Hk Mian Muhammad Ahsan

Directions Website Contact the business
26/09/2026

26/09/2026

پتہ کی پتھری
گردہ مثانہ کی پتھری
پروسٹیٹ گلینڈز
فیٹی لیور
کولیسٹرول
موٹاپا/بدہضمی
゚

حب شنگرف نقرئی :- هو الشافی:۔ لوبان کوڈیہ تین ماشہ جدوار خطائی نو ماشہ جوز بوا پانچ ماشہ کشتہ شنگرف چھ ماشہ سم الفار صلا...
26/09/2026

حب شنگرف نقرئی :-
هو الشافی:۔
لوبان کوڈیہ تین ماشہ
جدوار خطائی نو ماشہ
جوز بوا پانچ ماشہ
کشتہ شنگرف چھ ماشہ
سم الفار صلایہ تین ماشہ
مومیائی کانی تین ماشہ
مغز جوز هندی چھ ماشہ
مغز پستہ چھ ماشہ
زعفران تین ماشہ
کشتہ نقرہ در کھٹکل بوٹی دو ماشہ
عرق گلاب 125 ملی لیٹر
چھوہارے حسب ضرورت
ترکیب تیاری: تمام ادویات کو (نقرہ کے علاؤہ )عرق گلاب میں خوب کھرل کیجئے اور پھر چھوہاروں کی گٹھلیاں نکال کر ان میں بھر دیجئے اوپر آٹا لیٹ کر روغن زرد میں خوب بریاں کیجئے پھر نکال کر کشتہ نقرہ شامل کرکےخوب کوٹ کر نخودی حبوب تیار کر لیجئے۔
تركيب استعمال: ایک گولی روزانہ رات سوتے وقت ہمراہ شیر گاو شیریں کھلا دیجئے۔
فائده:۔
یہ نسخہ خاص مولد خون، ،مقوی اعضاۓ ریئسہ شہوت انگیز اور ممسک خاص هے. جسکے چند دن کے استعمال سے بدن میں جوانی کی لہریں موجزن ھوجاتی ھیں .مدتوں سے چلی آرهی نقاهت کمزوری کا قلع قمع کر کے جسم میں طاقت و قوت خاص کا طوفان پیدا کرتا هےضعفِ باہ کے پرانے مریضوں کے لیے آب حیات کا کام دیتا هے ۔مردانہ کمزوری کی اکسیر الااثر دوا جس سے جوهر حیات بکثرت پیدا هوتا هے .رقت منی کو ختم کرکےلمحات خاص کو دیر تک طولانی کر کے حقیقی شباب سے همکنار کرتا هے۔
ایک گولی بوقت ضرورت ھمراہ دودھ استعمال کر کے وہ فائدہ حاصل کرین جس کا آپ نے تصّور بھی نہ کیا ھو گا۔۔۔ اس کا ھر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ صرف وقتی امساک کے لیۓ ھے یہ سرعتِ انزال ،زکاوتِ حس کے ساتھ ساتھ شوگر زیابیطیس اور کثرتِ ج**ع کے نتیجہ میں ھونیوالی جسمانی و اعصابی اور مردانہ کمزوری کا مکمل علاج ھے ۔30 دن استعمال براۓ مستقل علاج ایک گولی روزانہ ھمراہ دودھ ۔ انتشار تناؤ شہوت زبردست ۔۔امساک اعلیٰ ۔۔ قوّتِ بَاہ کا بادشاہ نسخہ ھے ۔۔
مولد خون مقوی باؤ محرک اعصاب مشتہی و مقوی اعضائے رئیسہ ممسک لا جواب ہے۔
پرهیز: چاول دال چنا ، بیکری کی اشیاء ،بادی اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کریں
والسلام
میاں محمد احسن

جوارش کمونی کبیر:-      زیرہ سیاہ مدبر بریاں 500 گرام فلفل سیاہ 20 گرام زنجبیل 28 گرامبرگ سداب 15 گرام تج قلمی  15 گرام ...
26/09/2026

جوارش کمونی کبیر:-
زیرہ سیاہ مدبر بریاں 500 گرام
فلفل سیاہ 20 گرام
زنجبیل 28 گرام
برگ سداب 15 گرام
تج قلمی 15 گرام
دار چینی 15 گرام
حب بلسان 15 گرام
مصطگی رومی 15 گرام
سنبل الطیب 15 گرام
لونگ 15 گرام
بورہ ارمنی 8 گرام
شہد خالص 2 کلو
ترکیب:-
زیرہ کو 3 شب و روز تک سرکہ انگوری میں اس قدر تر رکھیں کہ سرکہ زیرہ سے 4 انگل اوپر رہے ۔پھر نکال کر خشک کرکے توےپہ براوں کر لیں یہی زیرہ مدبر و بریاں ہے اب اسکا سفوف بنا لیں
باقی تمام ادویہ کا سفوف بنائیں ۔شہد کا قوام تیار کرکے سفوف شامل کریں۔
ٹھنڈا ہونے پہ سوڈیم بینزویٹ 2 گرام شامل کرکے محفوظ کر لیں
فوائد:-
برودت معدہ کو زائل کرتی ہے ۔کٹھی ڈکاریں ۔بدہضمی اور اس بخار کو ختم کرتی ہے جو خرابی معدہ کی وجہ سے ہو ۔ہچکی اور قبض کےلیے بہترین ہے ۔نفخ شکم ۔قولنج ریاحی۔استسقاء طبلی کے لیے بھی موثر و مفید ہے
والسلام
میاں محمد احسن

*قبض* ۔ *Constipation* 🌡یہ بیماری کیوں؟ قبض کا مطب ھے، پیٹ کی باقاعدہ صفائی نہ ھونا اور فضلہ کا سخت ھونا، فضلے کے نکاس م...
26/09/2026

*قبض* ۔ *Constipation*

🌡یہ بیماری کیوں؟

قبض کا مطب ھے،
پیٹ کی باقاعدہ صفائی نہ ھونا
اور فضلہ کا سخت ھونا،
فضلے کے نکاس میں دیر ھونا،
آنتوں کی فعالگی کا زوال ھونا،

ویسے تو قدرتی طور پر صبح و شام اجابت کے لئے جانا چاھیئے
اگر فضلہ وقت پر نہ اترے تو سمجھ لینا چاھیئے کہ قبض کی شکایت ھے.
کئی بار فضلے کے نکاس کے لئے کافی زور لگانا پڑتا ھے، اس وقت فضلہ سخت و خشک ھوتا ھے، یہ علامات بھی قبض کی ھیں ۔

درحقیقت قبض کوئی بیماری نہیں مگر اس کے ھونے سے بیماریاں پیدا ھوتی ھیں۔

قبض زیادہ تر آرام کرنے،
غیر مطلوبہ غذا،
شدید بخار کی حالت،
فضلے کی باقاعدہ نکاس کی عادت کی کمی،
آرام کی کمی،
ورزش نہ کرنا، بغیر چھلکے کی غذا کھانا
اور آنتوں سے متعلق بیماریوں کے باعث ھوتی ھے.

🌡 *بیماری کی پہچان* :-

مندرجہ ذیل علامات سے پہچان کریں :

1- بےچینی

2- پیٹ درد

3- سر درد

4- جی متلانا

5- پیٹ میں ھوا بھرنا

6- کھانے سے بے رغبتی

7- سست طبیعت، چڑچڑا پن

8- روزانہ اجابت کا نہ ھونا

9- فضلے کا سخت و خشک ھونا

10- زور لگا کر اجابت کرنا

جیسی علامات قبض سے معلوم ھوتی ھیں،
اگر قبض پرانی ھو جائے تو آنتوں سے متعلقہ دوسری بیماریاں بھی لگ جاتی ھیں.

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو سوتے وقت دودھ میں منقہ ڈال کر پئیں.

🌴🌴 *آسان علاج* :
تھوڑے سے سیاہ تل پیس کر گُڑ کے ساتھ صبح و شام استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
2 عدد انجیر رات کو پانی میں بھگو دیں اور صبح چبا چبا کر کھائیں، اوپر سے پانی پی لیں، اس سے اجابت کھل کر آئیگی

🌴🌴 *آسان علاج* :
صبح و شام کھانا کھانے کے بعد کم سے کم 3 عدد کیلے ضرور کھائیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
ایک سال پرانے گھی میں کیسر پیس کر کھائیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
کھانے کے ساتھ پپیتا کھائیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
بجڑی (چنا + گیہوں یا چنا + جو برابر کی مقدار) کی روٹی کا استعمال کرنے سے قبض کی شکایت جاتی رھتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
صبح کے وقت گنے کا رس گرم کرکے اس میں تھوڑا نمبو نچوڑ کر پئیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
امرود کھا کر اگر اُوپر سے دودھ پی لیا جائے تو قبض جاتی رھتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو سوتے وقت ارنڈی کا تیل ایک چمچ (کسٹر آئیل) دودھ میں ملا کر پی لیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
چھوٹی ھرڑ کو گھی میں بھون لیں، پھر پیس کر چُورن بنا لیں، 2 عدد ھرڑ کا چورن رات کو سوتے وقت پانی کے ساتھ استعمال کریں اس سے بھی اجابت کھل جائیگی.

🌴🌴 *آسان علاج* :
1 عدد لیموں کا رس، گرم پانی کے ساتھ رات کو سوتے وقت پی لیں صبح اجابت آسانی سے ھو گی

🌴🌴 *آسان علاج* :
لیموں کا رس 2 چمچ، چینی 5 گرام، یہ شربت چار پانچ دن لگاتار پئیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
بھوکے پیٹ چھلکے سمیت سیب کھانے سے قبض دور ھوتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
ایک چمچ آنولے کا چورن رات کو پانی کے ساتھ لیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
خربوزہ کھانے والوں کو قبض کی شکایت نہیں ھوتی

🌴🌴 *آسان علاج* :
صبح و شام تین چھوھارے کھا کر گرم پانی پینے سے قبض دور ھو جاتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
کچا ٹماٹر صبح و شام کھانے سے قبض دور ھو جاتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
ساگ سبزیوں کو لہسن کا بگار دیں، روزانہ لہسن کھانے سے قبض دور ھو جاتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
چھوٹی ھرڑ، سونف، مصری ۔ ان تینوں چیزوں کو ھموزن لے کر پیس کر ملا لیں، اس میں سے 1 چمچ چورن رات کو سوتے وقت پانی کے ساتھ استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
تقریباً ایک ھفتہ تک روزانہ گلقند کھا کر رات کو اوپر سے دودھ پی لیں، قبض رفع ھو گی

🌴🌴 *آسان علاج* :
خشک آنولے کا چورن روزانہ 1 چمچ کھانا کھانے کے بعد استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
آم کھانے کے بعد دودھ پینے سے صبح پیٹ صاف ھو جاتا ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
بینگن اور پالک کا سوپ قوت انہضام کو بڑھاتا ھے اور قبض توڑتا ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو سوتے وقت دودھ میں 2 چمچ خالص شہد ڈال کر استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو 50 گرام چنے بھگو دیں صبح کے وقت ان چنوں کو زیرہ اور نمک کے ساتھ کھائیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو تانبے کے برتن میں پانی بھر کے رکھ لیں، اس میں ایک چٹکی نمک ڈال کر صبح کے وقت استعمال کریں، اس سے قبض دور ھو جائیگی

🌴🌴 *آسان علاج* :
نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر صبح و شام پئیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
گلو کا ست یا چُورن 1 چمچ گُڑ کے ساتھ کھانے سے قبض رفع ھوتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کو سونف کا چورن کھا کر پانی پی لیں، قبض دور کرنے کا تیز بہدف طریقہ ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
سونف، ھرڑ اور شکر ۔ تینوں کا 1/2 چمچ ملا کر باریک پیس لیں، رات کا کھانا کھانے کے 1 گھنٹے بعد استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
اسبغول 2 چمچ، ھرڑ 2 عدد، بیل کا گودا 3 چمچ. تینوں کو پیس کر چٹنی بنا لیں، صبح و شام اس میں سے 1 - 1 چمچ گرم دودھ کے ساتھ

🌴🌴 *آسان علاج* :
نیم کے پھول خشک کر لیں، اس کا چورن روزانہ 1 چٹکی رات کو گرم پانی کے ساتھ

🌴🌴 *آسان علاج* :
کریلے کا رس 1 چمچ، زیرہ 1/2 چمچ، سوندھا نمک 1 چٹکی ۔ تینوں کی چٹنی بنا کر کھائیں

🌴🌴 *آسان علاج* :
کھانا کھانے کے بعد 250 گرام انگور کھانے سے قبض دور ھوتی ھے

🌴🌴 *آسان علاج* :
لیموں کے رس میں تھوڑی سی پسی ھوئی سیاہ مرچ ڈال کر استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
دار چینی کے تیل کی 4 بوند چینی میں ڈال کر استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
رات کے وقت ایک گلاس دودھ میں، ایک چمچ زیتون کا تیل، ایک چمچ اسبغول کا چھلکا ڈال کر استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
گلاب کی پتیاں 10 گرام، سناء 1 چمچ (چورن)، 2 عدد چھوٹی ھڑر - 2 کپ پانی میں ابالیں، جب 1 کپ باقی رہ جائے تو اس کاڑھے کی صورت استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
سونف، بنقشہ، میٹھے بادام کی گِری، سناء - سب تین تین گرام لے کر اس میں 10 گرام چینی ملا لیں، پیس کر چورن بنائیں، اسکی تین خوراکیں بنائیں، دوپہر اور شام لازم استعمال کریں

🌴🌴 *آسان علاج* :
املتاس کا گُودا 10 گرام، مُنقہ 10 گرام - ان کو ملا کر کھائیں یہ پیٹ صفائی کی بہترین دوا ھے.

