29/05/2026
لبلبہ پینکریاز کے کام کرنے کا فنکشن ۔
شوگر کیا ہے
لبلبہ میں دو سیل ہوتے ہیں
ایک سیل گلوکاگان Glucagon ہارمون ہے جو لبلبہ کے الفا سیل یعنی خلیوں سے خارج ہوکر خون میں گلوکوز اور فیٹی ایسڈ کی مقدار بڑھاتا دیتا ہے
اور لبلبہ کا دوسرا سیل بیٹا سیل یعنی خلیوں سے خارج ہونے والا ہارمون انسولین کہلاتا ہے ۔جو خون میں گلوکوز (شوگر ) کی مقدار خرچ کرکے کم کرتا ہے ۔
جبکہ فرنگی طب جس کو ایلوپیتھی کہتے ہیں ڈاکتر حضرات عوام کو بیوہ قوف بنا رکھا ہے کہ جی لبلبہ ڈیڈ ہوچکا ہے لہذا انسولین لینی ہے گولی لینی ہے کتنی بڑی جہالت ہے فرنگی طب کی
اب دوستو آپ خود بتائیں کیا ایسا مردہ بھی دیکھا ہے جو سن تو سکتا ہو لیکن بول نہ سکتا ہو یا بول تو سکتا لیکن سن نہ سکتا ہو تو پھر ہم کیسے لبلبہ کو ڈیڈ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کے دونوں سیلوں میں ایک کام کرتا ہے ایک کام چھوڑ دیتا ہے ۔
آپ نے کئی بار دیکھا ہوگا کہ کئی مریضوں کی شوگر لو ہوجاتی ہے تو آپ الفا سیل کو ایکٹیو کرنے کے لیئے میٹھی چیز کھلاتے ہیں اگر لبلبہ ڈیڈ ہے تو مٹھاس کھلانے سے کیوں پھر شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔
بیٹا سیل کو بھی ہم بدنام کرتے ہیں ورنہ وہ ایماندار مزدور کی طرح اپنی طاقت سے زیادہ کام کرتا ہے وہ تو پہلے سے بھی زیادہ انسولین بناتا ہے ۔
ابھی یہاں آپ کو انسولین
What is the insuline resistance
کو سمجھنا ہوگا
انسولین رزسٹینس کیا ہوتی ہے؟
جب ہم کوئی بھی خوراک کھاتے ہیں جس میں میٹھا، عام آٹے کی روٹی، چاول، آلو یا دیگر کاربوہائیڈریٹس ہوں تو اس خوراک سے جسم کیلئے ایندھن بنانے اور باقی کو بطور چربی کے جسم میں جمع کرنے کیلئے جسم میں ہی موجود لبلبہ نامی ایک عضو ایک ہارمون بناتا ہے جس کا نام ہے "انسولین"، جو کاربوہائیڈریٹس کو شوگر کی شکل میں جگر اور جسم کے تمام خلیوں میں داخل کرتا ہے تاکہ جسم کو طاقت ملے اور ضرورت سے زیادہ شوگر کو چربی میں تبدیل کر کے جسم میں ہی جمع کرتا جاتا ہے۔
انسولین رزسٹینس کا مطلب ہے کہ انسولین کے عام مقدار میں جسم کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہونے کی صورت میں لبلبہ سے اور زیادہ مقدار میں نکلنا۔
انسولین رزسٹینس تب پیدا ہوتی ہے جب جگر کے ارد گرد بہت سی چربی جمع ہو جائے اور انسولین شوگر کو آسانی سے جگر میں داخل نہ کر سکے۔ اس صورتحال میں اور زیادہ انسولین کا اخراج ہوتا ہے تاکہ زور لگا کر شوگر کو جگر میں داخل کیا جائے۔ یعنی زیادہ موٹاپا تو زیادہ انسولین جس سے مزید جگر اور جسم میں چربی اور پھر اس کیلئے اور زیادہ انسولین۔ یعنی مسئلہ کی اصل جڑ ہے موٹاپا اور وہ خوراک زیادہ کھانا جس میں کاربوہائیڈریٹس زیادہ ہوں۔ تو مسئلے کا حل کیا ہوا پھر ؟
جی بالکل درست، اس کا حل ہے وزن کم کرنا، چاول کھانا بند کرنا اور کاربوہائیڈریٹس فری خوراک کھانا چاہیئے ۔
