Dr.Aftab Ahmed Khan PT

Call Directions Contact the business

Dr.Aftab Ahmed Khan PT Asst. Prof. Dr. Aftab Ahmed Khan
MSPT-Neuro, DPT, BCMT, DOT
Member of AHPC & PPTA

“مسئلہ چھٹی کا نہیں، ہمارے شعور کا ہے”آج ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا، مگر اس معمولی واقعے نے میرے ذہن میں ایک غیر معمولی...
08/08/2026

“مسئلہ چھٹی کا نہیں، ہمارے شعور کا ہے”

آج ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا، مگر اس معمولی واقعے نے میرے ذہن میں ایک غیر معمولی سوال چھوڑ دیا:
کیا ہم بحیثیت قوم واقعی تعلیم یافتہ ہیں، یا صرف ڈگری یافتہ؟
میرا ذاتی نمبر اور کلینک کا نمبر الگ ہے۔ آج میرے ذاتی نمبر پر ایک صاحب کی کال آئی۔ دوسری طرف سے آواز آئی:
"میں ہسپتال آیا ہوں، لیکن آپ کا کلینک بند ہے۔"
میں نے جواب دیا:
"جی، آج ویک اینڈ کی وجہ سے کلینک بند ہے۔"
اتنا سننا تھا کہ لہجہ بدل گیا۔ آواز بلند ہوئی اور غصے میں کہا گیا:
"یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے؟ سرکاری دفتر تو نہیں ہے نا، سیکرٹریٹ ہے کہ آپ لوگ چھٹیاں کرتے ہیں؟"
میں چند لمحوں کے لیے خاموش رہا۔
سوچا، شاید انہیں معلوم نہیں کہ ہر کلینک، ہر کاروبار، ہر پروفیشنل اور ہر انسان کے اپنے working hours اور off days ہوتے ہیں۔
میں نے پھر بھی تحمل سے کہا:
"اگر آپ کو معلوم نہیں تھا تو آنے سے پہلے ایک کال کر لیتے۔ آپ کو اتنی دور سے آنے کی زحمت نہ ہوتی۔"
مگر غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گیا۔
فرمایا:
"میں اتنی دور سے آیا ہوں، میرے پاؤں میں درد ہے، اب تم کیا کرو گے؟"
میں نے پھر بھی بحث نہیں کی۔ صرف اتنا کہا کہ آنے سے پہلے رابطہ کر لیتے تو بہتر ہوتا۔
لیکن اس کے بعد جو الفاظ آئے، وہ شاید اس پورے واقعے کا اصل مقصد تھے۔
دھمکی دی گئی کہ:
"تم جانتے نہیں ہو مجھے، میں تمہیں ہسپتال آنے نہیں دوں گا، تم ہسپتال نہیں آ سکو گے۔"
یہاں مجھے احساس ہوا کہ مسئلہ کلینک کے بند ہونے کا نہیں ہے۔
مسئلہ ہمارے رویے کا ہے۔
مسئلہ ہمارے لہجے کا ہے۔
مسئلہ برداشت کے ختم ہونے کا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، مسئلہ شعور کی کمی کا ہے۔
میں نے بحث کو مزید بڑھانے کے بجائے قرآنِ کریم کی اس تعلیم کو یاد کیا کہ جب جاہلانہ انداز میں مخاطب کیا جائے تو جواب میں سلامتی اور شائستگی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے: “وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان: 63)"
اور میں نے کال ختم کر دی۔
لیکن سوال ابھی باقی ہے۔
ہم ہر وقت اپنے معاشرے کی خرابیوں کا شکوہ کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں لوگ بدتمیز ہوگئے ہیں، نوجوانوں میں اخلاق نہیں، معاشرے میں برداشت نہیں، ادارے کام نہیں کرتے۔
لیکن کبھی ہم نے اپنے رویے کا جائزہ لیا ہے؟
ہم کسی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ فوراً ہمیں دیکھے۔
کسی استاد کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہو۔
کسی دکاندار کے پاس جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ وہ ہماری مرضی کے مطابق کام کرے۔
کسی سرکاری یا نجی ادارے میں جاتے ہیں تو چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے قوانین بدل دیے جائیں۔