🌴🌴 *آسان علاج* :
گوار کے تنے کا گودا 10 گرام لے لیں اس میں چار پتے تلسی اور تھوڑے سے سناء کے پتے ملا لیں. چٹنی بنائیں۔ کھانے کے بعد استعمال کریں قبض رفع کریگی

🌴🌴 *آسان علاج* :
املی کا گودا پانی میں بھگو دیں. پانی میں مسل کر چھان لیں. تھوڑا گُڑ اور سُونٹھ ڈال کر چٹنی بنائیں، کھانے کے ساتھ استعمال کریں، قبض دور ھو گی

🌴🌴 *آسان علاج* :
بیل کی پتیاں 4 عدد، سناء کی پتیاں 3 عدد، آم کی پتیاں 3 عدد، جائفل 3 گرام ۔ چٹنی بنا کر استعمال کریں

🌴🌴 *قدرتی علاج* :-
قدرتی علاج میں انیما لینے کا طریقہ بہت مفید ھے، انیمیا صبح رفع حاجت کے بعد لینا چاھیئے۔

👑👑 *تیار شدہ یونانی ادویات* 👑👑

💊 اطریفل زمانی۔
10 گرام، نیم گرم پانی کے ساتھ سوتے وقت

💊 اطریفل ملین ۔
10 گرام، نیم گرم پانی کے ساتھ سوتے وقت

💊 حب کبد نوشادری ۔
2 سے 4 گولیاں، پانی کے ساتھ

💊 روغن بادام ۔
6 ملی لیٹر ۔ دودھ کے ساتھ سوتے وقت

💊 شربت ارزانی ۔
30 ملی لیٹر ۔ پانی کے ساتھ دن میں دو دفعہ

💊 شربت دینار ۔
4 گرام، پانی میں ملا کر

💊 گلقند ۔
25 گرام سوتے وقت

💊 مربہ ھلیلہ ۔
2 عدد ۔ دھو کر ۔ رات کو سوتے وقت

💊 معجون انجیر ۔
10 گرام - سوتے وقت

💊حب ملین ۔
2 سے 4 گولیاں، پانی سے

🌹🌷🍃🎋🎍🍀🌿🌱🌴🌳🌲🎄CP

معدہ جگر کا علاج نظریہ اربعہ سے *فیٹی لیور*                جگر جسم میں ایک فیکٹری کی مانند ہے ۔ جو تقریبا 500خامرے ہر وق...
26/09/2026

معدہ جگر کا علاج نظریہ اربعہ سے
*فیٹی لیور*
جگر جسم میں ایک فیکٹری کی مانند ہے ۔ جو تقریبا 500خامرے ہر وقت تیار کرتا رہتا ہے۔ جن پر اعضاء کی غذا اور بدن کی پرورش کا دارومدار ہے۔۔ جگر خون کے زہریلے مادے پیشاب پاخانے اور پسینے کے راستے خارج کرتا ہے۔ اگر ان مادوں کو خارج نہ کرے تو چند لمحوں میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ القصہ جگر کی صحت پر ہی ہمارے جسم کی صحت کا دارومدار ہے۔ جگر پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جگر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جگر جسم کے ہر عضو کو اس کی مطلوبہ غذا تیار کر کے خون کے ذریعے اس تک پہنچاتا ہے۔ اگر جگر بیمار ہو جائے تو کئی امراض سر اٹھا لیں گے۔ *فیٹی لیور*
*نمبر ایک*
جگر اپنی سوزش کی وجہ سے گلائی کوجن کو ضرورت کے مطابق گلوکوز میں تبدیل نہیں کر سکتا تو یہ گلائی کوجن فیٹ اور یورک ایسڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے اس سے جگر کی رگیں بند ہو جاتی ہیں اور جگر فیٹی ہو جاتا ہے۔۔ *نمبر دو*
جو چربی ہم کھاتے ہیں اگر اسے جگر ہضم نہیں کر پاتا تو یہ چربی جگر کے اندر اور اس کے خلیات میں جمع ہونے لگتی ہے اور بڑھتے بڑھتے جگر کے باہر بھی چربی کی تہیں بن جاتی ہیں۔ بلی شرٹ کے بٹن توڑ کر سر نکال لیتی ہے۔۔ یہ بندہ اور زیادہ ہونقوں سا معلوم ھوتا ھے اگروہ کوئی آفیسر بھی ھو۔ جب جگر کا میٹابولزم اپ سیٹ ہو جائے،تو سوزش یا فیٹس کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ جگر فالتو اجزا کو پیشاب، پاخانہ، پسینہ، نزلہ، زکاماور تھوک کے ذریعے خارج نہیں کر سکتا یہ فالتو اجزا جسم میں رک کر مختلف امراض پیدا کرتے ہیں۔ *فیٹی لیور کے بعد فائبروسس اور سروسس ہونا لازمی ہے*۔۔
*نمبر تین*
فیٹی لیور کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم فیٹس والی غذائیں تو زیادہ کھاتے ہیں مگر سیر بالکل نہیں کرتے تو یہ فیٹس خون میں بڑھ جاتی ہیں۔ جسے ٹرائی گلیسرائڈ کہتے ہیں یہ جگر میں جمع ہو کر اس کے مجاری کو بند کر دیتی ہیں تو فیٹی لیور کی ابتدا ہو جاتی ہے۔۔ *نمبر چار*
گلوکوز اور فریکٹوز گلوکوز والی غذائیں کثرت سے کھانے سے فریکٹوز گلوکوز ضرورت سے زیادہ جسم میں پہنچ جاتا ہے تو وہ ہضم ہونے سے بچ جائے گا جگر اسے فیٹس میں تبدیل کر دے گا یہ فیٹس بھی جگر کو فیٹی کر دیتی ہیں۔ *نمبر پانچ*
کچھ دوستوں نے معدے اور آنتوں کے انزائمز کو اپ سیٹ کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کھانے کے نظام کو اپنی مرضی پر سیٹ کیا ہوتا ہے۔ جس سے ٹرائی گلیسرائڈ اور کولسٹرول دونوں بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔ یہ صبح 11، 12 بجے اٹھتے ہیں نان چنے وغیرہ کا ناشتہ کر کے دوپہر کا کھانا شام پانچ چھ بجے کھاتے ہیں اور رات کا کھانا رات 12 بجے کھا کر اوپر سے یخ ٹھنڈا پانی پی کر لیٹ جاتے ہیں۔ نیر جہاں سے جو ملا معدے کو بھرتے رہتے ہیں چائے پی لی ابھی چائے معدے میں ہی پڑی تھی کہ کسی دوست نے کوک پکڑا دیوہ بھی پی گئے کہیں سے مٹھائی، فروٹ مل گیا وہ بھی معدے کی نظر کر گئے۔ سموسے ، دہی بھلے، فروٹ چاٹ وغیرہ جو ملا وہ بھی کھا لیا ، یہ سب کچھ کھانے سے معدے کو ارام کی فرصت ہی نہ ملی جس کے نتیجے میں معدہ کمزور ہو جائے گا اور دونوں کولیسٹرول بڑھ جائیں گے۔ پیٹ بڑھنے لگتا ہے جس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ جگر فیٹی ہو گیا ۔ خون میں گلوکوز کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو تو انسولین اس زائد گلوکوز کو چربی اور گلائی کوجن میں تبدیل کر کے جگر اور مسلز میں ذخیرہ کر دیتی ہے جس سے خون کاقوام گاڑھا ہو جاتا ہے اور رگیں تنگ ضہو جاتی ہیضں تو ہارٹ اٹیک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔جس بندے کا پیٹ ذبڑھا ہوا ہو اس کا لیپڈ پروفائل اور جگر کا الٹرا ساؤنڈ ضرور کرائیں تاکہ جگر کا سائز کتنا بڑھ گیا ہے یہی فیٹی لیور ہے۔جب فیٹس جگر کی رگوں میں رکنے لگتے ہیں تو جگر جو خامرے جسم کی ضرورت کے لیے پیدا کرتا تھا ان میں کمی ا جاتی ہے اس کمی کی وجہ سے جسم میں مزید مرضیں پیدا ہونے لگتی ہیں اور ساتھ ساتھ جگر کے فائبرز سخت ہونے لگتے ہیں اب یہاں سے فائبروسس کا اغاز ہو گیا اگر اب بھی درست علاج نہ کیا گیا تو یہ فائبروسس سروسس میں تبدیل ہو جائے گا اور پھر اہستہ اہستہ جگر کام کرنا چھوڑ دے گا اور مریض کی موت واقع ہو جائے گی۔۔ **فیٹی لیور کی علامات*
کڑل پڑنا، پیٹ بڑھنا، بلڈ شوگر، یورک ایسڈ بڑھنا، بلڈ پریشر لو، اپھارہ ،قبض، قے، متلی، موٹاپا، اداسی، کمر درد گردن کے ارد گرد خارش ، جسم پر چھوٹی چھوٹی خارشدار پھنسیاں ہر وقت تھکا تھکا رہنا ، کام کاج کرنے میں سستی، کام کرنے کو دل نہ کرنا پتہ اور گردہ کی پتھریاں، بھوک کی کمی ٹرائی گلیسرائڈ کا بڑھنا، کئی کئی دن پاخانہ نہ انا جب انا تو سخت اور تکلیف سے انا ، یہ تمام علامتیں ایک ہی وقت میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ اہستہ اہستہ ظاہر ہوا کرتی ہیں۔۔
*علاج*۔
فیٹی لیور کا مریض ورزش کی بجائے صبح تھوڑا سا تیز تیز چلا کرے بھاگنا ہرگز نہیں بس اتنا تیز چلے کہ سانس پھول جائے اس سے خون کی رفتار قدر تیز ہو کر ایک ایک رگ پٹھے تک پہنچ کر توانائی پیدا کرے گا اور جسم کی فالتو چربی بھی تحلیل ہوگی ۔۔ ٹھنڈا پانی، ٹھنڈے مشروبات بند کریں پانی ایسا پینا ہے کہ جس کا لمس ٹھنڈا محسوس نہ ہو، کھانے کے ساتھ پانی بہت کم پینا ہے ہر کھانے کے بعد ادرک کا قہوہ پی لیں تو زیادہ فائدہ ہوگا۔ دوائی علاج میں پہلے ٹرائی گلیسرائڈ کا علاج کرنا ہے پھر فیٹی لیور کا علاج ہوگا،
*نمبر ایک *
ٹرائی گلیسرائیڈ کے لیے سی فور اور چار جدید صبح دوپہر شام کھلائیں۔ گیس اور قبض بھی دور ہو جائے گی اور 20 25 دن کے بعد جب ٹرائی گلیسرائڈ ٹھیک ہو جائے تو الٹراساؤنڈ کرا کر فیٹی لیور کا علاج شروع کر دیں ۔ *نمبر دو*
ٹی فائیو اور چھ این 20 دن کھلانے کے بعد الٹراساؤنڈ کرا لیں انشاءاللہ جگر کا سائز کافی کم ہو جائے گا وزن اور پیٹ بھی کافی کم ہو جائے گا۔ یہ سارے نسخے مضمون کے اخر میں لکھ دیے گئے ہیں فیٹی لیور چونکہ جگر کی صفراوی سوزش کے درجات طے کر کے بڑھا ہے۔ جب فیٹی لیور ٹھیک ہو گیا تو دوبارہ ٹرائی گلیسرائڈ نہیں بڑھے گا۔۔ *نمبر تین*
*فیٹی لیور پلس ٹرائی گلیسرائیڈ اور یورک ایسڈ۔* ہو تو ایچ 67 اور چار جدید دن میں تین بار کھلائیں۔ *نمبر چار*
اگر فیٹی لیور کے ساتھ کولسٹرول زیادہ ہو چکا ہو تو ایچ 67 اور ایم فور دن میں چار بار ایک ایک کیپسول کھلائیں۔جو نسخے بتائے گئے ہیں ان کے اجزاء نوٹ کر فرما لیں ۔۔
*1۔ سی فور*۔
فلفل سیاہ100 گرام ،کچور 50 گرام، سوئے 50 گرام ، اجوائن دیسی 50 گرام، نوشادر ٹھکری 25 گرام، خوب صاف کر کے وزن لیں باریک پیس لیں اور پانچ سو ایم جی کے کیپسول بھر لیں ادرک کے قہوہ سے کھانا کھانے کے بعد ایک ایک کیپسول کھلا دیں۔
*سی فور کے فوائڈ*
خون کے گاڑھا پن کو ختم کرتا ہے۔ ٹانگیں ٹھنڈی رہیں یا سن رہتی ہیں ان کو حرارت پہنچا کر چلنے کے قابل بناتا ہے۔ بھوک لگاتا ہے اور ٹرائی گلیسرائڈ کا بہترین علاج ہے۔ فالتو چربی ختم کرنے میں بے مثال ہے۔
*2۔ ایم فور*
زنجبیل 50 گرام, نمک سیاہ 25 گرام, ریوند خطائی 40 گرام, پودینہ خشک 40 گرام, فلفل سیاہ 10 گرام, سب دوائیبں اچھی طرح صاف کر کے پیس لیں پانچ سو ایم جی کے کیپسول بھر لیں دن میں تین بار ایک ایک کیپسول کھلائیں۔
*ایم فور کے فوائد*
بہترین ہاضم ہے، خونی بواسیر کو بہت مفید ہے، موسمی بخاروں کے لیے اعلی دوا ہے، مقوی دماغ ھے ، جوڑوں کی ایسی دردیں جن سے جوڑوں میں کڑکڑاہٹ کی اواز اتی ہے ان کے لیے بہت نفع بخش ہے۔ اس اح**ام میں بڑا زبردست ہے جس میں خواب میں کوئی نقشہ وغیرہ اتا ہے ۔ چہرے کے سیاہی مائل کیلوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ شوگر والے بوڑھے مریض جن کا معدہ کام نہیں کرتا ان کو مسلسل کھلائیں انشاءاللہ تعالی بہت سی شوگر کی تکلیفیں چھوڑ جائیں گی۔
*3۔ چار جدید*
زرد چوب، ملٹھی، بادیان برابر وزن لے کر پیس لیں پانچ سو ملی گرام کے کیپسول بھر لیں ایک ایک کیپسول دن میں تین بار کھلائیں ۔
*چار جدید کے فوائد*
خشکی اور ریاح سے پیدا شدہ امراض کو جسم سے نکالنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔
*4۔ ایچ67*
تخم کاسنی 100 گرام۔ سفید زیرہ 100گرام، میٹھا سوڈا اصلی 100 گرام، غنچہ گل سرخ 50 گرام، گل نیلوفر
( ڈنڈی دور کردہ) 50 گرام, کشنیر 40 گرام، جوکھار خالص 25 گرام، قلمی شورا خالص 25 گرام، تمام دوائیں اچھی طرح صاف کر کے پیس لیں ڈیڑھ دو گرام دن میں تین بار کھلا دیں۔
*یچ 67 کے فوائد*
گرمی کی تقریبا ہر مرض میں کھلایا جا سکتا ہے۔ مقوی و محرک غدد جاذبہ ہے ۔ جو مرض صفرا کی زیادتی سے جسم میں کہیں بھی ھو اپ یہ بے فکر ہو کر دن میں تین بار کھلائیں انشاءاللہ تعالی چند دنوں میں صفراوی امراض دم دبا کر بھاگ جائیں گی۔
*5۔ چھ این*
گل نیلوفر، قلمی شورہ خالص، تخم کاہو، کشنیر، تخم خرفہ، تخم کاسنی، سب سو سو گرام گل کیسو 50 گرام سب ادویہ صاف کر کے وزن لیں اور پیس لیں پانچ سو ملی گرام کے دو کیپسول صبح دو دوپہر دو رات کو کچی لسی دودھ سوڈا یا شربت بزوری بار سے کھلائیں شوگر والے شربت استعمال نہ کریں اور نہ ہی دودھ سوڈا استعمال کریں یہ پانی سے بھی کھا سکتے ہیں۔
*چھ این کے دیگر فوائد*
ہیپاٹائٹس کی خاص دوا ہے چھپاکی، گردے کا درد ، سوزش گردہ، پیشاب کی جلن اور دیگر تمام صفراوی، گرم امراض کے لیے یہ ہمارا معمول مطب ہے۔
*6۔ ٹی فائیو*
ملٹھی سہاگہ سفید ریوند خطائی ہر ایک 50 گرام پیس کر وزن لیں اب اس میں 10 گرام شیر مدار شامل کر کے اچھی طرح کھرل کر لیں پانچ سو ملی گرام کا کیپسول صبح دوپہر اور رات کو کھانے کے بعد کھلا دیں۔
*ٹی فائیو کے دیگر فوائد*,
عورتوں میں حیض بہت درد کے ساتھ ائے تو دس دس منٹ بعد ایک ایک کیپسول کھلا دیں درد کی شدت کی کم ہو جائے گی ۔ رحم اور قاذفین کی صفراوی سوزش کو فورا ختم کرتا ہے حیض صحیح آنے لگتا ہے۔ خون انے کو روکتی ہے۔ سینے کی جلن ،پیشاب کی جلن کو بہت مفید ہے اس کے علاوہ عورتوں میں ایسٹروجن پیدا کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ عورت صاحب اولاد ہو جاتی ہے۔

ایزوسپرمیا کیا ہے؟ ایزوسپرمیا (Azoospermia) پر بات کرنے سے پہلے مادہ تولید  (S***m) کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بنت...
26/09/2026

ایزوسپرمیا کیا ہے؟

ایزوسپرمیا (Azoospermia) پر بات کرنے سے پہلے مادہ تولید (S***m) کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ بنتا کیسے ہے اور کس طرح سے کام کرتا ہے جسامت کے لحاظ سے سر(Head) جس میں (Nucleus) موجود ہوتا ہے اس کے بعد گردن (Neck) اور آخر میں دُم (Tail) ہوتی ہے یعنی کہ سر سے دُم تک اس کی لمبائی 1/500 انچ ہوتی ہے (S***m) کا سر نوک دار ہوتا ہے جس کے ذریعے یہ عورت کے بیضے میں باآسانی داخل ہوسکتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں کہ مادہ تولید (S***m) کیسے بنتا ہے کہاں بنتا ہے اور کیسے بیضے تک رسائی پاتا ہے۔ مرد کے خصیوں (Te**es) میں مسلسل مادہ تولید (S***m) پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ خصیے (Te**es) جہاں (S***m) پیدا ہوتے ہیں اور اس عمل کو (S***matogenesis) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد (Epididymis) ہے جو کہ ایک نالی نما تھیلی ہوتی ہے اور یہ دونوں خصیوں پر لگی ہوتی ہے جہاں پر پختہ مادہ تولید (Mature S***m) منتقل یا جمع ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے پاس (Vas Deferens) کی نالی نما ساخت ہے جو کہ (Epididymis) کے ساتھ لگی ہوتی ہے اور یہاں سے پختہ مادہ تولید (Mature S***m) لے کر (Seminal Vesicle) تک پھیلی ہوئی ہے اور یہاں سے (Ejaculatory Duct) اور (Urethra) کے ذریعے (S***m) جسم سے نکل جاتے ہیں۔ اب اگر کسی شادی شدہ جوڑے میں جنسی تعلقات قائم ہونے کے باوجود بچے کی پیدائش نہیں ہورہی تو اس مسئلے کو بے اولادی ، بانجھ پن (Infertility) کا نام دیا جاتا ہے جس کے پیچھے بہت ساری وجوہات کارفرماہیں۔ ایک عورت کے بیضے (Ovaries) یا دیگر خرابیاں جبکہ مرد کے مادہ تولید (S***m) یا اس کے علاوہ دیگر مسائل شامل ہوسکتے ہیں جن میں (Azoospermia) بھی ایک خطرناک مسئلہ ہے جہاں پر مرد میں مادہ تولید (S***m) بالکل موجود ہی نہیں ہوتا یعنی (S***m Count Zero) آرہا ہوتا ہے۔

ایزوسپرمیا (Azoospermia) کی مختلف اقسام ہیں جن میں
Pre-Testicular Azoospermia
Testicular Azoospermia
Post Testicular Azoospermia
شامل ہیں

ان اقسام کے پیچھے مختلف وجوہات ہوتی ہیں جیسا کہ Pre-Testicular Azoospermia وہ قسم ہے جس میں خصیوں (Te**es) سے لے کر (Ejaculatory Duct) یا (Urethra) تک مادہ تولید کی نالیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ مادہ تولید (S***m) کے پیدا ہونے کے عمل میں مسئلہ ہوتا ہے جو کہ موروثی بیماریوں (Genetic Disorders) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ان بیماریوں میں (Kallman Syndrome) شامل ہے جہاں پر جسم (Gondotropin Releasing Hormone) بنانے کے عمل میں رکاوٹ یا نقص پیدا کردیتا ہے۔ دماغی مسائل (Brain Disorders) اور خاص طور پر پچوٹری غدود (Hypothalamus/Pituitary Gland)کی خرابیاں، تابکاری (Rays/Chemotherapy) یا پھر کچھ ادویات اس قسم کا مسئلہ (Azoospermia)
پیدا کرسکتا ہے۔

Testicular Azoospermia
یہ بھی وہ قسم ہے جس میں مادہ تولید کی نالیوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ اس میں خصیوں (Te**es) کے اندر بذات خود مسائل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے تولیدی مادے (S***m) پیدا ہی نہیں ہوپاتے کیونکہ خصیے ہی تو مادہ تولید (S***m) کا کارخانہ ہوتا ہے۔
اس کی وجوہات میں (Anorchia) یعنی کہ خصیے (Te**es) موجود ہی نہیں یا پھر (Cryptorchidism) ہے جس کا مطلب کہ خصیے (Te**es) نیچے تھیلی (Sc***um) میں ہی نہیں اترے، (Sertoil Cell-Only Syndrome) جس میں خصیے (Te**es) تولیدی مادے (S***m) نہیں بنا پارہے ہوتے، (S***matogenic Arrest) جس میں خصیے (Te**es) (Mature S***m) نہیں بنا سکتے، (Y Chromosome Deletion) جس میں (Y) جینیاتی خلیے chromosome پر مادہ تولید (S***m) پیدا کرنے والے جین (Genes) کے اہم حصے غائب ہوتے ہیں،
(Klinefelter Syndrome)
جو کہ پیدائشی بیماری ہے جس میں جنیاتی مسئلہ ہوتا ہے یعنی (XY)کروموسومز کی جگہ (XXY) کروموسومز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے افراد میں مردانہ صلاحیتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر پیدائشی وجوہات میں (Mumps Orchitis), (Malaria), (Radiation), (Chemotherapy),
(Tumors), (Chemicals), (Vericocele)
یا ادویات وغیرہ اس کی ممکنہ وجوہات میں ہوسکتی ہیں۔

