Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan

Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan الرقية الشرعية من القرآن وسنة
AL RUQIYAH AL SHARIAH CENTRE PAKISTAN +923008885182

شیطانی “کشف” کا جال اور جھوٹی کرامات کا دھوکہ کچھ جادو سےمتاثرہ افراد میں ایسی کیفیات ظاہر ہوتی ہیں جنہیں بعض لوگ “اللہ ...
30/05/2026

شیطانی “کشف” کا جال اور جھوٹی کرامات کا دھوکہ

کچھ جادو سےمتاثرہ افراد میں ایسی کیفیات ظاہر ہوتی ہیں جنہیں بعض لوگ “اللہ کی طرف سے عطیہ”، “روحانی کشف” یا “درجۂ ولایت” سمجھ لیتے ہیں،
حالانکہ حقیقت میں یہ شیطان کے جال ہوتے ہیں۔
خاص طور پر وہ جنّ جو جادو کے ساتھ مقرر ہوتے ہیں، یا یوگا اور ریکی جیسی مشقوں اور بدعتی صوفی اذکار کے نتیجے میں، انسان کے جسم میں اپنے وجود کو مضبوط کرنے اور سحر کو مختلف طریقوں سے پھیلانے کے لیے ایسے دھوکے پیدا کرتے ہیں
اول
بیداری کے کشف
(جھوٹا اندازہ اور فریب زدہ حدس)
شیطان بعض اوقات متاثرہ شخص کو ایسی عجیب صلاحیت دیتا ہے کہ وہ آنے والے واقعات کا اندازہ لگا لیتا ہے، یا لوگوں کی تاریخِ پیدائش، اعداد وغیرہ درست بتا دیتا ہے۔
حقیقت
یہ نہ کوئی “پردہ اٹھ جانا” ہے اور نہ ہی کوئی خاص ذکر یا وظیفہ جو اللہ اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے، بلکہ یہ شیطان کی طرف سے دیا گیا دھوکہ ہے تاکہ انسان اس کے وجود کو قبول کر لے اور علاج (رقیہ) سے دور ہو جائے، اسے “کرامت” سمجھ بیٹھے۔
دوم
خواب کے کشف (مصنوعی سچی رؤیا)
متاثرہ شخص خواب میں کچھ واقعات یا تفصیلات دیکھتا ہے، پھر بیدار ہو کر دیکھتا ہے کہ وہ ویسے ہی حقیقت میں پیش آ گئے۔
مقصد
یہ ہے کہ انسان اس “عارض” (جن/شیطان) سے مانوس ہو جائے، اس کی موجودگی کو قبول کرے، اور رقیہ شرعیہ سے ڈرنے لگے کہ کہیں یہ جھوٹی “روحانی کیفیت” ختم نہ ہو جائےحالانکہ حقیقت میں یہ اس کے شعور پر شیطانی قبضہ ہوتا ہے۔
سوم
حقیقتِ تدریج اور علاج کے وقت ردِ عمل
متعدد کیسز کی گواہیاں بتاتی ہیں کہ یہ شیطانی “تحفے”جلد اپنی حقیقت ظاہر کر دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ مریض ایسے خواب دیکھنے لگتا ہے جن میں طلسمات، اعداد، قرآن کی آیات کو الٹا پڑھنا، بلکہ خوابوں میں جادوئی نقش (اوفاق) سیکھنا شامل ہوتا ہے۔
یہاں آ کر یہ “کشف” کھلے کفر اور گمراہی میں بدل جاتا ہے۔
جن لوگوں نے ہماری نصیحت قبول کی اور شرعی علاج (رقیہ) شروع کیا، ان سب نے یہی بتایا کہ
وہی “مہربان” جنّ اچانک حملہ آور ہو گیا
ڈرانا، دھمکانا، اور تکلیف دینا شروع کر دی
خواب اور بیداری دونوں میں اذیت بڑھ گئی
یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سب کچھ کرامت نہیں بلکہ شیطانی دھوکہ تھا۔
📖 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
“اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔”
(سورۃ البقرہ: 208)
اللہ سے ڈرو، شیطان کے دھوکوں میں نہ آؤ، اور ان راستوں کو چھوڑ دو جن میں تم خود اپنے آپ کو مبتلا کر چکے ہو۔
حق واضح ہے اور باطل چاہے جتنا بھی سج جائے، آخرکار مٹنے والا ہے۔
ذیل میں وہ ممکنہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے مریض کو لگتا ہے کہ خواب سچ ہو رہے ہیں
1) مشاہدہ + اندازہ (Pattern Recognition)
انسانی دماغ روزمرہ کے مشاہدات سے اندازے لگاتا ہے۔ خواب میں وہی ڈیٹا ایک کہانی بن جاتا ہے۔ بعد میں جب کوئی حصہ ویسا ہو جائے تو مریض سمجھتا ہے کہ “خواب پورا ہو گیا”، جبکہ یہ اندازہ + اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔
2) جزوی مطابقت (Partial Match)
اکثر خواب مکمل نہیں بلکہ جزوی طور پر ملتے ہیں
لیکن ذہن صرف ملتے ہوئے حصے کو یاد رکھتا ہے، باقی کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس کو Confirmation Bias کہتے ہیں۔
3) بعد کی تعبیر (Retroactive Interpretation)
واقعہ ہونے کے بعد انسان اپنے خواب کو اس کے مطابق ڈھال کر یاد کرتا ہےیوں لگتا ہے جیسے خواب بالکل ویسا ہی تھا۔
شیطانی فریب کا پہلو (جب واقعی دھوکہ شامل ہو)
کچھ روحانی مریضوں میں یہ پہلو بھی دیکھا گیا ہے کہ شیطان وسوسوں اور خوف کے ذریعے ایک “اعتماد” بنا دیتا ہے۔ اس کو آپ یوں سمجھیں
مرحلہ 1
اعتماد سازی
ہلکی نوعیت کے ایسے خواب یا خیالات آنا جو عام حالات سے ملتے جلتے ہوں۔
مریض کو لگتا ہے “مجھے خاص بصیرت مل رہی ہے”
مرحلہ 2
وابستگی پیدا کرنا
خواب/خیالات کا تکرار، تاکہ مریض اس کیفیت سے مانوس ہو جائے۔
آہستہ آہستہ رُجحان بنتا ہے کہ وہ انہی اشاروں پر بھروسا کرے۔
مرحلہ 3
دھوکہ گہرا کرنا
کبھی کبھی کوئی چیز “مل” بھی جاتی ہے، جس سے یقین بڑھتا ہے۔
ساتھ ہی خوف، بے چینی، یا پراسراریت بڑھائی جاتی ہے۔
مرحلہ 4: گمراہی یا کنٹرول
پھر ایسے خواب/خیالات آتے ہیں جو غلط سمت میں لے جائیں (مثلاً لوگوں پر شک، عبادات سے دوری، یا غیر شرعی طریقوں کی طرف مائل کرنا)۔
مریض علاج (رقیہ) یا درست رہنمائی سے کترانے لگتا ہے۔
اہم نکتہ
شیطان مستقبل نہیں جانتا۔
اگر جانتے ہو تے تو
لَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
سورۃ سباء ایت نمبر 1اردو ترجمہ
پھر جب ہم نے سلیمان (علیہ السلام) پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو جنات کو ان کی موت کا پتہ نہ چلا، مگر زمین کے ایک کیڑے (دیمک) نے ان کی لاٹھی کو کھا لیا۔ پھر جب وہ (سلیمان علیہ السلام) گر پڑے تو جنات پر حقیقت واضح ہو گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت والے عذاب (مشقت والے کام) میں مبتلا نہ رہتے۔
“مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ”
یعنی: “وہ اس ذلت والے عذاب میں نہ ٹھہرتے (نہ رہتے)”
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ
جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا
وہ صرف ظاہری احکام کے تابع کام کرتے ہیں
اگر انہیں غیب معلوم ہوتا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد فوراً کام چھوڑ دیتے
تو وہ صرف اندازوں، وسوسوں اور محدود معلومات کو ملا کر فریب کا ماحول بناتا ہے۔
کیسے پہچانیں کہ یہ رحمانی ہے یا فریب؟
یہ چند اصول مدد دیتے ہیں
رحمانی خواب
سادہ، واضح، دل کو سکون دینے والے، شریعت کے خلاف نہیں۔
شیطانی/فریب آمیز
خوف، الجھن، بار بار پریشانی، یا ایسے اشارے جو شریعت کے خلاف لے جائیں۔
اگر خواب آپ کو رقیہ، نماز، قرآن سے دور کرے → یہ خطرے کی علامت ہے۔
اگر خواب کے بعد تکبر، خاص ہونے کا احساس بڑھے → یہ بھی فریب ہو سکتا ہے۔
مریض کے لیے عملی رہنمائی
خواب کو فیصلہ کن دلیل نہ بنائیں۔
پابندی سے
نماز
تلاوتِ قرآن (خصوصاً سورۃ البقرہ)
صبح و شام کے اذکار
ڈراؤنے یا الجھن والے خواب پر
بائیں طرف ہلکا تھوکنا
“اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم” پڑھنا
کسی کو بیان نہ کرنا
سوایے معالج کے
اگر یہ کیفیت بار بار ہو رہی ہو تو کسی مستند عالم/ماہرِ راقی سے بھی بات کریں
“سچے نکلنے والے خواب” ہمیشہ کرامت نہیں ہوتے۔ اکثر
یا تو ذہنی اندازہ اور اتفاق ہوتا ہے
یا جزوی مطابقت کو بڑھا چڑھا کر دیکھا جاتا ہے
یا بعض کیسز میں شیطانی وسوسہ ایک فریب کا نظام بنا دیتا ہے
حق کا معیار خواب نہیں، شریعت ہے۔
جو چیز قرآن و سنت کے مطابق ہے وہی درست ہے
باقی سب کو اسی میزان پر پرکھا جائے۔

