Hakeem Muhammad Aslam

Call Directions Website Contact the business

Hakeem Muhammad Aslam *** وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْن ***

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہعلم الابدان اور قانون مفرد اعضاء کی رو سے ٹیومر، رسولی یا گلٹی (جسے قدیم طب میں سلعہ اور ...
10/09/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علم الابدان اور قانون مفرد اعضاء کی رو سے ٹیومر، رسولی یا گلٹی (جسے قدیم طب میں سلعہ اور جدید میں نیوپلازم کہا جاتا ہے) کوئی الگ سے پیدا ہونے والی خود مختار مخلوق نہیں، بلکہ یہ جسم کے کسی مفرد عضو میں غیر طبعی تحریک، دورانِ خون کے انجماد اور متعلقہ خلط کے تعفن و اجتماع کا نام ہے۔ جب کسی عضو میں طویل عرصے تک غیر طبعی تحریک قائم رہے تو وہاں کی بافتیں (Tissues) اپنے اندر فاضل مادوں کو روک کر مستقل گومڑ یا رسولی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
نظریہ ثلاثہ (تین اعضائے رئیسہ: دل، دماغ، جگر اور ان کے تابع عضلات، اعصاب، غدد) کے مطابق ٹیومر کی اقسام، اسباب اور مدارج کی تفصیلی سائنسی و فطری تشریح درج ذیل ہے:
ٹیومر کی اقسام بلحاظ مفرد اعضاء
جسم کے تینوں حیاتی نظاموں کی بافتوں کے لحاظ سے رسولیوں کی تین بنیادی اقسام ہیں:
* عضلاتی ٹیومر (سوداوی سلعہ / Fibroma & Hard Tumors):
* تحریک و کیفیت: عضلاتی اعصابی (سرد خشک) یا عضلاتی غدی (خشک گرم)۔
* خلط و ماہیت: یہ خلطِ سودا، ریاح اور کاربن کے انجماد سے پیدا ہوتے ہیں۔
* علامات و ساخت: یہ رسولیاں سخت، پتھریلی، بے لچک اور جلد پر کھچاؤ پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔ مثلاً رحم کی رسولیاں (Uterine Fibroids)، ہڈیوں یا جوڑوں پر ابھرنے والے سخت گومڑ، اور غلیظ عضلاتی کینسر (سرطان) کی ابتدائی شکلیں۔
* غدی ٹیومر (صفراوی سلعہ / Adenoma & Glandular Tumors):
* تحریک و کیفیت: غدی عضلاتی (گرم خشک) یا غدی اعصابی (گرم تر)۔
* خلط و ماہیت: یہ خلطِ صفراء اور کیمیاوی حرارت کی زیادتی سے غدود میں سوزش کے باعث بنتے ہیں۔
* علامات و ساخت: یہ رسولیاں لمفیٹک غدود، پستان کے گلینڈز، تھائیرائیڈ (گلڑ)، یا جگر و لبلبہ کے غددی حصوں میں بنتی ہیں۔ ان میں جلن، چبھن، سرخ رنگت اور تیزی سے پکنے یا سڑنے (Suppuration) کا رجحان پایا جاتا ہے۔
* اعصابی ٹیومر (بلغمی سلعہ / Lipoma & Cysts):
* تحریک و کیفیت: اعصابی عضلاتی (سرد تر) یا اعصابی غدی (تر گرم)۔
* خلط و ماہیت: یہ خلطِ بلغم، رطوباتِ خام اور چربی کے رک جانے سے پیدا ہوتے ہیں۔