پاکستان شوگر میں نمبر 1 کیوں ہے؟
جواب: خوراک کی وجہ سے
پاکستانیو کی خوراک کا بڑا حصہ ان اشیاء پر مشتمل ہے جن میں شوگر کی بھرمار ہے
• 1 عدد روٹی = 40 گرام شوگر
• 1 پلیٹ چاول = 30 گرام شوگر
• 1 سلائس بریڈ= 10 گرام شوگر
• 1 عدد رس= 8 گرام شوگر
• 1 کولڈ ڈرنک= 25 گرام شوگر
• 1 آلو = 15 گرام شوگر
جب صبح شام فائبر نکلی ہوئی، شوگر سے بھرپور خوراک کھائی جائے تو نتیجہ شوگر کی صورت میں نکلتا ہے
بات صرف شوگر پر ہی ختم نہیں ہوتی، شوگر بڑھ کر 4 بیماریاں اور پیدا کرتی ہے
ہائی شوگر = اعصابی کمزوری = زخموں کا ٹھیک نہ ہونا = معذوری
ہائی شوگر = ہائی ٹرائی گلیسرایڈز= ہائی بلڈ پریشر = ہارٹ اٹیک
ہائی شوگر = ہائی Creatinine = گردے فیل
ہائی شوگر = شریانیں بند = فالج
ڈھیروں دوائیاں اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس الگ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں
آپ کی زندگی میں جتنے روٹی چاول اللّٰہ نے لکھے تھے وہ آپ کھا چکے ہیں
اگر آپ کی شوگر روٹی، چاول کھانے کے ساتھ کنٹرول نہیں ہو رہی تو وہ آپ کے لیے زہر ہے، آپ کی جان کی دشمن ہیں، خود کشی کے مترادف ہے
اللّٰہ کی لاکھوں نعمتیں ہیں، وہ کھائیں، واک ورزش کریں، شوگر کنٹرول رہے گی
شوگر کے مریض غفلت کی جس نیند میں سو رہے ہیں ان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر جگانے کی ضرورت ہے
شوگر مافیا کی کہانی
شوگر مافیا کہتا ہے کوئی مسئلہ نہیں، آؤ علاج شروع کرتے ہیں
پہلے چیک اپ پر Hba1c ٹیسٹ کرواؤ، گردوں کا ٹیسٹ کرواؤ، کولیسٹرول، یورک ایسڈ کا ٹیسٹ کرواؤ اور رپورٹس لے کر اگلے وزٹ پر آؤ
دو دن بعد دوبارہ سے فیس دو، شوگر ہو گئی ہے تو گلوکوفیج لکھ دو، اگر زیادہ ہائی ہے تو گلوکوفیج کے ساتھ ایمریل، گیٹرل بھی لکھ دو، ساتھ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول بھی ہائی ہے تو دو دوائیاں اور لکھ دو
خوراک کا کوئی پرہیز نہیں، سب کچھ کھاؤ بس دوائی کھانی نہیں بھولنی
ہر ماہ یہی کھیل جاری رہتا ہے شوگر تو کنٹرول نہیں ہوتی البتہ دوائیاں بڑھتی جاتی ہیں
اب پاؤں جلتے ہیں، معدہ خراب رہتا ہے، ٹانگیں سن رہتی ہیں، پیشاب جلن کے ساتھ آتا ہے، کوئی بات نہیں، 3-4 دوائیاں اور کھا لو
آرام نہ آئے تو دوبارہ ڈاکٹر کا چکر لگاؤ، اور نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے
پھر ایک وقت آتا ہے کہ گردے فیل ہو جاتے ہیں، بندہ Dialysis پر چلا جاتا ہے، زخم ٹھیک نہیں ہوتے، گینگرین بن جاتا ہے، پاؤں کٹ جاتے ہیں
شوگر انسان کو تباہ نہیں کرتی، شوگر مافیا ناگ بن کر شوگر کے مریض کو نگل جاتا ہے
پاکستان میں شوگر کی تباہی شوگر سے نہیں، شوگر کے غلط علاج سے پھیل رہی ہے، شوگر مافیا کے زہر بھرے علاج سے آئے روز ٹانگیں اور گردے تباہ ہو رہے ہیں