جادوگر کا گھر  یہ وہ جگہ ہے جس گھر کے اندر ایک ایسا کافر شخص رہ رہا ہوتا ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اللہ کا کوئی ...
26/05/2026

جادوگر کا گھر
یہ وہ جگہ ہے جس گھر کے اندر ایک ایسا کافر شخص رہ رہا ہوتا ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی اللہ کا کوئی حق پہچانتا ہے۔ وہ مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو تکلیف دیتا ہے۔
جب تم اس کے پاس جاتے ہو تو اللہ کا غضب تم پر نازل ہوتا ہے۔ وہ خود بھی ملعون ہے اور اس کی جگہ بھی ملعون ہے، یہاں تک کہ اس سے تعلق اور رابطہ بھی اللہ کے غضب کا سبب بنتا ہے۔
وہ تم سے تمہارا نام، تمہاری والدہ کا نام، تاریخِ پیدائش، تمہارے جسم کی کوئی چیز، پسینے کی بو، کپڑوں کا ٹکڑا، یا اس شخص کے کپڑے مانگتا ہے جس کے بارے میں تم سوال کرتے ہو۔ کبھی تصویر، بال یا ناخن بھی طلب کرتا ہے۔
وہ تمہیں محبوب کو واپس لانے، گھر والوں کی رضامندی حاصل کرنے، گھریلو سکون پیدا کرنے، شوہر کو تابع بنانے، شادی کروانے، مطلقہ کو واپس لانے اور کنواری لڑکی کی شادی کروانے جیسے جھوٹے دعووں سے دھوکہ دیتا ہے۔ وہ تمہیں یقین دلاتا ہے کہ یہ اچھے کام ہیں اور جادو کے زمرے میں نہیں آتے، حالانکہ یہ سب دھوکہ اور شیطانی عمل ہیں۔
یہ زندیق اور کافر سمجھتا ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ رہے گا، اور اپنی انگلیوں کے اشاروں سے لوگوں اور ملکوں کے حالات بدل دے گا۔
شیطان نے اس پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، اس نے شیطان کی اطاعت اور عبادت کی، یہاں تک کہ وہ اپنے رب کو بھول گیا، اور شیطان نے اسے یہ دھوکہ دیا کہ وہ اپنے جادو کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ لوگ اس کے پاس جادو کروانے جاتے ہیں تاکہ گھروں کو برباد کریں اور لوگوں کی زندگیاں تباہ کریں۔
اے جادوگر کافر!
تو نے کتنے آباد گھروں کو ویران کیا۔
کتنی عورتوں کو خون بہنے، بیماریوں اور جھگڑوں کے ذریعے ان کے شوہروں سے جدا کیا۔
کتنی لڑکیوں کی منگنیاں تڑوائیں تاکہ کسی دوسری عورت کو خوش کیا جا سکے۔
کتنے مردوں کو بیماری اور تکلیف میں مبتلا کیا جو اپنے گھروں کا خرچ اٹھاتے تھے۔
کتنی دکانیں اور کاروبار تیرے سبب بند اور تباہ ہوئے۔
کتنے لوگ گھٹن، بے چینی اور چیخ و پکار تک پہنچ گئے۔
کتنے لوگ تیرے جادو کے سبب بیماری اور موت کا شکار ہوئے۔
کتنے لوگ سڑکوں، قبرستانوں اور ویران جگہوں میں راتیں گزارنے پر مجبور ہوئے۔
کتنے لوگوں نے غم، فکر اور تنگی سے تنگ آ کر اپنی جان لے لی۔
...اور کتنے... اور کتنے... اور کتنے...
اور اے غافل عورت!
اگر تو کسی جادوگر کے پاس جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ معاملہ آسانی سے گزر جائے گا، تو یاد رکھ! اللہ تعالیٰ تمہاری صحت، رزق، مال اور اولاد میں تم سے انتقام لے سکتا ہے۔ بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
آخر میں ہم یہی کہتے ہیں
حسبنا الله ونعم الوكيل
اور اللہ ہی کے سامنے سب جھگڑنے والے جمع ہوں گے۔

23/05/2026
تجارت اور کاروبار میں اچانک، مسلسل اور بظاہر “بے قابو” نقصانات  الباحث فی علوم الرقیہ الشرعیہانسان کو صرف مالی طور پر نہ...
19/05/2026

تجارت اور کاروبار میں اچانک، مسلسل اور بظاہر “بے قابو” نقصانات

الباحث فی علوم الرقیہ الشرعیہ
انسان کو صرف مالی طور پر نہیں توڑتے بلکہ ذہنی، جسمانی اور روحانی طور پر بھی کمزور کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک کامیاب کاروبار چند ہی مہینوں میں اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں نہ منصوبے کام کرتے ہیں،
نہ سرمایہ ٹھہرتا ہے، نہ گاہک برقرار رہتے ہیں، اور نہ ہی برکت باقی رہتی ہے۔
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر نقصان کو فوراً جادو یا حسد قرار نہ دیا جائے، کیونکہ کاروباری غلطیاں، مارکیٹ کی تبدیلیاں، ناقص منصوبہ بندی، سود، دھوکہ، حرام معاملات، اور بدانتظامی بھی تباہی کے اسباب بن سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی قرآن و سنت یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ حسد، نظرِ بد اور جادو حقیقت ہیں اور انسان کی زندگی، رزق اور تعلقات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
“اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔”
(سورۃ الفلق: 5)
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا
“نظرِ بد حق ہے۔”
Sahih al-Bukhari
بعض اوقات کاروبار میں ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہوتے ہیں جو صرف ظاہری اسباب سے مطابقت نہیں رکھتے۔ مثلاً
اچانک مسلسل ڈیلز کا منسوخ ہونا
طے ہوئی باتوں کا آخری لمحے میں خراب ہوجانا
گاہکوں کا بلاوجہ بدظن ہوجانا
سرمایہ آتے ہی غیر متوقع خرچوں میں ختم ہوجانا
کاروباری پارٹنرز کے درمیان شدید نفرت اور لڑائیاں
دکان یا دفتر میں مسلسل بے چینی، گھٹن یا نفسیاتی دباؤ
اہلِ خانہ کا بار بار بیمار رہنا
خوابوں میں گندگی، ویرانی، قبرستان، سانپ یا تعاقب دیکھنا
کاروبار میں ہر نئی کوشش کا عجیب انداز سے ناکام ہوجانا
یہ تمام علامات بذاتِ خود جادو کا قطعی ثبوت نہیں،
لیکن بعض راقیوں اور اہلِ تجربہ کے مطابق شدید حسد، نظرِ بد یا سحر کے مریضوں میں ایسی کیفیات دیکھی گئی ہیں۔
حسد کاروبار کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
حسد صرف ایک جذباتی بیماری نہیں بلکہ روحانی تباہی کا دروازہ بھی بن سکتا ہے۔ جب لوگ کسی کی ترقی، شہرت، گاہکوں کی کثرت یا مالی استحکام دیکھ کر دل میں جلنے لگتے ہیں، تو بعض اوقات ان کی نظر اور منفی کیفیت اثر ڈالتی ہے۔
خصوصاً
سوشل میڈیا پر ہر کامیابی کی نمائش
دولت، نئی گاڑی، بڑی ڈیلز یا منافع کا حد سے زیادہ اظہار
ہر ایک کے سامنے کاروباری راز بیان کرنا
ناشکری یا غرور
یہ چیزیں حسد کو بھڑکا سکتی ہیں۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا
“ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔”
(سورۃ یوسف: 67)
بعض مفسرین نے اس میں نظرِ بد سے بچاؤ کی حکمت بھی ذکر کی ہے۔
جادو کے زاویے سے کاروباری تباہی
اسلام میں جادو ایک حقیقت ہے اور قرآن میں اس کا ذکر موجود ہے۔ بعض لوگ حسد، انتقام یا مقابلے کی وجہ سے دوسروں کے رزق، شادی، صحت یا کاروبار کو متاثر کرنے کے لیے سحر کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ عمل سخت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
کاروبار کے متعلق سحر میں بعض اوقات
دکان یا دفتر پر اثر کرنا
مٹی، تعویذ یا نجاست دفن کرنا
کھانے یا مشروبات کے ذریعے اثر ڈالنے کی کوشش
نفرت اور اختلاف پیدا کرنا
ذہنی انتشار اور غلط فیصلے پیدا کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے جادوگروں کے متعلق فرمایا
“وہ لوگوں کے درمیان جدائی ڈالتے تھے…”
(سورۃ البقرۃ: 102)
یہ جدائی صرف میاں بیوی میں نہیں بلکہ کاروباری پارٹنرز، خاندان اور ٹیموں میں بھی ہوسکتی ہے۔
مگر ایک اہم حقیقت
ہر نقصان جادو نہیں ہوتا۔
کبھی
سودی لین دین
حرام کمائی
ملازمین پر ظلم
زکوٰۃ نہ دینا
جھوٹ اور دھوکہ
والدین کی بددعا
نمازوں میں غفلت
غیر حقیقی سرمایہ کاری
بھی کاروبار سے برکت اٹھا دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“اور اگر بستی والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول دیتے۔”
(سورۃ الاعراف: 96)
روحانی و شرعی حفاظتی تدابیر
1. صبح و شام کے اذکار
خصوصاً
سورۃ الفلق
سورۃ الناس
آیت الکرسی
آخری دو آیاتِ سورۃ البقرہ
2. کاروبار کی جگہ پر سورۃ البقرہ کی تلاوت
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جائے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
3. حلال رزق کی سخت پابندی
حرام مال روحانی تباہی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
4. صدقہ
صدقہ بلا اور مصیبت کو دور کرنے کے اسباب میں سے ہے۔
5. نعمتوں کو ہر ایک پر ظاہر نہ کرنا
ہر شخص آپ کی خوشی برداشت نہیں کر سکتا۔
6. کسی بھی غیر شرعی عامل، تعویذ نویس یا جادو توڑنے کے نام پر شرکیہ اعمال کرنے والوں سے بچنا
اسلام میں علاج صرف قرآن، دعا اور مشروع رقیہ کے ذریعے ہونا چاہیے۔
ایک متوازن رویہ ضروری ہے
مومن نہ ہر چیز کو صرف مادی اسباب سے دیکھتا ہے اور نہ ہر مشکل کو فوراً جادو قرار دیتا ہے۔ درست راستہ یہ ہے کہ
کاروباری تجزیہ بھی کیا جائے
قانونی و مالی اصلاح بھی ہو
اور ساتھ روحانی حفاظت بھی اختیار کی جائے
کیونکہ بعض اوقات مسئلہ صرف مارکیٹ کا ہوتا ہے، اور بعض اوقات انسان واقعی حسد، نظرِ بد یا روحانی حملوں کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔
اسی لیے اسلام ظاہری اسباب اور روحانی اسباب دونوں کو اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
بعض اوقات کاروبار، فیکٹری یا دکان پر ایسے غیر معمولی حالات ظاہر ہونے لگتے ہیں جو انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کہیں حسد، نظرِ بد یا جادو جیسے روحانی اسباب تو اثر انداز نہیں ہو رہے۔ تاہم شریعت کا اصول یہ ہے کہ محض شبہات کی بنیاد پر کسی پر الزام نہ لگایا جائے، نہ ہی ہر نقصان کو فوراً جادو قرار دیا جائے۔
البتہ بعض علامات ایسی ہوتی ہیں جنہیں اہلِ تجربہ “غیر معمولی روحانی خرابی” کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں اور ایسے حالات میں انسان کو روحانی و عملی دونوں پہلوؤں سے محتاط ہوجانا چاہیے۔
جادو کے ممکنہ ابتدائی مراحل
(ابتدائی اشارے)
ابتداء میں اکثر چیزیں بہت معمولی محسوس ہوتی ہیں، مگر آہستہ آہستہ ان کی شدت بڑھنے لگتی ہے
کاروبار میں اچانک بے برکتی محسوس ہونا
روزانہ گاہک آنے کے باوجود فروخت کم ہونا
ملازمین میں غیر معمولی سستی یا جھگڑے بڑھ جانا
دکان یا فیکٹری میں داخل ہوتے ہی گھٹن، بوجھ یا بے چینی محسوس ہونا
بار بار معمولی حادثات یا مشینوں کا خراب ہونا
بغیر وجہ اہم فائلیں، آرڈرز یا حسابات کا ضائع ہوجانا
مالک یا منیجر کا اچانک شدید ذہنی دباؤ، غصہ یا مایوسی میں مبتلا ہونا
کاروباری ساتھیوں کے درمیان بدگمانی پیدا ہونا
مسلسل عجیب خواب آنا، جیسے اندھیرا، گندگی، سانپ، قبرستان یا تعاقب
نماز، تلاوت یا اذکار سے طبیعت کا بھاری ہونا
بعض اوقات لوگ دکان یا فیکٹری کے آس پاس ایسی مشتبہ چیزیں بھی دیکھتے ہیں جیسے
بندھی ہوئی گرہیں
تعویذ نما کاغذات
عجیب پاؤڈر یا مٹی
خون یا نجاست جیسی چیزیں
جلے ہوئے کپڑے یا دھاگے
دروازے کے قریب انڈے، بال یا کیلیں
یہ چیزیں اگر واقعی موجود ہوں تو تحقیق کی جا سکتی ہے، مگر بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا درست نہیں۔
درمیانی مرحلہ
اثر کا بڑھنا
اگر صورتحال مسلسل بگڑتی جائے تو بعض اوقات یہ کیفیات سامنے آتی ہیں
اچھی ڈیلز آخری وقت میں ٹوٹ جانا
تیار مال کا خراب ہوجانا
اچانک قانونی یا مالی رکاوٹیں پیدا ہونا
بار بار چوری یا نقصان
مشینری کا غیر معمولی انداز میں بند پڑ جانا
ملازمین کا ایک ایک کرکے چھوڑ کر جانا
فیکٹری یا دکان میں مستقل منفی ماحول بن جانا
مالک کا کاروبار سے نفرت محسوس کرنا
غیر منطقی فیصلے اور شدید ذہنی انتشار
کچھ لوگ بیان کرتے ہیں کہ ایسے وقت میں کاروبار کی جگہ پر
عجیب بدبو
غیر معمولی آوازیں
رات کے وقت خوف
یا مسلسل بے سکونی
جیسی چیزیں محسوس ہوتی ہیں۔
انتہائی مرحلہ
شدید تباہی کی صورت
اگر انسان مکمل غفلت میں رہے اور روحانی و عملی اصلاح نہ کرے تو بعض اوقات حالات انتہائی بگاڑ کی طرف چلے جاتے ہیں
مکمل کاروباری تباہی
قرضوں میں ڈوب جانا
پارٹنرشپ کا ٹوٹ جانا
خاندان کے افراد میں شدید لڑائیاں
اچانک بیماریاں
شدید ڈپریشن یا خودکشی جیسے خیالات
کاروبار سے مکمل نفرت
ہر نئی کوشش کا ناکام ہوجانا
بعض اہلِ رقیہ کے مطابق شدید روحانی اثرات میں انسان کو ایسا محسوس ہوسکتا ہے جیسے کوئی “رکاوٹ” مسلسل اس کے رزق کے راستے میں کھڑی ہو۔
کن افعال پر فوراً چوکس ہونا چاہیے
اگر فیکٹری یا دکان پر بار بار درج ذیل چیزیں ملیں تو احتیاط ضروری ہے
نامعلوم تعویذ یا کاغذات
عجیب گرہیں یا بندھے دھاگے
نجاست یا خون آلود چیزیں
دروازے کے قریب دفن اشیاء
کسی کا بار بار مشکوک انداز میں آنا
دکان کے کونے میں عجیب اشیاء رکھ جانا
بار بار تیز بدبو یا جلی ہوئی چیزوں کا ملنا
ایسی صورت میں کسی ایسے دیندار، شرعی رقیہ جاننے والے شخص سے رہنمائی لیں جو شرکیہ یا غیر اسلامی اعمال نہ کرتا ہو۔
اسلام انسان کو خوف میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ توکل، احتیاط اور اللہ کی پناہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔

تمام احباب نوٹ فرمائیں انشاءاللہ کل بروز اتوار 17 مئی کا رقیہ دم سیشن کیا جائے گا تمام احباب شرکت فرمائیں
15/05/2026

تمام احباب نوٹ فرمائیں انشاءاللہ کل بروز اتوار 17 مئی کا رقیہ دم سیشن کیا جائے گا تمام احباب شرکت فرمائیں

ہمارے معاشرے میں حسد کس قدر سرایت کرچکا ہےمیں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے ...
14/05/2026

ہمارے معاشرے میں حسد کس قدر سرایت کرچکا ہے

میں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے سے لوگوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا‘ یہ میرے دوست کا دفتر تھا‘ وہ کسٹم انٹیلی جینس آفیسر تھا‘ میں ملنے کےلئے آیا تھا‘ اچانک اسے ایک ٹیلی فون آیا‘ اس نے مجھے پچھلے کمرے میں بٹھا دیا اور ملاقاتی کا انتظار کرنے لگا‘ میں بھی اشتیاق سے شیشے کے پار دیکھنے لگا‘ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان اندرداخل ہوا اور میرے دوست کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں دونوں کو دیکھ بھی سکتا تھا اور سن بھی‘

نوجوان نے کوٹ کی جیب سے تین تصویریں نکالیں اور کسٹم انٹیلی جینس آفیسر کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سفید رنگ کی جیپ کی تصویریں تھیں‘ نوجوان تصویر پر انگلی رکھ

کر بولا ”سر یہ سمگلڈ اورٹمپرڈ ہے اور ڈیفنس کے وائے بلاک میں کھڑی ہے‘ میں آپ کو ایڈریس دے دیتا ہوں آپ یہ پکڑ لیں“ میرے دوست نے غور سے تصویریں دیکھیں اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”ہم کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتے ہاں البتہ یہ گاڑی اگر سڑک پر ہو تو ہم اسے کسٹڈی میں لے سکتے ہیں“ نوجوان نے بھی تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا” میں گاڑی کے مالک کے ساتھ شام چار بجے جوس پینے کےلئے گھر سے نکلوں گا‘ میں آپ کو ایس ایم ایس بھی کر دوں گا اور جوس کارنر کا ایڈریس بھی بھجوا دوں گا‘ آپ وہاں چھاپہ مار کر گاڑی قبضے میں لے لیں لیکن بس ایک شرط ہے!“۔ وہ خاموش ہو گیا‘ میرا دوست خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولا ”گاڑی کا مالک میرا دوست ہے‘ آپ کسی قیمت پر کسی کو میرا نام نہیں بتائیں گے اور دوسرا جب آپ کی ٹیم چھاپہ مارے گی تو میں شور کروں گا‘ میں ٹیم کے ساتھ لڑوں گا بھی لیکن آپ نے اسے زیادہ سیریس نہیں لینا‘ آپ گاڑی لے کر نکل جائیے گا“ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور ڈن کر دیا‘ نوجوان تھوڑی دیر مزید بیٹھا‘ چائے پی اور چلا گیا‘ میں باہر آ گیا اور میں نے اپنے دوست سے اس ڈیل کے بارے میں پوچھا‘
میرے دوست نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”یہ لاہور کے ایک امیر زادے کا دوست ہے‘ امیر زادے نے نان کسٹم پیڈ سمگلڈ گاڑی خریدی ہے‘ گاڑی کی مالیت چار کروڑ روپے ہے اور یہ دوست اپنے عزیز ترین دوست کی مخبری کےلئے ہمارے پاس آیا ہے“ میں نے پوچھا ”اور اب کیا ہوگا؟“ میرے دوست نے جواب دیا ”یہ اپنے دوست کو جوس پلانے کےلئے باہر لائے گا اور ہم گاڑی اور گاڑی کے مالک کو پکڑ لیں گے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن اس مخبر کو کیا فائدہ ہو گا“ میرے دوست نے ہنس کر جواب دیا ”اس کے حسد کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘ یہ امیر زادے کا حاسد دوست ہے‘دوست کی گاڑی اس سے ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ یہ اسے اس سے محروم بھی دیکھنا چاہتا ہے اور پریشان بھی اور اس کا یہ جذبہ اسے ہمارے پاس لے آیا ہے“۔

یہ تمام باتیں میرے لئے حیران کن تھیں‘میں نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے زیادہ مخبر ایسے لوگ ہوتے ہیں“ میرے دوست نے جواب دیا ”ہمارے 98 فیصد مخبر یہ لوگ ہوتے ہیں‘ دوست عزیز ترین دوست کی مخبری کرتے ہیں‘ بھائی بھائی کے خلاف انفارمیشن دیتا ہے‘ بہو ساس کے بارے میں بتاتی ہے اور سالہ بہنوئی اور بہنوئی سالے کا مخبر بن جاتا ہے“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ”ہمارے پاس دوست اور ملازمین زیادہ آتے ہیں‘دوست پہلے دوست کو سمگلڈ گاڑی خرید کر دیتے ہیں اور پھر مخبری کر دیتے ہیں‘

یہ دوستوں کو ٹیکس چوری کا طریقہ بھی بتاتے ہیں اور دوست جب ٹیکس چوری کر لیتے ہیں تو یہ اس کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں‘ یہ مخبر لوگ یوں دوستوں کو دہرا نقصان پہنچاتے ہیں‘ پہلے گاڑی کی خریداری کے ذریعے دوست کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر وہ گاڑی پکڑوا کر اسے ذلیل کراتے ہیں‘ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کے ملازمین بھی آتے ہیں‘ یہ ہمیں اپنے مالکان کے خلاف ٹھوس ثبوت دیتے ہیں‘ یہ عموماً پرانے اور اعتباری ملازمین ہوتے ہیں‘

مالکان ان کو مخلص سمجھتے ہیں لیکن یہ اندر سے مالکان کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کے سینوں میں کینہ‘ حسد اور بغض بھرا ہوتا ہے چنانچہ یہ ہمیں مالکان کے خلاف وہ ثبوت بھی دے دیتے ہیں جو مالکان کے پاس بھی نہیں ہوتے“ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”یہ ملازمین کس کیٹگری کے ہوتے ہیں“ وہ بولا” یہ لوگ دو کیٹگری کے ہوتے ہیں‘ پہلی کیٹگری سیلف میڈ لوگوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے‘ یہ لوگ ملازمین کے سامنے ترقی کرتے ہیں‘

ملازمین بیس تیس ہزار روپے کے ملازم رہ جاتے ہیں جبکہ مالک کروڑوں روپے میں پہنچ جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مالکان کے حاسد بن جاتے ہیں اور دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن پر مالکان دوسرے ملازمین کو فوقیت دے دیتے ہیں‘ مثلاً مالکان نے نئے ملازمین کو پروموٹ کر دیا اور یہ نئے ملازمین کو پرانوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دینے لگے تو پرانے ملازمین اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں اور یہ مالکان کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں“

میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے اپنی نوکری کے دوران مخبری کا سب سے افسوس ناک واقعہ کیا دیکھا“ وہ رکا‘ مسکرایا اور بولا ”بے شمار واقعات ہیں لیکن مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا‘ کراچی میں ایک بزرگ خاتون نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خلاف مخبری کر دی‘ والدہ سے اپنی بہو کی آسائش ہضم نہیں ہوتی تھی چنانچہ اس نے بیٹے کی مخبری کی‘ ہم نے گودام پر چھاپہ مارا اور بیٹا تین دن میں سڑک پر آ گیا“ وہ رکا اور پھر بولا ”میرے پاس جگری دوستوں کے حسد کی بے شمار مثالیں بھی ہیں‘

میں کراچی کی ایک فیملی کو جانتا ہوں‘ ان کا بیٹا اکلوتا تھا‘ بیٹے نے سمگلڈ سپورٹس کار خرید لی‘ جگری دوست نے مخبری کر دی‘ ہم نے کار قبضے میں لے لی‘ بیٹے کو کار بہت عزیز تھی چنانچہ والد نے وہ گاڑی آکشن میں خریدی‘ زیادہ ٹیکس اور زیادہ ڈیوٹی دی اور گاڑی بیٹے کو گفٹ کر دی‘ بیٹا دوبارہ گاڑی چلانے لگا‘ جگری دوست کو دوست کی یہ خوشی بھی نہ بھائی‘ اس نے گاڑی ادھار لی اور بریک آئل کے چیمبر میں چھوٹا سا سوراخ کرا دیا‘ گاڑی کا مالک گاڑی چلاتا رہا‘

گاڑی اسے بریک آئل کے بارے میں وارننگ دیتی رہی لیکن دوست اسے حوصلہ دیتا تھا‘ تم فکر نہ کرو‘ بریک آئل پورا ہے‘ گاڑی کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا ہے‘ لڑکا اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرتا تھا چنانچہ وہ گاڑی چلاتا رہا‘ وہ ایک دن گاڑی لے کر نکلا‘ ہائی وے پر آیا‘ گاڑی کے بریک فیل ہوئے اور گاڑی آئل ٹینکر سے ٹکراگئی‘ لڑکا ایٹ دی سپاٹ مر گیا‘ باپ نے تحقیقات کرائیں تو کہانی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا‘ جانے والا جا چکا تھا“۔میں افسوس سے سنتا رہا‘

میرے دوست نے بتایا ”آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف مخبری بھی ان کے قریبی دوستوں نے کی تھی‘ یہ دوست آج بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی آستینوں میں چھپے ان سانپوں کے وجود تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ انہیں اپنا مخلص دوست‘ اپنا وفادار ساتھی سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ میرا دوست آخر میں بولا ”تم اگر دوستی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو تو چار بجے میرے ساتھ چلو‘ ہم تمہارے سامنے وہ گاڑی پکڑیں گے اور پھرتم اپنی آنکھوں سے دیکھنا حاسد دوست دوستوں کو کس طرح ذلیل کرتے ہیں“ میں نے ہامی بھر لی۔

میں چار بجے تک اس کے پاس بیٹھا رہا‘ چھاپہ مارنے کےلئے سکواڈ تیار ہوا‘ پونے چار بجے مخبر نے اطلاع دی میں ٹارگٹ کے گھر پہنچ گیا ہوں‘ پانچ منٹ بعد پیغام آیا ہم سمگلڈ گاڑی میں جوس پینے کےلئے نکل رہے ہیں‘ ہم گلبرگ میں فوارہ چوک کے قریب فلاں جوس کارنر پر جا رہے ہیں‘ آپ چار بج کر پانچ منٹ تک پہنچ جائیں‘ میرے دوست نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم گلبرگ پہنچ گئے‘ نان کسٹم پیڈ ٹمپرڈ گاڑی سامنے کھڑی تھی‘ دونوں دوست گاڑی میں بیٹھ کر جوس پی رہے تھے‘

کسٹم کے اہلکار گاڑی کے پاس پہنچے‘ گاڑی کا شیشہ بجایا اور مالک سے گاڑی کے کاغذات مانگ لئے‘ مالک نے پورے اعتماد کے ساتھ کاغذات نکال کر کسٹم کے حوالے کر دیئے‘ اہلکاروں نے کاغذات دیکھے‘ بونٹ کھلوایا اور گاڑی کا انجن اور چیسز نمبر چیک کرنے لگے‘ گاڑی ظاہر ہے ٹمپرڈ تھی ‘ کسٹم حکام نے گاڑی قبضے میں لے لی‘ مالک کا دوست گاڑی سے اترا اور پلان کے مطابق کسٹم حکام کے گلے پڑ گیا‘ سڑک پر ٹھیک ٹھاک تماشہ لگ گیا‘ گاڑی کا مالک دوست کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ بار بار اہلکاروں کے گلے پڑتا تھا‘ میں اور میرا دوست گاڑی میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے رہے‘

مخبر نے ایک آدھ بار لڑتے لڑتے میرے دوست کو آنکھ بھی ماری‘ یہ کھیل چند منٹ چلتا رہا یہاں تک کہ کسٹم حکام نے گاڑی کا چارج لے لیا‘ میں نے دیکھا مخبر نے چیخ بھی ماری اور جوس کارنر کے تھڑے پر لیٹ کر بے ہوشی کا ناٹک بھی کیا‘ گاڑی کا مالک اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا‘ ہم واپس چل پڑے‘ میں راستہ بھر اداس رہا‘ میرا خیال تھا دوست کو کم از کم دوستوں کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ میرا دوست مزے سے گنگنا رہا تھا ‘ ہم دفتر واپس پہنچ گئے‘

میں نے اجازت مانگی‘ میرا دوست باہر آیا‘ مجھے گلے لگایا اور آہستہ سے میرے کان میں کہا ”ہمارے آدھے سے زائد دوست بروٹس ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب تک جولیس سیزر کو قبر تک نہ پہنچا لیں اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے‘ ہم لوگ دشمنوں کے تیروں سے نہیں مرتے‘ دوستوں کے ہاتھوں سے مرتے ہیں اور اگر ہمیں ہمارا دشمن بھی مارے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے چنانچہ ہمیں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے بچ کر رہنا چاہیے‘ انسان اگر دوستوں سے بچ جائے تو دشمن اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے اور یہ انسان کی تاریخ بھی ہے اور جغرافیہ بھی“۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے
تم حسد سے بچتے رہو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

حسد بری عادت ہے۔ اسی حسد کی وجہ سے قابیل نے اپنے سگے بھائی ہابیل کو قتل کر ڈالا۔ اسی حسد کی وجہ سے آپس میں جنگ و جدال کی نوبت آجاتی ہے۔ پہلے زمانے کے لوگ اسی حسد ہی کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پہلے زمانے کی بیماریاں تمہارے اندر گھس آئی ہیں اور وہ حسد اور بغض و عناد ہے اور یہی بغض و عناد تمہارے دین کو خراب کر دیتا ہے۔

اپنے غم کے آگے جھک مت جاؤ؛ کیونکہ دنیا ٹوٹے ہوئے لوگوں کے لیے راستہ نہیں کھولتی۔بلکہ اٹھ کھڑے ہو، کیونکہ زندگی استقامت ص...
11/05/2026

اپنے غم کے آگے جھک مت جاؤ؛ کیونکہ دنیا ٹوٹے ہوئے لوگوں کے لیے راستہ نہیں کھولتی۔
بلکہ اٹھ کھڑے ہو، کیونکہ زندگی استقامت صرف اُسی کو سکھاتی ہے جو اس کی ضربوں کے سامنے ڈٹا رہے۔
پس مضبوط مؤمن کو کوئی ٹھوکر روک نہیں سکتی۔

گھر کی بندش (سحر تعطیل المنزل) ایک ایسا جادو ہے جو گھر کی برکتوں کو ختم کرنے، اہلِ خانہ کے درمیان اختلافات اور بے چینی پ...
05/05/2026

گھر کی بندش (سحر تعطیل المنزل) ایک ایسا جادو ہے جو گھر کی برکتوں کو ختم کرنے، اہلِ خانہ کے درمیان اختلافات اور بے چینی پیدا کرنے، یا گھر کو تباہ و برباد کرنے کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔ یہ جادو گھر کے ماحول کو خراب کرتا ہے، محبت، امن، اور سکون کو ختم کرتا ہے، اور بعض اوقات مالی مسائل اور حادثات کا سبب بنتا ہے۔

گھر کی بندش کی علامات
1. گھر کا ماحول بوجھل ہونا
گھر میں داخل ہوتے ہی بوجھل اور دباؤ محسوس کرنا، جیسے کہ کوئی بوجھ یا نحوست کا سایہ ہو۔
گھر کے مختلف حصوں میں مستقل بے چینی، تناؤ، یا گھبراہٹ کا احساس ہونا۔
2. اہلِ خانہ کے درمیان جھگڑے
معمولی باتوں پر گھر کے افراد میں جھگڑے اور اختلافات بڑھنا۔
پیار محبت کی جگہ نفرت اور دوریاں پیدا ہونا۔
گھر کے افراد کا ایک دوسرے سے دور رہنے کی خواہش کرنا یا غیر ضروری باتوں پر غصہ آنا۔
3. مالی مشکلات
گھر میں اچانک مالی مسائل پیدا ہونا، کاروبار یا نوکری میں نقصان ہونا، یا کمائی کا رک جانا۔
خرچے غیر معمولی حد تک بڑھنا اور پیسے کا بے برکت ہونا۔
4. گھر کی چیزوں کا خراب ہونا
گھر کی اشیاء مثلاً بجلی کے آلات، فرنیچر یا دیگر چیزوں کا بار بار خراب ہونا۔
گھر کے مختلف حصوں میں بغیر کسی وجہ کے ٹوٹ پھوٹ یا نقصان ہونا۔
5. پراسرار واقعات کا ہونا
رات کو غیر معمولی آوازیں سنائی دینا، سائے یا عجیب و غریب شکلیں دکھائی دینا۔
کسی بھی چیز کا اچانک غائب ہو جانا یا چیزوں کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔
6. خواب میں خوفناک مناظر
اہلِ خانہ کا خواب میں سانپ، بلی، یا دوسرے خوفناک جانور دیکھنا۔
قبرستان، مردے، یا سیاہ سایوں کے مناظر خواب میں دیکھنا۔
7. مسلسل بیماریاں اور تھکاوٹ
گھر کے افراد کا مستقل بیمار رہنا یا بے وجہ تھکاوٹ محسوس کرنا۔
علاج کے باوجود بیماریوں کا ختم نہ ہونا۔
گھر کی بندش کا مؤثر علاج
رقیہ الشرعیہ پروگرام
1. سورہ البقرہ کی تلاوت
سورہ البقرہ کی تلاوت کو روزانہ سنیں یا تلاوت کریں، کیونکہ یہ جادو اور شیطانی اثرات کے خاتمے کے لیے انتہائی مؤثر ہے۔
گھر میں 3 دن تک مسلسل سورہ البقرہ کی تلاوت کریں تاکہ گھر میں موجود ہر قسم کے منفی اثرات ختم ہو جائیں۔
2. آیت الکرسی اور معوذتین کا ورد
روزانہ آیت الکرسی صبح و شام 3 بار پڑھ کر اپنے گھر اور اہلِ خانہ پر دم کریں۔
سورہ الفلق اور سورہ الناس کا ورد دن میں 3 بار کریں اور گھر کے مختلف حصوں میں دم کریں۔
3. پانی پر دم اور چھڑکاؤ
سورہ الفاتحہ، آیت الکرسی، سورہ الفلق، اور سورہ الناس کو 7 بار پڑھ کر پانی پر دم کریں
اس دم کیے ہوئے پانی کو گھر کے ہر کونے میں چھڑکیں، خاص طور پر دروازوں، کھڑکیوں، اور گزرگاہوں پر۔
4. توبہ اور استغفار
اہلِ خانہ کو توبہ اور استغفار کی ترغیب دیں، تاکہ گناہوں کے سبب آنے والی مشکلات سے نجات ملے۔
روزانہ "أستغفر الله العظيم" 100 بار پڑھنے کی عادت اپنائیں۔
5. صدقہ اور خیرات
صدقہ کرنے سے گھر کی بندش اور شیطانی اثرات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ دیں تاکہ بندش اور مشکلات ختم ہوں۔
6. گھر کی صفائی اور پاکیزگی
گھر کو ہمیشہ صاف اور پاکیزہ رکھیں، خاص طور پر ایسی جگہیں جہاں گندگی جمع ہوتی ہو (مثلاً واش رومز)۔
خوشبو جیسے لوبان الذکر یا مسک جلائیں تاکہ گھر کا ماحول پاکیزہ اور برکت والا ہو۔
7. اذکار اور دعائیں
اہلِ خانہ کو صبح و شام کے اذکار کرنے کی عادت ڈالیں، خاص طور پر "بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم" 3 بار پڑھیں۔
گھر میں داخل ہوتے وقت "بسم الله الرحمن الرحيم" اور "السلام علیکم" کہنا سنت ہے اور برکت لاتا ہے۔
8. گھر سے غیر ضروری اشیاء ہٹانا
گھر میں اگر کوئی جادو یا نحوست کی چیز موجود ہو (مثلاً عجیب و غریب تصاویر، بت، یا جادو کی نشانی)، تو اسے فوری طور پر ہٹا دیں۔
9. دم کیے ہوئے پانی سے غسل
دو ہفتوں میں کم از کم 7 بار دم کیا ہوا پانی استعمال کریں اور گھر کے افراد اس سے غسل کریں تاکہ بندش اور جادو کے اثرات ختم ہوں۔

مستقل مزاجی اور دعا
گھر کی بندش کا علاج مستقل مزاجی اور ایمان کے ساتھ کرنا ضروری ہے۔ روزانہ رقیہ الشرعیہ پر عمل کریں اور اللہ سے کامل یقین اور دعا کے ساتھ مدد طلب کریں۔
نماز کی پابندی کریں، خاص طور پر نماز تہجد میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ گھر کو ہر قسم کی بندش اور جادو سے محفوظ رکھے۔
خلاصہ: گھر کی بندش کا علاج رقیہ الشرعیہ کے ذریعے مؤثر طریقے سے کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اخلاص، یقین، اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بندش اور جادو کو دور فرمائے اور گھر میں سکون، محبت، اور برکت عطا فرمائے۔

انشاءاللہ 3مئی بروز اتوار صبح 10 بجے رقیہ دم سیشن ہو گا تمام احباب لازمی شامل ہو
01/05/2026

انشاءاللہ 3مئی بروز اتوار صبح 10 بجے رقیہ دم سیشن ہو گا تمام احباب لازمی شامل ہو

بطورِ راقی الشرعی جب میں لوگوں کے حالات دیکھتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے… سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہوتا ہے جب ایک آزما...
27/04/2026

بطورِ راقی الشرعی جب میں لوگوں کے حالات دیکھتا ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے…
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہوتا ہے جب ایک آزمائش بندے کو اس کے رب سے دور کرنے لگتی ہے…
جب وہ زبانِ شکوہ کھول دیتا ہے کہ “میرے رب نے مجھے چھوڑ دیا… میری دعائیں قبول نہیں ہو رہیں”…
تو یقین جانیں! یہ درد صرف اس انسان کا نہیں رہتا، بلکہ ہر اس دل کو زخمی کر دیتا ہے جو اللہ کی رحمت کو پہچانتا ہے۔
میں ایسے لمحوں میں بے بس ہو جاتا ہوں… دل چاہتا ہے کہ کسی طرح اس کے سینے میں یقین کی وہ روشنی اتار دوں جو اندھیروں کو چیر دے…
اسے بتا دوں کہ جس رب کے بارے میں تم بدگمان ہو رہے ہو، وہ تو العدل ہے…
وہ ظلم نہیں کرتا… بلکہ ظلم کو پسند بھی نہیں فرماتا…
وہ السمیع ہے… تمہارے دل کی خاموش سسکیاں بھی سنتا ہے… تمہاری ہر وہ دعا بھی سنتا ہے جو زبان تک نہیں آتی۔
اے آزمائشوں میں گھرے ہوئے انسان!
اے وہ جس کے حالات اس کی دعاؤں کے برعکس ہو چکے ہیں!
اے وہ جو مانگتے مانگتے تھک چکا ہے… اور اب دعا سے بھی عاجز آ چکا ہے!
اے وہ جسے لوگوں نے تنہا چھوڑ دیا… اور وہ بیک وقت اپنے اور اپنے پیاروں کے غم اٹھا رہا ہے…
سن لو! تمہارا رب تمہیں نہیں بھولا… تم اس کی حکمت کو نہیں جانتے، مگر وہ تم پر تمہاری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔
راقی ہونے کے ناطے میں نے بارہا دیکھا ہے کہ بعض آزمائشیں دراصل ہلاکت نہیں ہوتیں… بلکہ نجات کا دروازہ ہوتی ہیں… بعض تکلیفیں سزا نہیں ہوتیں، بلکہ روح کی صفائی کا ذریعہ ہوتی ہیں… اور بعض تاخیر شدہ دعائیں رد نہیں ہوتیں، بلکہ بہترین وقت کے لیے محفوظ کی جاتی ہیں۔
اگر تم واقعی اللہ والے ہو…
تو تمہاری خوشی اور غم کا معیار دنیا داروں جیسا نہیں ہونا چاہیے…
وہ دنیا دار جنہیں مال اور اولاد کی آزمائش توڑ دیتی ہے…
تمہارا اصل غم یہ ہونا چاہیے
"کہیں میرا رب مجھ سے ناراض تو نہیں؟"
اور تمہاری اصل خوشی یہ ہونی چاہیے
"کیا میرا یہ عمل میرے رب کو راضی کر رہا ہے؟"
یاد رکھو! یہ دنیا فانی ہے… اس کی ہر تکلیف بھی فانی ہے… ہر آنسو کا اختتام ہے… ہر رات کے بعد صبح ہے…
مگر وہ رب جس سے تم ناطہ توڑنے لگے ہو… وہ تمہیں ایسی جنت دینے والا ہے جہاں "حب بلا فراق" ہوگا… جہاں کوئی جدائی نہیں… کوئی غم نہیں… صرف راحت ہی راحت ہے۔
اگر تمہارا مقصد وہ جنت ہے… تو دنیا کی کمی تمہیں نہیں رلائے گی…
ہاں! انسان کمزور ہے… بار بار ٹوٹتا ہے… اس لیے اسے بار بار خود کو یاد دلانا پڑتا ہے:
"کیا یہ دنیا بہتر ہے… یا وہ جنت جس کا وعدہ متقین سے کیا گیا ہے؟"
پس اپنے آپ کو اپنے رب کے در پر جھکا دو… اپنے آنسو اس کے سامنے بہاؤ… اپنے آپ کو اس کے سامنے عاجز بنا دو…
تاکہ قیامت کے دن وہ تمہیں عزتوں سے نوازے۔
اور سنو! جب آزمائشیں آئیں گی تو وہ تمہارے دل پر حملہ کریں گی… تمہیں توڑنے کی کوشش کریں گی… تم بکھرنے لگو گے…

لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں راقی کا تجربہ گواہی دیتا ہے

مسلسل دعا… اور مسلسل کوشش… انسان کو وہاں سے اٹھا دیتی ہے جہاں سے وہ خود کو ختم سمجھنے لگتا ہے۔
صالحین کا راستہ آسان نہیں ہوتا… وہ جہدِ مسلسل کا راستہ ہے…
نفس کبھی صبر پر راضی نہیں ہوتا… اسے صبر کا عادی بنایا جاتا ہے… بار بار… تکلیف کے ساتھ… آنسوؤں کے ساتھ…
اور جب تم خود کو بے بس پاؤ… جب تمہیں لگے کہ تمہارے پاس کوئی نہیں…
تو یاد رکھو!
تمہارے پاس دعا ہے… اور دعا سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں… کوئی سہارا نہیں… کوئی شفا نہیں…
پس اپنے غموں کا شکوہ لوگوں سے نہیں… اپنے رب سے کرو…
اس رب سے… جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی…
جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیتا ہے…
اور جو اپنے بندے کو اس وقت بھی سن رہا ہوتا ہے… جب وہ سمجھتا ہے کہ اب کوئی سننے والا نہیں…

Address

STREET NI 1 HOME NO 2 HADOKY MURIDKE
Muridke
39000

Telephone

+923008885182

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan:

Share