23/08/2026
بندہ مرتا مر جائے، کوئی پوچھنے والا نہیں — انگلینڈ کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی سسٹم کا آج ایک تلخ تجربہ ہوا۔
آج میرے ایک دوست کو اچانک سانس لینے میں شدید دشواری محسوس ہونے لگی۔ ہم نے فوراً ایمرجنسی سروس کو کال کی۔ تقریباً آدھا گھنٹہ سوال جواب میں گزر گیا۔ ایسی حالت میں مریض اور اس کے ساتھ موجود لوگوں کے لیے ایک ایک منٹ بہت بھاری ہوتا ہے، اور آپ سے مسلسل سوالات کیے جا رہے ہوں تو دل میں یہی خیال آتا ہے کہ خدا نخواستہ اتنی دیر میں مریض کی حالت مزید خراب نہ ہو جائے۔
آخرکار ہمیں بتایا گیا کہ تمام ایمبولینسز 🚑 مصروف ہیں اور ایمبولینس آنے میں تقریباً 5 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ کہا گیا کہ اگر ممکن ہو تو کسی دوست یا ٹیکسی کے ذریعے ہسپتال پہنچ جائیں۔ ہم نے کہا کہ معاملہ ایمرجنسی کا ہے، اسی لیے ایمبولینس مانگ رہے ہیں، لیکن جواب یہی تھا کہ یا پانچ گھنٹے انتظار کریں یا خود ہسپتال پہنچیں۔
خیر، ہم ٹیکسی لے کر ہسپتال پہنچ گئے۔ ایمرجنسی سروس والوں نے کہا تھا کہ انہوں نے مریض کی تفصیلات ہسپتال کو بھیج دی ہیں اور وہاں جلدی دیکھ لیا جائے گا۔
ہسپتال پہنچ کر ریسیپشن پر موجود خاتون کو پوری صورتحال بتائی کہ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہے اور ایمرجنسی سروس نے ہمیں یہاں بھیجا ہے۔ جواب ملا:
"آرام سے بیٹھ جائیں، پانچ گھنٹے بھی لگ سکتے ہیں، سینکڑوں مریض انتظار کر رہے ہیں۔"
ہم نے دوبارہ کہا کہ یہ عام مسئلہ نہیں، سانس کا معاملہ ہے اور مریض کو فوری طبی امداد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، لیکن جواب پھر یہی تھا کہ "ارجنٹ ہو یا کوئی اور، بیٹھ جائیں اور انتظار کریں۔"
میں واقعی سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر کسی ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مریض کو ڈاکٹر تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے تو پھر لفظ "ایمرجنسی" کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟
ہم اکثر پاکستان کے ہسپتالوں اور وہاں کے نظام پر تنقید کرتے ہیں، لیکن اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہوں تو پاکستان میں بہت سے ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں کم از کم مریض کو ابتدائی طور پر 10 سے 15 منٹ میں دیکھ لیا جاتا ہے، خاص طور پر جب مسئلہ سانس یا سینے سے متعلق ہو۔
پردیس میں بیماری انسان کو ویسے ہی توڑ دیتی ہے، اور جب مشکل وقت میں بروقت طبی مدد بھی نہ ملے تو بے بسی اور بڑھ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ پردیس میں کسی کو بیمار نہ کرے، اور دنیا کے ہر مریض کو بروقت علاج اور مدد نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