Dr Shehryar Khan ډاکټر شهریار خان

Dr Shehryar Khan ډاکټر شهریار خان Doctor 🩺 | Entrepreneur 💼 | Traveler ✈️ Consultant Cardiologist, MBBS, MCPS Medicine, FCPS Cardiology.
(2)

24/06/2026

How to use Defibrillator Machine for Medicos

During BLS workshop at Jinnah Medical College Peshawar
24/06/2026

During BLS workshop at Jinnah Medical College Peshawar

24/06/2026

ہم قصائی لوگ!

ڈاکٹر عُبیداللہ

چند ماہ قبل مجھے ایمرجنسی بُلایا گیا۔ ایک چھ ماہ کا بچہ پاؤں پر گرم چائے گرنے سے جل گیا تھا۔ میں نے وہیں ایمرجنسی میں اسکی پٹی کردی بغیر کسی اضافی فیس کے۔ اُن کو بتایا کہ صرف پیناڈول شربت دیں اور پٹی کو ہاتھ نہ لگائیں۔ ہفتے بعد اس اُمید سے بُلایا کہ زخم بھر گیا ہوگا۔ تین دن بعد ہی بچے کو دوبارہ لایا گیا۔ پٹی کھلی ہوئی تھی اور اُس کے اوپر غلیظ قسم کا سپرے ہوا تھا۔ میں نے پوچھا کیوں پٹی کھولی؟ “جی وہ ہمسائے نے ایک سپرے والے کا بتایا تو وہاں چلے گئے”۔ میں نے پوچھا کہ آپ کونسے موچی سے اپنے کپڑے سلواتے ہیں؟ تو حیرت سے جواب ملا کہ جی وہ تو ہم ٹیلر سے سلواتے ہیں۔
گویا کپڑے تو پیشہ ور سے سلواتے ہیں اور علاج ہمسائوں کے کہنے پر ایک غیر تربیت یافتہ عطائی سے کرواتے ہیں۔ خیر بچے کو تکلیف پہنچی جب میں نے اُسکی صفائی کی اور دوبارہ وہی پٹی باندھی۔ اس دفعہ انہوں نے ہفتہ پٹی باندھی رکھی اور آج جب وہ معائنے کیلئے آئے تو پٹی اُتارنے پر زخم مندمل ہو چکا تھا۔ احتیاطاً میں نے ان کو مالش کیلئے مرہم لکھ دی۔
یہ جو سپرے والا عطائی ہے، یہ پڑھا لکھا بھی نہیں ہے۔ اس نے ایک سپرے بنایا ہے اور آج سے چھ سات سال پہلے ایک سپرے کے ساڑھے چار ہزار روپے لیتا تھا۔ مجھے ایک مریض نے بتایا کہ جب وہ سپرے کرنے گیا تھا تو اُسکا نمبر ایک سو چھیالیسواں تھا۔ آج شاید اس کی فیس دس ہزار کے لگ بھگ ہوگی جبکہ اس بچے کے پورے علاج پر ہمارے “مہنگے” ہسپتال میں ساڑھے چار ہزار روپے خرچ ہوئے۔ اور اُسکے علاج میں صوبے کا سینئر ترین پلاسٹک سرجن اور اسکی پوری ٹیم کا حصہ تھا۔
صحت کا انتظام ایک نہایت نازک لیکن مہنگا کام ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی ہسپتال آئی سی یو کے بغیر نہیں چل سکتا۔ ایک آٹھ بیڈ کے آئی سی یو کیلئے کم از کم تین چار سپیشلسٹ انیستھیٹسٹ یا انٹنسیوسٹ چاہیئے ہوتے ہیں۔ ان کی کم از کم تنخواہ سات سے دس لاکھ روپے ماہوار تک ہوتی ہے۔ ورنہ دُنیا بھر میں ان کی اتنی ڈیمانڈ ہوتی ہے کہ اس سے کئی گُنّا زیادہ تنخواہ پر ان کو جاب مل جاتی ہے۔ ہر بیڈ پر دن میں چار نرسوں اور چار ٹیکنیشنز کی ڈیوٹی لگی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ آٹھ سے دس ڈاکٹرز بھی دن بھر مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ صفائی والوں اور اردلیوں کی الگ ڈیوٹیاں ہوتی ہیں۔ یوں آسان حساب سے صرف تنخواہوں کے لحاظ سے تقریباً ایک کروڑ کا ماہانہ خرچہ ہوتا ہے۔ آئی سی یو کی ایک ایک بیڈ پر مشین تیس سے پچاس لاکھ روپے کی ہوتی ہے۔ ائر کنڈیشنوں میں مخصوص فلٹر لگے ہوتے ہیں جو ہر تین ماہ بعد تین سے دس لاکھ روپے فی فلٹر کے خرچے سے تبدیل ہوتے ہیں۔ گویا ایک آٹھ بیڈ کا آئی سی یو کروڑوں روپے ماہانہ سے زیادہ کا نُسخہ ہے۔ اور اس میں مریضوں مہنگی ادویات، ڈسپوزیبلز وغیرہ شامل نہیں۔ یہ تو اگر ایک مریض بھی نہ ہو تو اتنا خرچہ بنتا ہے۔ یعنی فی بیڈ لاکھوں روپے تو خالی بیڈ کا روزانہ کا خرچہ ہے۔ مریض کی ضروریات کے مطابق یہ خرچہ دوسے پانچ لاکھ تک پہنچ جاتا ہے۔ اور یاد رہے کہ ابتدائی تعمیر اور مشینوں کا خرچہ یا ان کی مرمت، تبدیلی اس میں شامل نہیں۔ اس وقت ملک کے بڑے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں میں آئی سی یو کے روزانہ اخراجات دو سے تین لاکھ روپے روزانہ ہے۔ اسکے مقابلے میں پشاور کے اس مہنگے ہسپتال میں یہ خرچہ ایک لاکھ روپے تک ہے۔ ان دونوں صورتوں میں دوائیوں اور ڈسپوزیبلز کی قیمت شامل نہیں ہے۔ اس دوران کئی ادویات کی قیمت میں دس گُنا تک اضافہ ہوچکا ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران آکسیجن سلنڈر کے بھروانے کی قیمت تین سو روپے سے دو تین ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
اب اگر آئی سی یو کا اصل روزانہ خرچہ ہر مریض سے لیا جائے جبکہ اس میں خالی بیڈز کا خرچہ بھی شُمار کیا جائے تو ہر مریض کو کم از کم تین لاکھ روپے روزانہ ادا کرنا پڑے گا۔ اسے قابل برداشت بنانے کیلئے اس خرچے کو تمام سروسز پر پھیلا دیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص کیلئے قابل برداشت بن جائے۔
آپ سرکاری ہسپتال میں جاتے ہیں جہاں سے آپ سوشل میڈیا پر گندگی کے ڈھیر، ٹوٹے ٹوائلٹ، بھنبھنا تے مکھیوں، ایک ایک بیڈ پر دو دو مریضوں، انتظار کرتے رش کی تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان ہسپتالوں کو زمین مفت ملی ہوتی ہے۔ تنخواہیں ہمارے ٹیکسوں سے دی جاتی ہیں۔ بجٹ بھی سرکار دیتی ہے۔ اُن کے مقابلے میں آپ ان “مہنگے” ہسپتالوں کی صفائی کی بھی تعریف نہیں کرتے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ صرف ایک فلور کی ہمہ وقت صفائی پر روزانہ دس ملازم معمور ہوتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں مریضوں کی فیسوں ہی سے دی جاتی ہیں۔ آپ کے مریض کے گاڑی سے اُترتے ہی ایک اردلی ان کو ویل چئیر یا صاف ستھری ٹرالی پر ڈال کر فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے۔ جس ٹسٹ کیلئے آپ کو سرکاری ہسپتال میں دنوں اور ہفتوں (ترقی یافتہ ممالک میں مہینوں) انتظار کرنا پڑتا ہے، وہ آپ کو اُسی دن چند گھنٹوں میں مل جاتا ہے۔ یہ مشینیں پیسے سے چلتی ہیں اور یہ پیسہ مریضوں سے ہی آتا ہے۔
جب یہ “مہنگے” ہسپتال نہیں تھے تو ہمیں خود اپنے علاج یا رشتہ داروں کے پیچیدہ علاج کےلئے دوسرے شہروں کا رُخ کرنا پڑتا تھا جہاں ہسپتال کی فیس کم از کم تین گُنا، اور اُس کے اوپر آنے جانے اور ٹھہرنے کے ہزاروں لاکھوں روپے الگ سے ادا کرنے پڑتے تھے۔ میرے پاس ملک بھر سے اور بیرون ملک سے ایک مخصوص آپریشن کیلئے مریض آتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک بڑے شہر سے ایک مریض لایا گیا جس کا آپریشن ناکام ہوچکا تھا۔ اُس آپریشن کی فیس سرجن نے تین لاکھ روپے لی تھی جبکہ ہمارے ہسپتال میں اسکا سارا علاج ایک لاکھ کے لگ بھگ روپے میں ہوا۔
پشاور کے ان دو تین “مہنگے” ہسپتالوں میں ٹیچنگ وارڈز بھی ہیں جہاں میڈیکل اسٹوڈنٹس کی فیسوں سے تقریباً سرکاری ہسپتالوں کے خرچے پر عام مریضوں کا علاج ہوجاتا ہے۔ اور ہم بھی اسی معاشرے میں رہنے والے آپ کی طرح کے درد دل رکھنے والے لوگ ہیں۔ ابھی تک مجھے یاد نہیں کہ کوئی مریض ہمارے وارڈ سے صرف پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے علاج سے محروم رہا ہو۔ اگر اپنے ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو کسی سرکاری ہسپتال میں ان کیلئے بندوبست کردیتے ہیں۔ یاد رہے کہ آپ کے اسی شہر کے گداگر روزانہ بیس سے پچیس ہزار روپے بھیک سے اکٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ آپ آسانی سے بچاکر ایک فنڈ بنا سکتے ہیں تاکہ ان “قصائیوں” کی زیادتی سے بچ سکیں۔
