Medical Information

Medical Information About Medical And Others Information...

13/03/2026
پاکستان میں صحت کے نظام کی سب سے بڑی خاموش حقیقت یہ ہے کہ پرائمری ہیلتھ کیئر آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہے۔ یہ وہ نظام تھا جسے ...
13/03/2026

پاکستان میں صحت کے نظام کی سب سے بڑی خاموش حقیقت یہ ہے کہ پرائمری ہیلتھ کیئر آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہے۔ یہ وہ نظام تھا جسے کسی بھی ملک کے ہیلتھ سسٹم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ مگر آج حقیقت یہ ہے کہ ہمارے Basic Health Units (BHUs) اور Rural Health Centers (RHCs) اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ کاغذوں میں یہ مراکز موجود ہیں، مگر زمین پر اکثر جگہوں پر یا تو ڈاکٹر نہیں، یا ادویات نہیں، یا بنیادی سہولیات ہی موجود نہیں۔

ایک دیہاتی مریض جب بخار، کھانسی یا بلڈ پریشر جیسے عام مسئلے کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنے علاقے کے BHU جانا چاہیے۔ لیکن اکثر وہاں دروازے بند ہوتے ہیں یا عملہ محدود ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سیدھا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال یا بڑے شہروں کے tertiary hospitals کا رخ کرتا ہے۔ یوں ایسے مریض بھی بڑے ہسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں جنہیں اصل میں مقامی سطح پر ہی آسانی سے سنبھالا جا سکتا تھا۔

عالمی سطح پر صحت کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 70 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر BHUs اور RHCs واقعی فعال ہوں تو tertiary hospitals میں رش آدھے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ مگر پاکستان میں الٹا نظام چل رہا ہے۔ بڑے ہسپتال مریضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں جبکہ بنیادی مراکز غیر فعال پڑے ہیں۔

اس ناکامی کی وجوہات صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ گورننس کا بحران بھی ہے۔ کئی BHUs میں ڈاکٹرز کی مستقل پوسٹنگ نہیں ہوتی، کچھ جگہوں پر عملہ صرف حاضری لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔ ادویات کی فراہمی غیر یقینی ہے، لیبارٹری سہولیات محدود ہیں، اور بہت سی عمارتیں سالوں سے مرمت کی منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ پلاننگ ہمیشہ tertiary hospitals کے گرد گھومتی رہی ہے۔ نئی عمارتیں، بڑے منصوبے، جدید مشینیں , سب بڑے شہروں کے ہسپتالوں کے لیے، جبکہ بنیادی نظام کو نظر انداز کر دیا گیا۔

نتیجہ یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا بخار بھی بڑے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ ڈاکٹرز تھک جاتے ہیں، مریض گھنٹوں انتظار کرتے ہیں، اور نظام آہستہ آہستہ ناکامی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کا صحت کا نظام ہسپتالوں سے نہیں بلکہ کمیونٹی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر BHU میں ڈاکٹر موجود ہو، ضروری ادویات دستیاب ہوں، لیبارٹری اور ویکسینیشن فعال ہو، اور مقامی سطح پر بیماریوں کی روک تھام کی جائے تو پورا نظام بدل سکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے یہی راستہ اپنایا ہے , مضبوط پرائمری ہیلتھ کیئر، کم خرچ، بہتر صحت۔

پاکستان میں بھی حل ناممکن نہیں۔ مگر اس کے لیے ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے بڑے ہسپتال بنا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے گاؤں اور قصبوں کے BHUs واقعی زندہ ہیں یا صرف فائلوں میں موجود ہیں؟

کیونکہ اگر پرائمری ہیلتھ کیئر کا یہ ستون گرتا رہا تو بڑے ہسپتال چاہے جتنے بھی بنا لیں، نظام کبھی مستحکم نہیں ہو سکے گا۔
اور شاید اسی لیے پاکستان کا صحت کا نظام آج ایک خاموش بحران سے گزر رہا ہے جس پر ابھی تک سنجیدگی سے بات نہیں کی جا رہی۔

از قلم :
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سیریز: صحت ، ریاست اور معاشرہ

Internship paid notification issued by health department government of Sindh
24/12/2025

Internship paid notification issued by health department government of Sindh

18/11/2025

🤣لاہور میں تبھی دل کے مریض نہیں پائے جاتے

Career Opportunity at Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital and Research Centre, Lahore.➡️ Staff Nurse-ICUCritical Car...
08/11/2025

Career Opportunity at Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital and Research Centre, Lahore.

➡️ Staff Nurse-ICU

Critical Care/ICU Nurses Required

For position details and eligibility criteria, visit: shaukatkhanum.org.pk/join-us/current-vacancies

📞 +92 42 3590 5000 Ext.3028, 3029, 3058, 3031, 3048, 3037
✉️ [email protected]

Address

Peshawar Kpk
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Medical Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share