Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan

Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan الرقية الشرعية من القرآن وسنة
AL RUQIYAH AL SHARIAH CENTRE PAKISTAN +923008885182

تعلیم پر بندشتعلیم پر بندش سے مراد ایسی رکاوٹ ہے جس کے نتیجے میں طالبِ علم کو پڑھائی، یادداشت، توجہ اور تعلیمی کامیابی ک...
22/08/2026

تعلیم پر بندش
تعلیم پر بندش سے مراد ایسی رکاوٹ ہے جس کے نتیجے میں طالبِ علم کو پڑھائی، یادداشت، توجہ اور تعلیمی کامیابی کے راستے میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہو۔ اس حوالے سے درج ذیل وجوہات، مراحل اور علامات موجود ہوتی ہیں
وجوہات
- کسی شخص کو کامیاب ہونے یا علم حاصل کرنے سے روکنا۔
- حسد یا دشمنی کی وجہ سے کسی کے تعلیمی راستے میں رکاوٹ ڈالنا۔
مراحل اور نمایاں کیفیات
تعلیم پر بندش کی صورت میں درج ذیل کیفیات سامنے آنے کا ذکر کیا جاتا ہے
- امتحان کے قریب آتے ہی بے سکونی اور یادداشت میں خرابی محسوس ہونا۔
- مسلسل پڑھائی میں مشکلات پیش آنا، باوجود اس کے کہ طالبِ علم پوری کوشش کر رہا ہو۔
- پڑھائی کے دوران غیر معمولی نیند یا غیر ضروری خیالات کا غالب آ جانا۔
- پڑھنے کی خواہش اور ارادہ موجود ہونے کے باوجود توجہ کا برقرار نہ رہنا۔
جسمانی و ذہنی علامات
- مسلسل ذہنی دباؤ۔
- سر درد اور بے چینی۔
- پڑھائی یا امتحان کے وقت جسمانی کمزوری محسوس ہونا۔
- پڑھائی کے دوران غیر معمولی نیند کا غلبہ۔
- خواب میں کتابیں، کاغذات یا تعلیمی مواد بکھرا ہوا دیکھنا۔
رقیہ شرعیہ کے ذریعے معاون علاج
تعلیم کے معاملے میں رقیہ شرعیہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد اور آسانی کی دعا کی جائے۔ درج ذیل معمول اختیار کیا جا سکتا ہے
1. سورۃ العلق
سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کی جائے، خصوصاً علم کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ تعلیم کے مفہوم پر غور کیا جائے۔
2. سورۃ الشرح
سورۃ الشرح روزانہ پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے سینہ کھولنے، ذہنی سکون، آسانی اور تعلیمی مشکلات دور ہونے کی دعا کریں۔
3. پڑھائی سے پہلے رقیہ
پڑھائی شروع کرنے سے پہلے
۔ ایات العلم والحکمہ
یہ ایات اپ کو ہماری ویب سائٹ سے مل جائیں گی لنک کمنٹس میں موجود ہے
پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا جا سکتا ہے۔
4. دم کیا ہوا پانی
سورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر پانی پر دم کریں اور حسبِ استطاعت اس پانی کو پیا جا سکتا ہے۔ اور پڑھائی کے لیے بیٹھنے سے پہلے چہرے اور سر پر پانی ڈالا جائے
عمومی شرعی معمول
تعلیمی مشکلات کے ساتھ نماز کی پابندی، صبح و شام کے مسنون اذکار، آیت الکرسی، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کو معمول بنایا جائے۔ اللہ تعالیٰ سے کثرت سے دعا کی جائے اور حسبِ استطاعت صدقہ کیا جائے۔
اصل شفا اور مدد اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ رقیہ شرعیہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی محنت، مناسب نیند، ذہنی یکسوئی اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ تعلیم یا ڈاکٹر سے مشورہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔


 بہت سے مریض وسوسے، خوف، موت کے احساس، بعض اوقات خود اعتمادی کی کمی اور ذہنی انتشار کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ سب شیطان کی طر...
15/08/2026


بہت سے مریض وسوسے، خوف، موت کے احساس، بعض اوقات خود اعتمادی کی کمی اور ذہنی انتشار کی شکایت کرتے ہیں۔ یہ سب شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطانوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا
"مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ" (الناس: 4-6)
اور فرمایا
"وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (الأعراف: 200)

#علاج

اگر کبھی آپ کو وسوسہ، گھبراہٹ، خوف یا وسوسہ قہری محسوس ہو تو:

اوّل
اپنا ہاتھ سینے پر رکھیں اور یہ پڑھیں
"أعوذ بالله وقدرته من شر ما أجد وأحاذر"
اسے بار بار دہرائیں یہاں تک کہ سکون محسوس ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
"وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهَبِ" (القصص 32)
جناح سے مراد ہاتھ ہے، اور اس میں خوف و فزع کو کم کرنے کا ذکر آیا ہے جیسا کہ بعض تفاسیر میں بیان ہوا۔
دوم
سورۃ الإخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کریں۔

سوم
کثرت سے یہ پڑھیں
"أعوذ بالله من الشيطان الرجيم"
اور
"لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم"

چہارم
سورۃ ق کو مشک (Musk) پر پڑھیں اور اس مشک سے روزانہ سونے سے پہلے پیشانی کے سامنے والے حصے پر مسح کریں۔ یقیناً اللہ ہی شافی ہے۔
پنجم
سورۃ الصافات کو شہد پر پڑھیں اور اس شہد کو صبح نہار منہ نوش کریں۔
خیر اندیش

ایک سوال جو روحانی مریضوں کے دل و دماغ کے دروازے کھٹکھٹاتا ہےکیا نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا روحانی اثرات سے کوئی تعلق ...
09/08/2026

ایک سوال جو روحانی مریضوں کے دل و دماغ کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے

کیا نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا روحانی اثرات سے کوئی تعلق ہے؟

کبھی کبھی افسردگی (ڈپریشن) دراصل افسردگی نہیں ہوتی…
وسوسہ وسوسہ نہیں ہوتا…
اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ دراصل روح اور شیطان کے درمیان ہونے والی ایک پوشیدہ جنگ کی بازگشت ہوتی ہے۔

بعض نفسیاتی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی بنیادکسی صدمے، ظلم، دھوکے یا دکھ بھرے واقعے پر ہوتی ہے ان کا علاج محبت، تسلی، اور صبر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
کچھ نفسیاتی بیماریاں جسمانی کمزوری یا جسمانی خرابی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں ان کا علاج طبی طریقے سے کیا جاتا ہے۔
لیکن سب سے خطرناک وہ بیماریاں ہیں جو نظر نہ آنے والی دنیا (جنّات اور شیطانی اثرات) سے جنم لیتی ہیں۔

اس لیے ایک بات یاد رکھیں
روحانی اثر براہِ راست نفسیاتی بیماری پیدا کر سکتا ہے،
اور بعض اوقات پہلے جسمانی بیماری پیدا کرتا ہے جو بعد میں نفسیاتی خرابی کا سبب بن جاتی ہے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ علاج میں تینوں پہلو شامل ہوں

1. رقیہ شرعیہ (قرآنی علاج)

2. طبی علاج (میڈیکل علاج)

3. نفسیاتی علاج (سائیکولوجیکل سپورٹ)

کیونکہ روشنی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب اسے ہر سمت سے روشن جائے۔
واللہ أعلم۔

شرعی رُقْیَہ سے پڑھے ہوئے پانی سے غسل کی اہمیت یہغسل پورے جسم پر پانی ڈالنا یا پانی سے بھرے ہوئے ٹب میں پورے جسم کو ڈبون...
04/08/2026

شرعی رُقْیَہ سے پڑھے ہوئے پانی سے غسل کی اہمیت یہ

غسل پورے جسم پر پانی ڈالنا یا پانی سے بھرے ہوئے ٹب میں پورے جسم کو ڈبونا ہے۔ اس غسل کی شرعی حیثیت اور دلائل سلف صالحین، احادیث اور قرآن سے ملتے ہیں۔

امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ ایک عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: "یا رسول اللہ، میرے اس بیٹے کا دماغ ٹھیک نہیں ہے، اللہ سے اس کے لیے دعا کیجیے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے لیے پانی لاؤ۔" اس نے پتھر کے ایک برتن میں پانی لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں تھوکا، اس کے چہرے کو دھویا، پھر اس میں دعا کی اور فرمایا: "جاؤ، اس پانی سے اسے دھو دو اور اللہ تعالیٰ سے شفا طلب کرو۔" میں نے کہا: "مجھے تھوڑا سا پانی دے دو تاکہ میں اپنے بیٹے کو لگا سکوں۔" میں نے اپنی انگلیوں سے تھوڑا سا پانی لیا اور اپنے بیٹے کے جسم پر مل دیا، اور وہ سب سے زیادہ فرمانبردار لوگوں میں سے ہو گیا۔ میں نے عورت سے پوچھا کہ اس کے بیٹے کا کیا حال ہے، تو اس نے کہا: "وہ بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔"(یہ روایت امام احمد بن حنبل کی مسند میں موجود ہے۔ اس روایت کا حوالہ نمبر مسند احمد، حدیث نمبر .22808. ہے۔ یہ روایت ایک عورت کے واقعے کو بیان کرتی ہے جو اپنے بیٹے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔)
ابن القیم نے "مدارج السالکین" میں کہا
"میں زمزم کا ایک گلاس لیتا تھا اور اس پر بار بار سورہ فاتحہ پڑھتا تھا، پھر اسے پیتا تھا۔ مجھے اس سے ایسا فائدہ اور طاقت ملتی تھی جو میں نے کسی دوا میں نہیں دیکھی۔"
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
(اپنے پاؤں سے زمین پر مارو، یہ ٹھنڈا پانی ہے جس سے غسل کیا جائے اور پیا جائے) (سورہ ص: 42)۔ اس آیت میں ہم نہیں جانتے کہ یہ پانی صرف حضرت ایوب علیہ السلام کے لیے تھا یا سب کے لیے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے "مجموع الفتاوى" (190/64) میں کہا: "مصاب یا دیگر مریضوں کے لیے اللہ کی کتاب یا ذکر سے کچھ لکھ کر اسے جائز سیاہی سے لکھنا، پھر اسے دھو کر پلانا جائز ہے، جیسا کہ امام احمد وغیرہ نے اس کی تصریح کی ہے۔"
شرعی رُقْیَہ کی اہمیت اور غسل
ابن کثیر نے کہا
"ہمیں ابوجعفر الرازی نے لیث بن ابی سلیم سے روایت کیا کہ انہیں بتایا گیا کہ یہ آیات اللہ کے حکم سے جادو سے شفا دیتی ہیں۔ ان آیات کو ایک برتن میں پڑھا جائے جس میں پانی ہو، پھر اسے مسحور کے سر پر ڈالا جائے۔" (تفسیر القرآن العظیم: 2/428)
عبداللہ بن جبرین رحمہ اللہ نے کہا: "میں نے کچھ رشتہ داروں یا دوستوں پر رُقْیَہ کیا جو اپنی بیویوں سے دور تھے، ابن کثیر کے ذکر کردہ بیری کے پتوں اور مذکورہ آیات کے ساتھ، تو اللہ کے حکم سے شفا ہو گئی۔"
بعض سلف نے اس کی اجازت دی ہے، اور ابن عباس سے مرفوع حدیث بھی روایت کی گئی ہے۔ ابن القیم نے "زاد المعاد" میں کہا: "سلف کی ایک جماعت نے قرآن کی آیات زعفران سے لکھ کر پینے کی اجازت دی ہے، اور اس کا ذکر مجاہد اور ابو قلابہ سے بھی کیا گیا ہے۔"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بخار جہنم کی گرمی سے ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔" (متفق علیہ)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کسی کو بخار ہو تو وہ تین راتوں تک سحر کے وقت ٹھنڈے پانی سے غسل کرے۔" ("حم" کا مطلب ہے بخار ہونا)
خلاصہ یہ کہ غسل علاج کے لیے بہت طاقتور اور مفید ہے، ۔
مریض کو کہتے تھے کہ وہ ٹب کو پانی سے بھرے، اور اس سے پہلے رُقْیَہ کی آیات سے پڑھا ہوا پانی تیار کرے۔
شیوخ جیسے عبدالعزیز بن باز، صالح بن عبدالعزیز آل شیخ، محمد صالح المنجد وغیرہ نے اس طریقے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باتھ روم میں رُقْیَہ سے پڑھے ہوئے پانی سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن باز رحمہ اللہ نے کہا: "زمزم کے پانی سے غسل اور وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ہر مبارک پانی کے ساتھ، نیز اس سے کپڑے دھونے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ عام دلائل موجود ہیں۔ اور جس پانی پر آیات پڑھی گئی ہوں، اس سے باتھ روم میں یا باہر غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔" (مصدر: الفوائد الجلیة من دروس ابن باز العلمیة)
پانی پر پڑھنے کا طریقہ جو غسل اور پینے کے لیے استعمال ہوگا
اس میں علاج کے لیے مفید چیزیں شامل کی جاتی ہیں، جیسے سبز بیری کے پتے، خشک بیری کے پتے،سمندری نمک، پھٹکڑی
اور زیتون کا تیل۔ مسک الطہارہ ۔ مسک الاسود و دیگر
ان سب کو تیار کرنے کے بعد، ہم اس برتن کو سامنے رکھتے ہیں جس پر ہم پڑھیں گے، اور پڑھنا شروع کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ پڑھتے وقت سانس پانی کو چھوتی ہو، شھادت کی انگلی پانی میں ڈبودینے کے بعد ہر آیت یا سورت کے بعد تین بار پانی پر تھتھکارا جائے۔ تھتھکارنا تھوکنے سے کم ہوتا ہے، جیسا کہ "لسان العرب" میں آیا ہے۔ شرعی رُقْیَہ پڑھنے کے بعد، ہم اس پانی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
ایک حصہ غسل کے لیے اور دوسرا حصہ پینے کے لیے۔
یہ جائز ہے کہ ہم اس میں عام پانی شامل کریں جو پڑھا نہ گیا ہو، تاکہ پانی کی مقدار بڑھ جائے، چاہے وہ پینے کے لیے ہو یا غسل کے لیے۔
یہ عمل کم از کم تین دن تک جاری رہنا چاہیے، اور ترجیحاً سات دن تک۔

لکھنے سے ان معاشروں میں تبدیلی اتی ہے جہاں پر پڑھنے کا رواج ہوحسد اور دشمنی سے حفاظتحسد اور بغض انسانی معاشرت کے وہ زہری...
02/08/2026

لکھنے سے ان معاشروں میں تبدیلی اتی ہے جہاں پر پڑھنے کا رواج ہو
حسد اور دشمنی سے حفاظت

حسد اور بغض انسانی معاشرت کے وہ زہریلے امراض ہیں جو افراد اور خاندانوں کے درمیان تعلقات کو تباہ کر رہے ہیں۔ موجودہ دور میں ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے
اسلام نے ان باطنی بیماریوں سے بچنے اور ان کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔
1. حسد اور بغض کی مذمت نبوی تعلیمات میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد اور بغض کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
"حسد سے بچو، کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے"۔
ایک اور روایت میں ہے کہ "حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے"۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرنے، بغض نہ رکھنے اور قطع تعلق نہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہنے کی تعلیم دی ہے۔ حسد دراصل اللہ کی تقدیر سے ناخوش اور بیزار رہنے کی علامت ہے۔
2. احتیاطی تدابیر اور حکمت عملی
توکل علی اللہ
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ پر مکمل بھروسہ رکھا جائے اور گھبراہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ یہ عقیدہ مضبوط رکھیں کہ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی آپ سے کچھ نہیں چھین سکتا۔
اپنے معاملات چھپانا
حتی الامکان اپنے اچھے منصوبوں اور کامیابیوں کو حاسدین سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں، کیونکہ ہر نعمت پر حاسد کی نظر پڑ سکتی ہے۔
صبر اور عفو و درگزر
حاسد کے اشتعال میں نہ آئیں اور انتقام کے منصوبے بنانے سے گریز کریں۔ آپ کا صبر ہی حسد کو ختم کرنے میں مدد دے گا اور اگر ممکن ہو تو حاسد کو معاف کر دیں، اس سے اس کے حسد میں کمی آ سکتی ہے۔
رضائے الٰہی پر راضی رہنا
یہ یقین رکھیں کہ جو نعمتیں دوسروں کو ملی ہیں، وہ اللہ کی عطا کردہ ہیں، اور اللہ جسے چاہے، جو چاہے، جتنا چاہے اور جس وقت چاہے عطا فرماتا ہے۔
اپنی خامیوں کی اصلاح
اپنی خامیوں کو دور کرنے میں مصروف رہیں، تاکہ حسد جیسے گناہ کے کام کی فرصت ہی نہ ملے۔
جائز مصروفیات
اپنے آپ کو جائز مصروفیات میں اتنا مگن رکھیں کہ منفی سوچوں اور توجہ کا موقع ہی نہ ملے۔ اپ کی ذات سے دوسروں کو صرف نفع پہنچے شر کا دروازہ ہمیشہ بند رکھیں
ماشاء اللہ کہنا
جب کسی کی نعمت پر نظر پڑے یا کوئی چیز اچھی لگے تو "ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ" کہنا چاہیے ۔
تاکہ نظر بد سے حفاظت ہو۔
3. نبوی دعائیں اور حفاظتی اذکار
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاسدین اور دشمنوں کے شر سے بچنے کے لیے کئی دعائیں اور اذکار سکھائے ہیں
دشمنوں کے شر سے حفاظت کی دعا
رسول اللہ ﷺ کو جب کسی دشمن کا اندیشہ ہوتا تھا تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے
"اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِيْ نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ۔
(اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں)۔
اس دعا کو کثرت سے پڑھنے سے شر سے حفاظت رہتی ہے۔
جان اور ایمان کی حفاظت، اور دشمنوں و حاسدوں کے شر سے نجات کی دعا
"اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَائِمًا، وَاحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ قَاعِدًا، وَاحْفَظْنِیْ بِالْاِسْلَامِ رَاقِدًا، وَلَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوًّا حَاسِدًا، وَ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَسْاَلُكَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ خَزَائِنُه ٗ بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ خَزَائِنُه ٗ بِيَدِكَ
(اے اللہ! کھڑے ہونے کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما، اور بیٹھنے کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما اور سونے کی حالت میں اسلام کے ساتھ میری حفاظت فرما۔ (میری تکلیف سے) میرے دشمنوں حاسدوں کو خوش نہ فرما۔ اے اللہ! میں تجھ سے ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں، ہر اس شر سے جس کے خزانے تیرے ہاتھ میں ہیں)۔
صبح و شام کے اذکار
سورت الکھف سن لیا کریں
فجر اور مغرب کی نماز کے بعد
صبح و شام ایک ایک مرتبہ درج ذیل دعائیں پڑھنے کا اہتمام کریں
1. "أَعُوْذُ بِوَجْهِ اللهِ الْعَظِیْمِ الَّذِيْ لَیْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ وَبِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ الَّتِيْ لَایُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَافَاجِرٌ، وَبِأَسْمَآءِ اللهِ الْحُسْنیٰ کُلِّهَا مَاعَلِمْتُ مِنْهَا وَمَالَمْ أَعْلَمْ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ"
2. "أَعُوْذُ بِوَجْهِ اللهِ الْکَرِیْمِ وَبِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ اللَّاتِيْ لَایُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَافَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَایَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمِنْ شَرِّ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا، وَشَرِ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَشَرِّ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا، وَمِنْ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ طَوَارِقِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ إِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰن"
معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین تین بار سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں۔ سورۃ الفلق میں خاص طور پر "وَمِنْ شَرِّحَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ" (اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرنے لگے) تکرار سے تلاوت کریں
آیت الکرسی
یہ آیت بھی حفاظت کے لیے بہت مؤثر ہے۔ "اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وھامۃ ومن کل عین لامۃ" (میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ساتھ ہر شیطان، زہریلی چیز اور ہر حسد کرنے والی آنکھ سے پناہ چاہتا ہوں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو اسی دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے۔
"اَعُوْذُ بِکَلِمٰتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ"
(میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے اس کی مخلوق کے شر سے پناہ مانگتا ہوں)۔ یہ دعا بھی صبح و شام تین بار پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے۔
سورت الکھف کی آیت نمبر 39کو ایک ہفتہ صبح شام ستر ستر مرتبہ پڑھنے سے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے
4. صحابہ کرام کے افعال اور اقوال
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا تھے اور حسد و بغض سے بچنے کے لیے ان دعاؤں اور تدابیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے ایک واقعے سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حسد سے پاک دل رکھنے والے شخص کے طرز عمل کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ نیکیوں اور اخلاص کو اپنی ذات کا حصہ بنانا ہی حسد سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔
آپ کو چاہیے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پر مکمل توکل کریں اور اپنی حفاظت کے لیے مذکورہ بالا دعاؤں اور اذکار کو اپنی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنائیں۔ فرض نمازوں کا اہتمام کریں اور صبح و شام کے اذکار کی پابندی کریں۔ اپنی نیکیوں کو چھپانے کی کوشش کریں اور حاسدین کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں۔ یہ تمام تدابیر شرعی طریقے کے مطابق آپ کو حسد اور دشمنی کے شر سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اپنی حفاظت کے وظائف پڑھتے ہوئے صرف اپنی حفاظت کی نیت ہونی چاہیے، کسی دوسرے کے نقصان کا ارادہ نہیں ہونا چاہیے۔

اونٹ کو خواب میں دیکھنا (قدیم حسد اور سحرِ المرض کی علامت)اونٹ کو روحانی تعبیرات اور عوامی روایات میں ایک ایسے جانور کے ...
30/07/2026

اونٹ کو خواب میں دیکھنا (قدیم حسد اور سحرِ المرض کی علامت)

اونٹ کو روحانی تعبیرات اور عوامی روایات میں ایک ایسے جانور کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں دو نمایاں صفات پائی جاتی ہیں پوشیدہ کینہ اور غیر معمولی صبر و برداشت (یعنی طویل عرصے تک جاری رہنے والی بیماری یا تکلیف)۔
اونٹ کا خواب
اونٹ کا خواب بعض معبرین ااور
رقاة (راقی الشرعی)
کے نزدیک اس بات کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ مریض کے ساتھ کشمکش کرنے والا جن، سرکش اور طاقتور جنات (مارد) میں سے ہے، کیونکہ ان کے نزدیک اونٹ جنات کی بعض اقسام میں ایک بلند مرتبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس کی تعبیر مریض کے خواب کی کیفیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
اگر مریض دیکھے کہ ایک اونٹ اس کے پیچھے دوڑ رہا ہے تو اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ جن ابھی جسم میں داخل نہیں ہوا، لیکن داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس صورت میں اذکار کی پابندی اور سورۂ بقرہ کی تلاوت کا اہتمام ضروری سمجھا جاتا ہے، تاکہ وہ انسان پر غلبہ حاصل نہ کر سکے، کیونکہ ان کے نزدیک جسم سے باہر موجود اثر کا علاج جسم میں داخل ہونے کے بعد کے علاج سے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔
اور اگر اونٹ مریض کو پکڑ لے اور اسے کاٹ لے تو بعض رقاة اس کی تعبیر یہ کرتے ہیں کہ جن جسم میں داخل ہو چکا ہے۔
تنبیہ
یہ تعبیر بعض رقاة کی آراء اور تجربات پر مبنی ہے۔ شرعی طور پر کسی خواب کو قطعی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، اور نہ ہی صرف خواب کی بنیاد پر جنات کے دخول یا کسی روحانی بیماری کا حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ خواب محض ایک اشارہ یا قرینہ ہو سکتا ہے،
جبکہ یقینی علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔
غواص یا بدوی جن کا خادم
بعض رقاة کی آراء کے مطابق اونٹ کبھی کبھی ایسے جناتی خادم کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صحرا سے منسوب ہو یا جس میں انتہائی صبر اور برداشت کی خصوصیت ہو،
یعنی وہ رقیہ کی آیات سے جلد متاثر نہ ہوتا ہو۔
پرانا اور جمع شدہ حسد (دیرینہ کینہ)
اونٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ تکلیف یا برائی کو جلد نہیں بھولتا۔ اس لیے اگر کوئی متاثرہ شخص خواب میں اونٹ دیکھے تو بعض معبرین اسے اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ اس پر اثر انداز ہونے والا حسد یا نظرِ بد نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہو سکتا ہے، اور کسی ایسے شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جو برسوں سے دل میں بغض اور کینہ رکھتا ہو۔
سحرِ تمریض (بیماری کا جادو)
یا شدید سستی و خمول
چونکہ اونٹ بوجھ اٹھانے اور دیر تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اگر خواب میں اونٹ کسی شخص کا پیچھا کرے یا اس کے اوپر بیٹھ جائے تو بعض رقاة اسے ایسے روحانی اثرات کی علامت سمجھتے ہیں جو جسمانی بوجھ، شدید تھکاوٹ، سستی، عبادت سے غفلت یا کام میں بے دلی کا سبب بنتے ہیں۔
اونٹ کا مشتعل یا حملہ آور ہونا
اگر خواب میں اونٹ غصے میں ہو، کاٹنے کی کوشش کرے یا روندنے کے لیے دوڑے، تو بعض معبرین اسے روحانی عارض کے ردِعمل یا رقیہ کے اثر سے اس کے مزاحمتی رویّے کی علامت قرار دیتے ہیں۔
رقاة اور متاثرین کے لیے ایک بنیادی اصول
کسی ایک خواب کی بنیاد پر قطعی اور حتمی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
اس قسم کے خوابوں میں نظر آنے والے جانوروں کو صرف استئناسی قرائن (معاون اشاروں) کے طور پر لیا جاتا ہے تاکہ رقیہ کے دوران توجہ کے بعض پہلو متعین کیے جا سکیں۔
مثلاً اگر خواب میں شیر نظر آئے تو بعض لوگ آیاتِ حرق و والعذاب پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، اور اگر اونٹ نظر آئے تو حسدِ قدیم اور جسمانی شفا سے متعلق آیات پر زیادہ توجہ کی جاتی ہے۔ تاہم کامل یقین اسی بات پر ہونا چاہیے کہ تمام مخلوقات کی باگ ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
اسی طرح خواب کی تعبیر میں خواب کا بار بار آنا اور ایسی جسمانی یا رویّاتی علامات کا موجود ہونا بھی اہم سمجھا جاتا ہے جو کسی حقیقی مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔
واللہ اعلم

















#اونٹ



(سحرِ نفور یا سحرِ تفریق)  جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ میاں بیوی کے درمیان محبت ختم کر کے نفرت اور جدائی پیدا...
27/07/2026

(سحرِ نفور یا سحرِ تفریق) جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ میاں بیوی کے درمیان محبت ختم کر کے نفرت اور جدائی پیدا کرتا ہے۔

شوہر میں بیان کی جانے والی علامات کیا ہیں ؟
اچانک بلا وجہ بیوی سے محبت ختم ہو جانا۔
معمولی باتوں پر بار بار جھگڑے ہونا۔
گھر سے کپڑوں یا تصاویر کا غائب ہونا۔
بیوی کو میکے چھوڑ آنا اور پھر اس کی خبر نہ لینا۔
بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرنا یا گھر چھوڑ دینا۔
گھر سے باہر دوسری عورتوں سے خوش اخلاقی سے بات کرنا، لیکن بیوی سے سخت لہجے میں گفتگو کرنا۔

بیوی کو فون، واٹس ایپ یا سوشل میڈیا پر بلاک کر دینا۔
بیوی اور بچوں کے اخراجات نہ بھیجنا۔
بیوی سے دور سونا اور اس سے نفرت محسوس کرنا۔
بیوی کی بات نہ سننا۔
گھر سے باہر بے جا خرچ کرنا اور اہلِ خانہ پر خرچ نہ کرنا۔
بیوی کو بدصورت یا خوفناک شکل میں محسوس کرنا۔

(بیوی میں بیان کی جانے والی علامات)

بلا وجہ شوہر سے دور بھاگنا۔

شوہر سے شدید نفرت یا گھٹن محسوس کرنا۔
شوہر کو خوفناک شکل میں دیکھنا۔
ایسے ڈراؤنے خواب آنا کہ شوہر اسے مار دے گا یا قتل کر دے گا۔
گھر، بچوں اور صفائی ستھرائی سے غفلت برتنا۔
بچوں کو چھوڑ کر گھر سے چلے جانے کا سوچنا یا ایسا کرنا۔
ازدواجی تعلق سے نفرت کرنا۔
ہر وقت طلاق یا گھر چھوڑنے کے خیالات آنا۔
شوہر کو تمام ذرائع ابلاغ پر بلاک کر دینا اور اس کی بات نہ سننا۔
اس کے علاوہ بھی دیگر علامات بیان کی جاتی ہیں۔

مزید کیا دعویٰ کیا گیا ہے؟

جادوگر مختلف طلسمات، تعویذات، نجاست، خونِ حیض، اعداد، رموز اور دیگر باطل اعمال کے ذریعے جادو کرتا ہے۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف پورا قرآن پڑھ لینے سے ہر قسم کا جادو ختم نہیں ہوتا، بلکہ پہلے جادو کی نوعیت معلوم کرنا ضروری ہے۔ اسکی صحیح تشخیص بھی ایک اہم حصہ ہے

یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر جادو کی علامات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے پہلے درست تشخیص، پھر جادو کی نوعیت کی پہچان، اس کے بعد علاج اور آخر میں حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔

ووڈو جادو "خوفناک پتلیوں کا جادو"  قاتل ووڈو جادو کیا ہے؟.. اور یہ کیسے بنایا جاتا ہے؟ یہ جادو کی سب سے طاقتور، شدید اور...
24/07/2026

ووڈو جادو "خوفناک پتلیوں کا جادو"
قاتل ووڈو جادو کیا ہے؟..
اور یہ کیسے بنایا جاتا ہے؟
یہ جادو کی سب سے طاقتور، شدید اور خطرناک ترین قسموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جو آپ کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی ہے!
اس میں خبیث جادوگر کا بنیادی انحصار ایک "پتلی" (Doll) 🎎 پر ہوتا ہے، اور یہ کوئی عام پتلی نہیں ہوتی!
یہ جادو ایک ایسے کپڑے (پٹی) کی پتلی سے بنایا جاتا ہے جس پر انتہائی نجس چیزیں لگائی جاتی ہیں۔ ملعون کالی بلّیوں کے خون کے ذریعے شیاطین کا قرب حاصل کیا جاتا ہے تاکہ یہ لعنتی جادو مکمل ہو سکے!
نہایت افسوس کے ساتھ.. یہ جادو حیض کے خون اور جنات کے بادشاہوں کے لیے پیش کی جانے والی انتہائی طاقتور شرکیہ قربانیوں سے بھی بنایا جاتا ہے!
یہ جادو زدہ شخص (مریض) کے جسم کو کیسے تباہ کرتا ہے؟
جس پہلے لمحے سے یہ جادو کام کرنا اور اپنا زہر پھیلانا شروع کرتا ہے..
درج ذیل امور پیش آتے ہیں

جادو کا خادم (موکل جن)
وہ مریض کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور اس کا اچھی طرح مطالعہ کرنا شروع کرتا ہے تاکہ اسے ٹھیک سے معلوم ہو سکے کہ کب داخل ہونا ہے اور اسے سونپا گیا نقصان دہ کام کیسے پورا کرنا ہے!
پنوں اور قاتل سوئیوں کی جنگ
پتلی والا یہ جادو تیز دھار پنیں اور سوئیاں چبھو کر بنایا جاتا ہے.. جس کے بعد جادو زدہ انسان کی زندگی مکمل طور پر تباہی اور ناقابلِ برداشت جہنم بن جاتی ہے! ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔
پیرو ڈو (مثانے/کمر کے نچلے حصے) یا شرمگاہ میں پنیں چبھونا
مریض کو ہمیشہ شدید چبھن محسوس ہوتی ہے جیسے کہ چاقو سے وار کیے جا رہے ہوں!
🪡 دماغ میں پنیں چبھونا
مریض کو مسلسل شدید آدھے سر یا پورے سر کا درد رہتا ہے گویا اندر سے سوئیوں نے اس کے سر کو جکڑ رکھا ہو اور شدید چبھن دے رہی ہوں!
جادوگر کی کفریہ قربانیاں
اس جادو کو کارگر بنانے کے لیے ملعون جادوگر کو بہت سی قیمتی چیزوں کی قربانی دینی پڑتی ہے وہ اپنی بیوی یا اپنے بیٹے سے دستبردار ہو سکتا ہے یا ایسے کفریہ اعمال کا ارتکاب کر سکتا ہے جنہیں دیکھ کر بال سفید ہو جائیں..
تاکہ شیطان کو راضی کر سکے اور جادو چلا سکے، والعیاذ باللہ!
موت اور ہلاکت پر مامور ووڈو جادو
جب یہ جادو قتل کی نیت سے کیا گیا ہو..
تو انسان کی زندگی مکمل طور پر ویران ہو جاتی ہے
انسان کو ہمیشہ یوں لگتا ہے جیسے زندگی کی کوئی قیمت یا فائدہ نہیں ہے۔
وہ اللہ کی رحمت سے ہمیشہ مایوس رہتا ہے "اور یہ شیطان کی طرف سے خودی کو تباہ کرنے کی انتہا ہے"۔ ایسے مریض کو زندگی سے زیادہ موت اچھی لگنے لگتی ہے
اس کے اندر کسی بھی طریقے سے خودکشی کرنے کی مسلسل خواہش پیدا ہوتی ہے وہ شدید افسردہ، گھٹن کا شکار اور غمگین رہتا ہے.. اور بس اپنا خودکشی کا منصوبہ شروع کرنے کے لیے مناسب موقع کا منتظر ہوتا ہے!
اس قسم کے جادو کا خوفناک راز سوئیاں جتنی پرانی اور زنگ آلود ہوں گی، جادو اتنا ہی طاقتور ہوتا جائے گا!
معاملہ خوفناک حد تک بگڑتا چلا جاتا ہے.. پتلی کے اندر موجود سوئیاں جتنی گلنے سڑنے اور پرانی ہونے لگتی ہیں.. یہ جادو اتنا ہی زیادہ طاقتور، شدید اور پرتشدد ہوتا جاتا ہے!
انسان کا چہرہ بالکل زرد، بے رونق اور مردہ سا ہو جاتا ہے جیسے وہ صرف موت کا منتظر ہو!
اسے اپنے دل میں شدید چبھن اور مسلسل قاتلانہ سردرد محسوس ہوتا ہے..
اور یہاں شدید دباؤ کی وجہ سے یہ خبیث جادو دماغ کے خلیات کو اندر سے پھاڑ سکتا ہے.. جس سے ناک سے جما ہوا خون بہنے لگتا ہے، اور یہ شدید اور قاتل جادو کی واضح ترین علامتوں میں سے ایک ہے، اور مریض یہاں نفع و نقصان کی آخری حد (نزع کی حالت) میں ہوتا ہے!

کیا ووڈو جادو کا توڑ انتہائی مشکل ہے؟
اس جادو کا توڑ کرنے اور مریض کو بچانے کے لیے آپ کے پاس انتہائی مضبوط اور راسخ شرعی راقی کا ہونا ضروری ہے 📚.
کیونکہ یہ کوئی کھیل نہیں ہے!
کیونکہ یہ جادو صرف ایک طلسم سے نہیں بنایا جاتا.. بلکہ جسم پر تقسیم شدہ کم از کم 7 ملعون طلسمات کے ساتھ کیا جاتا ہے
1️⃣ سر اور دماغ پر طلسم
2️⃣ ٹانگوں اور پاؤں پر طلسم
3️⃣ ہاتھوں پر طلسم
4️⃣ ناک اور چہرے پر طلسم
5️⃣ پیٹ پر طلسم
6️⃣ سینے اور دل پر طلسم
7️⃣ شرمگاہ اور اعضائے تناسل پر طلسم معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے.. ووڈو جادو فوری موت یا مکمل طور پر عقل و حواس کھو دینے (پاگل پن) کا باعث بن سکتا ہے ، جو کہ جادو کی قسم اور خبیث موکل جن کو دی گئی ہدایات پر منحصر ہوتا ہے!
ووڈو جادو کی علامات کا خلاصہ
(ان سے خبردار رہیں)
اگر آپ میں یہ علامات موجود ہیں اور ان کی کوئی طبی/میڈیکل وجہ سامنے نہیں آ رہی.. تو آپ کو فوراً اقدام کرنا چاہیے۔ شرعی راقی سے اپنا معاملہ ڈسکس کر کے فورا اس کا علاج لیں اور ترجیحا تشخیص پر خاصہ زور دے تاکہ ایات کے انتخاب اور سورتوں کے سننے میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ رہ جائے