مذکور بالا شوگر کے بارے میں آپ جانتے تھے یا نہیں چھوڑ دیں ۔ اگر نہیں جانتے تھے تو آپ جان لیں ۔
شوگر کیوں ہوتی ہے
جگر اپنے پاس کچھ مقدار میں تو فیٹ اپنے پاس زخیرہ رکھتا ہے کہ لیکن اس مقدار سے پانچ پرسنٹ سے فیٹ زیادہ ہوگئی تو فیٹی لیور ہوجاتا ہے ۔اسکا implication کیا ہے ۔
لیور یعنی جگر کا ایک سیل ہے آپ جو کھاتے ہیں میٹھے کی صورت میں تو pancreas یعنی لبلبہ انسولین جاری کر لیتا ہے تو وہی جگر کا سیل اس شوگر کو انرجی میں کنورٹ یعنی تبدیل کر لیتا ہے جس سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے ۔
اگر لیور میں فیٹ آگئی تو انسولین کا اس کے اندر جانے میں دقت پیدا ہوتی ہے تو پھر اور زیادہ انسولین کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انسولین کو ان سیل تک پہنچنے کے لیئے محنت کرنی پڑتی ہے ۔
دھیرے دھیرے pancreas یعنی لبلبہ انسولین بناتا تو ہے لیکن تھک جاتا ہے ۔
پانچ سال دس سال روز زیادہ سے زیادہ انسولین بنائے گا چونکہ ہر صورت میں انسولین کا اندر جانا چاہیئے تاکہ شوگر انرجی میں کنورٹ ہوجائے ۔
اگر انسولین نہیں پہنچتی ہے اس سل میں تو That person will not use energy یعنی آپکی طاقت زائل ہوجائیگی۔
آہستہ آہستہ لبلبہ تھک جائیگا تو پھر اپکو شوگر ہوجاییگا ۔تو معلوم ہوا کہ شوگر جگر کی خرابی سے ہوتا ہے ۔
پھر آپ ڈاکٹر کے پاس بھاگیں گے وہ آپ کو بلڈ ٹسٹ لکھے گا ۔ پھر آپ بلڈ ٹسٹ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مجھے بلڈ شوگر بھی ہے اور کولیسٹرول بھی ہوگیا ہے لیکن پھر آپ کو یہ بھی علم نہیں ہوگا کہ مجھے کونسا کولیسٹرول زیادہ ہے ۔ بس ڈاکٹر آپ کو دوا لکھ دے گا ۔ آپ نے فیس بھی دیی ہوتی ہے لیکن آپ پوچھتے نہیں ہیں کہ مجھے شوگر کس وجہ سے ہوئی ہے میرا کولیسٹرول کیوں بڑا ہے ۔
او میرے بھائی جب وہی کولیسٹرول ,(فیٹ)سے جگر بھر جاتا ہے تو وہی فیٹ خون میں آگیا جس سے آپ شوگر ہوجاتی ہے ۔
پھر وہ فیٹ بلڈ میں گھومتی ہے ۔ پھر وہ فیٹ کیا کرتی ہے آپکی آرٹری میں جمع ہوجاتی ہے آپکی آرٹری سخت ہوجاتی ہے جسکی وجہ سے خون کی ترسیل آسانی سے آرٹری کے اندر سفر نہیں کرسکتی جس کی وجہ سے آپ کو بلڈ پریشر ہوجاتا ہے۔
اگر دل میں فیٹ جمع ہوگیا ہے تو پھر ہارٹ اٹیک ہوجاتا ہے ۔ اگر فیٹ گال بلیڈر یعنی پتہ میں گیا تو وہاں سٹون پتھری بن جاتی ہے جس سے آپ کہتے ہیں کہ پتہ میں پتھری بن گئ اور اگر وہی فیٹ گردے میں جائے تو گردوں کو نقصان پہنچا دیتا ہے ۔
بحرحال یہ بندہ ناچیز کیا فلسفے بیان کرے گا مختصر بتا دیتا ہوں کہ
Fatty liver is the cause for all other diseases
کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہی ہے ۔
بحرحال آپ چاہے معالج کوئی بھی ہو اس سے یہ تو معلوم کریں کہ مجھے کیا کھانا چاہیئے اور کیا نہیں صرف شاپر سے نیلی پیلی گولیاں تمام عمر کھانا علاج تو نہیں ہے
منقول۔