06/06/2026
سول ہسپتال کوئٹہ میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوسناک اور انسانیت سوز واقعے کی ہم شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
(بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن)
یہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ پورے طبی شعبے، انسانی اقدار اور قانون کی حکمرانی پر حملہ ہے۔ ڈاکٹرز دن رات اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر عوام کی خدمت اور انسانی جانوں کو بچانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو معاشرے کے مسیحا اور خدمت گزار ہیں، ان پر تشدد کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔
ہم اس بزدلانہ اور سفاکانہ حملے میں زخمی ہونے والی خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی جلد و مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ اس واقعے نے طبی برادری میں شدید خوف و ہراس پیدا کیا ہے اور یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنے فرائض محفوظ ماحول میں انجام دے سکتے ہیں؟
ہم حکومت بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسے گھناؤنے جرم کی جرات نہ ہو۔ ساتھ ہی تمام ہسپتالوں، طبی مراکز اور صحت کے اداروں میں ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملے کی حفاظت کے لیے مؤثر اور عملی سکیورٹی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔
ڈاکٹر قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ ان کی جان، عزت اور تحفظ کو یقینی بنانا ریاست اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر طبی عملہ خود غیر محفوظ ہوگا تو صحت کا نظام متاثر ہوگا اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لے، متاثرہ ڈاکٹر کو ہر ممکن طبی، قانونی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع پالیسی مرتب کرے۔ طبی برادری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ہم ایک بار پھر اس دلخراش واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔
ترجمان: بلوچستان فزیوتھراپی ایسوسی ایشن