دماغ کے اندر سے مسلسل چبھن اور ٹیسیں اٹھنا۔
پاؤں کے تلووں میں پراسرار چبھن اور سوئیاں چبھنا۔
مسلسل سردرد، شدید توجہ کی کمی اور ہولناک بھولنے کی بیماری۔
شرمگاہ اور مقعد میں شدید درد اور دباؤ۔
کندھوں اور پیٹھ میں شدید ترین درد ("پتلی کے کندھے اور پیٹھ میں سوئیاں چبھونے کی وجہ سے")۔
حسبنا الله ونعم الوكيل - ہم ہر اس جادوگر، خائن اور عامل کے خلاف اللہ ہی کو کافی سمجھتے ہیں جو حساب کے دن اور اللہ کے سامنے پیشی پر ایمان نہیں رکھتا!
یہ پوسٹ آگاہی کے لیے انتہائی اہم ہے.. لائک کریں، شیئر کریں اور کمنٹ میں "حسبي الله ونعم الوكيل" لکھیں تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے، اور نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہی ہوتا

22/07/2026

"بعض دفعہ لوگ تھک ہار کر ویسے بھی بن جاتے ہیں جیسا ہونے کا الزام لوگ اُن پر لگاتے ہیں!" یہ جملہ بظاہر ایک عام سی بات لگت...
17/07/2026

"بعض دفعہ لوگ تھک ہار کر ویسے بھی بن جاتے ہیں جیسا ہونے کا الزام لوگ اُن پر لگاتے ہیں!"
یہ جملہ بظاہر ایک عام سی بات لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک خطرناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے ایک ایسی سوچ جو انسان کو مایوسی، خودسپردگی اور گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
یہ تصور کہ
"اگر لوگ الزام لگائیں تو ہم ویسے ہی بن جائیں" نہ صرف عقل و فطرت کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا کہ دنیا کے طعنوں اور الزاموں کے آگے جھک جاؤ،

جبکہ قرآن میں صاف الفاظ میں فرمایا گیا
"وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ"
"کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔"
(سورۃ الانعام: 164)
یعنی اگر لوگ تم پر جھوٹے الزام لگائیں، تو وہ ان کے اعمال ہیں، تمہارے نہیں۔
تمہیں تمہارے عمل اور نیت کے مطابق پرکھا جائے گا، نہ کہ لوگوں کے الزامات کے مطابق۔
🌿 اسلام کا موقف
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا
"وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ"
"اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
(سورۃ النجم: 39)
یعنی قیامت کے دن تمہیں لوگوں کے طعنوں پر نہیں، بلکہ تمہاری کوشش پر جزا یا سزا ملے گی۔
جو شخص الزام برداشت کر کے بھی صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کے نزدیک بلند مقام حاصل کرتا ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے نہیں بلکہ رب کے معیار پر جیتا ہے۔

ہمارا معاشرہ اکثر ان لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جو
خاموش، نیک نیت، یا حساس ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو الزام دینا، ان کے صبر کو کمزوری سمجھنا، یا ان کی خاموشی کو جرم بنا دینا دراصل سماجی بے حسی کی انتہا ہے۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ زخم لفظوں سے بھی لگتے ہیں اور کئی روحیں محض الزامات کے بوجھ سے ٹوٹ جاتی ہیں۔
ایسے جملے
"لوگ آخر کیوں الزام لگائیں گے؟
کچھ تو بات ہوگی!"
یا
"جب سب کہہ رہے ہیں تو یقیناً وہ ویسا ہی ہوگا"
دراصل ظالم کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں اور مظلوم کو اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔
اگر تم پر الزام لگایا گیا ہے، تو
یاد رکھو
اللہ تمہاری نیت جانتا ہے۔
لوگ تمہیں گرا سکتے ہیں، مگر اللہ تمہیں عزت دے سکتا ہے۔
دنیا کی زبانیں زہریلی ہو سکتی ہیں،
مگر اللہ کا انصاف بے حد پاکیزہ ہے۔
"إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا"
"بے شک اللہ ایمان والوں کی خود دفاع کرتا ہے۔"
(سورۃ الحج: 38)
لہٰذا اگر تم پر الزام لگے، تو خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔
یہ صبر تمہارے ایمان کا ثبوت ہے۔
الزام کے دباؤ میں آ کر ویسا بن جانا حماقت ہے، جہالت ہے،
اور یہ انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تمہیں لوگوں کی باتوں سے نہیں، تمہارے کردار سے پرکھے گا۔
پس اپنے کردار کو بچاؤ،
چاہے ساری دنیا تمہارے خلاف ہو جائے
کیونکہ انجام میں فیصلہ اللہ کا ہوگا، لوگوں کا نہیں۔

Address

STREET NI 1 HOME NO 2 HADOKY MURIDKE
Muridke
39000

Telephone

+923008885182

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al Ruqyah Al Shariah Centre Pakistan:

Shortcuts

Share