08/08/2026
“مسئلہ چھٹی کا نہیں، ہمارے شعور کا ہے”
آج ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا، مگر اس معمولی واقعے نے میرے ذہن میں ایک غیر معمولی سوال چھوڑ دیا:
کیا ہم بحیثیت قوم واقعی تعلیم یافتہ ہیں، یا صرف ڈگری یافتہ؟
میرا ذاتی نمبر اور کلینک کا نمبر الگ ہے۔ آج میرے ذاتی نمبر پر ایک صاحب کی کال آئی۔ دوسری طرف سے آواز آئی:
"میں ہسپتال آیا ہوں، لیکن آپ کا کلینک بند ہے۔"
میں نے جواب دیا:
"جی، آج ویک اینڈ کی وجہ سے کلینک بند ہے۔"
اتنا سننا تھا کہ لہجہ بدل گیا۔ آواز بلند ہوئی اور غصے میں کہا گیا:
"یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے؟ سرکاری دفتر تو نہیں ہے نا، سیکرٹریٹ ہے کہ آپ لوگ چھٹیاں کرتے ہیں؟"
میں چند لمحوں کے لیے خاموش رہا۔
سوچا، شاید انہیں معلوم نہیں کہ ہر کلینک، ہر کاروبار، ہر پروفیشنل اور ہر انسان کے اپنے working hours اور off days ہوتے ہیں۔
میں نے پھر بھی تحمل سے کہا:
"اگر آپ کو معلوم نہیں تھا تو آنے سے پہلے ایک کال کر لیتے۔ آپ کو اتنی دور سے آنے کی زحمت نہ ہوتی۔"
مگر غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔
فرمایا:
"میں اتنی دور سے آیا ہوں، میرے پاؤں میں درد ہے، اب تم کیا کرو گے؟"
میں نے پھر بھی بحث نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ آنے سے پہلے رابطہ کر لیتے تو بہتر ہوتا۔
لیکن اس کے بعد جو الفاظ آئے، وہ شاید اس پورے واقعے کا اصل مقصد تھے۔
دھمکی دی گئی کہ:
"تم جانتے نہیں ہو مجھے، میں تمہیں ہسپتال آنے نہیں دوں گا، تم ہسپتال نہیں آ سکو گے۔"
یہاں مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ کلینک کے بند ہونے کا نہیں ہے۔
مسئلہ ہمارے رویے کا ہے۔
مسئلہ ہمارے لہجے کا ہے۔
مسئلہ برداشت کے ختم ہونے کا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، مسئلہ شعور کی کمی کا ہے۔
میں نے بحث کو مزید بڑھانے کے بجائے قرآنِ کریم کی اس تعلیم کو یاد کیا کہ جب جاہلانہ انداز میں مخاطب کیا جائے تو جواب میں سلامتی اور شائستگی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے: “وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان: 63)"
اور میں نے کال ختم کر دی۔
لیکن سوال ابھی باقی ہے۔
ہم ہر وقت اپنے معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں لوگ بدتمیز ہوگئے ہیں، نوجوانوں میں اخلاق نہیں، معاشرے میں برداشت نہیں، ادارے کام نہیں کرتے۔
لیکن کبھی ہم نے اپنے رویے کا جائزہ لیا ہے؟
ہم کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ فوراً ہمیں دیکھے۔
کسی استاد کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہو۔
کسی دکاندار کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ ہماری مرضی کے مطابق کام کرے۔
کسی سرکاری یا نجی ادارے میں جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے قوانین بدل دیے جائیں۔
اور جب ہماری خواہش پوری نہ ہو تو ہمارا پہلا ردعمل اکثر غصہ، بدتمیزی اور دھمکی ہوتا ہے۔
ہم نے شاید یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر ہمیں کسی کی سروس کی ضرورت ہے تو ہمیں اس شخص کی عزت کرنے کی ضرورت نہیں۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
آپ کو کسی کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اس کی عزتِ نفس چھیننے کا حق بھی مل گیا۔
ایک ڈاکٹر کا کلینک ہفتے کے ایک دن بند ہو سکتا ہے۔
ایک استاد چھٹی کر سکتا ہے۔
ایک دکاندار دکان بند کر سکتا ہے۔
ایک ملازم اپنے کام کے اوقات کے بعد دستیاب نہیں ہو سکتا۔
اور یہ سب کسی کی نااہلی نہیں، بلکہ انسان ہونے کی علامت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سروس لینا ہمارا حق ہو سکتا ہے، لیکن کسی کی تذلیل کرنا ہمارا حق نہیں۔
ہماری اصل کمی کہاں ہے؟
ہم نے تعلیم کو ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔
ہم نے کامیابی کو عہدے اور پیسے سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔
ہم نے بچوں کو یہ تو سکھا دیا کہ ڈاکٹر کیسے بننا ہے، انجینئر کیسے بننا ہے، پروفیسر کیسے بننا ہے، لیکن شاید یہ نہیں سکھایا کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے۔
ہم نے انہیں کتابیں تو دیں، مگر برداشت نہیں سکھائی۔
ہم نے انہیں الفاظ تو سکھائے، مگر گفتگو کا سلیقہ نہیں سکھایا۔
ہم نے انہیں اپنے حقوق تو بتائے، مگر دوسروں کے حقوق نہیں سمجھائے۔
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ بدتمیز کیوں ہو گیا؟
معاشرہ کہیں باہر سے نہیں آتا۔
معاشرہ ہم خود ہیں۔
جو لہجہ ہم گھر سے باہر استعمال کرتے ہیں، وہی ہمارے معاشرے کی آواز بنتا ہے۔
جو عزت ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہی ہماری تہذیب بنتی ہے۔
اور جس وقت ہم غصے میں اپنے الفاظ پر قابو رکھتے ہیں، شاید وہی ہماری اصل تعلیم کا امتحان ہوتا ہے۔
اس لیے شاید ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر ایک چھوٹی سی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
اگلی بار جب کوئی کلینک بند ملے تو غصہ کرنے سے پہلے پوچھیں:
"کیا آج چھٹی ہے؟"
اگلی بار کوئی شخص فوراً دستیاب نہ ہو تو دھمکی دینے کے بجائے کہیں:
"جب آپ available ہوں تو مجھے بتا دیجیے گا۔"
اور اگلی بار غصہ آئے تو بولنے سے پہلے صرف چند سیکنڈ رک جائیں۔
کیونکہ کبھی کبھی چند سیکنڈ کی خاموشی ہمیں ایسے الفاظ بولنے سے بچا لیتی ہے جن پر بعد میں پوری زندگی افسوس ہو سکتا ہے۔
قومیں صرف یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ نہیں ہوتیں،
قومیں اپنے رویوں سے مہذب ہوتی ہیں۔
اور شاید آج ہمیں نئی عمارتوں سے زیادہ،
نئی سوچ کی ضرورت ہے۔
مسئلہ کلینک کی چھٹی کا نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی عزتِ نفس کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بحیثیت قوم خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
"ہم واقعی پڑھے لکھے ہیں، یا صرف ڈگریاں ہمارے پاس ہیں؟"
اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد خان
نیورو اسپائن فزیکل تھراپسٹ