* علامات و ساخت: یہ رسولیاں نرم، ملائم، بے درد اور انگلی سے دبانے پر دب جانے والی ہوتی ہیں۔ ان میں پانی کی تھیلیاں (Cysts) اور چربی کی گلٹیاں (Lipomas) شامل ہیں۔
ٹیومر کے بنیادی اسباب (Etiology)
قانون مفرد اعضاء میں کسی بھی رسولی کے پیدا ہونے کے بنیادی محرکات درج ذیل ہیں:
* مفرد عضو کی غیر طبعی تحریک: جس عضو کی بافتوں میں مسلسل تحریک رہے گی، وہاں خون کا دباؤ اور اجتماع ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے گا۔
* مقامِ تسکین کا عجز (احتباسِ فضلات): قانونِ فطرت ہے کہ جب ایک عضو تحریک میں ہوتا ہے تو اس سے اگلا عضو تسکین (سستی) میں چلا جاتا ہے۔ مقامِ تسکین کے سست ہونے سے جسم اپنے روزمرہ فضلات اور زہریلے مادے خارج نہیں کر پاتا، جس سے مواد رک کر رسولی کی صورت اختیار کرتا ہے۔
* خون کی کیمیاوی خرابی اور انجماد: غذا میں کسی خاص کیفیت (مثلاً مسلسل خشک، ترش یا سڑی ہوئی اشیاء) کا کثرت سے استعمال خون کے قوام کو بگاڑ کر سوداویت یا صفراویت کو منجمد کر دیتا ہے۔
ٹیومر کے ارتقائی مدارج و حالتیں
کوئی بھی رسولی جسم میں یکلخت وجود میں نہیں آتی، بلکہ قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ پانچ مدارج سے گزرتی ہے:
* حالتِ تحریک: عضو کی طرف دورانِ خون میں تیزی اور خلیات میں ابتدائی ہیجان۔
* حالتِ سوزش: خون رکنے سے عضو میں حدت، تپش اور کھچاؤ کا پیدا ہونا۔
* حالتِ ورم: سوزش کے مقام پر رطوبات اور اخلاط کا باقاعدہ جمود ہو کر ابھار بن جانا۔
* حالتِ تصلب (رسولی / سلعہ): ورم کا مادہ خشک، گاڑھا یا منجمد ہو کر ایک باقاعدہ نسیجی ساخت (Hard Mass) اختیار کر لینا۔
* حالتِ تعفن و قرحہ (سرطان / Malignancy): آخری درجے میں رکے ہوئے مادے میں سڑاند پیدا ہو جاتی ہے، خون کی شریانیں پھٹتی ہیں اور وہ زخم یا ناسور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بنیادی اصولی نکتہ برائے فہمِ علاج
ٹیومر کو جسم سے کاٹ کر نکال دینا (سرجری) مرض کا حقیقی خاتمہ نہیں، کیونکہ آپریشن سے عضو کی تحریک ختم نہیں ہوتی اور رسولی دوبارہ بن جاتی ہے۔ فطری اور سائنسی حل یہ ہے کہ نبض و قارورہ سے بیماری کی اصل تحریک کو پہچانا جائے، اور کبھی بھی محرک عضو کو چھیڑے بغیر مقامِ تسکین (سست عضو) میں تحریک پیدا کی جائے۔ جب سست عضو بیدار ہو کر فضلات خارج کرے گا تو محرک عضو میں خودبخود تحلیل واقع ہو کر رسولی تحلیل ہو جائے گی اور خون کا فطری توازن بحال ہو جائے گا۔





























08/09/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ڈاکٹر مجتبیٰ صاحب کا یہ مضمون جس کا لنک کمنٹ میں ہے دراصل جدید ایلوپیتھی کی اسی بنیادی غلط فہمی کا عکاس ہے جس کی نشاندہی ہم نے بارہا دلائل کے ساتھ کی ہے ۔ جدید طب کے معالجین جب بھی "مکمل علاج" کا دعویٰ کرتے ہیں، تو وہ مرض (Disease)، علامت (Symptom)، اور طفیلی حملے (Infestation) کے فرق کو یکسر خلط ملط کر دیتے ہیں ۔
پہلا اصولی مغالطہ: کیڑے مارنا بمقابلہ عضو کا علاج
ڈاکٹر صاحب نے جن 10 بیماریوں کی فہرست دی ہے، ان میں سے 7 بیماریاں (سکیبیز، اسکاریاسس، سٹرونگائیلوئیڈیاسس، جیارڈیاسس، رنگ ورم، ملیریا، اور شسٹوسومیاسس) انسان کے اعضاء یا بافتوں کا کوئی اندرونی یا فعلیاتی نقص نہیں ہیں، بلکہ خارجی طفیلی کیڑے (Parasites)، فنگس یا جراثیم کا حملہ ہیں۔
* کرم کشی اور علاج کا فرق: آنتوں کے کیڑے تلف کرنا یا جلد کے سوراخوں میں پرمیتھرین سے جوئیں اور کیڑے مار دینا ایسے ہی ہے جیسے گندے نالے یا گلی میں ڈی ڈی ٹی (DDT) پاؤڈر چھڑک کر مچھر مار دیے جائیں ۔ کیا مچھر مار دینے سے گندے نالے کی صفائی ہو گئی؟ اگر جسم کا ماحول اور نظامِ ہضم درست نہ ہو تو البینڈازول کے چند ہفتوں بعد پیٹ میں دوبارہ کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔
* قدیم طب اور نباتات کی تاریخ: پیٹ کے کیڑوں کے لیے باؤبڑنگ، کمیلہ، پلاس پاپڑہ اور کچور ہزاروں سال سے مستند کتب میں درج ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ملیریا کے لیے جس "آرٹیمیسینن" (Artemisinin) پر نازاں ہیں، وہ کوئی کیمیائی پیٹروکیمیکل ایجاد نہیں بلکہ Artemisia annua (شجرۂ مریم / قیصوم) نامی روایتی جڑی بوٹی کا عرق ہے، بالکل اسی طرح جیسے کونین کا تعلق سنکونا کی چھال سے تھا۔
فہرست کا حقیقت پسندانہ اور فنی جائزہ
* سکیبیز، اسکاریاسس، سٹرونگائیلوئیڈیاسس، جیارڈیا اور شسٹوسومیاسس: یہ سب پیٹ اور جلد کے طفیلی جانور ہیں۔ ان کو مارنا "دوا کا کیمیائی زہر" بن کر کام کرتا ہے، عضو کے افعال کی درستی نہیں۔ جب تک جسم کی قوتِ مدبرہ بیدار ہو کر آنتوں اور جلد کی بلغمی و متعفن رطوبات کو ختم نہ کرے، یہ انفیکشن بار بار لوٹ آتے ہیں ۔
* رنگ ورم (Quba / داد): قانون مفرد اعضاء کی رو سے یہ عضلاتی اعصابی (سرد خشک) تحریک میں خون کے اندر سوداوی خلط کے تعفن اور جلد کی رطوبات کے انجماد سے پیدا ہوتا ہے ۔ اینٹی فنگل ادویات وقتی طور پر فنگس کی افزائش روکتی ہیں، مگر جب تک جگر و غدد میں حرارت پیدا کر کے سوداوی تعفن کا صفایا نہ کیا جائے، رنگ ورم بار بار پلٹ کر آتا ہے ۔
* ہیپاٹائٹس سی: اینٹی وائرل ادویات وائرل لوڈ کو پی سی آر پر منفی ضرور کرتی ہیں، لیکن جگر کی سوزش، رسولی، سخت پن (Cirrhosis) اور صفراوی توازن کو بحال نہیں کرتیں۔ اصل شفا جگر (غدد) کے طبعی افعال کی بحالی میں ہے ۔
* آتشک (سفلس): ڈاکٹر صاحب کا یہ دعویٰ کہ اطباء آتشک سے بے خبر ہیں، تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ طب اسلامی و یونانی میں آتشک پر مستقل ابواب موجود ہیں، اور صابر فارماکوپیا میں ہم نے آتشک کے لیے عضلاتی غدی اور غدی عضلاتی تریاقات کی وہ تفصیل لکھی ہے جو پارہ اور سنکھیا کی کیمیائی تسکین سے بالاتر ہو کر بافتوں کو پاک کرتی ہے ۔
