Mumtaz & Sons Traders

Mumtaz & Sons Traders Agricultural Services

28/06/2021
◀️روزگار اور روزی میں تاخیر کی وجہ سے      ❗❗❗   🚫🚫🚫
27/05/2021

◀️روزگار اور روزی میں تاخیر کی وجہ سے
❗❗❗ 🚫🚫🚫

24/05/2021

• 👈 *بزنس_کے_تین_بڑے_اصول* 👉

دنیا میں ایک بہت بڑے تاجر گزرے ہیں
*حضرت عبدالرحمان بن عوف*
انہوں نے اپنا کارو بار صرف دو کلو پنیر سے شروع کیا تھا- لیکن جب اس دنیا سے رخصت ھوے تو ان کے موٹے موٹے جو اثاثے تھے-
صرف سونا جو تھا ایک ارب دس کروڑ بیس لاکھ تولے سونا تھا جسے تفسیم کرنے کیلے جب کاٹا گیا تو لوہے کے ارے ٹوٹ گے کاٹ کاٹ کر
اور ایسی ہی ہزاروں جاگیریں ہزاروں بھیڑ بکریاں اور ہزاروں اونٹ اور گھوڑے اور غلام تھے-
وہ ہماری طرح جمع بھی نہیں کرتے تھے-
ادھر سے مال آیا تو ادھر بانٹ دیا اور ادھر سے آیا تو ادھر بانٹ دیا-
یہ وہ مال تھا جو بانٹتے بانٹتے بچ گیا تھا-
جب ان سے کارو بار کی ترقی کا راز پوچھا گیا تو انہوں فرمایا
میں تین کام کرتا ھوں
_نمبر 1_
*میں مال ادھار نہیں خریدتا*
_نمبر2_
*میں مال ادھار نہیں بیچتا*
_نمبر3_
*زخیرہ اندوزی نہیں کرتے* یعنی کل کی امید پہ مال نہیں روکتا کہ مہنگا ھو گا تو بیچوں گا اگر آج مجھے ایک روپے نفع مل رھا ھے اور یہ پکی امید ھو کہ کل بیچوں گا تو مجھے دس روپے نفع ملے گا تو میں آج ہی بیچوں گا کل کا انتظار نہیں کروں گا
۔۔۔
سب سے بڑی بات اسکے باوجود دنیا میں ہی جنت کا ٹکٹ لے گئے اور وہ بھی آپﷺ کی زبان مبارک سے اور قیامت تک کے تاجروں کو ایک راستہ دے گئے کہ تجارت میں مال کے ساتھ ساتھ جنت کیسے حاصل کرنی ھے

سوچ بدلو زندگی بدلو

07/05/2021

جمعتہ الوداع مبارک ❣️
نعت شریف: روک لیتی ہے آپ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) کی نسبت❤️
آواز: ابرار الحق
یااللہ پاک! اس رمضان کے مہینے کے صدقے ہم سب کو اپنے گھر بیت اللہ شریف اور مدینہ منورہ کی با ادب حاضری نصیب کر ۔آمین۔😍
VC: Abdul Rafay



23/03/2021

اداکار محمد علی نے مصیبت زدہ شخص کو پچاس ہزار روپے قرض تو دے دیا
لیکن پہلے اس سے تین روپے مانگ لئے۔