اور جب ہماری خواہش پوری نہ ہو تو ہمارا پہلا ردعمل اکثر غصہ، بدتمیزی اور دھمکی ہوتا ہے۔
ہم نے شاید یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر ہمیں کسی کی سروس کی ضرورت ہے تو ہمیں اس شخص کی عزت کرنے کی ضرورت نہیں۔
حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
آپ کو کسی کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو اس کی عزتِ نفس چھیننے کا حق بھی مل گیا۔
ایک ڈاکٹر کا کلینک ہفتے کے ایک دن بند ہو سکتا ہے۔
ایک استاد چھٹی کر سکتا ہے۔
ایک دکاندار دکان بند کر سکتا ہے۔
ایک ملازم اپنے کام کے اوقات کے بعد دستیاب نہیں ہو سکتا۔
اور یہ سب کسی کی نااہلی نہیں، بلکہ انسان ہونے کی علامت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سروس لینا ہمارا حق ہو سکتا ہے، لیکن کسی کی تذلیل کرنا ہمارا حق نہیں۔
ہماری اصل کمی کہاں ہے؟
ہم نے تعلیم کو ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔
ہم نے کامیابی کو عہدے اور پیسے سے ناپنا شروع کر دیا ہے۔
ہم نے بچوں کو یہ تو سکھا دیا کہ ڈاکٹر کیسے بننا ہے، انجینئر کیسے بننا ہے، پروفیسر کیسے بننا ہے، لیکن شاید یہ نہیں سکھایا کہ اچھا انسان کیسے بننا ہے۔
ہم نے انہیں کتابیں تو دیں، مگر برداشت نہیں سکھائی۔
ہم نے انہیں الفاظ تو سکھائے، مگر گفتگو کا سلیقہ نہیں سکھایا۔
ہم نے انہیں اپنے حقوق تو بتائے، مگر دوسروں کے حقوق نہیں سمجھائے۔
اور پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ معاشرہ بدتمیز کیوں ہو گیا؟
معاشرہ کہیں باہر سے نہیں آتا۔
معاشرہ ہم خود ہیں۔
جو لہجہ ہم گھر سے باہر استعمال کرتے ہیں، وہی ہمارے معاشرے کی آواز بنتا ہے۔
جو عزت ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہی ہماری تہذیب بنتی ہے۔
اور جس وقت ہم غصے میں اپنے الفاظ پر قابو رکھتے ہیں، شاید وہی ہماری اصل تعلیم کا امتحان ہوتا ہے۔
اس لیے شاید ہمیں دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے اندر ایک چھوٹی سی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
اگلی بار جب کوئی کلینک بند ملے تو غصہ کرنے سے پہلے پوچھیں:
"کیا آج چھٹی ہے؟"
اگلی بار کوئی شخص فوراً دستیاب نہ ہو تو دھمکی دینے کے بجائے کہیں:
"جب آپ available ہوں تو مجھے بتا دیجیے گا۔"
اور اگلی بار غصہ آئے تو بولنے سے پہلے صرف چند سیکنڈ رک جائیں۔
کیونکہ کبھی کبھی چند سیکنڈ کی خاموشی ہمیں ایسے الفاظ بولنے سے بچا لیتی ہے جن پر بعد میں پوری زندگی افسوس ہو سکتا ہے۔
قومیں صرف یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ نہیں ہوتیں،
قومیں اپنے رویوں سے مہذب ہوتی ہیں۔
اور شاید آج ہمیں نئی عمارتوں سے زیادہ،
نئی سوچ کی ضرورت ہے۔
مسئلہ کلینک کی چھٹی کا نہیں تھا۔
مسئلہ یہ تھا کہ ایک انسان دوسرے انسان کی عزتِ نفس کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں بحیثیت قوم خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے:
"ہم واقعی پڑھے لکھے ہیں، یا صرف ڈگریاں ہمارے پاس ہیں؟"

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آفتاب احمد خان
نیورو اسپائن فزیکل تھراپسٹ

World Hepatitis Day | 28 Julyهېپاټایټس د ځیګر ناروغي ده. ډېر کسان پرې اخته وي، خو خپله نه پوهېږي. که په وخت معاینه او عل...
28/07/2026

World Hepatitis Day | 28 July

هېپاټایټس د ځیګر ناروغي ده. ډېر کسان پرې اخته وي، خو خپله نه پوهېږي. که په وخت معاینه او علاج وشي، نو د دې ناروغۍ نه ځان او نور دواړه بچ کېدای شي.
راځئ نن دا پیغام خپلو خپلوانو او ملګرو ته هم ورسوو.
✅ که اړتیا وي واکسین ولګوئ.
✅ خپله صفایي ته پام وکړئ.
✅ سرنج، بلیډ او نور شخصي سامان له بل چا سره مه شریکوئ.
✅ که شک لرئ، نو معاینه ضرور وکړئ.
✅ ژر معلومول، د ښه علاج او روغېدو چانس زیاتوي.
خپل ځیګر ته پام وکړئ، ځکه روغ ځیګر د روغ ژوند ضمانت دی.

🏥 FlexFit Physiotherapy – Peshawar
📞 Appointments: 03109652974

ہمیں ایک دوسرے کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اُن پر خوش ہونا سیکھنا چاہیے۔ کسی کی ترقی آپ کے راستے کی رکاوٹ نہیں،...
27/07/2026

ہمیں ایک دوسرے کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اُن پر خوش ہونا سیکھنا چاہیے۔ کسی کی ترقی آپ کے راستے کی رکاوٹ نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔ حسد انسان کے دل کا سکون چھین لیتا ہے، جبکہ تعریف، حوصلہ افزائی اور تعاون معاشرے میں محبت، اعتماد اور ترقی کو جنم دیتے ہیں۔ اختلافِ رائے زندگی کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو نفرت میں بدل دینا ہماری کمزوری ہے۔ آئیے ہم ایسے لوگ بنیں جو دوسروں کو گرانے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں، کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا کرے۔ ایک دوسرے کی کامیابی پر مسکرائیں، دعا دیں، حوصلہ بڑھائیں، کیونکہ جب معاشرہ ایک دوسرے کو اوپر اٹھاتا ہے تو سب مل کر آگے بڑھتے ہیں، اور یہی ایک مہذب اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔

ګرمي نه ځان وساتئ او ډېرې اوبه وڅښئ په دې څو ورځو کې ګرمي ډېره زیاته شوې ده. دا ګرمي د بدن اوبه کموي او انسان ته کمزوري،...
19/07/2026

ګرمي نه ځان وساتئ او ډېرې اوبه وڅښئ
په دې څو ورځو کې ګرمي ډېره زیاته شوې ده. دا ګرمي د بدن اوبه کموي او انسان ته کمزوري، سرګرځېدنه او حتی د Heat Stroke سبب هم کېدای شي.
د یو روغتیايي په توګه زما څو ساده مشورې:
• که تنده هم نه وي، بیا هم وخت په وخت اوبه وڅښئ.
• د سهار له ۱۱ بجو نه تر مازیګر ۴ بجو پورې بې ضرورته لمر ته مه وځئ.
• سپکې او د کاٹنئ جامې واغوندئ.
• چې بهر وځئ، ٹوپئ، چترئ یا د لمر عینکې استعمال کړئ.
• هندواڼه، خټکی، بادرنګ او نورې تازه مېوې ډېرې وخورئ، ځکه بدن ته اوبه رسوي.
• ډېر چای، کافي او خوږ مشروبات مه څښئ، ځکه د بدن اوبه کموي.
⚠️ که په چا کې دا نښې ښکاره شي:
سرګرځېدنه، ډېره خوله، سخته کمزوري، زړه بدوالی، ګډوډي یا بې‌هوشي.
نو هغه کس سمدستي یخ او سیوري ځای ته یوسئ. که په هوش کې وي، اوبه ورکړئ، او که حالت یې ښه نه شو، ژر یې روغتون ته ورسوی.
خپل ځان، خپل کورنۍ او خپلوانو ته پام وکړئ. په دې ګرمو ورځو کې ډېرې اوبه وڅښئ او تر وسه پورې له ګرم لمر څخه ځان وساتئ.

