-4 دوائیاں اور کھا لو

آرام نہ آئے تو دوبارہ ڈاکٹر کا چکر لگاؤ، اور نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے

پھر ایک وقت آتا ہے کہ گردے فیل ہو جاتے ہیں، بندہ Dialysis پر چلا جاتا ہے، زخم ٹھیک نہیں ہوتے، گینگرین بن جاتا ہے، پاؤں کٹ جاتے ہیں

شوگر انسان کو تباہ نہیں کرتی، شوگر مافیا ناگ بن کر شوگر کے مریض کو نگل جاتا ہے

پاکستان میں شوگر کی تباہی شوگر سے نہیں، شوگر کے غلط علاج سے پھیل رہی ہے، شوگر مافیا کے زہر بھرے علاج سے آئے روز ٹانگیں اور گردے تباہ ہو رہے ہیں

مذکور بالا شوگر کے بارے میں آپ جانتے تھے یا نہیں چھوڑ دیں ۔ اگر نہیں جانتے تھے تو آپ جان لیں ۔


شوگر کیوں ہوتی ہے

جگر اپنے پاس کچھ مقدار میں تو فیٹ اپنے پاس زخیرہ رکھتا ہے کہ لیکن اس مقدار سے پانچ پرسنٹ سے فیٹ زیادہ ہوگئی تو فیٹی لیور ہوجاتا ہے ۔اسکا implication کیا ہے ۔
لیور یعنی جگر کا ایک سیل ہے آپ جو کھاتے ہیں میٹھے کی صورت میں تو pancreas یعنی لبلبہ انسولین جاری کر لیتا ہے تو وہی جگر کا سیل اس شوگر کو انرجی میں کنورٹ یعنی تبدیل کر لیتا ہے جس سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے ۔
اگر لیور میں فیٹ آگئی تو انسولین کا اس کے اندر جانے میں دقت پیدا ہوتی ہے تو پھر اور زیادہ انسولین کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انسولین کو ان سیل تک پہنچنے کے لیئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔
دھیرے دھیرے pancreas یعنی لبلبہ انسولین بناتا تو ہے لیکن تھک جاتا ہے ۔

پانچ سال دس سال روز زیادہ سے زیادہ انسولین بنائے گا چونکہ ہر صورت میں انسولین کا اندر جانا چاہیئے تاکہ شوگر انرجی میں کنورٹ ہوجائے ۔

اگر انسولین نہیں پہنچتی ہے اس سل میں تو That person will not use energy یعنی آپکی طاقت زائل ہوجائیگی۔

آہستہ آہستہ لبلبہ تھک جائیگا تو پھر اپکو شوگر ہوجاییگا ۔تو معلوم ہوا کہ شوگر جگر کی خرابی سے ہوتا ہے ۔

پھر آپ ڈاکٹر کے پاس بھاگیں گے وہ آپ کو بلڈ ٹسٹ لکھے گا ۔ پھر آپ بلڈ ٹسٹ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے بلڈ شوگر بھی ہے اور کولیسٹرول بھی ہوگیا ہے لیکن پھر آپ کو یہ بھی علم نہیں ہوگا کہ مجھے کونسا کولیسٹرول زیادہ ہے ۔ بس ڈاکٹر آپ کو دوا لکھ دے گا ۔ آپ نے فیس بھی دیی ہوتی ہے لیکن آپ پوچھتے نہیں ہیں کہ مجھے شوگر کس وجہ سے ہوئی ہے میرا کولیسٹرول کیوں بڑا ہے ۔

او میرے بھائی جب وہی کولیسٹرول ,(فیٹ)سے جگر بھر جاتا ہے تو وہی فیٹ خون میں آگیا جس سے آپ شوگر ہوجاتی ہے ۔
پھر وہ فیٹ بلڈ میں گھومتی ہے ۔ پھر وہ فیٹ کیا کرتی ہے آپکی آرٹری میں جمع ہوجاتی ہے آپکی آرٹری سخت ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے خون کی ترسیل آسانی سے آرٹری کے اندر سفر نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے آپ کو بلڈ پریشر ہوجاتا ہے۔
اگر دل میں فیٹ جمع ہوگیا ہے تو پھر ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے ۔ اگر فیٹ گال بلیڈر یعنی پتہ میں گیا تو وہاں سٹون پتھری بن جاتی ہے جس سے آپ کہتے ہیں کہ پتہ میں پتھری بن گئ اور اگر وہی فیٹ گردے میں جائے تو گردوں کو نقصان پہنچا دیتا ہے ۔

بحرحال یہ بندہ ناچیز کیا فلسفے بیان کرے گا مختصر بتا دیتا ہوں کہ
Fatty liver is the cause for all other diseases
کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہی ہے ۔

بحرحال آپ چاہے معالج کوئی بھی ہو اس سے یہ تو معلوم کریں کہ مجھے کیا کھانا چاہیئے اور کیا نہیں صرف شاپر سے نیلی پیلی گولیاں تمام عمر کھانا علاج تو نہیں ہے
منقول۔

Address

Sabzazar Lahore
Lahore

Telephone

+923234226763

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tib-e-Jadeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tib-e-Jadeed:

Shortcuts

Share