USA Imported Cosmetic Products

USA Imported Cosmetic Products We are authentic and original importers of original US cosmetics.

16/02/2024
First Drawing Of My Son Muhammad Ali Khan
19/11/2023

First Drawing Of My Son Muhammad Ali Khan

03/11/2023

*ہمارے نصاب میں خطے کی تاریخ کا ایڈریس ہے، تصویریں ہیں مگر* *تحقیق نہیں ہے۔ تحقیق آتی ہے* *کریٹیکل تھنکنگ یعنی متشکک دماغ سے، وہ ہمارے نصاب کا ہی نہیں، نسب اور ریاست کا بھی دشمن مانا جاتا ہے۔ نتیجہ ایک نسل ہے جو بغیر ہاتھ پیر کان کے ڈنڈا بردار جتھے بنا کر اپنی عظمتِ رفتہ ڈھونڈنا چاہتی ہے*۔

*ہم عرب، ترک، افغان، ایرانی اور ہندوستانی تہذیب کی وہ کمیٹی ہیں جو نکل تو آئی ہے مگر کوئی جانتا نہیں کہ کس کی نکلی ہے۔ ہم ساری دنیا میں کاسۂ محبت لیے پھرتے ہیں*۔

*خود کو عرب کہیں تو عرب ہمیں عرب نہیں مانتے، ایرانی کہیں تو وہ ہمیں ایرانی (فارسی) نہیں مانتے، افغان کہیں تو تھانے میں ذلیل ہوں، تُرک کہیں تو وہ کہتے ہیں "عشق ممنوع" دیکھنے کو تُرک ہونا نہیں کہتے*

*ساری دنیا سے پیار نہ ملنے کے بعد جب اپنی تاریخ پہ نظر ڈالتے ہیں تو وہ تو شروع ہی 712ء سے ہوتی ہے جس میں حجاز میں ظلم و ستم کے بازار گرم کرنے والا مضبوط حجاج بن یوسف ایک خط پر پگھل جاتا ہے*۔

*اس سے پہلے کی تاریخ میں صرف ملبے کی تصویریں ہوتی ہیں مگر اس ملبے کی تہہ میں ٹوٹے نقش و نگار جن داستانوں کے گیت سناتے ہیں، وہ سننے کے لیے ایک کن رسیّا دماغ چاہییے جس پر ہم شاہ دولے کا کنٹوپ پہن لیتے ہیں*

*ہم کوٹ ڈیجی نہیں جانتے، مہر گڑھ نہیں جانتے، شہر تو چھوڑیں ہم اپنی مٹی سے پیدا ہونے والوں کے کارنامے تک نہیں جانتے۔*

’*صفر‘* *(سائفر نہیں) ایجاد کرنے والا سندھی برہما گپتا ہم نہیں جانتے، وشنو گپت عرف چانڑکیا/چانکیہ عرف کوتلیہ اپنے ٹیکسلا کا تھا، جس نے معیشت، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، توہمات، ادویات، *فوجی مہمات، سیاسی و غیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام پر "ارتھ شاستر" لکھی*۔

*اسی کے دور میں چاندی کے ڈھلائے سکوں یعنی رُوپا رُپیا کو بطور کرنسی استعمال کیا گیا، جو بعد میں روپیہ بنا اور آج تک پاکستان سے انڈونیشیا تک کرنسی کو روپیہ یا رپیّا کہا جاتا ہے۔*

*اسی کرنسی کا ایک اور سکّہ دیناراروپا بعد میں کشانوں کے ذریعے فارس کا دینار بنا جو عربوں کے ذریعے سپین پہنچا تو دیلار ہوا اور امریکہ میں ڈالر بن گیا، ہم نہیں جانتے۔*

*ہم نہیں جانتے کہ ہند پہ سے یونانیوں کا اثر و رسوخ ختم کرنیوالا اور تمام جن پدھ کو ایک حکومت کے ماتحت لانے والے چندر گپت موریہ نے اپنا بچپن پوٹھوہار اور مارگلہ کے پہاڑوں میں گزارا اور چانڑکیا/چانکیہ کی شاگردی میں عظیم بادشاہ بنا۔*

*اس کا پوتا اشوک پورے ہند کو اکھٹا کرنے اور ایک آئین کے تابع کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہ اور بات کہ اشوک کے بعد صرف اورنگزیب عالمگیر ہی ہند کو اس درجہ اکھٹا کر پایا*۔

*ہم نہیں جانتے کہ اس سرزمین کو رانا دتیا ستیا جیسا عظیم سندھی بادشاہ ملا، جس نے سندھ کو ساسانیوں سے نجات دلائی اور رائے شاہی قائم کی۔ رنجیت سنگھ جیسا پنجاب کا وہ بیٹا ملا جس نے میسور کے ٹیپو کی مثل، ایک عرصے تک سامراج کو ستلج سے اس پار روکے رکھا۔ کسی کی رگ وید یہاں لکھی گئی، کسی کی رانی ہولیکا یہاں جلی، کسی کا پرھلاد بھگت یہاں ہی کسی آگ میں سے زندہ نکل آیا، کسی کا بدھ یہاں آیا، کسی کے پانڈوّ اس علاقے کو اپنا گھر کہتے رہے۔*

*کسی کی ماں ستی یہاں ٹکڑوں میں مدفون ہے، کسی کے کارونجھر یہاں ہیں، کسی کا کٹاس راج یہاں ہے، کسی کا بابا گرو نانک یہاں کھیتی کرتا رہا، کسی کا دُلّا بھٹی مٹی پہ مر مٹا، کسی کا بھگت سنگھ پھندا جھول گیا، کسی کا کیا، کسی کا کون ۔۔۔ ہم نہیں جانتے*۔

*اور ہمیں یہ سب جاننا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ بیانیہ یہ گھڑا گیا ہے کہ سب ‘اُن’ کے ہیرو ہیں، ہمارے نہیں۔ فیصلہ ہوا کہ ہمارے سارے ہیرو امپورٹڈ ہوں گے۔ اب وہ جیسا بھی ہے، ’ٹیڑھا ہے، پَر میرا ہے‘ کے مصداق ہمارا ہیرو تصور کیا جائے گا۔ بیانیہ بنانے والوں کی عقل دانی میں یہ بات نہیں آئی کہ جو قوم ہزاروں سال سے اس مٹی میں رہ رہی ہے وہ یکایک اپنے آپ کو عرب، فارسی، ترکی، افغانی کیسے کہنا شروع کر دے۔*

*قوم اپنا ڈی این اے کیسے بدلے؟ جو ملہی ہزاروں سال سے ملھ استھان یعنی ملتان کو اپنے سر کا تاج بنائے بیٹھا ہے، وہ خود کو کسی دوسری قوم کا چاکر کیوں سمجھے؟*

*حال یہ ہے کہ اب افغان ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ یہ ابدالی، غزنوی، خلجی، ہمارے یہاں سے ہیں، آپ کچھ اپنا لاؤ۔ ایرانی کہتے ہیں کہ بھائی آپ میں اور ہم میں اقبال کے علاوہ کوئی قدرِ مشترک نہیں۔*

*تُرک کہتے ہیں کہ آپ پہلے تُرک النسل اور تُرک میں فرق کرنا سیکھیں، عرب کہتے ہیں کہ جن مسلمان سائنسدانوں پر آپ زیادہ اچھلتے کودتے ہیں وہ سارے عرب تھے آپ کوئی اپنا کام لائیں۔*

*ایجادات میں ہمارے پاس مُوڑے اور سیاسی تجربے ہی ہیں اور وہ پہلے ہی جان کو آئے ہوئے ہیں۔*

*ہونا تو یہ چاہییے تھا کہ یہ خطہ خود کو سائرس اعظم، اشوک اعظم، نوشیرواں عادل، موہریہ، کشانوں، رائے، پارتھی، افغانی، مغل، نادر شاہی اور خالصہ تہذیب کا وارث سمجھ کر دنیا کے ہر مذہب اور ہر فکر کے لئے بانہیں پھیلا کر کھڑا ہوتا۔*

*دُنیا کے ہر مذہب کی عبادت گاہیں یہاں محفوظ ہوتیں، دنیا کے کسی بھی ملک کا کوئی بھی شخص یہاں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کو آتا اور اپنا دل ان مقامات مقدسہ کی دید سے ٹھنڈا کرتا۔ اور ہم بحیثیت قوم ان لوگوں کو گلے لگاتے اور ان کے ساتھ کاروبار کرتے۔*

*مگر ہماری تاریخ جھوٹ اور جھوٹوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم انہیں زبردستی عزت دینے کے قائل ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ اگر انہیں عزت نہ دی تو قوم کے پاس ہیرو نہیں ہوں گے۔*

*نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔*
منقول

22/10/2023

مثلاً کہتے ہیں کہ,,
: ہمیں اللہ سے محبت ہے ،، یعنی " دین سے محبت " ہے۔
تو آپ " دین سے محبت کریں " گے۔

: تو یہ جو دین ہے'اسلام کا دین ہے'

: آپ کا " اسلام مکمل نہیں ہوتا " جب تک آپ کا کلمہ مکمل نہیں ہوتا۔ " اور کلمہ دو نام کا ہے۔ "

: یہ فرق کرنا بڑا مشکل ہے
: کہ اللہ کی محبت کہاں ہے
: اور حضور پاکﷺکی محبت کہاں ہے۔

اس لئے کہتے ہیں کہ ،،،
: تو ذکر ہی نہ کر اور چلتا جا'

: کبھی اللہ کے نام کی محبت آجائے گی'
: کبھی حضور پاکﷺکے نام کی محبت غالب آ جائے گی

______ اصل میں دونوں ایک ہی ہیں ۔ ______

: پھر لوگوں نے کہا کہ " میم کا پردہ اُٹھاؤ " کہ یہ پردہ کیا ہے۔

: مگر یہ پردہ ہے اور پردہ ہی رہنے دو'
: یہ پردہ ہی رہنے دو
: کہ ایک ہیں کہ دو ہیں'
: کہ اللہ ہے ،،،،، کہ ،،،،،،، حبیب ﷺہیں'
: یہ کلام کون بول رہا ہے'

: قرآن کس کا کلام ہے'محبت کس کی ہوتی ہے ۔۔۔۔
: بس چھوڑو۔ " ذکر کرنا منع ہے ۔ "

: اللہ وہی ہے جو اللہ ہے'

: حضورﷺوہی ہیں جو حضور پاکﷺہیں ۔

: اور محبت میں یہ تقسیم کرنا
: کہ یہاں تک اللہ کی محبت ہونی چاہئے
: اور یہاں تک حضور پاکﷺکی محبت ہونی چاہئے'
: یہ ناممکنات میں سے ہیں ۔

: انسانی زندگی میں یہ ممکن ہی نہیں ہے'

: آپ لوگ سمجھدار ہیں'
: یہ دیکھیں کہ جب کسی سے محبت ہوتی ہے تو اس کی "باقی چیزوں سے بھی محبت" ہو جاتی ہے۔

: یعنی اگر باپ سے محبت ہو تو پھر " بیٹے سے بھی ہو سکتی ہے۔ "

: آپ یہ بتائیں کہ
آپ کو امام عالی مقام علیہ السلام سے محبت کیوں ہے؟

: کیا شہید ہونے کی وجہ سے؟
: ان کا رسول پاکﷺسے تعلق ہے
: اور نسبت ہونے کی وجہ تعلق ہے۔

: تو یہ جو محبتیں ہیں " محبوبوں کی نسبتوں سے محبت ہے۔ "

: تو یہاں پر تمیز نہیں ہوتی اور کہتے ہیں کہ حضور پاکﷺسے ہم جو محبت کرتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، " وہی اِدھر بھی ہے۔ "

: ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہےجو وہاں نہیں تو یہیں سہی
_______ بات ایک ہی ہے ۔ ______

: تو اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے آپ لوگوں کو تقسیم کر کے " کنفیوز CONFUSE کر دیا ہے۔ "
یہ سب ایک ہی محبت ہے۔

اقبالؒ نے ایک جگہ کہا تھا کہ

"تیرے نقشِ پا کی تلاش تھی
جو جھکا رہا میں نماز میں"

سرکار امام حضرت واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ
گفتگو۲۱صفحہ۲۲۹

21/10/2023

مورے پریتم جیسا اور نہ کوئی
میں ڈھونڈ پھری نگری نگری

12/09/2023
03/11/2022

پولیس اور کسٹم کا نان کسٹم پیڈ کابلی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان،سب سے پہلے اپنے محکمے کے اہلکاروں کے خلاف کریک ڈاون کرے کیونکہ 90% تمام سرکاری لوگ کابلی گاڑی چلاتے ہیں لیکن پکڑا وہ جاتا جسکے پاس سورس نہ ہو۔

03/11/2022

کابلی گاڑیاں عام عوام اور افسرز !!
تین بندے گھر سے نکلتے ہیں۔ تینوں کے پاس کابلی گاڑیاں ہیں۔
ایک سرکاری ملازم ہے۔ دوسرا عام شہری ہے۔ تیسرا منسٹر یا آفیسر ہے یا اُن کے بیٹے یا رشتہ دار وغیرہ ہیں۔
سرکاری ملازم دفتر سے سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر روڈ پر ناکہ لگاتا ہے۔ گاڑیوں کے کاغذات چیک کرتا ہے۔ منسٹر یا افسر کی گاڑی آتی ہے۔ وہ کاغذات کا پوچھتے ہیں اگلے بجائے کاغذات دیکھانے اپنا عہدہ بتاتے ہیں۔ یا اگر منسٹر کے بیٹے یا رشتہ دار ہیں تو فون پے بات کروا لیتے ہیں۔
فون کے دوران سرکاری ملازم کال سُن کر بولتے ہیں، جی سر، ٹھیک ہے سر، کیوں نہیں سر، تابیدار سر، اوکے سر، بےفکر رہے سر، تھینک یو سر اللہ حافظ سر کہہ کر فون بند کردیتا ہے۔ اور گاڑی والے کو فون دے کر خدا حافظ کہہ کر انہیں جانے کا بول دیتا ہے۔
دوسری گاڑی آتی ہے اُس میں عام شہری ہوتا ہے سرکاری شخص اُن سے کاغذات طلب کرتا ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ سر کاغذات نہیں ہے۔ یہ گاڑی اُدھار پے خریدی ہے اس بار معاف کیجئے آئیندہ احتیاط کرونگا آج ایمرجنسی میں شہر کی طرف آنا ہوا وغیرہ وغیرہ
لیکن سرکاری اہلکار کچھ نہیں سُنتا آنکھیں نکال کر پوچھتا ہے کہ آپ کو نہیں پتہ کہ یہ غیر قانونی ہے۔ اور وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کو حکم دیتا ہے کہ گاڑی ضبط کرو
وہ فوراً گاڑی لے کر سائیڈ پر لگا دیتے ہیں۔ دوسرے شکار کیلئے روڈ میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ عام شہری بہت منت سماجت کے بعد مایوس ہوکر گھر چلا جاتا ہے۔
سرکاری افسر دفتر جاکر اپنی کابلی نکالتا ہے ہوٹل یا بازار جاتا ہے اور اُس کے بعد گھر چلا جاتا ہے۔
یہ ہے ہمارا گھٹیہ ترین نظام جس میں قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے۔ کاش یہ قانون سب کیلئے ہوتا۔
نعمت اللہ خوشحال

02/03/2021

Address

Mangla

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when USA Imported Cosmetic Products posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share