میرے کئی مخیّر مریض دامے دامے مدد کرتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے پختون بھائی بہن کم ہی کھلے ہاتھ کے مالک ہوتے ہیں۔ کراچی اور پنجاب سے بعض احباب لاکھوں روپے سے مدد کرتے ہیں۔ ہم دور دراز علاقوں میں جاکر مفت آپریشن کرتے ہیں اور اپنا خرچہ خود برداشت کرتے ہیں۔ وگرنہ یہی لوگ جو ہسپتال کے خرچے پر ناراض ہوتے ہیں۔ اپنے معمولی معمولی خوشی/غم کے موقعوں پر لاکھوں روپے، بسا اوقات قرض لے کر خرچ کرتے ہیں۔ بیٹے کی پیدائش ہو یا ختنہ، منگنی ہو یا شادی، لاکھوں کا خرچ ان کو گراں نہیں گزرتا۔ پرائی شادی میں بھی ہمارے خاندان لاکھ دو لاکھ خرچ کرنے کو قباحت نہیں سمجھتے۔ بس علاج کرتے وقت پیسہ دانتوں سے پکڑتے ہیں۔ وہ تین ہزار کا شادی کا جوڑا لاکھ دو لاکھ میں بیچنے والا تو ولی اللہ ہے اور شادی کی فوٹوگرافی کرنے کے لاکھ روپے لینے والا مُرشد۔ لیکن اپنی ساری جوانی اور ادھیڑ عُمر علم اور تجربہ حاصل کرنے والے کی دو تین ہزار کی فیس اُسے قصاب بنادیتی ہے۔
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے
میرے پڑھے لکھے دوست جو شوگر کے مریض ہیں۔ میں ان کو زبردستی پکڑ کر ہسپتال لاتا ہوں۔ ٹسٹ کرواتا ہوں، سپیشلسٹ سے ملواتا ہوں لیکن اگلے ہفتے غائب ہوجاتے ہیں۔ چھ آٹھ ماہ بعد پتہ چلتا ہے کہ شوگر خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ اب آنکھوں، دل، گردوں اور پاؤں کا علاج بھی لازمی ہوجاتا ہے اور کئی ایک تو پاؤں سے محروم بھی ہوجاتے ہیں یا ان کی بینائی ختم ہوجاتی ہے، ورنہ دل کا دورہ تو کہیں گیا نہیں۔
کھانے پینے کا یہ عالم ہے کہ گندے اور پُرانے تیل میں پکے زہریلے پکوڑے اور سموسے کھا کھا کر جگر چھلنی کردیتے ہیں، چربی کی موٹی تہہ جما لیتے ہیں۔ کووِڈ کے دوران ہمارے منع کرنے کے باوجود شادیوں اور جنازوں، جلسوں میں شرکت کرکے ہمارے کئی نہایت عزیز دوست ہم سے بچھڑ چکے ہیں۔ سگریٹ نوشی اور نسوار عام ہے۔ ٹریفک میں بے احتیاطی، سیٹ بیلٹ کو بے عزتی سمجھنا اور موٹر سائیکل پر ہیلمٹ پہننا بے غیرتی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام بے احتیاطیوں کے نتیجے میں ہمارے پاس علاج کیلئے پلّے سے پیسے دینے پڑیں تو ہم قصائی کہلائیں۔ جس نے آپ کو زہریلے کھانے کھلائے، جس نے آپ کو سگریٹ نسوار بیچے، وہ ان پڑھ عطائی جنہوں نے آپ کو مہنگے چورن بیچے، وہ آپ کے ہمدرد ٹھہرے۔ آپ کی ذرّہ نوازی ہے!

16/06/2026

پہلے ساہیوال اور اب چکوال واقعہ کے بعد لوگوں نے اپنی گاڑی پر باقاعدہ تحریر لکھنا شروع کر دی۔
آپ اس عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟
اور آپکے خیال میں چکوال واقعہ غلطی تھی یا جان بوجھ کر کیا۔

16/06/2026
14/06/2026

Bad food habts that are destroying your health

14/06/2026

Most addicting medicine watch full video

13/06/2026
12/06/2026

بجٹ میں صحت کیلئے "ھوالشافی" تعلیم کیلئے "رب ذدنی علما اور خوراک کیلئے "واللہ خیر رازقین" کے وظیفے مختص کئے گئے ہیں.

12/06/2026

Basic Life Support CPR Practical Training

Address

Jinnah Teaching Hospital
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Shehryar Khan ډاکټر شهریار خان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share