09/09/2026
میرپور(کورٹ رپورٹر)ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میرپور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد کی عہدے پر تعیناتی سے متعلق معاملے میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر اعجاز احمد کو بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بدستور فرائض انجام دینے کی اجازت دے دی ہے۔عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے متعلقہ حکام کو ضروری ڈائریکشنز جاری کیے گئے ہیں، جس کے بعد ڈاکٹر اعجاز احمد کی بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ذمہ داریاں برقرار رہیں گی۔ ذرائع کے مطابق سروس ٹربیونل کے فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں زیرِ سماعت آیا، جہاں عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران مذکورہ فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کیا۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میرپور کے انتظامی معاملات میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال بھی ختم ہوگئی ہے، جبکہ ڈاکٹر اعجاز احمد بدستور ایم ایس کی حیثیت سے ہسپتال کے انتظامی و طبی امور کی نگرانی جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد کو ہسپتال کے انتظامی امور میں ایک فعال اور بہترین ایڈمنسٹریٹر کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ ان کی سربراہی میں ہسپتال میں انتظامی و طبی نظام میں بہتری، نظم و ضبط کے فروغ اور مریضوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے متعدد اہم اصلاحاتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ان اقدامات کے باعث ہسپتال کے نظام میں بہتری اور کارکردگی میں اضافے کی توقعات بھی وابستہ کی جاتی رہی ہیں۔عدالتِ عظمیٰ کے آئندہ احکامات تک پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد بطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری حکم کو میرپور کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال کے انتظامی معاملات کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے