03/04/2026
حسبِ معمول سہ پہر 4 بجے اپنی opd میں مریضوں کے ساتھ مصروف تھا، میرے معزز قارئین یہ آرٹیکل آخر تک پڑھنے والوں کے لیے خزانہ ثابت ہو گا، انشاءاللہ- مگر میری id کی وال پر کمینٹ یا اپنی رائے کا اظہار لازمی کیجئے گا۔ اچانک بغیر اپوائنٹمنٹ دو افراد ایک 75 سالہ بزرگ ہومیوپیتھک ڈاکٹر دوسرا اُن کا جواں سالہ بیٹا، دونوں کلینک میں داخل ہوئے اور خاموشی سے کلینک کی انتظارگاہ (waiting area) میں براجمان ہو گئے، جب باری آئی تو دونوں کافی گرمجوشی سے مِلے اور صوفوں پر بیٹھ گئے، ڈاکٹر صاحب اپنا تعارف کروانے لگے کہ میرا نام ہومیو ڈاکٹر (ا ب ج) ہے اور میں فلاں ضلع (س ر گ) سے آیا ہوں، آپ یہ بتائیں کہ آپ کے تجربہ میں کوئی ایسی میڈیسن جو کنفرم اور پکا کینسر کا علاج ہو؟ میں حیرت سے ان کا منھ تکتا رہ گیا، میں نے کہا کہ آپ یہ کس لیے اور کِن کے لیے پوچھ رہے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب شاید بتانا نہیں چاہتے تھے، پھر ان کے بیٹے کے یہی سوال دہرانے پر میں نے بتایا کہ اس طرح کینسر کا کوئی بھی مصدق علاج نہیں ہے، جب تک میرے سامنے مریض نہیں ہو گا کچھ بھی بتانا فضول اور غیر حقیقی ہے۔ میرے سامنے مریض لے آئیں میں آپ کی مکمل معاونت کر دیتا ہوں۔ مگر ڈاکٹر صاحب وہی بات دہرا رہے تھے کہ آپ ہمیں کینسر کی کنفرم دوا بتائیں۔ یقیناً ڈاکٹر صاحب مجھے کافی پریشان لگ رہے تھے اور میں سمجھ چکا تھا مریض انھی کا فیملی مِمبر ہو گا، بیٹے نے پوچھا اگر ہم رپورٹ کی تفصیل بتا دیں تو آپ علاج بتا دینگے؟ میں نے دل توڑنے سے گریز کیا اور اپنا ہی اصول توڑ دیا، کہا جی بتائیں جو کچھ آپ کو معلوم ہے۔ ڈاکٹر صاحب مریضہ کی عمر پینسٹھ سال ہے ان کو مثانے کا کینسر ہے، Biopsy میں کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ سب سُننے کے بعد مجھے حیرانگی اس بات پر تھی کہ ایک ہومیو ڈاکٹر جن کا تجربہ غالباً نصف صدی سے زیادہ ہو گا اور وہ کینسر جیسی بیماری کا علاج پوچھنے آئے ہیں جبکہ اکتفا صرف مریضہ کی عمر، اور بیماری کے نام پر کر رہے ہیں۔
اللہ گواہ ہے میں نے چھے قدم آگے کا سوچ کر کہا بظاہری طور پر مجھے لگتا ہے مریضہ کو Thuj.Oc 30 کی ایک خوراک دینی چاہیے اور پھر ایک دو ہفتے انتظار کریں۔ ڈاکٹر صاحب فوراً کہنے لگے یار یہ تو موہکوں کی دوائی ہے، میں نے بھی سارے مٹیریا چھان مارے ہیں مگر یہ دوا نہیں بنتی، میں نے کہا جناب آپ میرے سامنے براجمان ہیں میں ابھی ہسٹری لیے بغیر آپ کی دوا بتا سکتا ہوں، یہی فرق ہے مریضہ کی موجودگی اور عدم موجودگی کا، اگر آپ اطمینان حاصل نہیں کر پائے تو مریضہ کو میرے کلینک لے آئیں۔ سینکڑوں مٹیریا پڑھنے یا رٹہ لگانے سے فرق نہیں پڑتا، جب بات ہی اسباب مرض پر ختم ہو گی تو پھر وہی شاہی علامت تصور ہو گی، اسی دوران بیٹا خود ہی کہنے لگا ڈاکٹر صاحب والدہ کو اکثر بار بار UTI ہوتا تھا تو ادھر سے ایلوپیتھک علاج کرواتے تھے۔ اور والدہ کو ریلیف مل جاتا۔ میرے معزز قارئین بیٹے کے اس ایک فقرے وقتی ریلیف ریلیف اور ریلیف نے میرے زہن کے سارے دریچے روشن کر دیے، اب آپ بتائیں اگر UTI ہی ہوتا تو کیا اتنا لمبا عرصہ وہ ادھر ہی رہتا؟ وہ تو تھا ہی Hidden Gonorrhea جو سالوں تک دبتا suppress ہوتا رہا، اور ایک سے بڑھ کر ایک اینٹی بائیوٹک اور سٹیرائڈ استعمال ہوتے رہے، ایک ٹائم آیا دبا ہوا سوزاک Suppressed gonorrhea مثانے کے کینسر میں بدل گیا، اور یہی ہومیوپیتھی کا فلسفہ ہے، میرے محترم ہومیوپیتھس میرا بیشتر بزرگ ہومیوپیتھس کے ساتھ بیٹھنے کا تجربہ بڑا شرمسار اور خفا ہونے والا رہا ہے، اس لیے میں بزرگ ہومیوپیتھس کی بیٹھکوں میں جانے سے کترانا ہوں کیونکہ یہ نا تو میازم سمجھتے ہیں اور نا ہی مرض کی Etiology, جبکہ ہومیوپیتھی اول و آخر بات ہی میازم/ اسباب کی کرتی ہے۔ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کلاسیکل ہومیوپیتھس جانتے ہیں کہ دبے ہوئے سوزاک suppressed gonorrhe کی سب سے پہلی اور بڑی دوا Thuj.oc ہی ہے۔ اور اس Etiology کے بعد زیادہ تر پیتھالوجی مردوں میں پراسٹیٹ کینسر جبکہ عورتوں میں مثانہ، رحم uterus اور بیضہ دانی (ovaries) اور بریسٹ کے کینسر، رسولیوں اور دیگر بڑھوتری growth کی صورت میں اُمڈ آتی ہیں۔ اب چاہے سوزاک دبنے کے بعد کینسر/ٹیومر مثانے کا ہو یا یوٹرس کا، یا پھر بریسٹ میں ہو، حتٰی کہ سپریشن کے بعد آنے والی جسم پر ہر Growth کی پہلی سرفہرست دوا thuj.oc ہی ہے۔ اللہ کرے کہ میری یہ تحریر متاثرہ ڈاکٹر صاحب بھی پڑھیں کیونکہ میں ڈاکٹر صاحب کا دل توڑنے اور کلینک میں موجود اپنے مریضوں کو ڈسٹرب کرنے سے بچانے کی خاطر یہ سب ان کو اس وقت سمجھا نہیں سکا، دوستو ہومیوپیتھی پری کینسر اور ابتدائی سٹیج پر کرشماتی نتائج دیتی ہے، مگر جب بات ثانوی اور آخری سٹیجز پر آ جائے تو پھر بات فقط سروائیول، مضراثرات کو کم کرنے تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی کینسر کو fix دنوں یا شیڈول تک مات دینے کا دعوٰی کرتا ہے تو وہ سراسر جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، وہ سوشل میڈیا پر دعوہ تو کر سکتا ہے مگر وہ ثابت نہیں کر سکتا۔ میرے پاس سب افلاطونوں کے مریض ریفر ہو کر آتے ہیں مجھے معلوم ہے وہ مریض کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ میں خود بھی مریض کو اتنی ہی آس امید دلاتا ہوں جتنا سچ ہو، مگر الحمداللہ میں اس بات پر متفق اور تیقن رکھتا ہوں کہ جو مریض کیموتھراپی، ریڈی ایشن کے ہتھے چڑھ کر دو تین سال میں گزر جاتا ہے وہ ہومیوپیتھک علاج کے سہارے موازناتی طور پر پندرہ بیس سال بھی گزار سکتا ہے اور وہ بھی توانائی کے ساتھ، اب ہم اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں،
دوستو! آپ کے پاس ہمیشہ دو طرح کے Thuja کے مریض آئیں گے، ایک وہ مریض جو کسی جسمانی بیماری کا غلط علاج یا دبنے سے آنے والی حالت میں تھوجا دے دینے کا تقاضا کرے گا، جبکہ دوسری خاص typical پکچر ایسی آئے گی جو اپنے ازلی کونسٹیٹیوشن کو ظاہر کرے گا، دوستو تھوجا جس محور یا مرکز کے گِرد گھومتی ہے وہ مرکز ہے دھوکہ Deceit یہ مریض بیک وقت مکار، فریبی، ملعون اور کاذب ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ کچھ ماہ کی وابستگی اور ایک خاص مشن سے آپ کو محسوس ہو گا یہ سب کرتوتیں جو میں نے اوپر بیان کی ہیں کونسٹیٹیوشنل تھوجا میں بیک وقت implement ہو رہی ہوتی ہیں، تھوجا شخص سے وابستہ انسان کو ان باتوں کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب وہ اسی شخص سے پِیٹھ پر ٹھُڈا کھا کر گٹر میں جا گِرتے ہیں باتوں، مشن یا بہکاوے میں آ کر وہ اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ اور تھوجا کی یہی خصوصیات ہیں جس میں وہ اگلے انسان کو پتہ تک چلنے نہیں دیتا کہ اس کے اندر چل کیا رہا ہے۔ اسی لیے زیادہ تر تھوجا کو سوزاک gonorrhea کی تشخیص ہی نہیں ہوتی، اِدھر بھی Gonorrhea زندگی بھر hidden پوشیدہ ہی رہتا ہے جیسے اس کی حرکتوں اور کردار کا آخر تک کسی کو پتہ نہیں چلتا، سوائے اس victim کے جِس کو ایک خاص انداز میں دھوکہ ملنے پر پالا پڑتا ہے۔ اسی طرح تھوجا کو 90% ہومیوپیتھس بھی سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، یہ خاموشی، آئیں بائیں شائیں اور لاجوابی کی وجہ سے خود کو معصوم ظاہر کرنے اور ڈاکٹر کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ معزز ہومیوپیتھس اور میرے قارئین! آپ تھوجا میں اُمڈ کر آنے والی ایک ہزار حالتیں یا بیماریاں لے آئیں سب کی سب تھوجا کے ملعون کردار کی بدولت اِک خاص پیٹرن سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اِن کے زیرِ اثر ملازمین، عملہ، ہمسائے، سٹوڈینٹس، رشتہ دار حتٰی کہ اس کے اپنے بیوی بچے بھی اس کے دھوکہ، فریب اور مگر سے محفوظ نہیں رہ پاتے، دستو میں نے اوپر اِک خاص پیٹرن کا زکر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ تھوجا کا مزاجی مریض جیسے جیسے دھوکہ فریب، تخریب کاریوں اور جھوٹے مشوروں میں آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کے جسم میں خبیث قسم کی گلٹیاں، وریدوں اور شریانوں کا بے ترتیبی سے پھولنا، جسم پر موہکے مسے، اور سیاہیوں کا اُمڈ آنا شامل ہے۔ کبھی آپ نے victims کے منھہ سے یہ فقرہ سُنا ہو گا " اس کا چہرہ لعنتوں سے بھرا ہوا ہے" دوستوں یہی وہ تھوجا ہوتا ہے جو معاشرے میں بدنام ہو جاتا ہے اور ہر ایک کی بد دعاوں، گالیوں اور لعنتوں کا رُخ اس طرف ہو جاتا ہے۔ جب تک اس کے شکار کم ہوتے ہیں تب تک یہ survive کرتا ہے جب اس کی یہ خاص گناہوں والی nature اور حرکتوں کا معاشرے کو ادراک ہونے لگتا ہے لوگ اس سے دور بھاگنا شروع کر دیتے ہیں۔ تعلقات توڑنا شروع کر دیتے ہیں یہ سماجی طور پر تنہا رہ جاتا ہے، پھر یہ اس جگہ سے دور بھاگتا ہے اور ان حرکتوں کے لیے کوئی نئی جگہ تلاش کرتا ہے جہاں اس کے لیے سب کچھ نیا ہو اور یہ دوبارہ اپنی زبان، کان، دل اور دماغ سے یہ سب نئے سِرے سے جاری و ساری رکھ سکے، دوستو یہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے پر قادر ہوتا ہے، یہ اپنی شاطرانہ چالوں اور تخریبی زہن کی بدولت سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کر دیتا ہے اور آپ کو تھوجا سیکھنے کے لیے میرے یہ الفاظ یاد رکھنا ہونگے، میرا زندگی میں دو تھوجاؤں سے واسطہ پڑا تھا اور میں ابھی تک سکون ڈھونڈ رہا ہوں 😀 مگر ہم نے ان کو بھی کہیں کا نہیں چھوڑا، یہ اکیلا کاروائیاں نہیں کرتا بلکہ ایک پورا ماحول تخلیق کرتا ہے اور یقیناً آخر کار ہر ناجائز اور ناحق ماحول نے مٹنا ہی ہوتا ہے یوں جب اس کا حصار ٹوٹتا ہے تو پھر درجنوں لوگ اس کی مخالفت میں سامنے آتے ہیں اور یہ وہاں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے یا پھر دنیا ہی چھوڑ جاتے ہیں آپ جانتے ہیں اللہ بھی بندے کی رسی کھلی چھوڑ دیتا ہے اور جب وہ حد سے زیادہ تجاوز کرتی ہے تو پھر پکڑ ہو جاتی ہے۔ چاہے وہ پکڑ کینسر کی شکل میں ہی ہو۔ دوستو تھوجا ایک اینٹی سائیکوٹک ریمڈی ہے، سورا سے دب کر آنے والی بے تحاشہ حالتیں اسی دوا سے ٹھیک ہوتی ہے۔ یہ تھوجا کی پیتھالوجی کا ایک الگ رُخ ہے ہمیں فقط دو پیٹرن یاد رکھنا ہونگے، پھر ہی ہم دنیا میں اپنی دھوم مچا سکتے ہیں، یہاں یہ بات قابلِ رشک ہے کہ آپ میڈورینم کا ٹیسٹ کروائیں، ایسڈ نائٹرک کا کروائیں یا پھر ایگنس کاسٹس کا gonorrheal کلچر کروالیں، سب کی تشخیص ہو جائے گی، مگر مجال ہے جو تھوجا کا Hidden gonorrhea سامنے آ جائے۔ دوستو یہی ہومیوپیتھی کی خوبصورتی اور تھوجا کی پروونگ کی صورت میں عظیم ہانیمن کا ہم پر احسانِ عظیم ہے،
ہماری دوائیاں کیسے سائنٹفک میکانزم سے جسم اور بیماری کی تال میل میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔ نکالیں تھوجا کی ڈرگ پروونگ اور دیکھیں سارا انسائیکلوپیڈیا، کہ کیسے تھوجا نے خام حالت میں ایک صحت مند عورت اور مرد کے اعضاء کو متاثر کیا، لمف نوڈ کو پھیلا دیا، پورے جسم کے مختلف اعضاء میں لمف نوڈ پھول گئے، جس کی بدولت خصیے te**es, بیضہ دانیاں ovaries, پراسٹیٹ گلینڈ، پستان breasts اور دیگر ملحقہ اعضاء تک سوزش و کینسرس گروتھ نے جنم لیا۔
تھوجا کے پودے کے اندر ایک کیمیکل پایا جاتا ہے جس کا نام ہے تھوجون Thujon پروونگ کے وقت ایسی کیمیکل کی بدولت صحت مند انسانوں کے لمف نوڈ پھول گئے، اور جسم میں اِسی سے متعلقہ حساس اعضا میں گلٹیاں، اور بے ترتیب بڑھوتری نوٹ کی گئی۔ ا
قصہ المختصر تھوجا کا جسم جب تک ان حالتوں کا بوجھ برداشت کرتا ہے تب تک رعایت رہتی ہے جیسے ہی ردِعمل شروع ہو تو پھر جسم پر ایسی ایسی نامراد گلٹیاں اور سوزشیں ظاہر ہوتی ہیں جو مسلسل دب کر Proliferative cells کو دعوت دیتی ہیں جس کی ابتدا Lymph node میں سوزش کی صورت میں ہوتی ہے، اگر آپ انسانی جس کی ساخت Anatomy اور افعال Physiology کے ساتھ ہومیوپیتھک ڈرگ پروونگ کو سمجھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تھوجا کے مریض کو ہر اس آرگن کا کینسر ہو سکتا ہے جہاں جہاں سے لمفاوی غدود Lymph nodes گزرتے ہیں۔ اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں سمجھنے کی بات ہے، بار بار بیکٹیریا، وائرس، ییسٹ، کو ختم کرنے کی بجائے سپریشن کا سہارا لیا جائے تو Lymphocytes کا response کیا ہو گا؟ ہمارے جسم کا امیون سسٹم لمف نوڈ Lymph nodes پر انحصار کرتا ہے جو ہمیں بار بار ہونے والی مختلف انفیکشنز ، سوزش سے بچنے اور لڑنے میں مدد دیتا ہے، اور یہ wbc کا مسکن ہوتا ہے یہ ایک چھاننی کی طرح فلٹر کا کام کرتے ہیں، جب ہمارے جسم کا کوئی بھی فلوئڈ fluid ان میں سے گزرتا ہے تو یہ بیکٹیریا، وائرس، اور باقی طرح کے نقصان دہ toxic مادوں کو پکڑ کر خون میں شامل ہونے سے روک دیتا ہے، چونکہ ان میں WBC وائٹ بلڈ سیلز موجود ہوتے ہیں یہ سیلز کینسر زدہ خلیات Proliferative cells کو روکنے اور انہیں تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب بار بار UTI, یا Hidden Gonorrhea کو جڑ سے ختم کرنے کی بجائے سپریس کیا جائے تو WBC مخالف سیلز کے سامنے کمزور پڑنے لگیں گے، جسم کی امیونٹی کمزور سے کمزور تر ہوتی جائے گی، اس کے ردعمل میں لمف نوڈ بار بار لوڈ برداشت نہیں کر پاتے اور سوجن swelling شروع ہو جاتی ہے، اور یہ سوزش بآسانی اپنے قریبی اور حساس اعضاء بریسٹ، اووریز، ٹیسٹیز، پراسٹیٹ گلینڈ، ویجائنا، یوٹرس اور جبڑوں تک پھیل جاتی ہے یہی سوزش کچھ عرصے میں کینسر بن جاتی ہے۔ دوستو اس سے ایک بات تو کنفرم ہے کہ جہاں جہاں لمف نوڈز کی رسائی ہے وہاں وہاں کرونک سوزش اور کینسر ہو سکتا، اس بات کا انحصار مریض کی کئیر، ڈاکٹر کی سجھ بوجھ پر کرتا ہے، مگر ایک ایلوپیتھ یہ سب کیسے سمجھے؟ لحاظہ یہ بھی ثابت ہوا کہ 80% کینسر سپریشن suppression کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک ایلوپیتھگ ڈاکٹر کینسر کے مریض میں بار بار wbc تو چیک کرتا ہے مگر وہ یہ بات سجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ ان سیلز کو کمزور کس نے کیا تھا؟ 😃 حیرت ہے اس کا ذہن اس طرف جاتا ہی نہیں کہ اینٹی بائیوٹک نے نا تو uti ختم کی اور نا ہی اس کی رسائی hidden gonorrhea تک تھی بلکہ اس نے مریض کے امیون سسٹم کو تباہ و برباد کر دیا جو کہ اللہ نے ایک خاص انداز اور خوبصورتی سے جسم میں لوڈ کیا تھا۔ میرے معزز قارئین نکالیں اپنی اپنی ریپرٹریز repertories اور کھولیں یہ چیپٹرز، پھر سب کو بتائیں کہ لمف نوڈ، سوزش کی دشمن اور کینسر کی گلٹیوں کی سب سے بڑی دوائی Thuja.oc ہی ہے یا نہیں۔ میری پریکٹس کی سب سے خاص بات یہی ہے کہ میں اصلی تھوجا کا حافظ ہوں😃، جبکہ میرے نزدیک نقلی تھوجا موہکوں کی دوائی ہے۔ خیر یہ تو مزاح کی بات بھی ہے، میں نے اللہ کے حکم سے عورتوں کی ان بیماریوں کا قلع قمع کرنے کے حوالے سے شہرت پائی جس میں دوسرے طبقے کے نزدیک سرجری پکی must ہوتی ہے، مثلاً فائبرائڈ، گلٹیاں، پولپس، تھیلیاں، ہر طرح کی اندرونی سوزش، یاد رہے آپ تھوجا کو زیادہ تر کرونک حالت میں شمار considere کرینگے یا کوئی ایسی حالت cause جو اصل بیماری کے پیچھے کافی عرصے سے کارفرما ہو جیسے سپریشن یا کوئی ویکیسینیشن وغیرہ یعنی ہر وہ cause جو امیون سسٹم کو ڈیمج کر دے۔ ایکیوٹ سوزش میں تو یہی حالتیں یا بیماریاں تو برائٹا کارب، آرم میٹ اور لیکسس میں بھی آ سکتی ہیں مگر ہم نے اوپر جو زائچہ بیان کر دیا ہے امید ہے وہ اس پولی کریسٹ دوا کو باقی دواؤں سے الگ کرنے میں مکمل معاونت دے گا, میں موہکوں کو فقط hint کے طور پر لیتا ہوں، وگرنہ تو موہکے مختلف شکلوں میں بے شمار دوائیوں میں پائے جاتے ہیں۔ یاد رہے ہم نے تھوجا کی Etiology اور اصل میازم پر روشنی ڈالی ہے۔ تھوجا کو محض موہکوں کی دوائی کہنے والے اس پوسٹ سے خصوصاً مستفید ہوں۔ مثلاً دو ہفتے پہلے میرے پاس سٹیٹ لائف ہاؤسنگ سوسائٹی سے ایک 26 سالہ لڑکی آئی جس کو right lateral Lipomatosis گروتھ کے باعث اس کا رائٹ Buttock پھیلتا جا رہا تھا اور نسوانی تقاضوں کے خلاف باہر کی طرف بڑھتا جا رہا تھا اور دبانے پر اس کے اندر ایک موٹی بڑے سائز کی گلٹی ظاہر ہو رہی تھی، مریض کافی پریشان تھی، میڈیکل ہسٹری پوچھنے پر مریضہ نے بتایا کہ وہ کچھ ماہ سے سر درد کے لیے مسلسل Arinac لے رہی تھی، اس کے درمیان میں ہی یہ شروع ہوا، میں نے بہت ساری ہسٹری لی، مگر اس کے شروع میں بولے گئے چند فقروں کی اندر ایک ہِنٹ نے مجھ پر تھوجا کو پانی کی طرح واضح کر دیا۔ میں نے اس مریضہ کو سکین تک کروانے سے منع کر دیا، فقط اس لیے کہ میں عملی اور مالی طور پر بھی خود کو اس مریضہ کا بطور ہومیوپیتھ منتخب کیے جانے کا فائدہ پہنچا سکوں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میں لیب ٹیسٹ نہیں کرواتا۔ آج بروز بدھ وہ مریضہ دوسرے وزٹ پر کلینک آئی اور کہنے لگی ستر فیصد سوزش اور گلٹی زائل ہو چکی ہے۔ البتہ حرکت پر درد ہے۔ اس کیس پر آپ لگتا ہو گا کہ میں تو اپنی تحریروں میں گھنٹہ مریض کی ہسٹری لینے کی بات کرتا ہوں تو پھر یہاں خلاصہ کیوں؟ میرے قارئین کرام ہر کیس کو الف سے ے تک بتانا لازم نہیں ہوتا، محض اس کیس میں چھپا راز اور دوا کا محور سمج آ جائے تو یہی کافی ہے۔ اور میرا اتنی لمبی تحریروں کے پیچھے مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔ وگرنہ تو یہ آج کا تھوجا کا ایک تازہ فیڈبیک ہے میرے پاس سینکڑوں فیڈیکس اور الگ الگ زاویوں کے کیس موجود ہیں جن کو ادھر بیان کر کے آرٹیکل کی بجائے ایک کتابچے کی شکل دی جا سکتی ہے۔
ایک بندے نے ایک بار کہا کہ میں آپ کی ایک 80 سالہ بابائے ہومیوپیتھ سے ملاقات کرواتا ہوں، میں نے ان کی عزت کی خاطر قبول کیا اور وہ میرے کلینک آ گئے جب وہ بابا جی نے سوال جواب شروع کیے تو میرا دل چاہا کہ میں کلینک بند کر کے گھر بھاگ جاؤں، ہومیو بابے نے میرے سے درجنوں سوال کیے سب کے سب نسخے اور ٹوٹکے پوچھنے میں گزار دیے۔ بٰخدا مجھے ایسے ٹوٹکوں کی محفل سے سخت بورنگ اور چِڑ چڑھتی ہے، ایک ینگ ہومیوپیتھ زندگی کے چند سالوں میں اس بات سے آشنا ہو سکتا ہے کہ حقیقی شفاء کے اصول اور طور طریقے کیا ہیں۔ تو کیا میرے بزرگ ایک صدی میں نہیں سمجھ سکتے؟ بہرحال دوستو میں نے کیپشن میں تین دوائیوں کا زکر کیا ہے، پہلی دوا Thuj.oc جو میرے استاد نے ایسے سکھائی کہ اگر رب زوالجلال نے مجھے آنکھیں یا روشنی نا بھی دی ہوتی تو میں مریض کے پہلے دو تین جملے بولنے سے ہی مُہر لگا کر اس مریض کو الگ کر لیتا، البتہ اس مقصد کے لیے میرے کان ضروری ہیں، کینسر کی دوسری بڑی دوا جس کا تفصیلی زکر تو اگلے آرٹیکل میں ہو گا، البتہ اللہ کریم نے مجھے سماعت یعنی کان نا بھی دیے ہوتے تو میں فقط اپنی آنکھوں سے مریض اور دوا کے درمیان مُہر لگا لیتا، مجھے مریض سے ایک بھی سوال کی ضرورت نا پڑتی۔ اور ہمارے کیپشن کے مطابق ہومیوپیتھی میں کینسر کی تیسری بڑی دوا ایسے سیکھی کہ اگر میری آنکھیں اور کان دونوں ہی نا ہوتے تو میں یہ دوائی فقط مریض کی خوشبو سے پہچان لیتا، جس کے لیے فقط میری سُونگھنے کی حِس یعنی ناک ضروری ہے۔ بلاشبہ میرے استاد نے مجھے اشارے سکھائے اور میں نے Love letter ہی سیکھ لیے۔ زندگی میں کبھی کسی بڑے پلیٹ فارم پر لیکچر دینے کا موقع مِلا تو یہ کینسر کی سب سے بڑی 3 دوائیوں کو صرف، آنکھ، کان، اور ناک کے سہارے الگ کرنا سکھاؤں گا۔ البتہ ابھی اس دوا کی Posology سکھا سکتا ہوں اس دوا کو ہمیشہ نچلی طاقت 30 میں پریفر کریں۔ زیادہ مستند معلومات اور مرض میں ایڈوانسمنٹ دیکھتے ہوئے 200 کا فیصلہ کریں۔ کیونکہ تھوجا کے مریض ہمیشہ advance پیتھالوجی لیکر آتے ہیں، کوئی ڈپریشن یا ocd لیکر نہیں آئے گا، ہومیوپیتھک لٹریچر، ماسٹرز کی تاکید اور میرا کلینکل تجربہ اسی اصول پر کاربند ہے کہ بیماری جتنی ایڈوانس، فزیکل اور اپنی جڑیں پھیلانے والی ہو گی پوٹینسی اتنی کم ہوتی جائے گی، اِک آسان سا اصول ہے۔ یوں فضول میں چند ہومیوپیتھس نے پوری قوم کے ہومیوپیتھس کو CM اور روزانہ 1M کے تڑکوں میں لگا رکھا ہے، اور سب کو ڈی ٹریک کر رکھا ہے، یہ سپریشن سے باہر نکل کر حقیقی شفاء کے اصولوں کو سیکھنا یا اپنانا ہی نہیں چاہتے۔ دوسرا اصول سب تھوجا تجویز کر دیں تو جلدی مت دہرائیں، مشاہدہ اور انتظار wait & watch پالیسی اپنائیں۔ کیونکہ تھوجا مرضیاتی حالت یا ظاہری تکلیف پر کام شروع کرنے سے پہلے میازمی بگاڑ، سپریشن کی رکاوٹوں اور systems کی تخریب کاریوں کو دور کرتی ہے۔ اس لیے یہ مرض (جس کی شدت یا مریض خود لیکر آتا) اس پر کام شروع کرنے یا ٹھیک کرنے میں ایک ہفتہ یا تین سے چار ہفتے لگا سکتی ہے۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں تھوجا کے دیر سے کام شروع کرنے کا تو لکھا ہوا مگر یہ نہیں لکھا کہ ایسا ہوتا کیوں ہے، اور وہ وجہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ اس کی سپریشن کی cause بھی لمبی ہوتی ہے اور نتیجے میں آنے والا مرض بھی کرونک ہوتا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس سلفر کے چرچے بھی سُن رکھے ہونگے، جبکہ سلفر ایکیوٹ سپریشن کی کرونک دوا ہے۔ ظاہری external سپریشن پر سلفر کی پکچر واضح ہوتی ہے جبکہ میوکس ممبرینز یا وائٹل اعضاء کی سپریشن پر تھوجا کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔ مرض کوئی بھی اصل بات کیس کی نزاکت اور اسباب کو سمجھنے کی ہے۔
میں اکثر سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں کہ ہومیوپیتھس نے منافق یا دھوکا بازوں کی ایک دو دوائیاں اپنے زہن میں فِٹ کر رکھی ہیں اور وہ انھی کو ہر تحریر میں رگڑتے رہتے ہیں، جس میں سرفہرست بیچارا لائکوپوڈیم ہے۔ یقین کریں میں نے بڑے بڑے استاد نما ہومیوپیتھس کو دیکھا ہے، ان کو لائیکو کے علاوہ اپنا تعصب اور غصہ نکالنے کے لیے اور کوئی دوائی ہی نہیں مِلتی، دوستو ہماری دوائیوں کے محوارت اور مراکز اتنے سادہ نہیں ہیں کہ ان کو ایک ہی پہلو سے سمجھتے اور بیان کرتے پھریں۔ جیسا کہ لائکوپوڈیم کو منافقت کے ٹیگ میں روندا جاتا ہے۔ ہر دوا اپنی Etiology اور theme کے پیچھے مکمل پلوؤں سمیت چھُپی ہوتی ہے۔ جس کے مختلف زاویوں سے کئیلگا پہلو ہو سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے کولیگز کے ہتھے بس ایک پوائنٹ کہیں سےچڑھ جائے پھر وہ اس دوا کے اوپر ٹھپہ لگا کر جونئیرز اور طالبعلموں کو سیکھنے سے عاری کر دیتے ہیں۔ حالانکہ پتہ ان کو بھی نہیں ہوتا کہ یہ ماخذ آیا کیسے ہے۔ اور اس کے پیچھے کونسا میکانزم کار فرما ہے۔ البتہ ان کو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ Audience ان کے ایسے تڑکوں اور کہانی نما مثالوں کو پسند کرتی ہے۔ مگر وہ ہومیوپیتھک ادویات کو سائنسی نظریے کی شکل میں ثابت یا بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ دوستو ہم نے تھوجا کو اپنی پریکٹس کی روشنی میں دو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے ایک حالت مرضیاتی Nature کو mistreat کرنے اور بار بار وقتی افاقے لینے سے، جبکہ دوسری پکچر کونسٹیٹیوشنل تھوجا کی ہے۔ جب یہ مریض ہمارے سامنے آ کر بیٹھتا ہے تو اس کے عیب مکر و فریب اور دروغ گوئی deceitfulness کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں ؟ یقیناً ہم یہ سب پوچھ بھی نہیں پاتے، اور اس کے چہرے پر موجود سیاہیاں Blemishes, وارٹی خال اور tags دیکھ کر تھوجا کا ٹھپہ بھی نہیں لگا سکتے تو پھر ہم اس کی پہچان کیسے کریں ؟ دوستو اس کے لیے ایک ہومیوپیتھ کا غیرمعمولی زہین، باطن کو جانچنے کا ماہر ہونا ضروری ہے یا پھر دوسری صورت وہ جو میں آپ کو جلد کسی پلیٹ فارم پر سکھا دونگا، نا تو تھوجا اپنا آپ کہیں ظاہر کرتا بلکہ یہ یہ اپنی خبیث مرضیاتی گلٹیوں یا وریدی گروتھ کو بھی بتانے سے کتراتا ہے، چھپانا اور اگلے کو پرکھ کر دھوکہ دینا، یہی تھوجا کا خاصا ہے، اسی لیے زیادہ تر تھوجا کے مریض ایلوپیتھس سرجن کے پاس بھاگتے ہیں کیونکہ سرجنز کو اپنی فطرت بتانی نہیں پڑتی، اور نا ہی خود کے پرکھے یا مشاہدہ کیے جانے کا خوف ہوتا ہے، جبکہ کلاسیکل ہومیوپیتھ تو بہت کچھ پوچھ اور جان لیتے ہیں، ییی وجہ ہے کہ اکثر تھوجاوں کو آپ اکثر سرجریز کی طرف بھاگتے دیکھیں گے نا مشاہدے کا ڈر اور نا لمبا انتظار چونکہ یہ بار بار سپریشن کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے چند ماہ صبر ان کے بس کی بات نہیں ہوتی، یہ صرف مرض کا نام بتا کر حل چاہتے ہیں، جو کہ وہی ہومیوپیتھ کر سکتا ہے جو باطن تک غوطہ لگا کر کچھ اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کیونکہ بات موہکوں پر تو ختم ہونی نہیں، ہومیوپیتھی میں موہکوں کی بے تحاشہ دوائیں ہیں، تھوجا کی واحد اور مصدق سب سے بڑی پہچان بلکہ خزانہ ہم جلد سیکھیں گے ایک ہومیوپیتھک سیمینار کے اندر۔ جس کے بعد آپ اللہ کی قدرت اور کلاسیکل ہومیوپیتھی کی worth پر حیران رہ جائیں گے۔ تب تک میرے ساتھ جڑے رہیے، امید کرتا ہوں کہ آپ اس آرٹیکل سے بے حد مفید ہوں گے، اگر آپ کو یہ میرا یہ آرٹیکل انسانوں کی بقا و فلاح کے لیے فائدہ مند لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسرے لوگوں تک ضرور پہنچائیں شئیر کریں، تاکہ جلد کینسر میں نفع دینے والی ہماری دوسری بڑی ہومیوپیتھک دوائی پر جلد نیا آرٹیکل آ سکے۔ اور ہمیشہ کی طرح میری حوصلہ افزائی کرنے اور اپنی رائے دینے سے گریز نہیں کیجیے گا، یہی میری کمائی ہے جو آپ سے اس محنت کی بدولت چند الفاظ سُن لونگا۔
دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ حافظ
تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور