08/08/2026
💊 "Painkiller ہی تو ہے، کبھی کبھار لینے سے کیا ہوگا؟"
یہ جملہ میں نے بہت بار سنا ہے۔
سر میں درد ہوا، کمر میں درد ہوئی، دانت میں تکلیف ہوئی یا بخار چڑھا… گھر میں پڑی ہوئی کوئی painkiller نکالی اور لے لی۔
بات ختم۔
لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب یہی چیز بار بار ہونے لگے۔
Ibuprofen، Diclofenac اور Naproxen جیسی medicines واقعی اچھی painkillers ہیں۔ صحیح مریض میں، صحیح dose اور مناسب مدت کے لیے یہ کافی فائدہ دیتی ہیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ یہ medicines خراب ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں اکثر دوا سمجھ کر نہیں، عام tablet سمجھ کر استعمال کرتے ہیں۔
مثلاً کسی کو روز کمر میں درد ہے، تو وہ کئی دن تک painkiller لیتا رہتا ہے۔ کسی کو گھٹنوں کا درد ہے تو وہ روزانہ tablet لے رہا ہے۔ اور کبھی کبھی مریض کو یہ بھی یاد نہیں ہوتا کہ وہ ایک دن میں کتنی مختلف medicines لے چکا ہے۔
یہاں تھوڑا محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
خاص طور پر NSAIDs معدے میں irritation، ulcer اور بعض صورتوں میں bleeding کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
اور kidneys بھی ان medicines سے متاثر ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان لوگوں میں جنہیں پہلے سے kidney disease، diabetes یا high blood pressure ہو، یا جو dehydration کا شکار ہوں۔
ایک اور غلطی بہت common ہے۔
مریض الگ سے headache کی tablet لیتا ہے، پھر cold & flu کی medicine بھی لے لیتا ہے، اور اسے اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ دونوں products میں ایک جیسا pain-relieving ingredient موجود ہو سکتا ہے۔
یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آپ نے "ایک tablet" لی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ آپ نے اس tablet میں کیا لیا ہے، کتنی مقدار میں لیا ہے، اور اس کے ساتھ اور کیا لے رہے ہیں؟
اور اگر painkiller لینے کے بعد کالا پاخانہ، خون والی قے، coffee-ground جیسی قے، شدید پیٹ کا درد، چکر یا بے ہوشی ہو تو اسے صرف acidity یا معمولی side effect سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی علامات gastrointestinal bleeding کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں اور فوری medical assessment ضروری ہے۔
لیکن یہاں ایک بات واضح کرنا بھی ضروری ہے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ painkillers خطرناک ہیں اور انہیں استعمال ہی نہیں کرنا چاہیے۔
ایسا بالکل نہیں ہے۔
Painkillers ہماری بہت useful medicines ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انہیں بغیر ضرورت، زیادہ dose میں، زیادہ دنوں تک یا اپنی دوسری medicines اور بیماریوں کو نظر انداز کرکے استعمال کیا جائے۔
اگر آپ کو تقریباً روز painkiller کی ضرورت پڑ رہی ہے تو شاید صرف pain کو دبانا کافی نہیں۔
یہ جاننا زیادہ ضروری ہے کہ درد بار بار ہو کیوں رہا ہے؟
اور اگر آپ کو پہلے سے kidney یا stomach کا مسئلہ ہے، blood thinner استعمال کرتے ہیں، pregnancy ہے، یا کئی دوسری medicines ساتھ چل رہی ہیں، تو painkiller لینے سے پہلے doctor یا pharmacist سے ایک بار ضرور پوچھ لیں۔
کبھی کبھی صرف ایک منٹ کی medication review آپ کو ایک بڑے مسئلے سے بچا سکتی ہے۔
دوا وہی بہتر ہے جو صحیح شخص کو، صحیح وجہ سے، صحیح مقدار میں اور صحیح مدت کے لیے دی جائے۔
👇 ایک بات سچ سچ بتائیں:
کیا آپ نے کبھی صرف اس لیے painkiller لی ہے کہ گھر میں موجود تھی، بغیر یہ سوچے کہ یہ آپ کے لیے مناسب بھی ہے یا نہیں؟
ہاں یا نہیں؟