Voice of Pakistan's

Voice of Pakistan's Voice of Pakistan's
knowledge, News and the latest trend's - all in one place

17/12/2025

‏شمالی وزیرستان اپڈیٹ:

مقامی زرائع کے مطابق میرعلی میں فورسز اور د,ہشت گر,دوں کے درمیان جاری جھڑ,پوں میں مقامی آبادی لپیٹ میں آگئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد ز,خمی ہوئے ہیں۔

17/12/2025

پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود بندش میں مزید ایک ماہ توسیع کردی۔
بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستان کا اپنی فضائ حدود 23 جنوری 2026 تک بند کرنے کا فیصلہ۔

17/12/2025

افغانستان میں بھوک سے متعلق بحران سنگین تر ہو گیا : اقوام متحدہ

لاہور  جیولر 80 کروڑ کا سونا لے کر مارکیٹ سے غائب رپورٹ کے مطابق محترم 30 سال سے مارکیٹ میں سونے کا کام کرتے تھے اس دورا...
17/12/2025

لاہور
جیولر 80 کروڑ کا سونا لے کر مارکیٹ سے غائب

رپورٹ کے مطابق محترم 30 سال سے مارکیٹ میں سونے کا کام کرتے تھے اس دوران انہوں نے اپنے تمام کولیکس کو اعتماد میں لے رکھا تھا کسی سنہار کو بھی اگر ضرورت پڑتی تو وہ ان سے رابطہ کرتا اور یہ اسے ایمرجنسی میں جتنا سونا ضرورت ہوتا فراہم کرتے تھے ایک ہفتہ پہلے محترم نے اپنے پاس رکھے گے 80 کروڑ مالیت کا سونا جو دوسرے سنہار نے امانتاً انھیں دے رکھا تھا سارے کا سارا سونا لے کر غائب ہو گے

سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور – 16 دسمبر 2014یہ وہ دن ہے جب دہشتگردی نے انسانیت کو شرما دیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ...
16/12/2025

سانحہ آرمی پبلک اسکول، پشاور – 16 دسمبر 2014
یہ وہ دن ہے جب دہشتگردی نے انسانیت کو شرما دیا۔ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا، جس میں 140 سے زائد معصوم طلبہ اور اساتذہ شہید کیے گئے۔ ان بچوں کا جرم صرف علم حاصل کرنا تھا۔ یہ سانحہ پوری قوم کے دل پر نقوش چھوڑ گیا۔
*یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے:*
- تعلیم کے دشمنوں کا مکروہ چہرہ
- ہمارے بچوں کی قربانی
- یہ کہ ہمیں بطور قوم متحد ہو کر دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہنا ہے

*آج 16 دسمبر کو ہم شہداء APS کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں*
اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ایسی قربانیوں کا قرض چکانے کی توفیق دے — تعلیم اور امن کے ذریعے۔
*ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیئے:*
’’وہ پھول جو تم نے توڑ دیے، وہ ہر دل میں کھل رہے ہیں۔‘‘*
11 Years of Pain, Bleed, Sufferings, 11 Years of APS Peshawer Attack

شہداۓ اے پی ایس، تم زندہ ہو!! جنت کے پھولو🫀💔

پروفیسر سرجن نصیب اللہ زرکونہیڈ آف سرجری یونٹ 3،سابق ڈین / ڈائریکٹرپوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (PGMI) کوئٹہپاکستان میڈ...
14/12/2025

پروفیسر سرجن نصیب اللہ زرکون
ہیڈ آف سرجری یونٹ 3،
سابق ڈین / ڈائریکٹر
پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ (PGMI) کوئٹہ

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے انتخابات میں
سول ہسپتال کوئٹہ میں اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہوئے۔

ڈاکٹر سرجن نصیب اللہ زرکونکوئٹہ کے اُن چند نایاب معالجین میں سے ہیںجن کے ہاتھوں میں شفا اور دل میں خلوص بستا ہے۔پیشہ ورا...
14/12/2025

ڈاکٹر سرجن نصیب اللہ زرکون
کوئٹہ کے اُن چند نایاب معالجین میں سے ہیں
جن کے ہاتھوں میں شفا اور دل میں خلوص بستا ہے۔
پیشہ ورانہ مہارت، عاجزی اور مریض کے درد کو اپنا درد سمجھنا
انہیں ایک عظیم ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی بناتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اُن کی خدمات کو قبول فرمائے اور مزید کامیابیاں عطا کرے۔

بلال خان ۹ ہجری میں غزنی میں غلزئی قبیلے میں پیدا ہوئے۔ # # **غلزئی پختون (Ghilzai Pashtuns) کی تاریخ**  # # # **تعارف**...
09/11/2025

بلال خان ۹ ہجری میں غزنی میں غلزئی قبیلے میں پیدا ہوئے۔

# # **غلزئی پختون (Ghilzai Pashtuns) کی تاریخ**

# # # **تعارف**

غلزئی یا غلزائی (Ghilzai / Ghilji) پشتونوں کا ایک بڑا اور تاریخی قبیلہ ہے۔ یہ افغانستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں۔ ان کا شمار پشتونوں کے دو بڑے گروہوں — **دُرّانی** اور **غلزئی** — میں ہوتا ہے۔

غلزئی قبائل تاریخی طور پر **جنگجو، آزاد منش، اور غیرت مند** سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے افغانستان کی سیاست اور تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

بلال کے دو فرزند تھے، ایک کا نام موسیٰ اور دوسرے کا نام زیرک تھا۔ یہ دونوں اپنے والد کی نسل اور قبیلے کی شان و روایت کے امین سمجھے جاتے ہیں۔
موسیٰ خان، سلطان سبکتگین کے دربار کے نامور اور معزز کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کی بہادری، وفاداری اور حکمتِ عملی نے انہیں سلطانی دربار میں ایک منفرد مقام عطا کیا تھا۔ موسیٰ خان کے انتقال کے وقت اُن کے چھوٹے بھائی زیرک کی عمر محض آٹھ برس تھی۔

بھائی کی وفات کے بعد زیرک کی پرورش و تربیت خود سلطان سبکتگین کے زیرِ سایہ ہوئی، جو اُس وقت غزنی کے عظیم ترک فرمانروا تھے۔ زیرک نے نہایت کم عمری میں ہی فنِ حرب و سپہ گری کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی، اور محض دس برس کی عمر میں اُن کی غیر معمولی صلاحیتیں نمایاں ہو چکی تھیں۔

رفتہ رفتہ زیرک نے خود کو ایک بہادر اور ماہر جنگجو کے طور پر منوایا۔ چودہ برس کی عمر میں، ۹۹۴ء میں، زیرک نے سلطان محمود غزنوی کے لشکر میں شمولیت اختیار کی اور خراسان کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی اپنی پہلی جنگ میں حصہ لیا۔

سلطان محمود غزنوی، زیرک کی جوانی میں جھلکتی ہوئی غیر معمولی جُرات اور فنِ حرب کی مہارت سے بے حد متاثر ہوئے۔ خراسان کی مہم سے واپسی پر، سلطان نے زیرک کی شجاعت، تدبیر اور وفاداری کو سراہتے ہوئے ایک عظیم اعزاز عطا فرمایا —

انہوں نے زیرک کو اُس کے مرحوم بھائی موسیٰ خان کے جنگی دستے کا کمانڈر مقرر کر دیا۔

یوں کم عمری ہی میں زیرک کو وہ مقام حاصل ہوا جو بڑے بڑے سپہ سالاروں کے نصیب میں کم آتا ہے۔ اُس کی قیادت میں لشکر نے نئی جان پائی، اور زیرک کا نام بہادری و وفاداری کی علامت بن کر غزنی کے دربار میں گونجنے لگا۔

۹۹۸ء کی عظیم معرکہ آرائی میں، زیرک نے اپنی دلیری اور غیر معمولی جنگی بصیرت سے تاریخ رقم کر دی۔ جب سلطان محمود غزنوی نے اپنے بھائی اسماعیل کے خلاف غزنی کے تخت کے لیے لشکر کشی کی، تو زیرک اُن کے ہمراہ صفِ اوّل میں موجود تھا۔

جنگ کے دوران زیرک نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا — اُس کی تلوار بجلی کی مانند چمکی، اور اُس کے حملوں نے دشمن کی صفوں میں ہلچل مچا دی۔ بالآخر زیرک کی قیادت اور سلطان محمود کی حکمتِ عملی کے باعث اسماعیل کو شکستِ فاش ہوئی، اور غزنی کا کنٹرول سلطان محمود کے ہاتھ میں آ گیا۔

یہی وہ دن تھا جب زیرک کا نام غزنی کی فتوحات کے ساتھ امر ہو گیا، اور وہ سلطان کے قابلِ اعتماد کمانڈروں میں صفِ اوّل پر شمار ہونے لگا۔
سلطان محمود غزنوی نے ہند کے راجہ جے پال کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا علم بلند کیا، تو ذِرّک اپنے لشکر سمیت اس مہم میں شریک ہوا۔

میدانِ جنگ میں ذِرّک نے ایسی بے مثال دلیری، تدبیر اور فنِ حرب کا مظاہرہ کیا کہ دشمن کی صفیں لرز اٹھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ اُس نے اپنی تیز دھار تلوار سے پچپن (55) دشمنوں کو واصلِ خاک کیا۔ اس کارنامے نے نہ صرف سلطان کے دل میں اُس کے لیے عظیم عزت پیدا کی بلکہ پورے لشکر میں اُس کی بہادری کے چرچے ہونے لگے۔

اس شجاعت، وفاداری اور ثابت قدمی کے صلے میں سلطان محمود غزنوی نے کمانڈر ذِرّک کو "زرکون "سنہری لشکر"، "درخشاں فوج" یا "بہادر و ممتاز سپاہ"۔
"کے معزز لقب سے نوازا

لفظ "زرکون" دو حصوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے:

"زر" یعنی سونا یا سنہری

"کون" یا "کُوں" یعنی لشکر، جماعت یا قبیلہ

اس لحاظ سے "زرکون" کا مطلب ہے:
👉 سنہری لشکر، درخشاں فوج، یا بہادر سپاہ۔

2. تاریخی معنی:
قدیم زمانوں میں بادشاہ یا سلطان ایسے خطاب اُن سپاہیوں یا سرداروں کو دیتے تھے جو بہادری، وفاداری اور شجاعت دکھاتے تھے۔
چنانچہ سلطان محمود غزنوی نے جب ذِرّک اور اُس کی فوج کو "زرکون" کا لقب دیا، تو اس سے مراد تھی:
👉 وہ لشکر جو سونے کی مانند قیمتی اور جنگ کے میدان میں چمکنے والا ہو۔

سلطان محمود غزنوی** نے اپنی فتوحات کے عروج کے زمانے میں جب **موجودہ بلوچستان** کی طرف توجہ فرمائی، تو اس مہم کی قیادت کے لیے اپنے نہایت دلیر، وفادار اور معتمد کمانڈر **غازی زیرک** کو منتخب کیا۔

سلطان نے زیرک کو یہ عظیم ذمہ داری سونپی کہ وہ اس خطّے میں **اسلام کا پیغام عام کرے** اور **بلوچستان کو سلطنتِ غزنی** کے زیرِ نگین لائے۔ غازی زیرک نے اپنے لشکر کے ہمراہ نہایت حکمت و جرات کے ساتھ پیش قدمی کی

غازی ذِرّک زرکون اور رہو سِکو کا معرکہ

تاریخ کے بیانات کے مطابق غازی کمانڈر ذِرّک زرکون کی پہلی بڑی لڑائی رہو سِکو کے ساتھ دورک کے مقام پر لڑی گئی۔ یہ معرکہ نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم تھا بلکہ دینی و سیاسی اعتبار سے بھی ایک نیا باب ثابت ہوا۔

میدانِ جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو غازی ذِرّک زرکون نے غیر معمولی دلیری اور حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ اُس کی قیادت میں سپاہ نے دشمن کی صفوں کو چیر ڈالا، اور رہو سِکو کی فوج پسپا ہو گئی۔

رہو سِکو نے جب غازی ذِرّک زرکون کی شجاعت، عدل، اور اخلاقِ فاضلہ کو دیکھا تو وہ نہ صرف مغلوبِ دل ہوا بلکہ اپنی پوری برادری سمیت اسلام قبول کر لیا۔

اس تاریخی فتح کے بعد غازی ذِرّک زرکون نے موجودہ مساخیل کے
علاقے ،کو اپنے زیرِ تسلط لیا اور
اس خطے کا نام اپنے بھائی “موسیٰ” کے نام پر “مسّاخیل” رکھا،

غازی ذِرّک زرکون نے اپنی حکمتِ عملی کے تحت لشکرِ زرکون کے چند سپاہیوں کو مساخیل میں مستقل تعینات کیا تاکہ علاقے کا تحفظ اور انتظام برقرار رہے۔ بعد ازاں وہ مزید فتوحات اور دینِ اسلام کی تبلیغ کے عزم کے ساتھ اپنے باقی لشکر کے ہمراہ روانہ ہوا اور مہم بڑھاتے ہوئے 👉 موجودہ برکھان اور رکنی کی طرف لشکر کشی کی۔

جب غازی ذِرّک زرکون نے موجودہ برکھان کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تو اس نے اس خطے کو اپنی عزیزِ قومی ساتھی بارو خان زرکون کے نام سے موسوم کیا ( یہ وہی بارو خان زَرقون تھا جس کی نسل آج خود کو باروزئی کہلاتی ہے۔)

اور اسے اپنی حکمرانی کے دائرۂ اثر میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد اس نے زرکون لشکر کی چند نفریاں برکھان میں مستقل طور پر تعینات کیں تاکہ علاقے کا تحفظ اور نظم و نسق قائم رہے۔ بقیہ لشکر کو اپنے ساتھ لیے ہوئے، غازی ذِرّک مزید مہمات کے لیے آگے بڑھنے لگیں

غازی ذِرّک زرکون نے اپنی فتوحات کو وسعت دیتے ہوئے موجودہ کوہلو کے علاقے پر حملہ کیا۔ ایک نہایت سخت اور فیصلہ کن جنگ کے بعد اس نے کوہلو کو فتح کر لیا اور وہاں اپنی دارالحکومت (مرکزی حکومت) قائم کی۔

فتح کے بعد، اس نے اس علاقے کا نام “خُلوس” kholus رکھا — جو کہ عربی الاصل لفظ “خلوص” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی مُخلِص، پاکیزہ اور خالص ریاست کے ہیں۔

غازی ذِرّک زرکون کے نزدیک “خُلوس” ایک ایسی مثالی مملکت کی علامت تھی جہاں ایمانداری، عدل اور اسلامی اصولوں کے مطابق نظامِ حکومت قائم ہو۔

غازی زیرک زَرکون نے اپنی فتوحات کے دوران موجودہ لونی اور دُکی کے علاقے فتح کیے۔ ان میں اسلامی تعلیمات اور عدل و انصاف کا نظام رائج کیا۔ بعد ازاں غازی زیرک زرکون نے لونی کے علاقے کو اپنے عزیز و ہم قومی ساتھی شیخ لون خان زَرکون کے نام سے منسوب کیا، جس کے نتیجے میں یہ خطہ بعد میں “لونی” کے نام سے مشہور ہوا۔

لونی کو فتح کرنے کے بعد غازی زیرک زَرکون نے فوراً اپنی توجہ سیوستان (Sivistan) (sibi) کی طرف مرکوز کر دی۔ تاریخی منظر نامے میں یہ حرکت محض زمین پر قبضے کا عمل نہیں تھی بلکہ ایک حکمتِ عملی تھی جس کا مقصد تجارتی راستوں کی حفاظت، علاقائی استحکام، اور اسلامی اداروں کا قیام تھا۔

زیرک نے لونی میں انتظامی و مذہبی ڈھانچہ مستحکم کرنے کے بعد سیوستان کی طرف پیش قدمی کی، جہاں ، مقامی حکمرانوں کو تابع کیا، اور اسلامی تعلیمات و عدالتی نظام کو فروغ دیا۔ اس پیش رفت نے علاقے کو غزنوی اثر و رسوخ کے دائرے میں لاتے ہوئے طویل المدتی سیاسی و ثقافتی اتحاد کی بنیاد رکھی

غازی زیرک زَرکون نے سبّی کو شمالی حصے کے ساتھ ملا کر ایک انتظامی و فوجی مرکز بنایا

سبّی میں اسلامی عدالتیں، مساجد، اور تجارتی منڈیاں قائم کی۔

سیوستان کو فتح کرنے کے بعد غازی زیرک زَرکون نے اپنی فتوحات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے خُسدار، مکران اور گوادر تک کے علاقے فتح کیے۔ یہ مہم اُس دور کے سیاسی و فوجی حالات کے تناظر میں نہایت اہم تھی، کیونکہ ان علاقوں کی جغرافیائی حیثیت غزنوی سلطنت کے جنوبی اور بحری محاذ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔

غازی زیرک نے ان خطوں کو فتح کرنے کے بعد انہیں غزنوی سلطنت کے باقاعدہ تسلط میں شامل کیا اور وہاں مختلف گورنر اور منتظمین تعینات کیے تاکہ انتظامی نظام، امن و امان، اور اسلامی عدالتی ڈھانچے کو مستحکم کیا جا سکے۔ ان گورنروں کے ذریعے مقامی قبائل کو منظم کیا گیا، تجارت کو فروغ دیا گیا، اور اسلامی تعلیمات کو عام کیا گیا۔

تاریخی طور پر یہ مرحلہ غزنوی سلطنت کے بلوچستان میں سیاسی استحکام، اسلامی اثر و رسوخ، اور بحری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جس سے مکران تا گوادر تک کا خطہ غزنوی نظم و نسق اور تہذیبی ترقی کا حصہ بن گیا۔

04/04/2025
04/04/2025

مستونگ، قلات اور خضدار میں 3 روز تک انٹرنیٹ سروس معطل رہنے کے بعد دوبارہ سے بحال ہونا شروع ہوگئی۔

04/04/2025

*ذوالفقار بھٹو جونیئر کا لاڑکانہ میں جلسہ !!!*

*دوسری طرف لاڑکانہ میں ہی بلاول زرداری بھی جلسہ کر رہے ہیں*

04/04/2025

حکومت نے 14 اپریل 2025 کے بعد پانی فراہم کرنے میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ دنیا کا المناک سفر شروع ہو چکا ہے!
اس حقیقت کو مت بھولیں کہ دنیا کا صرف %2.7 پانی پینے کے قابل ہے! اپنے علاقے میں لوگوں کو آگاہ کریں ! تمام قریبی ڈیم کم پڑ چکے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔
روزانہ کار، صحن اور گھر کے باہر والے حصے دھونے سے بچیں؛ کپڑوں کی دھلائی کے دوران پانی کے نل کو مسلسل چلانا بند کریں۔
گھر میں لیک ہونے والے نل اور فلش ٹینکیوں کی مرمت کروائیں
درخت لگائیں ! ماحول کی حفاظت کریں
آئیں مل کر اس خوفناک آنے والے بحران سے آپنے آپ کو نکالنے کا کوشش کریں!
مندرجہ بالا پیغام 5 گروپوں میں بھیجیں ...
آئیں درخت لگائیں !

Address

Quetta

Telephone

+923184252535

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of Pakistan's posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share