24/04/2026
پی ایم ڈی سی کے خط کے تناظر میں فارماسسٹس کا کردار، دائرۂ اختیار اور قومی ضرورت
تحریر۔ عصمت آغا
پاکستان کے صحت کے نظام میں اس وقت ایک اہم بحث جاری ہے جس نے پیشہ ورانہ حدود، قانونی دائرۂ اختیار اور مریضوں کے مفاد سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حالیہ دنوں Pakistan Medical and Dental Council کی جانب سے وزارتِ صحت کو ایک خط لکھا گیا جس میں فارماسسٹس کی کلینیکل پریکٹس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا اور جواز یہ پیش کیا گیا کہ اس سے عطائیت کو فروغ مل رہا ہے۔ یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا جب Allied Health Sciences Council کی جانب سے بعض allied health professionals اور ٹیکنیکل شعبوں سے وابستہ افراد کو محدود پریکٹس کی اجازت دی گئی۔
یہاں سب سے پہلے قانونی اور ادارہ جاتی دائرۂ اختیار کو سمجھنا ضروری ہے۔ Pakistan Medical and Dental Council بنیادی طور پر ڈاکٹروں اور ڈینٹل پروفیشنلز کی رجسٹریشن، تعلیم، تربیت اور ضابطہ کار کا ادارہ ہے۔ اس کا دائرہ اختیار میڈیکل اور ڈینٹل شعبوں تک محدود ہے۔ دوسری جانب Pharmacy Council of Pakistan فارماسسٹ کی رجسٹریشن، فارمیسی تعلیم، پیشہ ورانہ معیار اور ضابطہ بندی کا قانونی ادارہ ہے، جو Pharmacy Act 1967 کے تحت قائم ہے۔ اسی طرح Allied Health Sciences Council allied health disciplines، ٹیکنالوجسٹ اور متعلقہ شعبوں کی نگرانی سے متعلق ادارہ ہے۔ اس تناظر میں فارماسسٹس کو allied technicians کے ساتھ ملانا یا ان کے دائرے میں شمار کرنا قانونی و پیشہ ورانہ حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔
فارماسسٹ کا بنیادی شعبہ ادویات ہے۔ جس طرح ڈاکٹر بیماری کی تشخیص اور مجموعی علاج کے ماہر ہوتے ہیں، اسی طرح فارماسسٹ دوا کے انتخاب، تیاری، مؤثر استعمال، محفوظ خوراک، drug interactions، adverse effects اور مریض کے لیے بہترین therapeutic plan کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس لیے فارماسسٹ کی کلینیکل پریکٹس کو غیر متعلق قرار دینا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔
دنیا بھر میں کلینیکل فارماسسٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر مریضوں کے علاج میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ مریض کی ادویات کا جائزہ لیتے ہیں، خوراک درست کرتے ہیں، گردوں یا جگر کے مریضوں میں dose adjustment کرتے ہیں، ایک دوا کے دوسری دوا سے خطرناک interaction کو روکتے ہیں اور غیر ضروری ادویات کم کرتے ہیں۔ آئی سی یو، ایمرجنسی، کارڈیالوجی، آنکولوجی اور ٹرانسپلانٹ یونٹس میں کلینیکل فارماسسٹ کی موجودگی علاج کے نتائج بہتر بناتی ہے۔
فارماسسٹس کے prescription writing کے حوالے سے بھی دنیا میں واضح پیش رفت ہو چکی ہے۔ United Kingdom، Canada اور Australia سمیت کئی ممالک میں تربیت یافتہ فارماسسٹس کو supplementary prescribing یا independent prescribing کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ڈاکٹر کا متبادل بنانا نہیں بلکہ علاجی ٹیم کو مضبوط کرنا ہے تاکہ chronic diseases، asthma، diabetes اور medication review جیسے شعبوں میں مریضوں کو بروقت سہولت مل سکے۔
پاکستان میں بھی اگر مناسب قانون سازی، تربیت، لائسنسنگ اور نگرانی کے ساتھ فارماسسٹ کو محدود و منظم prescription authority دی جائے تو صحت کے نظام پر بوجھ کم ہو سکتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور بنیادی مراکز صحت میں۔ یہ عطائیت نہیں بلکہ professional regulation ہو گا، کیونکہ فارماسسٹ رجسٹرڈ، تربیت یافتہ اور جوابدہ پروفیشنلز ہوتے ہیں۔
ادویات کے generic names کے استعمال میں فارماسسٹ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ برانڈ ناموں کی بجائے generic prescribing سے علاج سستا، شفاف اور قابلِ رسائی ہوتا ہے۔ فارماسسٹ bioequivalence، formulation quality اور therapeutic substitution کو سمجھتے ہیں، اس لیے وہ مریض کو مناسب اور کم قیمت متبادل فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگی ادویات علاج میں رکاوٹ بنتی ہیں، وہاں فارماسسٹ قومی سطح پر generic medicine policy کے محافظ ثابت ہو سکتے ہیں۔
فارماسسٹ صرف موجودہ ادویات استعمال نہیں کرتے بلکہ نئی ادویات کی تحقیق و تخلیق میں بھی بنیادی کردار رکھتے ہیں۔ Drug discovery، medicinal chemistry، pharmaceutics، pharmacology، biotechnology، clinical trials، vaccine development اور pharmacovigilance جیسے شعبوں میں فارماسسٹ کی مہارت مسلمہ ہے۔ نئی دوا کے تصور سے لے کر مارکیٹ تک پہنچنے کے ہر مرحلے میں فارماسسٹ شامل ہوتے ہیں۔
یہ کہنا کہ فارماسسٹس کی کلینیکل پریکٹس عطائیت کو فروغ دیتی ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔ عطائیت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں غیر تربیت یافتہ اور غیر رجسٹرڈ افراد علاج کریں۔ فارماسسٹ تو وہ پروفیشنلز ہیں جن کی تعلیم evidence-based medicine، drug safety اور patient care پر مبنی ہوتی ہے۔
پاکستان کو ادارہ جاتی تصادم نہیں بلکہ collaborative healthcare model کی ضرورت ہے، جہاں ہر کونسل اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں کام کرے اور تمام شعبے مریض کے مفاد کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک میں کلینیکل فارمیسی سروسز، medication review clinics، pharmacovigilance centers، generic prescribing policies اور research-based pharmacy practice کو فروغ دیا جائے۔ فارماسسٹ کو محدود کرنا ماضی کی سوچ ہے، جبکہ فارماسسٹ کو قومی صحت کے نظام میں مؤثر کردار دینا مستقبل کی ضرورت ہے۔