کوٹھی کے خوبصورت لان میں سردی کی ایک دوپہر، میں اور علی بھائی بیٹھے گفتگو کر رہے تھے۔ ملازم نے علی بھائی سے آ کر کہا کہ باہر کوئی آدمی آپ سے ملنے آیا ہے۔ یہ اس کا چوتھا چکر ہے۔ علی بھائی نے اسے بلوا لیا۔ کاروباری سا آدمی تھا۔
لباس صاف ستھرا مگر چہرے پر پریشانی سے جھلک رہی تھی۔ شیو بڑھی ہوئی ، سرخ آنکھیں اور بال قدرے سفید لیکن پریشان۔ وہ سلام کرکے کرسی پر بیٹھہ گیا تو علی بھائی نے کہا۔ ’’ جی فرمایئے ‘‘
’’ فرمانے کے قابل کہاں ہوں صاحب جی ! کچھہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اس آدمی نے بڑی گھمبیر آواز میں کہا اور میری طرف دیکھا جیسے وہ علی بھائی سے کچھہ تنہائی میں کہنا چاہتا تھا۔ علی بھائی نے اس سے کہا:
’’آپ ان کی فکر نہ کیجئے جو کہنا ہے کہیے‘‘
اس آدمی نے کہا ’’ چوبرجی میں میری برف فیکٹری ہے علی صاحب !‘‘
’’جی‘‘
’’لیکن کاروباری حماقتوں کے سبب وہ اب میرے ہاتھ سے جا رہی ہے‘‘
’’کیوں‘ کیسے جا رہی ہے؟ ‘‘ علی بھائی نے تفصیل جاننے کے لئے پوچھا
’’ایک آدمی سے میں نے 70ہزار روپے قرض لئے تھے لیکن میں لوٹا نہیں سکا۔‘‘ وہ آدمی بولا ’’میں نے کچھہ پیسے سنبھال کر رکھے تھے لیکن چور لے گئے۔ اب وہ آدمی اس فیکٹری کی قرقی لے کر آ رہا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی رونے لگا اور علی بھائی اسے غور سے دیکھتے رہے اور اس سے کہنے لگے۔
’’آپ کا برف خانہ میانی صاحب والی سڑک سے ملحقہ تو نہیں؟ ‘‘

’’جی جی وہی‘‘ وہ آدمی بولا ۔۔۔۔۔۔ ’’علی بھائی میں صاحب اولاد ہوں اگر یہ فیکٹری چلی گئی تو میرا گھر برباد ہو جائے گا ، میں مجبور ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں۔‘‘
’’ فرمایئے میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘
’’میرے پاس بیس ہزار ہیں‘ پچاس ہزار آپ مجھے ادھار دے دیں ، میں آپ کو قسطوں میں لوٹا دوں گا۔‘‘
علی بھائی نے مسکرا کر اس آدمی کو دیکھا۔ سگریٹ سلگائی اور مجھے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
’’روبی بھائی! یہ آسمان بھی بڑا ڈرامہ باز ہے۔ کیسے کیسے ڈرامے دکھاتا ہے۔ شطرنج کی چالیں چلتا ہے۔ کبھی مات کبھی جیت۔‘‘ یہ بات کہی اور اٹھ کر اندر چلے گئے۔ واپس آئے تو ان کے ہاتھوں میں نوٹوں کا ایک بنڈل تھا۔ کرسی پر بیٹھہ گئے اور اس آدمی سے کہنے لگے:
’’پہلے تو آپ کی داڑھی ہوتی تھی۔‘‘
وہ آدمی حیران رہ گیا اور چونک کر کہنے لگا ’’جی! یہ بہت پرانی بات ہے‘‘
’’جی میں پرانی بات ہی کر رہا ہوں‘‘ علی بھائی اچانک کہیں کھو گئے۔ سگریٹ کا دھواں چھوڑ کر کچھہ تلاش کرتے رہے۔ پھر اس آدمی سے کہنے لگے:
’’آپ کے پاس تین روپے ٹوٹے ہوئے ہیں؟ ‘‘
’’جی جی ، ہیں‘‘ اس آدمی نے جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھہ نوٹ نکالے اور ان میں سے تین روپے نکال کر علی بھائی کی طرف بڑھا دیئے۔ علی بھائی نے وہ پکڑ لئے اور نوٹوں کا بنڈل اٹھا کر اس آدمی کی طرف بڑھایا۔
’’یہ پچاس ہزار روپے ہیں‘ لے جایئے‘‘
اس آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور نوٹ پکڑتے ہوئے اس کے ہاتھہ کپکپا رہے تھے۔ اس آدمی نے جذبات کی گرفت سے نکل کر پوچھا:
’’علی بھائی مگر یہ تین روپے آپ نے کس لئے ۔۔۔۔۔۔؟ ‘‘
علی بھائی نے اس کی بات کاٹ کر کہا ’’ یہ میں نے آپ سے اپنی تین دن کی مزدوری لی ہے۔‘‘
’’مزدوری …مجھہ سے! میں آپ کی بات نہیں سمجھا۔‘‘ اس آدمی نے یہ بات پوچھی تو ایک حیرت اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔
’’1952ء میں جب میں لاہور آیا تھا تو میں نے آپ کے برف خانے میں برف کی سلیں اٹھا کر قبرستان لے جانے کی مزدوری کی تھی۔‘‘
علی بھائی نے مسکرا کر جواب دیا۔ یہ جواب میرے اور اس آدمی کے لئے دنیا کا سب سے بڑا انکشاف تھا۔ علی بھائی نے مزید بات آگے بڑھائی۔
’’مگر آپ نے جب مجھے کام سے نکالا تو میری تین دن کی مزدوری رکھہ لی تھی۔ وہ آج میں نے وصول کر لی ہے۔‘‘ علی بھائی نے مسکرا کر وہ تین روپے جیب میں ڈال لئے۔
’’آپ یہ پچاس ہزار لے جائیں‘ جب آپ سہولت محسوس کریں دے دیجئے گا۔‘‘
علی بھائی نے یہ بات کہہ کر مزے سے سگریٹ پینے لگے۔ میں اور وہ آدمی کرسیوں پر یوں بیٹھے تھے جیسے ہم زندہ آدمی نہ ہوں بلکہ فرعون کے عہد کی دو حنوط شدہ ممیاں کرسی پر رکھی ہوں۔