Post Testicular Azoospermia
جیسے (Obstructive Azoospermia)
بھی کہا جاتا ہے جو کہ 40% کیسوں میں موجود ہوتا ہے اس میں عام طور پر(Epididmis)، (Vas Deferens) یا پھر (Ejaculatory Duct) میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہوتی ہے جس کے زریعے مادہ تولید (S***m) خصیوں (Te**es) سے آگے سفر کرتی ہے۔ جب ان نالیوں یا راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوگی تو مادہ تولید (S***m) کانکلناممکن نہیں ہوسکے گا جس کے پیچھے بہت ساری وجوہات ہیں جن میں چوٹ (Injury)، زخم یا سوزش
(Infection or Inflammation)،
مثانے کی سرجری(Pelvic Surgery)، رسولی (Cyst)، مردوں میں (Vesectomy) جس میں مادہ تولید کی نالی (Vas Deferens) کو بند کردیا جاتا ہے، یا اس کے علاوہ ایک پیدائشی بیماری ہے (Cystic Fibrosis) جس میں (Vas Deferens) یا تو موجود نہیں ہوتا یا پھر اس کی بناوٹ یا کوئی رکاوٹ موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے مادہ تولید (S***m) کا راستہ بند ہوتا ہے۔

روایتی ادویات میں میں اگر تو (Azoospermia) کے پیچھے کوئی رکاوٹ ہو تو جراحی کے ذریعے اسے کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے علاوہ اگر (Hormone) کی کمی ہو تو اس کی کمی پوری کرنے کے لیے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ دیگر مسائل کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ہے۔

متبادل کے طور پر ہربل ادویات جو کہ پوری دنیا میں دوسرا بڑا طریقہ علاج ہے اس میں بھی دنیا بھر کے ہومیوپیتھ (Azoospermia) پر ریسرچ کررہے ہیں اس میں بھی مختلف وجوہات کو مدنظر رکھ کر ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جن میں اگر ہم بات کریں (Pre-Testicular Azoospermia) کی تو اس کی وجوہات کو ہربل ادویات سے دور کیا جاسکتا ہے اور ایسے کیسز میں کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے یعنی کہ اگر اس قسم میں وجہ معلوم کی جائے کہ آیا (Hypothalamus/Pituitary Gland) یا تابکاری شعاعوں کی وجہ سے مسئلہ ہے تو ان وجوہات کو ہربل ادویات سے دور کیا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد (Testicular Azoospermia) ہے جس میں خصیوں (Te**es) کے اندر نقص ہوتا ہے اب اگر یہ نقصان (Mumps Orchitis)، (Malaria)،(Radiation)،(Tumors) کی وجہ سے ہے تو اس میں کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے یعنی ان وجوہات کی وجہ سے پیدا شدہ (Azoospermia) کو ہربل ادویات سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے اگر پیدائشی (Genetic Disorders) کی وجہ سے ہے تو اس میں کامیابی کی شرح کم ضرور ہوجاتی ہے لیکن اُمید موجود ہے کہ کیسز ٹھیک کیے جاسکتے ہیں جس پر پاکستان، ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ہربلسسٹ بھی کام کررہے ہیں۔

آخر میں اگر (Post Testicular Azoospermia)کی بات کی جائے جیسے (Obstructive Azoospermia) یعنی کہ رکاوٹی ایزوسپرمیا بھی کہا جاتا ہے اور زیادہ تر کیسز اسی کے ہوتے ہیں یعنی کہ 40%کیسز میں یہ قسم پایا جاتا ہے جس کیا علاج ہومیوپیتھک ادویات کے ذریعے بالکل کیا جاسکتا ہے اور اس کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے صرف (Cystic Fibrosis) کے اگر اس پیدائشی بیماری میں محض رکاوٹ ہو تو دور کی جاسکتی ہے لیکن اگر منی کی نالی (Vas Deferens) ہی موجود نہیں تو پھر کوئی اُمید نہیں۔ اس قسم میں جہاں بھی رکاوٹ ہو وہ دور کی جاسکتی ہے چاہے یہ رکاوٹ پیدائشی ہو، کسی زخم یا جنسی منت شدہ (Sexually Transmitted Disease) کی وجہ سے ہو جو کہ ان معاملات میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے، یا اگر چوٹ، رسولی یا کسی اور وجہ سے ہو تو کسی بھی مستند ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی زیرنگرانی میں ادویات کا استعمال کرکے ان مسائل کو دور کیا جاسکتا ہے۔

●☆ اولاد نہ ھونا ..
وجوہات /علامات ☆●
اولاد نہ ھونے کی وجوھات۔۔
1-: کمی سپرمز ۔
2-:بانجھ پن -
3-: سپرمز کا مردہ ھونا
4-: بے اولادی -
بانچھ پن کا مطلب۔۔۔
بانجھ پن یا عقر کا مطلب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں کمی یا بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا نہ ہونا،
تعریف-:
بانجھ پن کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ 1سال کے عرصے تک نارمل مباشرت ہوتے رہنے کے باوجود اور مانع حمل ادویات استعمال کئے بغیر حمل قرار نہ پانا ھے۔
بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتا ہے اور عورت بھی اس مرض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔
بانجھ پن کی اقسام-:
بانجھ پن ابتدائی اور ثانوی دو طرح کا ہوتاھے۔
1-: عمرانیھ پن(Primary Infertility)
عمرانیہ پن سے مراد وہ مریض ہیں جن میں پہلے کبھی حمل نہیں ہوا۔۔۔۔۔
2-: ثانوی بانجھ پن (Secondary Infertility)
--ثانوی بانجھ پن سے مراد وہ مریض جن کے ہاں پہلے حمل واقع ہو چکا ہو
جبکہ ایک اور اصطلاح سٹرلٹی(Sterility)سے مراد بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کا مرد یا عورت میں مکمل طور پر ختم ہو جانا ہے۔
ماضی میں بانجھ پن کے شکار جوڑوں میں بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت کم ہوتی تھی
مگر آج جدید دور میں مناسب تشخیص اور علاج سے 85 فیصد جوڑے بچہ پیدا ہونے کی اُمید کرسکتے ہیں۔
بانچھ پن میں مبتلا جوڑوں کو بہت زیادہ پریشانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عورت کے لیے تو بانچھ گالی بن جاتی ہے۔
ایسے جوڑے جن کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوا ہو سارے کا سارا قصور عورت کا ہی بن جاتا ہے
بچہ نہ پیداکرنے پرطعنے ملتے رہتے ہیں اور لعنت ملامت ہوتی رہتی ہے۔
حالانکہ بانجھ پن کا شکار مرد بھی ہو سکتے ہیں۔
بانجھ پن کی 40فیصد وجوہات مردوں میں پائی جاتی ہیں
آج کل تو بہت جلد اس کی تشخیص ہو سکتی ہے
کہ بانجھ پن کی شکار کون ہے مرد یا عورت؟

حمل کے لیے شرائط
Conditions For
Pregnancy

1-: مرد اور عورت دونوں کا تندرست ہونا بہت ضروری ہے۔
2-: مرد کو سرعت انزال اور ضعف باہ کا مریض نہیں ہونا چاہئے ۔
3-: مرد کی طرف سے اس کے مادہ منویہ نارمل اورمناسب جرثومہ منویہ(S***matozoon) )پیدا ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سپرمز کی صورتِ حال-:
سپرم کی صورت حال کچھ اس طرح سے ہونی چاہئے کہ کم ازکم 72 گھنٹے کے پرہیز کے بعد مرد میں (حاصل ہونے والے) مادہ منویہ کا تجزیہ کرنے پر مادہ منویہ کی مقدار 1.5ملی لیٹر سے 5 ملی لٹر تک ، ایک ملی لٹر مادہ منویہ میں 20 ملین یا اس سے زائد سپرم 50 سے 60 فیصد تک حرکت کرنے والے (Motile) اور 60 فیصد سے زائد نارمل شکل و صورت والے سپرم ہونے چاہئیں ۔۔
مر د کو سپرم کی تعداد میں کمی (Oligospermia)یعنی سپرم کی تعداد کا ایک ملی لیٹر میں 20 ملین سے کم ہونا یا مادہ منویہ میں سپرم کا موجود نہ ہونا(Azoospermia)کا مریض نہیں ہونا چاہئیے۔
عورت-:
’’عورت کو بھی صحت مند اور توانا ہونا چاہئیے عورت کو
* ورم رحم،
* سیلان الرحم،
* ماہواری کی بے قاعدگی،
* ہارمونز کے توازن میں خرابی،
* ماہواری یا حیض کی بندش،
* حیض کی تنگی وغیرہ کا شکار نہ ہونا چاہئیے۔
* عورت کی طرف سے اس کی میض یا اووری (Ovary)سے ایک مکمل نمو یافتہ اور صحت مند بیضہ (Oocyte)پیدا ہو کر اسے قاذف نالی(Uterine Tube)میں پہنچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
* عورت میں بیضہ خارج ہونے کے عمل کو عمل تبویض (Ovulation)کہتے ہیں۔
* ہر ماہ بیضہ ایک یا دوسری اووری سے خارج ہو کر قاذف نالیوں(Fallopian Tubes)میں پہنچتا ہے۔
* بیضہ خارج ہونے پر عورت کچھ اس طرح کے احساسات کا تجربہ کرتی ہے۔
* جسم کادرجہ حرارت 1oF تک بڑھ جاتا ہے۔
*اگر حمل قرار نہ پائے تو ماہواری آنے تک) 13سے 14دن تک( بڑھتا رہتا ہے۔
* چھاتیوں میں بھراؤ اور وزنی پن محسوس کرتی ہے۔
* مہبلی(Vaginal)رطوبت کم ہوجاتی ہیں۔
* معمولی سا محیطی اوذیما(Peripheral Odema) جسکے ساتھ وزن میں معمولی سا اضافہ محسوس ہوتا ہے۔
*ایسی علامات ان عورتوں میں نہیں پائی جاتی جوبیضہ خارج نہیں کرتی ہیں۔
* بیضہ خارج ہونے پر عورت کے رحم کے منہ میں لگے ہونے بلغم کا پلگ پروجیسٹرون (Progesteron)ہارمون کے اثر سے چمکدار اور نرم مخاط میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
* ایسا ہو نا ضروری ہوتا ہے
* تاکہ سپرم آسانی سے رحم کے منہ میں داخل ہو سکے۔
* حمل ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ صحبت اس وقت کی جائے جب بیضہ خارج ہو چکا ہو پھر سپرم اور بیضہ کا کامیابی سے ملاپ ہونا چاہئیے
* سپرم کو اس قابل ہو نا چاہئے کہ وہ بیضہ کی بیرونی جھلی کو اپنے خامروں سے توڑ کر بیضہ میں داخل ہو سکے جب بیضہ بار آور (Fertilize)ہو چکا ہو تو اسی دوران نسوانی جنسی ہارمونز ایسٹروجن (Estrogen)اور پروجیسٹرون کے زیر اثر رحم کی اندرونی جھلی بطانہ رحم (Endometrium) کی لائنگ مکمل ہو چکی ہو۔
* تاکہ بار آور بیضہ رحم میں پہنچ کر آسانی سے دھنس (Implant) ہو سکے
* اور یہاں تقریباف 9ماہ اور دس دن اپنی نشوونما جاری رکھے بیضہ کا رحم کے اندر صحیح طرح امپلانٹ نہ ہونے سے ضائع ہو جاتے ہیں۔
بانجھ پن کے اسباب -:
بانجھ پن کے مردوں اور عورتوں میں علیحدہ علیحدہ اسباب ہوتے ہیں۔
عورتوں میں بانجھ پن کے اسباب-:

عورتوں میں 60فیصد اسباب بانجھ پن کا سبب بنتے ہیں۔جس میں سے 30فیصد اسباب عمل تبویض نہ ہونا یعنی بیضہ خارج نہ ہونا (Anovulation)اور 30فیصد عورت کے تو لیدی اعضاء کی ساختی / تشریحی خرابیاں (Anatomic Defects) شامل ہیں۔
بیضہ کی خارج ہونے کی سب سے عام وجہ پیچوٹری گلینڈ(Pitutary Gland)کے اگلے حصے (Adenohypophsis) سے گونیڈوٹرافک (Gonadotrophic) ہارمونز کا کم خارج ہونا ہے
ایسی ماہواری جس میں بیضہ نہ ہو(Anovulatory Cycle) کی شناخت عورت میں پیشاب میں (Pregnanedoil) کی شناخت سے ہوسکتی ہے۔
جو کہ پروجیسٹرون میٹا بولزم کی پیدا وارہوتی ہے۔
عام طور پر بیضہ خارج ہو نے کے وقت عورت کے خون میں پروجیسٹرون کے ارتکاز میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
حیضی دور کے بعد کے حصے میں پیشاب میں پریگنے نی ڈول کا اضافہ نہ ہونا بیضہ خارج نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بعد زنانہ بانچھ پن کی ایک اور عام وجہ ورم درون رحم (Endometriosis) ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیاں عورت کے تولیدی اعضاء کی تشریحی ساخت میں خرابی پیدا کرتی ہیں۔
اینڈومیٹری اوسس میں رحم کے اندر کی طرح کی ساخت جہاں سے حیض خارج ہوتا ہے
رحم کے باہر پیٹرو میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
حیض کے دوران رحم کی اندرونی اینڈومیٹریم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے قاذف نالیوں سے گذر کر پیٹرومیں آسکتے ہیں۔
پیٹرو میں اس ساخت پر نسوانی جنسی ہارمونز کے وہی اثرا ت ہوتے ہیں۔ جو رحم کی اندر کی ساخت پر ہوتے ،
رحم میں تو حیض جاری ہونے کا ایک قدرتی راستہ ہوتا ہے
مگرپیٹرو میں چونکہ خون خارج ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اس لئے خون اندرہی جمع ہوتا رہتا ہے۔
پیٹرو میں جریان خون درد کا سبب بنتا ہے
اس سے پیٹرو کے اعضاء میں لیفی ساخت (Fibrosis) بننے کو تحریک ملتی ہے۔
یہ اوریزکا مکمل (encase) بندکرتا ہے
اور بیضہ خارج نہیں ہونے دیتا اینڈو میٹری اوسس کے نتیجے میں پیٹرو کے اعضاء میں باہمی چپکاؤ (Adhesion) واقع ہو جاتا ہے اور قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں۔
بعض عورتوں میں کسی پیلوک انفلے میٹری ڈزیز (PID) یا سوزاک وغیرہ کے نتیجے میں قاذف نالیاں بند ہو جاتی ہیں
انفکشن رحم کے منہ میں لگے ہوئے لیسدار بلغم کی پیدائش کو بھی تحریک دیتا ہے
جس کے نتیجے میں سپرم رحم کے منہ میں داخل نہیں ہو پاتے یہ بھی قابل غور بات ہے کہ بہت زیادہ کم عمر اور بہت زیادہ عمر والی خواتین میں بھی حمل قرار نہیں پاتا اگر ویجائنہ کی پی ایچ (PH)بہت کم ہو تو بھی سپرم ایسے ماحول میں زندہ نہیں رہ پاتے اور حمل قرار نہیں پاتا
اسکے علاوہ ایسی کریمیں، جیلی اور لبریکنٹس جو سپرم کو ہلاک کردیں۔
ورم رحم (Metritis) یا رحم کی لیفی رسولیاں (Fibroids) کی موجودگی مبیضی کیسے (Ovarian cyst) کی وجہ سے ایک یا دونوں اووریز متاثر ہو سکتی ہیں۔
جس کی وجہ سے وہ ہارمونز کا توازن برقرار نہیں رکھ پاتی جو کہ ایک فولیکل کے میچور ہونے اور رحم کی اندرونی لائنگ کے لیے ضروری ہوتے ہیں
اور ایک متاثرہ اووری ایک صحت مند بیضے کو قاذف نالی میں خارج کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
اسکے علاوہ دباؤ (Stress)غذا کی کمی ،وزن کی کمی، وزن کی زیادتی کی وجہ سے ہارمونز کا توازن قائم نہیں رہتا جس سے رحم کی اندرونی لائنگ اور فم رحم کی بلغم متاثر ہوتی ہے۔ مانع حمل (Contracepives) بھی ہارمون کے قدرتی توازن کو غیر متوازن کردیتی ہیں۔ اور ماہواری کو بے قاعدہ کردیتی ہیں۔ ان ادویات کو چھوڑنے کے کافی عرصے بعد تک بھی ماہواری بے قاعدہ رہ سکتی ہے۔
انٹرایوٹرائن ڈیواسز (IUDs) رحم اور قاذف نالیوں میں سوزش اور سیلان الرحم کا سبب بنتی ہیں ۔
جسکے نتیجے میں ورم کے ٹھیک ہونے کے بعد سکارنگ (Scarring)کی وجہ سے نالیاں بند ہوسکتی ہیں۔سگریٹ نوشی بھی تولیدی نظام کے نارمل فعل کو خراب کر سکتی ہے
اس سے تولیدی اعضاء میں خون کی سپلائی کی کمی اور قاذف نالیوں کے اندر لگے ہوئے بال نما ابھار (Cilia) کی حرکت متاثر ہوتی ہے ان بال نما ابھاروں کی حرکت سے بیضہ کو قاذف نالیوں میں حرکت کرنے اور آگے جانے میں مدد ملتی ہے۔ بواسیر الرحم (Polyps) یاکسی جراحی کے نتیجے میں رحم کی خرابی، رحم نہ ہونا، رحم کا میلان خلفی(Retoversion)بھی بانجھ کا سبب بنتے ہیں۔ کیفین کا لگا تار استعمال تھائرائیڈ گلینڈ کے فعل میں کمی غذائی اجزاء مثلاً وٹامن B12, E, A, B2, B6زنک (Zinc) فولک ایسڈ ضروری امینوترشے میگنیشیم کی کمی جو فرٹیلٹی کے لیے ضروری ہیں۔ دباؤ نہ صرف ہارمونز کے توازن کو خراب کرتا ہے بلکہ قاذف نالیوں کے سکڑنے کا سبب بھی بنتا ہے جس سے بیضے کو ان نالیوں سے گذرنے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور پیٹرو میں خون کی سپلائی کی وجہ سے رحم کی اندرونی لائنگ بھی متاثر ہوتی ہے اور ویجائنہ کے سکڑنے سے سیکس کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے.......

🪀🧕زنانہ بانجھ پن / INFERTILITY 🧕🪀

🌐👈 عورتوں میں بانجھ پن کے عام عوامل / مسائل 👉🌐

📌انفیکشن یا سرجری کے نتیجے میں نَلوں کو نقصان پہنچنا۔
📌بچّہ دانی کے اندر رسولی ہونا۔
📌یا غیر عامل ٹیومرز ہوتے ہیں جو بچّہ دانی کے عضلات کی تہوں سے پیدا ہوتے ہیں ۔
📌 Endometriosis
اِس کیفیت میں بچّہ دانی کی اندرونی تہوں سے مماثلت رکھنے والے عضلات بچّہ دانی سے باہر پیدا ہو جاتے ہیں اور اِسی وجہ سے درد پیدا ہوتا ہے خاص طور پر ماہواری کے دِنوں میں یا جنسی ملاپ کے دوران۔
📌 بچّہ دانی کے مُنہ سے خارج ہونے والی خلافِ معمول رطوبت۔
📌 اِس کیفیت میں بچّہ دانی کے مُنہ سے خارج ہونے والی رطوبت بہت گاڑھی ہوجاتی ہے ،جس کی وجہ سے منی کے جرثومے بچّہ دانی میں داخل نہیں ہوپاتے۔
📌 منی کے جرثوموں کے لئے اینٹی باڈیز کاپیدا ہوجانا، یعنی عورت میں اپنے ساتھی کے منی کے جرثوموں کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو جاتی ہیں۔
📌 یوٹرس کی خرابیاں، ہارمونز کی خرابی، اووری سسٹ، لیکوریا، موٹاپا،منسز کے مسائل، اووم کا کمزور ہونا۔
📌 جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض مثلاً کلیمائیڈیا ، سوزاک، وغیرہ ۔

🪀 👈 بانجھ پن کے اِن اسباب کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
اگر جنسی طور پر منتقل ہونے والے امراض کا علاج نہ کروایا جائے تو عورتوں میں 40 فیصد تک نچلے پیٹ کی سُوجن (PID) کا مرض پیدا ہو سکتا ہے، جو بانجھ پن کا سبب بنتا ہے اور نَلوں کے عضلات کی بناوٹ میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔
حیض کے مسائل ، حیض کے پہلے یا دوران شدید درد ہونا ، انفیکشن کے وجہ سے جلن اور اور مسلسل نیچے کی طرف دباؤ محسوس کرنا
مسلسل انفیکشن کی وجہ سے فلوپین ٹیوب کا بلاک ہونا
اندام نہانی کی رطوبت میں جب تیزابیت بڑھ جاتی ہے تو بھی کرم منی تیزابیت کی وجہ سے تباہ ہو جاتے ہیں اور اس سے حمل نہیں ٹھہر سکتا ہے.
CP

Address

رگھ رائیکہ سٹاپ نزد پھالیہ شہر
Bahawalpur
50400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hk Mian Muhammad Ahsan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hk Mian Muhammad Ahsan:

Shortcuts

Share