05/05/2026
نو زائیدہ بچوں کے اہم مسائل اور ان کا آسان حل!!!
بچہ جب اس دنیا میں اتا ہے تو وہ بڑوں سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اسکو کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے ۔نو زائیدہ بچوں کی کچھ چیزیں جو نارمل ہوتی ہیں لیکن والدین کو مسئلہ لگ رہی ہوتی ہیں۔
ہم کوشش کریں گے کہ نوزایئدہ بچوں سے متعلق پانچ ایم چیزیں دیکھیں گے جو والدین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہیں اور ہم اپ کی رہنمائی کریں گے کہ کیسے ان کو اپ نے حل کرنا ہے۔
1.بچوں میں پیٹ درد یا کولک کا مسئلہ.
یہ بہت عام مسلہ ہے .اس کی تعریف یہ ہے کہ بچے کو درد تین ہفتے سے لے کے تین ماہ تک ہوتا ہے, ہفتے میں کم از کم تین دن ہوتا ہے اور ایک دن میں تین گھنٹے ہوگا۔ اس میں بچہ بہت بے چین ہوتا ہے روتا ہے اس کا رنگ سیاہ پڑ سکتا ہے اور پیٹ اکڑ جاتا ہے۔ اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں۔
کولک بچوں کے والدین کے لیے اہم ہدایات !!!
۔بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ پلائیں
۔بچوں کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلوائیں
۔بچے کے پیٹ کے اوپر ہلکی سی مالش کریں
۔بچے کواٹھا کر جھلا سکتے ہیں
۔کوشش کریں کہ بچے کو گھر کے سب افراد مل کے باری بار اٹھائیں کیونکہ روتے ہوۓ بچے کو جب ایک ہی بندہ اٹھائے گا تو وہ بہت چڑچڑے پن کا شکار جاتا ہے
امید ہے کہ یہ مسئلہ تین مہینے پہ جا کے ٹھیک ہو جاۓ گا۔
2.بچوں میں دودھ پینے کے بعد دودھ کا نکالنا.
یہ بہت اہم مسئلہ ہے اور اکثر بچے اس سے گزرتے ہیں کیونکہ بچوں کی خوراک دودھ ہوتی ہے ,بچے ہمیشہ لیٹے رہتے ہیں اور بچوں کی خوراک کی نالی جو معدے اور منہ کو ملاتی ہے بہت چھوٹی ہوتی ہے
والدین کے لیے اھم ہدایات !!!دودھ پلانے کے بعد بچے کو لٹانا نہیں بلکہ اس کو پانچ سے دس منٹ کندھے پہ رکھیں بچے کو دودھ پلانے کے بعد اچھی طرح ڈکار دلواٸیں دودھ ہمیشہ ماں کا پلاٸیںبچے کو اور فیڈ نہ کرواٸیںدودھ تھوڑا اور بار بار پلاٸیںڈبے کے دودھ پینے والے بچوں میں کچھ سپیشل فارمولے بھی آتے ہیں جن کا دودھ گاڑھا ہوتا ہے
بچے کا یہ مسئلہ بھی جیسے بچہ چھ ماہ کا ہوتا ہے, بیٹھنا شروع کر دیتا ہے اور دودھ کے ساتھ ٹھوس غذا شروع ہوتی ہے تو یہ عموما ٹھیک ہو جاتا ہے
3.بچے میں ہر دودھ پینے کے بعد پاخانہ کر دینا.
یہ مسئلہ بھی اہم اور عام ہے۔ اسکی وجہ بچوں میں خوراک کی نالی چھوٹی ہوتی ہے جیسے ہی دودھ معدے میں جاتا ہے تو وہ اگلے حصے کو سگنل بھیجتا ہے تاکہ مزید خوراک کی جگہ بنے تو بچہ پاخانہ کر دے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اگر بچے کے پاخانے پتلے پانی کی طرح کے نہیں ہیں ,بچے کو کوئی پانی کمی کی علامات نہیں آرہی تو اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ جیسے بچہ بڑا ہوگا تو یہ مسئلہ خود سے ٹھیک ہو جاتا ہے
4.بچہ رات کو سوتا نہیں ہے۔
یہ مسئلہ والدین کے لیے کافی اہم ہے اور اکثر نئے والدین اس کی شکایت کرتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ بچے کی نیند عمر کے حساب سے ہوتی ہے۔ نامولود بچے کی نیند 15 گھنٹے تک بھی ہو سکتی ہے لیکن بچے کا سونے کا سائیکل نہیں بنا ہوتا ۔اس کو نہیں پتہ ہوتا ہے کہ دن ہے یا رات تو وہ کسی بھی ٹائم سوئے گا کسی بھی ٹائم اٹھ جائے گا ۔ یہ والدین کے لیے باعث تکلیف ہوتا ہے کہ جب بچہ رات کو اٹھ جائے گا تو ان کو پریشانی ہوتی ہے ۔
تقریبا چھ ماہ کے بعد آہستہ آہستہ یہ سائیکل بننا شروع ہوتا ہے اس میں بچے کی نیند کی ترتیب بنتی ہے کہ بچے نے دن میں سونا کم کر دیتا ہے اور رات کو زیادہ سوتا ہے ۔ اپ نے تب تک اس چیز کو برداشت کرنا ہے۔ اس کے لیے کوئی میڈیسن دوائیاں فنرگن سیرپ وغیرہ بچے ک نہیں دینے۔
4.ڈاکٹر صاحب بچے کی بھوک پوری نہیں ہو رہی۔
یہ اہم سوال ہے اور والدین اکثر اس تزب زب کا شکار ہوتے ہیں کہ کیا میرے بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے یا نہیں ہو رہی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب بھی بچہ رو رہا ہے تو اس کا مطلب بچہ بھوکا ہے جو ہرگز نہیں ہے۔ تو اہم چیز یہ ہے کہ اگر بچہ دودھ پینے کے بعد سکون سے سو جاتا ہے , اس کا وزن بڑھ رہا ہے ,بچہ ترتیب سے پاخانہ اور پیشاب کر رہا ہے تو بچے کی بھوک پوری ہو رہی ہے ۔اپ نے اس کے لیے ہرگز بچے کو ڈبے , گائے کا دودھ یا پانی نہیں پلانا۔
5.بچے کے دانت نہیں آرہے
اکثر والدین بہت پریشان ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بچے کے دانت جلدی ا جائیں ۔حتی کہ ہمارے ڈاکٹرز بھی ہم سے اپنے بچوں سے متعلق یہ پوچھ رہے ہوتے ہیں۔ دانت آنے کا جو نارمل دورانیہ ہے وہ چھ ماہ سے لے کے تقریبا ڈیڑھ سال تک ہے تو اس دوران بچے کے دانت اتے ہیں ۔ اگر بچہ ایک سال کا ہو گیا ہے اور باقی وہ مکمل طور پر ٹھیک ہے ,اس کی گروتھ صحیح جا رہی ہے اور صرف دانت نہیں ائے تو اس کے لیے اپ کو کیلشیم وٹامن ڈی یا ایسی چیزیں دینے کی ضرورت نہیں ہے بچے کے دانت ا جائیں گے بس تھوڑا صبر کریں
بچوں کی صحت سے متعلق معلومات کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں اور تمام والدین کے ساتھ شیر کریں۔
ڈاکٹر جعفر بشیر
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ اینڈ نیونٹالوجسٹ
حبیب ہاسپٹل پھالیہ روڈ منڈی بہاؤالدین
https://maps.app.goo.gl/DLpAJ3DkEsPgVcgJ6. 📍