* وٹامن بی 12 کی کمی: خوراک کی کمی کو باہر سے وٹامن دے کر پورا کرنا علاج نہیں بلکہ "غذائی بدل ما یتحلل" ہے ۔ اگر جسم خوراک سے وٹامن جذب کرنے سے معذور ہے (جیسے Pernicious Anemia میں ہوتا ہے)، تو ایلوپیتھی تا حیات مریض کو انجکشن پر لگا دیتی ہے، جو معدے اور آنتوں کی مستقل کمزوری کا ثبوت ہے۔
اصلی سوال جس سے پہلو تہی کی گئی
حکماء جب ایلوپیتھی کے طریقہ علاج پر اصولی اعتراض کرتے ہیں تو ان کا اشارہ چند خارجی طفیلی کیڑوں کو مارنے کی طرف نہیں ہوتا، بلکہ انسانی جسم کے اصل امراض کی طرف ہوتا ہے۔
اگر ایلوپیتھی کے پاس واقعی ہر مرض کا شافی و مستقل علاج ہے تو بتائیے:
* بلڈ پریشر کا مستقل علاج کہاں ہے؟ (عمر بھر گولی کھانے کا نام علاج ہے؟)
* ذیابیطس (شوگر) کا جڑ سے خاتمہ کیوں نہیں ہوتا؟
* جوڑوں کے درد، گٹھیا اور یورک ایسڈ میں پین کلر اور سٹیرائیڈ کے سوا کیا ہے؟
* دمہ، الرجی، سورائسز، ایگزیما اور گردے فیل ہونے کا شافی علاج کہاں ہے؟
ان تمام امراض میں جدید طب محض علامات کو دباتی ہے (Symptomatic Suppression)، جس کے نتیجے میں وقتی سکون تو ملتا ہے لیکن عضو رفتہ رفتہ تحلیل ہو کر ناکارہ ہو جاتا ہے ۔
قانون مفرد اعضاء کا موقف
مرض دراصل کسی خردبینی جاندار کا نام نہیں، بلکہ جسم کے تین اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، جگر) کے تحت کام کرنے والے مفرد اعضاء (عضلات، اعصاب، غدد) کے افعال میں غیر طبعی بگاڑ اور تحریک کا نام ہے ۔ جراثیم اور طفیلیے صرف اسی وقت پرورش پاتے ہیں جب متعلقہ عضو میں تسکین یا تحلیل کی وجہ سے تعفن اور سدے پیدا ہوں۔ جب جسم کے متعلقہ سست عضو (مقامِ تسکین) میں تحریک پیدا کر کے خون کا طبعی دوران بحال کر دیا جائے تو قوتِ مدبرہ بدن خود ان تمام فاسد مادوں اور کیڑوں کو تلف کر کے جسم کو مستقل شفا عطا کرتی ہے ۔

05/09/2026






























05/09/2026

اعصابی مزاج والے صبح نہار کیا پئیں ۔۔۔؟
واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔






























02/09/2026






























02/09/2026

واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔






























23/08/2026






























واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔۔ہائپر تھائیرائیڈزم کا علاج ۔۔۔
23/08/2026

واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔۔
ہائپر تھائیرائیڈزم کا علاج ۔۔۔






























واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔۔
19/08/2026

واذا مرضت فھو یشفین ۔۔۔۔






























Address

Mehboob Aalam Choak Sabzi Mandi
Okara
56300

Opening Hours

Monday 14:00 - 19:00
Tuesday 14:00 - 20:00
Wednesday 14:00 - 20:00
Thursday 14:00 - 20:00
Saturday 14:00 - 20:00
Sunday 14:00 - 19:00

Telephone

+923331600505

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Muhammad Aslam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Hakeem Muhammad Aslam:

Shortcuts

Share