Stay Safe & Stay Hydrated
The weather has been extremely hot over the past few days. High temperatures can lead to dehydration, heat exhaustion, and even heat stroke if proper precautions are not taken.
As a health professional, I recommend:
• Drink plenty of water, even if you don't feel thirsty.
• Avoid direct sunlight, especially between 11:00 AM and 4:00 PM.
• Wear light-colored, loose-fitting cotton clothing.
• Use a hat, umbrella, or sunglasses when going outdoors.
• Eat fresh fruits and foods with high water content.
• Limit excessive tea, coffee, and sugary drinks, as they may contribute to dehydration.

• ⚠️ If someone develops dizziness, excessive sweating, weakness, nausea, confusion, or loses consciousness, move them to a cool place, give fluids if they are fully alert, and seek immediate medical attention.
Your health is your greatest asset. Stay cool, stay hydrated, and look after one another.

Dr. Aftab Ahmed Khan
Assistant Professor | Neuro Spine Rehab Specialistl

الحمدلله! 🤍زما د Assistant Professor په توګه د پرمختګ په مناسبت چې چا راته مبارکي، دعاګانې او نېکې هیلې راکړې، د زړه له ...
18/07/2026

الحمدلله! 🤍
زما د Assistant Professor په توګه د پرمختګ په مناسبت چې چا راته مبارکي، دعاګانې او نېکې هیلې راکړې، د زړه له کومې ترې مننه کوم.
په ځانګړي ډول د خپلې کورنۍ، د ښوونځي، کالج او پوهنتون قدرمنو استادانو، ملګرو، همکارانو او ګرانو زده‌کوونکو نه ډېره مننه. که زه هر چا ته جلا جلا ځواب نه شم ورکولی، نو بخښنه غواړم، خو باور وکړئ چې ستاسو هره دعا او هره مبارکي راته ډېره ارزښت لري.
الله تعالی دې تاسو ټولو ته خوشحالي، ښه صحت درکړي، او ما هم په خپلو دعاګانو کې یاد ساتئ.
ډېره مننه!

I am deeply grateful for all the love, congratulations, and prayers I received on my promotion to Assistant Professor.
My heartfelt thanks to my family, respected school teachers, college and university teachers, friends, colleagues, and dear students for your kind wishes through calls, WhatsApp, Facebook, Messenger, and in person. Your encouragement and prayers mean a great deal to me.
Although I couldn't respond to everyone individually, please know that I truly appreciate every message and every prayer.
May Allah bless you all with happiness, good health, and continued success. Please keep me in your prayers.
Asst. Prof. Dr. Aftab Ahmed Khan

🌙 Fasting in Ramadan & Physical Health 💪Fasting during the holy month of Ramadan is not only a spiritual practice but al...
23/02/2026

🌙 Fasting in Ramadan & Physical Health 💪

Fasting during the holy month of Ramadan is not only a spiritual practice but also has significant benefits for physical health.
✔️ Helps in detoxification of the body
✔️ Improves metabolism
✔️ Supports weight management
✔️ Enhances insulin sensitivity
✔️ Gives rest to the digestive system

However, to stay healthy during fasting:
🔹 Drink plenty of water between Iftar and Suhoor
🔹 Avoid excessive fried and sugary foods
🔹 Include fruits, dates, protein, and healthy carbohydrates
🔹 Light physical activity like walking is beneficial
🔹 Patients with chronic conditions should consult a healthcare professional

At Flexfit Physiotherapy Centre, we encourage safe fasting with proper nutrition and physical activity for a healthy Ramadan.

📍 Stay active. Stay hydrated. Stay healthy.

Ramadan Timing for Consultation 2:15 to 5:15 pm.
19/02/2026

Ramadan Timing for Consultation 2:15 to 5:15 pm.

03/02/2026

FlexFit Physiotherapy Centre is a modern, well-equipped rehabilitation facility in Peshawar, specializing in Neuro,Peads,Sports,MSK Rehabilitation92 310 9652974

Address

Peshawar

Opening Hours

Monday 14:00 - 21:00
Tuesday 14:00 - 21:00
Wednesday 14:00 - 21:00
Thursday 14:00 - 21:00
Friday 14:00 - 21:00

Telephone

+923109652974

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Aftab Ahmed Khan PT posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr.Aftab Ahmed Khan PT:

Shortcuts

Share