(احمد عقیل روبی کی کتاب ’’ کھرے کھوٹے‘‘ سے )

11/03/2021

*ایک شخص سوڈانی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دو دلچسپ، نصیحت آمیز، فکر انگیز واقعات بیان کیے ہیں!*

*پہلا واقعہ:*

مجھے آیرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی. میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے. اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا. ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا. اس خط میں لکھا تھا کہ "آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے. ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جا رہا ہے."

حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے کہ لفافے اور ٹکٹ کے اضافی اخراجات ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوں گے!!

*دوسرا واقعہ:*

میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے گزرتا تھا، اسی راستے میں ایک ادھیڑ عمر کی عورت کی دوکان تھی جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا۔
ایک دن دیکھا اس نے اسی کاکاو کا ایک اور ڈبہ رکھ رکھا ہے جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے،
مجھے حیرت ہوئی، میں نے اس سے پوچھا کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے؟
اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے،
میں نے پوچھا پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟!
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ تجارتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آگیا ہے. زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا ہی پیچ رہے ہیں،
میں نے کہا، پھر تو لوگ 18 والا ہی خریدیں گے جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اس کے بعد میں کوئی خریدے گا۔
اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے۔۔۔

میں نے اگر تم لوگدونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا بیچو. کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا۔

*اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے غصے سے کہا :کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟*

مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا، میں آگے بڑھ گیا!

لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟

*سوال ہے یہ یہ کون سا عملی اخلاق اور تجارتی کردار ہے؟*

دراصل یہ ہم مسلمانوں کا اخلاق ہونا چاہیے تھا۔

یہی ہمارے دین کا اخلاق ہے

*یہی وہ ایماندارانہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن ہم ؟*

*ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں؟*

*حلال حرام کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں۔*

12/02/2021

❤️ﷺ ﷺ ﷺ❤️

01/02/2021

26/01/2021

رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم نے فرمایا:
اگر دونوں (خریدنے اور بیچنے والے) نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہوتی ہے.
صحیح بخاری 2079

Address

Fateh Jang Talagang Road Dhulian Mor
Pindi Gheb
6965+6J

Opening Hours

Monday 07:00 - 18:30
Tuesday 07:00 - 18:30
Wednesday 07:00 - 18:30
Thursday 07:00 - 18:30
Friday 08:00 - 16:00
Saturday 07:00 - 18:30
Sunday 07:00 - 18:30

Telephone

+923343716973

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mumtaz & Sons Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mumtaz & Sons Traders:

Share